205

ایک مقبول شارح کی رحلت


ابن الحسن عباسی

مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب اس سال اکتیس مارچ 2019 کو رحلت فرما گئے، وہ دس اپریل انیس سو پچاس کو انڈیا کے صوبہ “اتراکھنڈ” کے ایک قصبہ ” سکروڈہ” میں پیدا ہوئے تھے، انیس سو ستر میں وہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے، ستتر میں دارالعلوم دیوبند میں استاد مقرر ہوئے،انیس سو بیاسی میں دارالعلوم دیوبند وقف جب وجود میں آیا تو انیس سو ننانوے تک اس میں استادحدیث رہے، پھر دارالعلوم دیوبند آئے اور سن دو ہزارسے تادم وفات وہاں درجات علیا اور حدیث کے استاد رہے، اس طرح تقریبا چالیس سال تک وہ ہندوستان کے ان علمی مراکز سے فیض پھیلاتے رہے۔اس ماہ یکم اپریل کو دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں ان کا جنازہ ہوا اور وہیں ہجر کی بستی “مزار قاسمی “میں حوالۂ خاک کئے گئے ۔اجازت دیں کہ غالب کا وہ مشہور زمانہ شعر اس موقع پر کہاجائے،جو گو بہت پامال ہوچکا ہے لیکن تازہ ہے :
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم !
تو نے وہ گنجہائے گراں مایہ، کیا کئے ؟
مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب درس نظامی کی بعض کتابوں کے مقبول شارح تھے، جس زمانے میں ہم پڑھتے تھے، اس وقت اردو شروحات کا رواج زیادہ نہیں تھا، استاد اور طالب علم کی لیاقت کے یہ خلاف سمجھا جاتا تھا کہ اردو شرح دیکھ کر کتاب حل کی جائے، عام تاثر یہ تھا کہ اس سے استعداد نہیں بنتی ہے، پھر بھی اساتذہ اور طلبہ چھپ چھپ کر اردو شروحات کا مطالعہ کرتے تھے، مولانا حنیف گنگوہی صاحب اس زمانے میں مقبول شارح تھے، انہوں نے مختصر القدوری کی شرح، “الصبح النوری”، “کنز الدقائق” کی شرح، “معدن الحقائق” اور مختصر المعانی کی شرح “نیل الامانی ” کے نام سے لکھی، جو بڑی متداول تھی ، درس نظامی کے مصنفین کے حالات و خدمات پر ان کی کتاب “ظفرالمحصلین” کو آج بھی قبول عام حاصل ہے۔
ان کے بعد مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کا دور آیا، انہوں نے ہدایہ کی شرح “اشرف الہدایہ” حسامی کی شرح “فیض سبحانی” ، اصول الشاشی کی شرح “اجمل الحواشی” اور مختصرالمعانی کی شرح “تکمیل الامانی” کے نام سے لکھی اور ان تمام شروح کو قبول عام حاصل ہوا۔ تاثر یہ تھا کہ مولانا جمیل احمد صاحب کتاب کے مغلق مقامات کو کماحقہٗ تفصیل کے ساتھ حل کرتے ہیں، ان کی یہ کتابیں آج بھی پاکستان میں متداول ہیں اور وہ ان کتابوں کے سب سے مقبول شارح ہیں، ہمارے طالب علمی کے زمانے میں ان کتابوں کی اردو شروحات نا بید تھیں۔
اردو شروحات کے سلسلے میں میرا تجربہ ہے کہ یہ اصل فن اور کتاب سے طالب علم کو دور کر دیتی ہیں، بہتر طریقۂ تعلیم و تدریس یہ ہے کہ نفس کتاب پر توجہ ہو اور اصل فن کے ساتھ تعلق ہو، شروحات میں عموما زوائد بیان کیے جاتے ہیں اور آدمی ان میں بھٹک کے رہ جاتا ہے، جس سے بسا اوقات نفس کتاب کی طرف توجہ متاثر ہوجاتی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض مغلق مقامات کے حل لئے شروحات کی طرف رجوع ناگزیر ہوتا ہے، عموما درس نظامی کی کتابوں کےجو حواشی لکھے گئے ہیں، وہ بہت جامع اور شاندار ہیں اور کفایت کر جاتے ہیں۔
میں نے کئی سال تفسیر بیضاوی شریف پڑھائی، ہمارے ہاں نصاب میں شروع سے سورۂ بقرہ کے ایک ربع تک داخل درس ہے، تفسیر بیضاوی کا یہ حصہ کافی مغلق ہے، اس کی ایک اردو شرح یا تقریر پاکستان میں “التقریر الحاوی” کے نام سے معروف ہے اور دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر المدرسین مولانا فخر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہے، مفتی شکیل احمد صاحب اس کے مرتب ہیں لیکن انہوں نے اس کے تیسرے یا چوتھے حصے کے آخر میں تصریح کر دی ہے کہ یہ پوری شرح ان کے قلم سے ہے اور مولانا فخر الدین صاحب کی طرف اس کی نسبت صرف تبرک کے لیے ہے۔اس تقریر کا وہی انداز و اسلوب ہے جو مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کا ہے، جس میں پڑھنے والے کو کبھی کبھی طوالت کا احساس ہوتا ہے۔
نفس کتاب اگر پڑھائی جائے تو تدریس میں بھی آسانی رہتی ہے اور طلبہ کے لیے سمجھنا اور یاد رکھنا بھی آسان رہتا ہے، بلکہ ایک کتاب بار بار پڑھانے کے بعد اس کےلئے مستقل مطالعہ کی ضرورت کم ہوجاتی ہے تاہم تازہ مطالعہ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ۔اس حوالے سے اپنا ایک دلچسپ تجربہ بیان کردوں ، میرے پاس ابتدائے زمانۂ تدریس میں کئی سال تک شرح وقایہ اولین رہی، بار بار پڑھانے کے بعد آخری سالوں میں اس کے لیے الگ سے میں مطالعہ نہیں کرتا تھا؛بلکہ درس گاہ میں جا کر طالب علم عبارت پڑھتا اور میں اس کی تشریح کر دیتا تھا۔
چند سالوں کے بعد وفاق المدارس نے نصاب میں شرح وقایہ اولین کے بجائے ” آخرین” رکھ دی، میں حسب سابق اسی زعم کے ساتھ پڑھانے گیا، طالب علم نے عبارت پڑھی اور میں اس کی تشریح میں الجھ گیا اور الجھتا چلا گیا، خیال تھا، آگے آسان ہو گا اور آگے مشکل ہوتا گیا، دیکھا تو اس کی کوئی عربی اور اردو شرح بھی نہیں تھی۔شرح وقایہ اولین کا حاشیہ مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے “عمدۃ الرعایہ” کے نام سے لکھا ہے اور کمال کا لکھا ہے، یہ درس نظامی کی کتابوں کا سب سے عمدہ حاشیہ ہے، جو پڑھنے والے کو بے نیاز کردیتا ہے لیکن شرح وقایہ آخرین کا حاشیہ حضرت لکھنوی نہیں لکھ سکے، ان کے ایک شاگرد نے اس کا تکملہ لکھا ہے لیکن اس میں وہ بات نہیں، اس لیے مجھے شرح وقایہ آخرین کے حل کے لیے ہدایہ ثالث کی طرف رجوع کرنا پڑتا، اس طرح یہ کتاب بغیر تفصیلی مطالعہ کے میں بالکل نہیں پڑھا سکا، میرے نزدیک شرح وقایہ “آخرین” درس نظامی کی فقہ کی مشکل ترین کتابوں میں سے ایک ہے، خاص کر اس کا تیسرا حصہ ہدایہ ثالث کی ایک مغلق تلخیص ہے، اس کی کتاب الکفالہ اور حوالہ کی عبارتوں کو حل کرنے میں دماغ کو پسینہ آ جاتا ہے، اس زمانہ میں بڑی جستجو رہی کہ مولانا جمیل احمد صاحب نے اس کی کوئی شرح تو نہیں لکھی۔ اب تو اس کی کئی اردو شروحات آگئی ہیں، میں نے بھی اس کی شرح لکھی تھی، لیکن وہ طبع نہیں ہو سکی۔
بہرحال اس طرح مغلق کتابوں کے حل کے لیے شروحات مددگار ثابت ہوتی ہیں اور خاص کر کمزور استعداد والے طلبہ کا تو پورا فہم تعلیم ہی شروحات کے رہین منت ہوتا ہے، طلبہ کی ایک تعداد ایسی ہوتی ہے کہ ان کی اردو بھی کمزور ہوتی ہے، جو ہماری قومی زبان ہے، عربی تو آگے کی بات ہے، جب ہم درجہ اعدادیہ میں پڑھتے تھے، اس وقت مفتی اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کی “تعلیم الاسلام” داخل نصاب تھی، یہ ایک بے نظیر کتاب ہے، اس میں عقائد و احکام کو بہت سادہ لفظوں میں دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے، ہم نے اس کے حصہ اول کا پہلا سبق پڑھا تو ہمارے ایک ساتھی مولوی عبداللہ تھے، صوبہ سرحد کے تھے،اردو کم سمجھتے تھے ، اللہ انہیں سلامت رکھے، معلوم نہیں، اب کہاں ہوں گے، سبق ختم ہونے کے بعد ان کا پہلا سوال تھا، ” استاد جی! اس کتاب کی کوئی شرح ہے تو بتلادوـ”
مولوی عبداللہ جیسے ساتھیوں کو ہمیشہ شرح کی ضرورت رہی ہے اور رہے گی ـ
کتابوں کے مصنفین کی طرح ان کے شارحین بھی اہل علم اور طالبان علوم دینیہ کے محسن ہیں،مولانا جمیل احمد سکروڈہوی صاحب بھی اسی زریں سلسلے کے فرد خوش نصیب تھےـ انہوں نے ہزاروں طلباء کو پڑھایا اور برصغیر کے لاکھوں طلباء و طالبات نے ان کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور اٹھارہے ہیں ـ اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے اور ان کی محنت کو ان کےلئے زاد آخرت بنائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں