30

بدرؔ محمدی کی غزل کے عناصر ترکیبی

ڈاکٹر ممتاز احمد خان
ڈاکٹر بدالزماں بدرؔ محمدی شاعر و ادیب کی حیثیت سے اب ایک مشہور و معروف نام ہے۔ وہ ادب کے سنجیدہ اسکالر اور معتبر مبصّر کے ساتھ ساتھ خوش فکر شاعر بھی ہیں۔ ان کے تبصروں کا مجموعہ ”اِمعانِ نظر“ شائع ہو کر اہل نظر کو متوجہ کر چکا ہے اور ان کی غزلوں کے دو مجموعے چھپ کر اہلِ ذوق کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔”بنتِ فنون کا رشہ“ ۱۱۰۲ء اور ”خوشبو کے حوالے“ ۸۱۰۲ء میں شائع ہوئیں۔ فی الوقت آخرالذکر مجموعہ میرے پیشِ نظر ہے اور میں نے اس مجموعے کے مطالعے سے جو تاثرات اخذ کیے، انھیں ذیل کے سطور میں قلم بند کررہا ہوں۔
بدرؔ محمدی کی غزلیں ایک خوشگوار ذائقے سے ہم کنار کرتی ہیں۔ بدرؔ روشِ میرؔ کے پیرو ہیں۔ ان کی غزلوں میں زندگی اپنی سادہ اور فطری جلوؤں سے آراستہ نظر آتی ہے۔ یہاں تکلّف، تصنّع، پیچیدگی اور فکر و فلسفہ کی تہہ در تہہ پرتیں نہیں ملتیں۔ زندگی کے مراحل و تجربات جو فطری تاثر چھوڑتے ہیں ان کا سادہ اور شگفتہ اظہار ہے۔ شاعر کی نگاہ روزمرّہ کی زندگی پر ہے اوروہ اپنے گردوپیش کے سماجی، سیاسی، تہذیبی اور اقتصادی حالات سے بھی باخبر ہے۔ اس کے فن میں ان سب چیزوں کا عکس ہے مگر سب کا عکس ذات کے حوالے سے ملتا ہے۔
بدرؔ ایک منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ انہیں زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے اور وہ اپنے احساسات و تجربات کو سادگی اور حسن کے ساتھ پیش کرنے کا ہُنر جانتے ہیں۔ قسامِ ازل نے ان کی طبیعت میں موزونیت رکھی ہے اور وہ ذوقِ جمال سے بھی بہرہ ور ہیں۔ فنکار و شاعر کو حسِّ جمال کچھ زیادہ ہی وافر مقدار میں ملتا ہے۔ چنانچہ بدرؔ محمدی خوبصورت اور حسین جلوؤں کی جانب بے ساختہ متوجہ ہوتے ہیں او ر ان جلوؤں کے رنگ و نور سے اپنی آنکھوں کو روشن اور اپنے دل کو مسرور کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جمالیاتی میلان کی جانب کئی مقام پر اشارے کئے ہیں:
اور کچھ مجھ کو دکھائی نہ پڑے، ایسا نہیں
ہاں، مری آنکھ فقط جلوہئ جانی مانگے
o
حسیں نظارے دلوں کو اچک کے دیکھتے ہیں
دریچے کھول کے ہم بھی پلک کے دیکھتے ہیں
بدرؔ فطرت کے جمال و رعنائی سے اپنے محبوب کی خوبصورتی و برنائی تک جلد ہی پہنچ جاتے ہیں اور اپنے محبوب کی دلربائی اور لطف و کرم کا ذکر بشوق کرتے ہیں۔ ان کا محبوب انہیں نہیں ملا، اس بات کا ملال انہیں ہے اور اپنے تاسّف کو وہ چھپاتے نہیں ظاہر کردیتے ہیں۔ وہ نوبہ نو تشبیہوں اور استعاروں کے ذریعے اپنے محبوب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے مندرجہ ذیل اشعار محبوب کے ذکرِ جمیل اور حدیثِ جمال سے معمور ہیں:
دوسرا کوئی کہاں ہے ہو بہو اس کی طرح
ہو بہو اس کی طرح، ہاں خوبرو اس کی طرح
آسمانِ حُسن بھی کہنا اسے ٹھہرا بجا
زیب اوروں کو نہیں دیتا غلو اس کی طرح
کھو گیا میں خود مگر جاری رہی اس کی تلاش
کون کرتا ہے کسی کی جستجو اس کی طرح
o
رُخ پلٹ جائے گا ہر ایک تماشائی کا
وہ جو ہو جائے کھڑا تاج محل کے آگے
o
مجھ کو کیا اسیر تری زُلف نے مگر
بیگانے کیوں ترے لب و رخسار ہوگئے
بدرؔ جب اپنے محبوب کی توصیف و تحسین کے لئے نئے نئے اسالیب اور پیراہائے بیان استعمال کرتے ہیں تو ان کے شعروں کا ذائقہ نئی حلاوتوں اور انوکھی مٹھاس سے بھر جاتا ہے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل اشعار دیکھیے:
ہماری آنکھوں میں وہ اس طرح سے آنے لگے
پرندہ جھیل میں جیسے کوئی نہانے لگے
o
اُسی سے چودھویں کی شب چلو یہ پوچھ کر دیکھیں
کہ اک تصویر دھندلی سی ہے کس کی چاند کے گھر میں
o
قالینِ چشم مجھ کو بچھانے دے راہ میں
وہ پائے ناز چاہتا ہے مخملی سفر
o
ہر صبح میرا غنچہئ دل وا کرے ہے وہ
تیرا خیال جھونکا ہے بادِ نسیم کا
بدرؔ محمدی کے غزلیہ آہنگ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اسلامی اقدار اور تہذیبی روایات کو یاد رکھتے ہیں۔ نماز، اذان، وضو، مسجد کا ذکر ان کے اشعار میں بے ساختہ و برجستہ ہوا ہے۔ اسلامی تلمیحات و اشارات کے استعمال سے ان کے یہاں ایک روحانی فضا پیدا ہوتی ہے جو پڑھنے والوں پر خوشگوار تاثر چھوڑتی ہے:
سونی مسجد کا میں نمازی ہوں
راستہ تکتی ہے اذاں میرا
o
سُن لوں ذرا اذاں، مری مصروفیت ٹھہر
دنیا میں دے رہا ہے کوئی دین کی صدا
o
ہو گیا تازہ دم میں بہرِ نماز
سادگی کیسی یہ اذان میں ہے
o
میں بھی ابراہیم ؑسا ہوں آتشِ حالات میں
رکھ لے میری بھی خدایا آبرو اس کی طرح
بدرؔ محمدی عملی اور فکری دونوں اعتبار سے بڑے متحرک، محنت کش اور مشقّت پسند انسان ہیں۔ان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ ہمہ وقت تگ و دو میں رہتے ہیں۔ وہ اقبالؔ کے بقول جانتے ہیں کہ ”یہ تگاپوئے دما دم زندگی کی ہے دلیل“۔ قرار و قیام ان کے حصے میں کم ہے کیونکہ وہ ہر دم رواں دواں رہنا چاہتے ہیں۔ اپنی شاعری میں بھی انھوں نے اپنی جفا طلبی اور مشقت پسندی کا جا بجا ذکر کیا ہے۔ وہ آرام طلب اور عیش کوش نہیں ہیں۔ نامساعد حالات کے سامنے وہ سپر انداز نہیں ہونا چاہتے۔ راستے میں حائل رکاوٹوں کو توڑ کر مقصد و منزل تک پہنچنے کا وہ عزمِ بلند رکھتے ہیں۔ فاصلے کو وہ خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ اس قدر مصروفِ کار ہیں کہ ان کو تھکن کی فرصت نہیں۔ ان کا مضبوط اور توانا جسم اور ان کا مصمم ارادہ ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ چنانچہ وہ ہمہ وقت اقدام اور پیش رفت کی حالت میں رہتے ہیں۔ ان کے وہ اشعار جن میں عزمِ بلند اورمشقت طلبی و جفا کوشی کے مضامین باندھے گئے ہیں۔ ان کی شاعری کو ایک بلند مرتبے پر فائز کرتے ہیں۔ ان کے ایسے اشعار میں جوش، ولولہ، ہمہمہ اور طنطنہ پایا جاتا ہے۔ چند اشعار:
دشواریاں تھیں راہ میں میرے قیام تک
میں چل پڑا تو راستے ہموار ہو گئے
o
ہمارا عزم زیادہ کہ رہ گزر کم ہے
ہر ایک گام پہ لگتا ہے یہ سفر کم ہے
o
دور ہوتی جائے منزل اور سفر باقی رہے
رہ گذارِ شوق سے میرا گزر باقی رہے
o
نہ سطحِ آب کی دنیا نہ زیرِ آب کی دنیا
مری مشکل پسندی مانگے ہے گرداب کی دنیا
o
عزم کا بارِ اعادہ اوڑھے
کم نہیں، ہم ہیں زیادہ اوڑھے
o
عادت نہیں ہے میری رہِ ہموار دیکھنا
مجھ کو جو دیکھنا ہو سرِ دار دیکھنا
o
سفر میں رہنے کا یہ سلسلہ ہی منزل ہے
ہمارے واسطے اب راستہ ہی منزل ہے
o
پُر عزم ہوں میں اور حمایت بدن کی ہے
مصروف کار ہوں کہ نہ فرصت تھکن کی ہے
o
آئے جس طرح بھی وہ بھیس بدل کے آگے
کب سپر ڈالنے والا ہوں خلل کے آگے
o
روز روز آتے ہیں پتھّر لینے میری خیریت
پیڑ جو آنگن میں ہے اس میں ثمر باقی رہے
بدرؔ محمدی اپنی دو محبوباؤں کا ذکر بار بار کرتے ہیں۔ ان کی ایک محبوبہ اردو ہے اور دوسری محبوبہ شاعری۔ ان دونوں سے ان کو بے پناہ محبت ہے۔ اردو ان کی مادری زبان ہے اور یہی ان کے اظہار کی زبان ہے۔ شاعری وہ اسی زبان میں کرتے ہیں۔ لیلائے شاعری ان کے ہو ش و حواس پر سوار رہتی ہے۔ شاعری بدرؔ کی زندگی ہے اور اس زندگی کو اسی لیلائے فن کے گیسو سنوارنے کے لئے باقی رکھنا چاہتے ہیں:
زندگی سے ہے شاعری یعنی
شاعری سے ہے زندگی صاحب
o
شعر و سخن کی بدرؔ پہ ہے یوں سوار دھُن
اپنی نہیں ہے فکر اسے، فکر و فن کی ہے
o
بدرؔ وہ اور کیا کسی کی سُنے
دے رہا ہو جسے صدا مصرع
o
سنّتِ میر تقی میرؔ ہے یہ
کیجئے آہ و بکا اردو میں
کم نہیں اس کی ہے یہ خوش بختی
بدرؔ ہے نغمہ سرا اردو میں
اپنی محبوباؤں کے حصار میں رہنے والا یہ فنکار اپنے گردوپیش سے یکسر بیگانہ نہیں ہے۔ حالاتِ حاضرہ اور مسائل موجودہ پر اس نے فکر انگیز تبصرے کیے ہیں۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
کیے جاؤں کہاں تک سامنا بادِ مخالف کا
موافق بدرؔ کب ہوگی ہوا شہرِ ستم گر میں
o
جی رہا ہوں، نہیں جینے کے اس ماحول میں
زندگی ایسے میں کرتا ہے بسر کوئی نہیں
o
ابھاروں کس طرح سے میں نظارہ دیدنی کوئی
نظر ڈوبی ہوئی ہے دیر سے خوں بار منظر میں
اعلیٰ اخلاقی و روحانی اقدار اور پاکیزہ اور لطیف انسانی جذبات و احساسات کا جو زوال ہوا ہے اس پر شاعر متاسّف ومتردّد ہے:
جنبش ہے تن بدن میں دھڑکتا نہیں ہے دل
یوں ہوگئے مشینی کہ جذبات ہی نہیں
بدرؔ کے بہت سے اشعار پندوپیغام اور حکمت وموعظت کے حامل ہیں۔ انھوں نے زندگی کے بعض مسائل کا حل بہت سادگی اور خوبصورتی سے پیش کردیا ہے:
دینا جوابِ جاہلاں میرا شعار ہے
ہاں چپ مجھے پسند ہے بکواس کی جگہ
o
برابری کے لیے چاہیے کمی بیشی
مکان اونچا بناؤ زمیں اگر کم ہے
o
اور بھی راہ روی کے ہیں طریقے یارو!
کیا ضروری ہے بڑھو مجھ کو کچل کے آگے
بدرؔ محمدی کے یہاں صنائع لفظی اور صنائع معنوی کی مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ ان سب کو ایک مضمون میں نقل کرنا آسان نہیں۔ بدرؔ لفظ کی اہمیت سمجھتے ہیں اور وہ الفاظ کے پارکھ ہیں۔ وہ لفظ کے تخلیقی استعمال پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ بہ ظاہر معمولی اور سامنے کے سیدھے سادے الفاظ کی ترتیب سے جہانِ معنی پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے یہاں سہلِ ممتنع کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار ان کی قدرتِ کلام اور معنی آفرینی کے بیّن ثبوت ہیں:
کوئی صورت یوں میری آنکھوں میں
جیسے مسجد میں باوضو چہرہ
دوستی چہرے کی نظر سے ہے
اور چہرے کا ہے عدو چہرہ
o
میں نظر کے گاؤں کا حیرت زدہ
اور وہ شہرِ لب و رخسار تھا
o
کوئی میرا نہ میں کسی کا ہوں
مجھ میں محصور ہے جہاں میرا
o
ہے کور چشم فلک وہ کسی کو کیا دیکھے
ہم آنکھ والے تماشے فلک کے دیکھتے ہیں
o
بیٹھنا ہو تو کسی پیڑ کے نیچے بیٹھو
ہو نہ ہو چھاؤں گھنی پیڑ کے نیچے بیٹھو
اردو کے معروف شاعر و مبصّر ڈاکٹر رؤف خیر نے ان کی شاعری پر بہت صحیح تبصرہ کیا ہے اور ان کی خصوصیاتِ شاعری پر اچھی روشنی ڈالی ہے۔ رؤف خیر کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
”خوشبو کے حوالے“ سے میں ایک ایسی غزل پیش کرنا چاہوں گا جو اس مجموعے کی جان ہے۔ بدرؔ محمدی اس پر جتنا ناز کریں کم ہے۔یہ ایسی غزل ہے جو انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے، مطلع دیکھئے ؎
ہمارا عزم زیادہ کہ رہ گزر کم ہے
ہر ایک گام پہ لگتا ہے یہ سفر کم ہے
مذکورہ غزل میں ہر شعر کسی شعر کا جواب لگتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلاتے ہوئے بدر محمدی نے روشنی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافی حُسن قابلِ داد ہے۔ یہ َدور ہی ایسا ہے کہ کوئی اونچی بات سروں پر سے گزر جاتی ہے، شاید اسی لئے بدر محمدی نے قاری و سامع کے مبلغِ علم کا خیال رکھا ہے۔ وہ اسے پریشان نہیں ہونے دیتے بلکہ اس کے قدم بہ قدم چلتے ہوئے اجنبیت یا ماورائیت کا احساس نہیں ہونے دیتے۔“
بدرؔ محمدی نے خوش فکر و خوش اسلوب شاعروں کی صف میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ ان کے مجموعے میں عمدہ، شگفتہ، معنی خیز اور حافظے سے چسپاں ہو کر رہ جانے والے اشعار خاصی تعداد میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں