161

بابری مسجد ملکیت مقدمہ :پانچ رکنی بنچ سے جسٹس یویوللت الگ ، اگلی سماعت 29؍جنوری کو

نئی دہلی:(پریس ریلیز)
سپریم کورٹ نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت آئندہ 29؍جنوری تک کے لئے ملتوی کردی ، آج جب سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو جمعیۃ علماے ہند کے لیڈ میٹر سول سماعت پیٹیشن نمبر 10866- 10867/2010 (ایچ محمد صدیق جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش)میں پیروی کیلئے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون، سینئر ایڈوکیٹ راجورام چندرن ،سینئر ایڈوکیٹ ورنداگرور اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈاعجازمقبول ودیگر وکلا پیش ہوئے۔ڈاکٹر رجیودھون نے سب سے پہلے عدالت میں 20/11/1997 کا ایک حکم نامہ پیش کرتے ہوئے عدالت کو مطلع کیا کہ بنچ میں شامل جسٹس یویوللت ایک مقدمہ (بابری مسجد کی شہادت )میں اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کے وکیل رہ چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ میری ذمے داری تھی کہ یہ بات میں عدالت کے علم میں لاؤں ، لیکن اگر جسٹس یویوللت مقدمہ کی سماعت کرتے ہیں ،تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ، یہ بات اب ان کی صوابدید پر ہے کہ آیا وہ مقدمہ کی سماعت کریں گے یا نہیں ، اس پر چیف جسٹس نے یہ بتایا کہ جسٹس یویو للت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اس میٹرکو نہیں سننا چاہتے، بعدازاں ڈاکٹر راجیودھون نے عدالت سے کہا کہ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے ہماری گزارش پر اس مقدمہ کو کسی وسیع تربنچ کے حوالہ کرنے سے منع کردیا تھا ،انہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں یہ بات حفظ ماتقدم کے طورپر کہہ رہے ہیں اور بہتر ہوگا کہ اس تعلق سے ایک جوڈیشل آڈربھی پاس کردیا جائے اس پر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ چیف جسٹس کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ کسی معاملہ کو کسی بھی نمبر آف بنچ کے حوالے کرسکتا ہے ، چیف جسٹس نے یہ بھی کہاکہ بنچ میں پانچویں جج کی شمولیت کے بعدآئندہ 29؍جنوری کو مقدمہ کی آئندہ سماعت کا لائحہ عمل طے ہوگا ، مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقدمہ سے جڑے شواہد وثبوت ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں اور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی چارہزار صفحات پر پرنٹ کی شکل میں اور آٹھ ہزار سے زائد ٹائپ شدہ صفحات کی شکل میں موجودہیں اور ہائی کورٹ کا ریکارڈ بھی جو کئی زبانوں میں ہیں ریکارڈ روم میں کئی ٹرنکوں میں ہے ، اب سپریم کورٹ کی رجسٹری یہ طے کریگی کہ ان کا مناسب طریقے سے ترجمہ ہوا ہے یا نہیں ، اس پر فریق مخالف کے وکیل مسٹر ہریش سالوے نے کہا کہ ترجمہ کاکام پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں وکلا رجسٹری کی مددکرسکتے ہیں ، ان کی اس پیش کش کو بنچ نے خارج کردیا اور کہا کہ رجسٹری ازخود یہ کام انجام دیگی ۔
جمعیۃعلماے ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم ابتدائی ہی سے اس حق میں ہیں کہ مقدمہ کی نوعیت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے کوئی بڑی بنچ اس کی سماعت کرے ، ہمارے وکلااس سلسلے میں عدالت سے بارہادرخواستیں بھی کرتے رہے ہیں ، مگر تب عدالت نے ہماری اس درخواست کو مستردکردیا تھا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کی بے حدخوشی ہے کہ اب اس مقدمہ کی سماعت ایک پانچ رکنی آئینی بنچ کرے گی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آج جس طرح ہمارے وکلا نے بینچ میں شامل جسٹس للت کا معاملہ اٹھایا ،وہ یہ ظاہر کرتاہے کہ ہمارے وکلا عدالت میں پوری تیاری کے ساتھ جاتے ہیں اور مقدمہ کے ہر پہلوپر ان کی نظرہوتی ہے ۔ جمعیۃعلماے ہند اپنا موقف پہلے ہی صاف کرچکی ہے کہ وہ قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ آئے گا ،اس کا احترام کرے گی ، اور میرا بھی یہی موقف ہے اس لئے کہ حکومتیں قانون سے ہی چلتی ہیں اور اگر قانون کا احترام نہیں ہوگا، تو حکومت خواہ کتنی ہی مضبوط اور طاقتورکیوں نہ ہو،انتشار اور تباہی کا شکار ہوسکتی ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانچ رکنی بنچ کے حوالے سے چیف جسٹس نے جو کچھ کہا ہے ،اس سے یہ بات پھر صاف ہوگئی کہ عدالت اپنا فیصلہ دینے سے قبل ان تمام اہم کاغذات کا جو ثبوت وشواہد کی شکل میں ہیں ،بڑی باریک بینی سے مطالعہ کرنا چاہتی ہے؛ تاکہ کوئی پہلومخفی نہ رہ سکے ،یہ ایک خوش آئند بات ہے ، مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ میں پانچ رکنی بنچ کی تشکیل کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔واضح رہے کہ جمعیۃعلماے ہند کی جانب سے آج عدالت میں سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون، سینئر ایڈوکیٹ راجورام چندرن ، سینئر ایڈوکیٹ ورندراگرور اور ان کی معاونت کے لیے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قرۃ العین، ایڈوکیٹ واصف رحمن خان،ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ زین مقبول، ایڈوکیٹ ایوانی مقبول،ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ ہمسینی شنکر، ایڈوکیٹ پریانشی جیسوال و دیگر موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں