43

بارش کا پانی عذاب جاں بھی، راحت کا ساماں بھی


ڈاکٹر منور حسن کمال
یہ بارشیں خشک زمینوں کی نہ صرف پیاس بجھاتی ہیں، بلکہ انہیں سرسبز و شاداب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ کنویں، جھیلیں اور جو دیگر آبی ذخائر موجود ہیں، وہ لبالب ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر مانسون میں بارشیں کم ہوں اور برفانی تودوں کا بہاو ¿ بھی کم رہے تو پینے کے پانی کے لیے کئی مسائل سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔

ابھی چند دنوں قبل ملک کے اکثر حصے گرمی اور پیاس سے بے حال تھے، جب سے بارشیں شروع ہوئی ہیں، ملک کا آدھے سے زیادہ حصہ زیرآب ہے۔ کہیں کہیں توآدم قد تک پانی کھڑا ہوا ہے۔ چند دنوں میں یہ پانی بہہ کر ندیوں اور نہروں سے ہوتا ہوا سمندر میں مل جاتا ہے اور اپنے پیچھے کئی بڑے مسائل چھوڑ جاتا ہے۔بارش کا یہی پانی کہیں تباہی لے کر آتا ہے اور عذاب جان بن جاتا ہے اور کبھی سخت گرمی سے بارش کی پھواریں ایسا سامانِ راحت فراہم کرتی ہیں کہ انسان کی روح تک سرشار ہوجاتی ہے،بلکہ انسان ہی کیا چرند پرند، کھیت کھلیان، باغ باغیچے اور یہاں تک کہ پیاسی زمین تک سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اسی پانی کو اگربچا کر رکھنے کے انتظامات کےے جائیں تو سخت گرمی کے موسم کے علاوہ دیگر خارجی ضرورتوں میں بھی یہ پانی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ جہاں تک سیلاب کا معاملہ ہے، یہ بارش کے پانی سے کم اور ڈیم جیسے آبی ذخائر سے پانی چھوڑے جانے کے سبب زیادہ آتا ہے۔ شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کئی دنوں مسلسل اور موسلادھار بارش ہویا بادل پھٹ جائیں اور پانی کا زبردست ریلا بڑی بڑی بلڈنگوں، بلندوبالا عمارتوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا کرلے جائے اور اطراف و جوانب میں تباہی کے لرزہ خیز مناظر نظر آئیں۔
گزشتہ کالم میں ہم نے پانی کے بحران پر گفتگو کی تھی، اسی سلسلے کو تھوڑا آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ پینے کے پانی کے بحران کو دور کرنے کے لےے جس طرح کے انتظامات کی ضرورت ہے،ہمارے ملک میں اس پر ابھی غور نہیں کیا جارہا ہے۔ محکمہ آبی وسائل کی سرگرمیاں جنہیں ایسے حالات میں نقطہ وعروج پر ہونا چاہےے تھا، ابھی شروع ہونے کو پرتول رہی ہیں۔ آج پانی سے کروڑوں افراد متاثر ہیں۔ صرف آسام اور بہار میں ہی تباہی کے وہ نظارے ہیں، جنہیں آدمی دیکھ اور سن کر افسوس کی وادیوں میں غرقاب ہے۔ حکومتی سطح پر بارش کے پانی کا ذخیرہ کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں اور حکومت نے اس کے لیے خصوصی پروگرام بھی مرتب کیا ہے۔ جن افراد کے پاس بڑے مکانات ہیں اور ان کی چھتوں پر پانی کافی مقدار میں برستا ہے، انہیں حکومت کے منصوبے پر عمل کرنا چاہیے اور پانی کے ذخیرے کے لیے جو آلات اور سامان حکومت فراہم کررہی ہے، ان کو حاصل کرکے پانی جمع کرنا چاہیے ۔ اس کے لیے خود حکومت کے پاس بھی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، سرکاری اسکول ہیں، سرکاری اسپتال ہیں، ان کی چھتوں پر آنے والے پانی کو بھی جمع کرنے کے لیے کمرکس لینی چاہیے ۔ اس لیے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں آبی ذخائر خشک ہوتے جارہے ہیں۔
ہندوستان میں پانی کا ذریعہ کوہ ہمالہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ موسم بہار میں برف کے تودے پگھلنے سے دریاؤں میں پانی بھرجاتا ہے۔ یہ دریا جن جن علاقوں سے گزرتے ہیں، وہاں کے کھیت کھلیان اور وہاں کی کثیر آبادی بھی اس سے سیراب ہوتی ہے۔ دوسرے بہت سے علاقے مانسون کی بارشوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ بارشیں خشک زمینوں کی نہ صرف پیاس بجھاتی ہیں، بلکہ انہیں سرسبز و شاداب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ کنویں، جھیلیں اور جو دیگر آبی ذخائر موجود ہیں، وہ لبالب ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر مانسون میں بارشیں کم ہوں اور برفانی تودوں کا بہاؤبھی کم رہے تو پینے کے پانی کے لیے کئی مسائل سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
عموماً مانسون کا موسم تین چار مہینوں تک رہتا ہے۔ اگرچہ بارش وقفے وقفے سے ہوتی رہتی ہے، کبھی کبھی موسلادھار بارش ہوتی ہے، جس کے سبب ڈیم پانی سے بھرجاتے ہیں اور پانی چھوڑنا پڑتا ہے، یہ پانی جب دریاو ¿ں میں پہنچتا ہے تو دریاؤں میں طغیانی آجاتی ہے اور یہی طغیانی بسااوقات سیلاب کا سبب بنتی ہیں. عام طور پر بارشوں سے اتنا پانی جمع نہیں ہوتا کہ سیلاب کی صورت حال پیدا ہوجائے۔ سیلاب سے کچی آبادیاں خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آسام اور بہار کے ہزاروں دیہات کے لاکھوں افراد بے حال ہیں۔ ان کے کچے مکانات پانی کی زد میں آکر یا تو ڈھے گئے ہیں یا جزوی طور پر ان کا اتنا نقصان ہوا ہے کہ ان میں رہائش مشکل ہے۔ 
آسام کی تازہ صورت حال کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ آسام کے 30اضلاع کے 50لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں۔ لوگوں کو سرچھپانے کی جگہ نہیں ہے۔ کھانا اور پینے کے پانی کی زبردست قلت ہے۔ بدرالدین اجمل آسام کے اسی علاقے سے ممبرپارلیمنٹ ہیں، جو بارش سے بہت زیادہ متاثر ہے، انہوں نے وزیراعظم مودی سے فضائی سروے کرنے اور آسام کے لیے 5ہزار کروڑ کے خصوصی پیکیج کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار میں بھی بارش اور سیلاب سے صورت حال دگرگوں ہے اور تقریباً33ہزار ایکٹر زمین کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ امدادی کام شروع ہوچکا ہے اور یہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ڈی بی ٹی(بلاواسطہ منتقلی) کے توسط سے ریاست کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ خاندانوں کو6،6ہزار کی فوری امداد براہ راست متاثرین کے اکاو ¿نٹ میں ٹرانسفر کرانا شروع کردیا ہے۔ ریاست بہار نے پہلی مرتبہ ایسا نظم کیا ہے کہ امدادی رقم راست طور پر متاثرین کو دی جارہی ہے۔ ورنہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ہوتے ہوئے ماضی میں جو امداد متاثرین کو دی جاتی رہی ہے، وہ متاثرہ شخص تک پہنچتے پہنچتے شاید نصاف یا اس سے بھی کم ہی رہ جاتی ہے۔
بارشوں کے بعد کی صورت حال بھی بہت خطرناک اور تشویشناک ہوتی ہے۔ آبی آلودگی بڑھنے سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں، جن کا بروقت علاج نہ ہونے کے سبب کثیر تعداد میں افراد لقمہ ¿ اجل بن جاتے ہیں۔ حکومتی سطح پر اس کے سدباب کے لیے بھی مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ویسے اگر ہر ذی شعور انسان پانی جمع کرنے کے قدیم اور مقبول طریقے پر عمل کرلے تو وہ اپنے گھر کی ضروریات تو آسانی سے پوری کرہی سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی بھی کچھ نہ کچھ مدد کرسکتا ہے۔
سیلاب سے جانی و مالی نقصانات اس لےے بڑھ جاتے ہیں کہ ندیوں اور نہروں کے کناروں پر ان دریاؤں کی چوڑائی اور پانی بہنے کے آثار کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس کے سبب جیسے ہی ان دریاؤں میں پانی آتا ہے، وہ منھ زور اور طوفانی دھاروں کا رُخ اپنے آثار کی طرف موڑ دیتا ہے۔ پھر اس کی زد میں جو آبادی، مکانات اور سڑکیں آتی ہیں، وہ سب تباہ ہوجاتی ہیں۔ انہی کناروں پر اگر گہرے تالاب بنائیں جائیں اور ان میں پانی کا ذخیرہ کرلیا جائے تو اس پانی سے آبپاشی میں بہت مدد مل سکتی ہے۔
اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جو منصوبے اور پروگرام زیرغور ہیں یا چل رہے ہیں، ان تک رسائی آسان بنانے کے لیے بات بات پر سڑکوں پر مظاہرہ اوراحتجاج کرنے والی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے اور حکومت جو امدادی رقوم جاری کرتی ہے، ان کومتاثرین تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر اس سلسلے میں کوئی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں، انہیں دور کرنے کے لیے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی مدد لینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے_
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں