71

بحر علوم و معارف مولانا نعمت اللہ اعظمی -:حالات و مشاہدات

وصی اللہ سدھارتھ نگر

کشادہ پیشانی، آنکھوں پر عینک، پرکشش گورارنگ، مسکراتے ہوے ہونٹ، کشیدہ قامت، باتوں میں علم و تواضع کا حسین سنگم، ہاتھ میں عصا وغیرہ خصوصیات کی حامل شخصیت اسم با مسمّٰی حضرت اقدس مولانانعمت اللہ صاحب دامت فیوضہم استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند
ولادت :
مئوناتھ بھنجن کا معروف مقام “پورہ معروف، محلہ پارہ” آپ کی جائے ولادت ہے، 1356 ہجری سن ولادت ہے، یوں تو پورہ معروف اہل علم و فن کا مرکز رہا ہے؛ لیکن اللّٰہ نے آپ کاخمیر یہاں کی مٹی میں شامل کر کے مٹی کو سونا بنادیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ اس سرزمین کی سب سے عظیم علمی ہستی ہیں۔
ابتدائی تعلیم :
ابتداء دینیات اور مکتب کی اکثر کتابیں اپنے وطن مالوف ہی میں حاصل کیں، یہاں کے اساتذہ اور متعلقین میں کافی مقبول رہے، محنت اور جہدِ مسلسل میں بھی مشہور ہوئے، نیز عربی کی ابتدائی تعلیم بھی یہیں پر حاصل کی۔
اعلی تعلیم :
بعد ازاں ازھرِ ہند دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا، چناچہ سال اول میں تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی کی مشہور تفسیر “جلالین” اور علمِ حدیث کی مشہور و مستند کتاب “مشکوۃ المصابیح” کی تعلیم حاصل کی۔
فراغت:
1372 ہجری آپ کا سن فراغت ہے، اسی سال ماہ شعبان میں دورہ حدیث شریف کا امتحان دیا اور اول نمبر سے کامیابی کا تمغہ حاصل کیا۔
اساتذہ :
آپ کے اساتذہ میں کئی ایک نام قابل ذکر ہیں: شیخِ عرب و عجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، جامعِ منقول و معقول حضرت علامہ محمد ابراھیم بلیاوی، شیخِ ادب حضرت مولانا اعزاز صاحب امروہوی رحہم اللّٰہ۔ نیز آپ نے محدث کبیر ابو مآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی علیہ الرحمہ سے بھی علمی استفادہ کیا ہے۔
تدریس:
فراغت کے بعد اپنے استاذ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہوی علیہ الرحمہ کے ایما و اشارہ پر مغربی یوپی کے مشہور مدرسہ “مدرسہ حسینیہ” (تاؤلی مظفر نگر) میں تدریسی خدمات پر مامور ہوئے، اس کے بعد ملک کے دیگر عربی مدراس میں بھی آپ کا علمی فیضان جاری ہوا، جن میں مفتاح العلوم کوپا گنج، جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ، اور مفتاح العلوم مئو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
دار العلوم دیوبند میں تقرر:
1402 ہجری میں یہ گوہر قابل ملک کے مختلف مدارس کا چکر لگانے کے بعد دار العلوم دیوبند پہنچا، نمایاں معیار پر آپ کا تقرر عمل میں آیا، علیاکےاستاذ طے ہوئے۔
تدریس حدیث:
دار العلوم دیوبند تشریف آوری کے بعد جہاں بہت سی دیگر کتابیں آپ کے زیرِ درس رہیں وہیں علمِ حدیث سے خصوصی شغف اور لگاؤ ہونے کی بناء پر “مسلم شریف اور ابو داؤد شریف بھی آپ سے متعلق ہوئیں؛ چنانچہ عرصہ سے نہایت ہی دلجمعی سے آپ یہ خدمت انجام دے رہے ہیں، علمِ حدیث کو آپ نے اپنا خصوصی فن بنایا، اصولِ حدیث میں گرفت پیداکی، مہماتِ کتبِ حدیث کا مطالعہ کیا؛ نتیجتاَ دار العلوم نے آپ کو بحر العلوم کالقب دیا، احاطہُ دار العکوم میں آج یہ عالم ہے کہ ہر کہ و مہ کی زبان پر نام کے بجاے “بحر العلوم” کا لفظ آتا ہے اور یہی آپ کا صحیح تعارف کراتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کاشعبہ تخصص فی الحدیث:
دار العلوم دیوبند میں جب شعبہ تخصص فی الحدیث کا قیام عمل میں آیا تو آپ اس شعبہ کے نگراں منتخب ہوئے، آپ ہی اس کے روح رواں رہے اور کیوں نہ ہو جب کہ یہ فریضہ وہی انجام دے سکتا ہے جس نے علمِ حدیث کی پُرپیچ اور مشکلات بھری وادیوں کو بلا کسی چوں چرا طے کیا ہو۔
ذوقِ مطالعہ :
رب العالمین نے آپ کوذوق سلیم عطا فرمایا ہے، طبیعت میں سنجیدگی اور یکسوئی ودیعت کی ہے، الغرض:
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ
مجھے کام اپنے ھی کام سے
آپ کا شعار رہا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اپنے مخصوص علمی ذوق کی بناء پر مطالعۂ کتب آپ کا محبوب مشغلہ ہے، اسی میں منہمک رہتے ہیں، مطالعہ ہی آپ کو غذا بخشتا ہے اور یہی آپ کو ہر طرح کا سکون عطا کرتا ہے، تدریسی اوقات سے فراغت کے بعد آپ مطالعہ کے لیے فارغ ہوتے ہیں، عمرکے اس مرحلہ میں جب انسان کے قوی ساتھ دینا چھوڑ دیتے ہیں گھنٹوں تپائیوں اور کتابوں کے ہجوم میں بیٹھے محو رہتے ہیں اور اسی سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ اساتذۂ دار العلوم کی ایک جماعت دوپہر کے کھانے کے لیے دسترخوان پر بیٹھی تھی، آپ بھی موجود تھے، معمولی سا کھانا تناول کرنے کے بعد آپ کنارہ کش ہوگئے، کسی نے کہا: حضرت! مزید لیجیے اور کھائیے۔” آپ نے بصد خندہ لبی یہ جواب دیا کہ “مجھے دوپہر میں سونا نہیں؛ بلکہ پڑھنا ہے۔” قربان جائیے اس بحر علم کے ذوق و شوق علم پر جو معمولی سا کھانا بھی کھاتا ہے تو یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ مطالعہ میں خلل نہ پڑے۔
دار العلوم دیوبند کے وسیع کتب خانہ سے استفادہ :
مادر علمی دار العلوم دیوبند کا کتب خانہ ایشیا کے عظیم الشان کتب خانوں میں سے ایک ہے، عظیم اور علمی، نادر و نایاب کتابوں کا ایک معتدبہ ذخیرہ یہاں موجود ہے، آپ کی بابت مشہور ہے کہ دار العلوم کے کتب خانہ کی جس کتاب کا کوئی مطالعہ نہیں کرتا اس کا مطالعہ آپ کرتے ہیں، یعنی نادر فنون کی وہ کتابیں جن کی عموماَ لوگوں کو ضرورت نہیں پڑتی آپ اس کے ضرورت مند ہوتے ہیں اور جن کتابوں تک کسی کو رسائی نہیں ہوتی ان پر آپ کی گرفت ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ کی بابت یہ بھی مشہور ہے کہ کتب خانۂ دار العلوم کے نادر فنون یا مخطوطات وغیرہ کی وہ کتابیں کہ کسی کو جن سے دلچسپی نہیں ہوتی اور ان پر گرد لگ جاتی ہے اگر ان کی گرد صاف ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضرت بحر العلوم دامت برکاتہم نے ہی اس کا مطالعہ کیا ہے۔
ذوقِ مطالعہ کی ایک شہادت کتب خانہ دار العلوم کے نگراں کی زبانی:
آپ کا یہ ذوقِ مطالعہ صرف زمانۂ تدریس کا خاصّہ نہیں؛ بلکہ زمانۂ طالبِ علمی میں بھی آپ کا شوقِ مطالعہ قابلِ تحسین تھا، حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی علیہ الرحمہ کتب خانہ دار العلوم سے اپنے استفادہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
ایک روز بارہ بجنے کے بعد بھی میں کتب خانہ میں بیٹھا رہ گیا، وہ (نگراں) بھی کسی کام میں مشغول تھے، کچھ دیر کے بعد جب فارغ ہوئے تو دروازہ بند کرنے لگے، پہر انہیں کچھ خیال آیا تو پلٹ کر دیکھا کہ میں ابھی تک کتاب دیکھے جا رہا ہوں، ڈانٹنے لگے کہ تمہاری وجہ سے کیا میں یہیں پڑا رہوں؟ چلو باھر چلو، میں تو دروازہ بند کردیے ھوتا؛ مگرتم یاد آگئے، پہر مسکرانے لگے اور فرمایا کہ میں کتب خانہ میں اس کام پر تیس سال سے ہوں، اس تیس سال کے عرصہ میں کتب خانہ کوسب سے زیادہ استعمال کرنے والے تین طالب علم ملے اور اتفاق ہے کہ تینوں اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں؛ بلکہ دو تو بھائی تھے: ایک امانت اللہ، دوسرے نعمت اللہ (یہ حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی ہیں) اور تیسرے تم ہو۔ (اس وقت ضلع اعظم گڑھ پڑتا تھا اب ضلع مئو میں آگیا ہے)
[حکایت ہستی، حصہ اول/ 192]
نگراں دار المطالعہ کی اس شہادت سے آپ کے شوقِ مطالعہ کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وسعتِ علمی:
اگریہ دعوی کیاجائے توغلط نہ ہوگا کہ علومِ اسلامیہ سے نہ صرف آپ کو واقفیت ہے؛ بلکہ گوشوں اور شوشوں پر آپ کو گرفت بھی حاصل ہے، تفسیر و حدیث کا مسئلہ ہو یا فقہ و فتاوی کا، بلاغت و کلام کا مسئلہ ہو یا تاریخ و سیر کا، الغرض ہر ایک فن پر آپ کو مکمل طور پر عبور حاصل ہے، بڑے بڑے اہل علم جب کسی مسئلہ کے حل میں عاجز و درماندہ ہوتے ہیں تو آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں، کسی مشکل سے مشکل عبارت کے حل میں جب پریشان ہو کر آپ کے پاس پہونچتے ہیں تو چٹکیوں میں اس مسئلہ کوحل ہوتا ہوا پاتے ہیں، اسی پر بس نہیں؛ بلکہ مادر علمی کے جید اساتذہ اور معتبر و مستند اہل فنون کو جب کسی بات پر اعتماد نہیں ہوتا اور تذبذب کے شکار ہوتے ہیں تو پہر ان کا شک و تذبذب آپ کے پاس پہنچ کر دور ہو جاتا ہے، کسی کو بھی جب کوئی اشکال ہوتا ہے اور ممکنہ حد تک تگ و دو صرف کرنے کے باوجود ناکام ہوتا ہے توآپ کے علمی دسترخوان کی خوشہ چینی ہی میں عافیت نظر آتی ہے؛ نتیجتاَ وہ کامیاب ہوتا ہے اور اشکال دور ہو جاتا ہے۔
علمِ حدیث میں گہرائی و گیرائی :
علمِ حدیث آپ کاخصوصی میدان اور فن ہے، اس فن سے نہ صرف یہ کہ آپ کو لگاؤ؛ بلکہ عشق ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جب تدریسِ حدیث کے لیے مسندِ درس پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو تمام تر واقفیت کے باوجود پوری تیاری کے ساتھ تشریف لاتے ہیں، حدیث کی باریکیوں کو اس طرح حل فرماتے ہیں کہ غور اور دھیان سے سننے والے کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہ جاتا، دورانِ درس حلِّ کتاب کے پہلو بہ پہلو تفہیمِ حدیث کے ساتھ ساتھ اعتراضات بھی حل فرماتے ہیں اور متعلقات بھی بیان فرماتے ہیں، اس کے علاوہ طلبہ کی مستقبل کی زندگی میں ممد و معاون امور اور علمی پیچ و خم کی طرف اشارہ بھی فرماتے ہیں، آپ کی کوئی بھی بات علمی پہلو سے خالی نہیں ہوتی، ابھی دو سال پہلے کا واقعہ ہے: مدینہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا دیوبند آنا ہوا، انہیں اکابر دار العلوم سے کافی دلچسپی تھی، علمِ حدیث میں علماءِ دیوبند کی تصنیفات سے انہوں نے خوب استفادہ کیا تھا، جن میں “فیض الباری علی صحیح البخاری، معارف السنن علی جامع الترمذی، بذل المجہود فی حل ابی داؤد اور اوجزالمسالک الی موطا الامام مالک” کا بطور خاص تذکرہ کیا اور کہا کہ میں نے جو اعتدال ان تصنیفات میں پایا کہیں اور نہ مل سکا، اقرب الی السنۃ کی صحیح مصداق کی حامل جو تفسیر و شرحِ حدیث ان کتابوں میں ملی کہیں اور نہ مل سکی۔ لیکن ایک عرصہ سے میرے ذہن میں علمِ حدیث سے متعلق ایک سوال تھا، وہ آج تک کہیں حل نہ ہوسکا تھا، میں نے عرب کے بڑے بڑے اساتذۂ فن کے سامنے اس سوال کو پیش کیا لیکن سب نے معذرت کی، مدینہ یونیورسٹی کے اپنے اساتذہ کو بھی اس سے باخبر کیا، پر وہ خاموش رہے، ان سے کچھ نہ بن پڑا، اور اب اپنے دورۂ دیوبند کے موقع پر بھی میں نے اس اشکال کو حل کرنا چاہا؛
چنانچہ دار العلوم کے شیوخ و اساتذۂ حدیث کے متعلق معلومات فراہم کیں تو سب سے زیادہ ماہر اورسب سے بڑے محدث “بحر العلوم نعمت اللہ حفظہ اللہ” کاپتہ چلا، میں ان کے پاس گیا اور اپنا شکال ان کے سامنے رکھا، میں نے اشکال کیا کیا کہ فوراَ بلا کسی مراجعت کے انہوں نے میرا اشکال حل کردیا اور مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا؛ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جو اشکال بڑے بڑے مشہور اساتذۂ فن بکثرت مراجعت کے بعد بھی نہ حل کرپائے تھے انہوں نے بلاکسی مراجعت کے حل کردیے۔
اخلاق واوصاف:
خالق نے آپ کو علمی کمالات و فتوحات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور اوصاف حمیدہ کا بھی ایک وافر حصہ عطا کیا ہے، تواضع و مسکنت کا یہ عالم ہے کہ کپڑوں پر کوئی خاص دھیان ہی نہیں دیتے، کپڑے کا کون سا سرا کدھر جارہا ہے آپ کو اس کی فکر ہی نہیں ہوتی، سچ ہے پر ممکن ہے کہ پڑھنے اور سننے والوں کو یقین ہی نہ آئے کہ کئی مرتبہ تو یہاں تک دیکھنے میں آیا کہ کرتے کارنگ کچھ ہے تو پائجامے کا کچھ اور اسی لباس میں بلاکسی جھجھک کے احاطۂ دار العلوم میں آتے ہیں اور درس بھی دیتے ہیں، ہرکسی سے مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں، کبھی بھی کوئی طالب علم آپ سے کوئی علمی اشکال کرتا ہے تواولاَ مطالعۂ کتب کی تلقین کرتے ہیں بعد ازاں وہ اشکال کرتے ہیں۔ الغرض:
اےتو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم
تصنیفات:
مذکورہ تمام امور کے پہلو بہ پہلو آپ کئی ایک کتابوں کے مؤلف و مصنف بھی ہیں، جن میں علمِ حدیث کی ذیل کی دو کتابیں بطور خاص قابل ذکر ہیں:
نعمت المنعم: یہ صحیح مسلم کی اردو زبان میں انتہائی مقبول اور مشہور شرح ہے، یہ کتاب طلبہ اور علماء یعنی مدرسین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے، اندازِ تحریر معمولی پیچیدگی لیے ہوئے ہے؛ لیکن یہ اہل علم کی پیچیدگی ہے، ایسی نہیں جس پر نکتہ چینی کی جائے؛ بلکہ یہ آپ کی وسعت علمی کی شاہکار ہے؛ کیوں کہ علمِ حدیث؛ بلکہ جملہ علوم کے آپ ایک ایسے شہسوار ہیں جس کے قلم اور زبان میں بہت سی غیر متعلق لیکن انتہائی مفید باتیں بھی ملتی ہیں جو آپ کے تجربات کی گواہ ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ باتیں صرف آپ ہی کی زبانی سننے میں آئیں یا آپ ہی کی تحریر میں پڑھنے کو ملیں، کہیں اورنہیں۔ الغرض “نعمت المنعم” طلبہ اور علماء کے مابین کافی مقبول و مستند شرح ہے، بندے کے ناقص خیال کے مطابق اگراس کی تعریب کردی جاے تو متقدمین کی کتابوں کے میدان مقابلہ میں اس کتاب کو بھی رکھا جا سکتا ہے۔
تقریب شرح معانی الآثار:
یہ علم حدیث میں آپ کی دوسری تصنیف ہے جو دو جلدوں میں ہے، اس میں آپ نے مشہور حنفی محدث علامہ طحاوی کی کتاب “شرح معانی الآثار” کی تلخیص و تہذیب کی ہے، مشکل الفاظ و اصطلاحات پر حواشی لگائے ہیں، اسناد کو حذف کیا ہے؛ الغرض سہل الحصول بنانے کی ہر ممکمن کوشش کی ہے۔
اللہ رب العزت آپ کی حیات میں برکت عطافرمائے، آپ کے علمی فیضان کو مزید وسعت دے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں