46

بزمِ جامعہ کے زیر اہتمام استقبالیہ تقریب کا انعقاد

نئی دہلی:

”ایک شام:تازہ واردان شہر آرزو کے نام“سے شعبہئ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کی فعال ادبی و ثقافتی تنظیم’بزم جامعہ‘ کے زیر اہتمام نو وارد طلبہ و طالبات کے لیے شاندار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شعبہئ اردو کی خدمات اور جامعہ صدی پر مبنی ڈاکومینٹری فلم اور تمثیلی مشاعرہ دیکھنے کے لیے سیکڑوں شائقین کی امڈی بھیڑسے وسیع وعریض انجینئرنگ آڈیٹوریم کھچاکھچ بھر گیا۔ ڈاکومینڑی فلم شعبے کے دوطلبہ عبدالرحمن اور افسار بٹ نے پروفیسر شہزاد انجم کی سرپرستی اور ڈاکٹر خالد مبشر کی نگرانی میں تیار کی۔شعبے کے طلبہ نے ڈاکٹر جاوید حسن کی ہدایت کاری میں نہایت شاندار تمثیلی مشاعرہ پیش کیا۔ جس میں زہرا نگار،پروین شاکر،جون ایلیا،عادل لکھنوی،بشیر بدر،وسیم بریلوی،اداجعفری،اسرار جامعی،پاپولر میرٹھی، منظر بھوپالی، انجم رہبر اور اقبال اشہرکے کرداربالترتیب نداکوثر، عائشہ صدیقہ،سفیر صدیقی، ابوالاشبال، توصیف حبیب، اعجاز رحیمی، رفعت، عبدالرقیب، عین الحق، مہتاب عالم، امالہ پروین اور آصف فیصل نے بحسن و خوبی نبھائے۔ مہمان خصوصی ڈی ایس ڈبلیوپروفیسر سیمی فرحت بصیرنے نووارد طلبہ وطالبات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ صدی تقریبات کے پیش نظر یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ اردو اور جامعہ دونو ں لازم و ملزوم ہیں۔ جامعہ کی تعمیر و تشکیل میں اردو شعرو ادب کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ صدر شعبہ پروفیسر شہزاد انجم نے صدارتی کلمات میں کہا کہ بزم جامعہ کی یہ تقریب ہمیں جامعہ کے وژن، مشن، تاریخ، تہذیب اور روایت کی یاد تازہ کراتی ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر وہاج الدین علوی نے ڈاکومینٹری فلم اور طلبہ کی مختلف ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ تربیت،تہذیب اور شخصی ارتقاپربھی خصوصی توجہ دیتا ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر شہپر رسول نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزم جامعہ کی پوری ٹیم اپنے اختراعی ذہن، تخلیقیت، جدت اور ندت کے لیے قابل مبارک باد ہے۔ بزم جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر خالد مبشر نے افتتاحی کلمات میں طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اتنے کم وسائل و ذرائع اور سہولیات کے باوجود اس قدر غیر معمولی تخلیقی اور ثقافتی مظاہرے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کام کے لیے پیسہ نہیں جذبہ چاہیے۔ بزم جامعہ کی نائب صدر آفرین طارق، جوائنٹ سکریٹری محمد دانش، خازن رضوانہ خاتون اور رکن جمیل سرور نے پودے کے گملوں سے مہمانان کاا ستقبال کیا۔ نذیر احمد، محمد اعجاز، تسنیم سراج الحق اور ناصر احمد نے استقبالیہ اور اظہار تشکر کے فرائض انجام دیے۔ جنرل سکریٹری نیر اعظم، میڈیا کوآرڈنیٹرغلام علی اخضر اور رکن عامر اسلم نے بحسن و خوبی نظامت کی ذمے داریاں اداکیں۔اس جشن میں معراج الدین، مہتاب عالم، محمد ثاقب، ابوالاشبال، امالہ پروین، بابر علی اور عبدالرحمن نے نعت، غزل، انشائیہ اور مزاحیہ شاعری سے سامعین کو محظوظ کیا۔پروفیسر کوثر مظہری اور ڈاکٹرابوالکلام عارف نے بحیثیت جج ایم اے سمسٹر اول سے شفیق الرحمن اور نکہت پروین، پی جی ڈپلومہ اِن اردوماس میڈیا سے نجیب عالم، بی اے سمسٹر اول سے نازنین خاتون اور سید طفیل اشرف اورر اردو سرٹیفیکیٹ سے امریتا تیواری کو مسٹرفریشراور مس فریشر کے خطاب کا مستحق قرار دیا۔سینئرطلبہ وطالبات نے نووارد طلبہ وطالبات کانہایت دل کش مومینٹو سے فرداً فرداً استقبال کیا۔تبسم خاتون اور ان کی ٹیم نے جشن گاہ کی تزئین و آرائش میں دل و جان سے حصہ لیا۔
تقریب کا انعقاد خوش گوار اور جذباتی ماحول میں ہوا۔ طلبہ و طالبات میں اس قت جوش وخروش اپنے شباب پر پہنچ گیا جب شعبے کی طلبہ ٹیم نے سید انصرام الحق،توربان بیرا اور ان کی موسیقی ٹیم کی جوشیلی دھن میں ترانہئ جامعہ ”دیار شوق میرا شہر آرزو میرا“کا راگ چھیڑ دیا۔پروگرام میں پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر خالد جاوید، ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹرسرورالہدیٰ،ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹرسید تنویر حسین، ڈاکٹر سلطانہ واحدی، ڈاکٹر عادل حیات،ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر ساجدذکی فہمی،ڈاکٹر نعمان قیصر،ڈاکٹر محضررضا اورڈاکٹر سلمان فیصل کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں ریسرچ اسکالرس اورطلبہ وطالبات موجود تھے۔ تقریب کا آغاز عبدالودود کی تلاوت سے ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں