170

برقی کتاب بمقابلہ ورقی کتاب؟


یاسر اسعد
کنگ سعود یونیورسٹی،ریاض

سائنس وٹکنالوجی کی شبانہ روز ترقی نے جہاں دیگر وسائلِ نقل وحمل کوکہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے، وہیں علوم ومعارف کے باب میں اس کی پیش قدمیوں نے معلومات کے خزانے کا دہانہ انسان کے لیے کھول دیا ہے۔ ازمنۂ قدیمہ میں علم وتعلم کے لیے لوگ ہزاروں میل کا سفر طے کرتے تھے، تب جاکر چند احادیث ہاتھ لگتی تھیں، جنہیں وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ شمار کرتے تھے، زیادہ تر لوگوں نے تو اسی علم کی راہ میں اپنی زندگی قربان کردی اور ہمیشہ کے لیے اپنی ہستی کو آنے والوں کے لیے زندۂجاوید بنا گئے۔بعد کے دنوں میں انسانی ترقی کے ساتھ علم ومعرفت کے طریقے بھی بہتر ہوئے، کتابت کا رواج ہوا، مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے ورقی کتابیں بھی منظر عام پر آئیں، جو بلا شبہ علم ومعرفت کے حصول کا سب سے اعلیٰ وسیلہ ہیں۔
اسی ترقی کی دین الکٹرانک کتابیں بھی ہیں، جن کا سیلاب آیا ہوا ہے، حتی کہ ورقی کتاب مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی آن لائن ملنا شروع ہوجاتی ہے۔ برقی کتابوں کے اس طوفان کے سامنے ورقی کتابیں بسا اوقات مزاحمت کرتی نظر آتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کی صنف الگ ہو اور ان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو، بہت سارے لوگ اسے اچھا نہیں سمجھتے، دن رات ورقی کتابوں کے گن گاتے ہیں اور ایک طریقے سے الکٹرانک کتب کے تئیں متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ان کا شکوہ ہوتا ہے کہ وہ کتابوں کی خوشبو نہیں پاتے، ورق الٹنے کے مزے سے محروم رہتے ہیں، وہ قلم سے کتابوں کے حاشیے پر کچھ لکھ نہیں سکتے، اس میں نشانی نہیں رکھ سکتے، لیٹ کر بے فکری سے یا گود میں رکھ کر اسے نہیں پڑھ سکتے، قاری اور کتاب کے درمیان جو ربط اور محبت ہے ،وہ نہیں ملتی،موبائل وغیرہ کی بیٹری ڈاؤن ہو ،تو مطالعہ ہی نہیں ہوپاتا، آنکھوں کو دقت ہوتی ہے، بینائی کمزور ہوتی ہے، وقتاً فوقتاً میسجز اور نوٹیفیکیشن آنے سے دھیان بٹتا ہے، کتاب اور کتاب خواں کے درمیان کسی واسطے کا احساس ہوتا ہے اور یوں مکمل طور سے اس سے استفادہ ممکن نہیں ہوپاتا۔
ان باتوں سے انکار ممکن نہیں، واقعی برقی کتابوں میں یہ خامیاں موجود ہیں ،جن کی اصلاح نہیں کی جاسکتی، مگر ساتھ ہی ساتھ ورقی کتابیں بھی چند ان خصائص سے بہرہ ور نہیں جو برقی کتب میں ہیں۔ غایت دونوں کی علوم ومعارف کا حصول ہے، بس طریقۂ کار کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف بھی تناقض نہیں؛ بلکہ تعدد کی قبیل سے ہے ،جسے بدقسمتی سے لوگ متضاد سمجھ رہے ہیں۔ لندن کے ایک عربی روزنامہ ’’العرب‘‘ (۱۸؍اکتوبر ۲۰۰۶ء) میں حکیم مرزوقی نے اس موضوع پر بڑا بہترین مضمون رقم کیا تھا، جس کا عنوان ہے: ’’ورقی کتاب یا برقی کتاب؟ مطالعہ بیزار قارئین کا فرضی جھگڑا‘‘ ، مضمون کے ایک فقرے میں وہ لکھتے ہیں:
’’زیادہ تر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ دونوں (برقی اور ورقی) کتابوں کے درمیان کمال کا تعلق ہے ،نہ کہ تقابل کا؛ لہٰذا ورقی اور برقی کتابیں ایک دوسرے سے مل کر مکمل ہوتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کے اپنے خصائص اور مثبت ومنفی پہلو ہیں۔‘‘
مزید کہتے ہیں کہ مسئلہ ان دونوں کے درمیان مسابقت کا نہیں؛ بلکہ مطالعہ کے فقدان کا ہے، ایک مصری تنظیم کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ عالمِ عربی میں فرد کے مطالعے کی شرح سالانہ ربع صفحہ ہے، ۲۰۰۳ء کی یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ ۸۰؍عرب افراد مل کر ایک کتاب کے برابر مطالعہ کرتے ہیں ،جب کہ تنہا ایک یورپی شخص سال میں ۳۵؍کتابیں پڑھتا ہے، اسی طرح اسرائیلی شخص سال بھر میں ۴۰؍ کتابیں مطالعہ کرتا ہے۔
اس سے ایک بات تو سامنے آگئی کہ ان دونوں قسم کی کتابوں کے درمیان جو تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،وہ فرضی ہے، جس کی کوئی اہمیت نہیں؛ کیونکہ جہاں ایک طرف ورقی کتاب اپنی حد میں خصوصیتیں رکھتی ہے، وہیں الکٹرانک کتابیں بھی کئی معاملوں میں ممتاز ہیں۔
برقی کتاب کی (آنلائن) طباعت کا خرچ کم ہوتا ہے، قیمت کم ہوتی ہے؛ بلکہ زیادہ تر مفت میں میسر ہوتی ہے، بیک وقت لا تعداد لوگ اسے پڑھ سکتے ہیں، مختصر سی یو ایس بی یا کارڈ میں لاکھوں کتابیں آسکتی ہیں، کمال سرعت کے ساتھ چند سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیلائی جاسکتی ہیں، دوران مطالعہ اس کتاب پر حاشیہ بھی لگایا جاسکتا ہے، تبصرہ بھی کیا جاسکتا ہے، خط کا حجم بڑا چھوٹا بھی ہوسکتا ہے، ربط سے ویڈیوز اور آڈیوز بھی چلائی جاسکتی ہیں، ربط سے مراجع بھی براہ راست کھلتے ہیں، اسمارٹ کلاس روم میں پوری کلاس ایک کتاب سے مستفید ہوتی ہے، بغیر روشنی کے بھی پڑھ سکتے ہیں، اسے چلتے پھرتے سفر وحضر سب میں پڑھ سکتے ہیں۔ بس میں ہوں یا ٹرین میں، بینک کی لائن میں ہوں یا ٹکٹ کی، کسی انتظار گاہ میں ہوں یا راستے میں چل پھر رہے ہوں، غرضیکہ ہر موقع ومقام پر یہ کتابیں آپ کو میسر ہیں۔ان کو پڑھتے وقت آپ کو شرم نہیں آئے گی؛ کیونکہ دیکھنے والا آپ کو موبائل چلاتا ہوا سمجھے گا۔
ایسی کتاب کے وزن کا بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا، سیاہی نہیں خرچ ہوتی، نقل وحمل کی ضرورت نہیں پڑتی، اس کو نکالنے کے لیے لائبریری نہیں جانا پڑتا، اسے جمع کرنے کی مصیبت سے دوچار نہیں ہونا پڑتا، اس کے پھٹنے کا خدشہ نہیں، بایں طور جرمانہ بھی نہیں، پڑھنے کے لیے روشنی کی ضرورت نہیں؛ لہٰذا کمبل میں آگ لگنے کا اندیشہ بھی نہیں، کسی اسٹریٹ لائٹ کی حاجت نہیں، اس کے نسخے کبھی ختم نہیں ہوں گے، اس کو پڑھنے کے لیے بیٹھنے یا حالتِ اطمینان میں ہونے کی ضرورت نہیں، اس میں تھکنے کا امکان نہیں، خریدنے کی صورت میں آنے کا انتظار نہیں…..الخ۔
برقی کتابوں سے استفادے کے بے شمار مواقع ہیں، جو یقیناًورقی کتابوں سے زیادہ ہیں، خصوصاً بیرون ملک رہنے والے حضرات اس کی اہمیت کو اچھی طرح سے سمجھتے ہوں گے۔ یہ ناچیز بھی بغرضِ تعلیم سعودیہ میں مقیم ہے، جہاں اردو کی ورقی کتابیں اور مکتبے دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں، ان حالات میں اپنی زبان پر کنٹرول رکھنے کا یہ واحد ذریعہ اور سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔
سطور بالا سے مترشح ہے کہ برقی کتاب بمقابلہ ورقی کتاب کہنا درست نہیں، دونوں کے اپنے امتیازات ہیں، جن کا مقابلہ کرنا حماقت ہوگی۔ اس مضمون سے یہ غلط فہمی نہ ہوکہ کسی ایک نوع کو دوسرے پر فوقیت دی جارہی ہے؛ کیونکہ یہاں سر ے سے معاملہ مقابلے کا ہے ہی نہیں!

yasirasad97@ymail.com
0966501045646

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں