157

ایک مثالی معلم کی کہانی ایک شاگرد کی زبانی


ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
آکسفورڈ
آج اساتذہ اور مربین کی کمی نہیں، مدرسین اور معلمین کی ہر طرف بہتات ہے، مگر ماہر فن استاد، کامیاب مدرس، حاذق معلم، اور قابل تقلید واتباع مربی کا وجود عنقا ہے، جس مثالی معلم ومربی کا تذکرہ ان سطور میں مقصود ہے، اسے عنقا پر بھی یک گونہ ترجیح وفوقیت ہے، عنقا چار دانگِ عالم میں مشہور ہے اور ہر طرف اس کا چرچا ہے، میں جس مایہ ناز استاذ اور مفخرہ معلمین کی کہانی سنانے جا رہا ہوں، وہ نام اور شہرت سے بے پرواہ ہے، گمنامی اس کا سرمایۂ حیات اور گوشۂ خمول اس کی عافیت گاہ ہے۔

استاد محترم مولانا سید محمد واضح رشید ندوی سے میں نے کئی سال با قاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور مدتوں استفادہ کیا ہے، دار العلوم ندوہ العلما سے جدائی کو تیرہ سال ہوگئے ہیں؛ لیکن آج بھی میرا دل مولانا کی محبت وعقیدت سے اسی طرح لبریز ہے، مولانا کی مجالس کی یاد ہمہ وقت ستاتی رہتی ہے، مادر علمی میں گزارے ہوئے وہ لمحات یاد آتے ہیں، جب کلاس روم میں ہم مولانا کے درس سے مستفید ہوتے، یا ’’الرائد‘‘ کے دفتر میں مولانا کی گفتگو اور تبصروں سے لطف اندوز ہوتے؛ بلکہ اس سے زیادہ وہ گھڑیاں ستاتی ہیں ،جب ہم مولانا کی خاموشی اور سکوت سے فیضیاب ہوتے، مولانا کی ہر ادا، نشست وبرخاست، سکوت ونطق تعلیم وتربیت کے دروس واسباق ہیں، ماضی کی یہ یاد کس قدر ناخن بدل ثابت ہو رہی ہے:

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
علم وحکمت، دانش وآگہی اور ادب وصحافت مولانا کی دلچسپی کا سامان ہیں، مولانا کی اٹھان ہی ایسی ہے کہ لکھنا پڑھنا زندگی کا ایک ضروری مشغلہ بن گیا ہے، بچپن سے علم وادب کی قدر اور زندگی کی تمام دوسری قدروں پر اس کی فوقیت کا احساس مولانا کے ریشہ ریشہ میں پیوست ہے، مولانا کے شجرہ میں دونوں طرف علم وحکمت اور روحانیت ومعرفت رہی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو ،جبکہ آپ سلالۂ عظام اور زبدۂ کرام ہیں اور آپ کے دونوں شجرے برگ و بار ہیں شاخ حسنی وعلوی، فرعِ محمدی اور اصلِ اسماعیلی وابراہیمی کے:

اصل وفرعے را کہ بینی حاصل یک مایہ اند
آفتاب وپرتوش از ہم جدا نتواں گرفت
عربی زبان وادب مولانا کا خاص موضوع ہے، درس وتدریس اور صحافت شغلِ شاغل ہے، آپ کا علم وفضل رشکِ اقران وامثال ہے، تحریر رواں اور ادیبانہ ہے، زبان میں بے ساختگی اور برجستگی ہے، اسلوب میں بیک وقت ٹھہری ہوئی سنجیدگی اور سنبھلی ہوئی شوخی پائی جاتی ہے، یہ اسلوب ایسا ہے کہ نازک سے نازک فکری، اجتماعی اور سیاسی مسائل پر بھی شگفتگی اور دلآویزی مولانا کا ساتھ نہیں چھوڑتی، میں نے مولانا کی اکثر تحریریں پڑھی ہیں اور جب بھی کوئی نئی تحریر ملتی ہے، پڑھے بغیر نہیں رہتا، یہ صرف میرا ہی حال نہیں؛ بلکہ مولانا کی تحریروں سے دلچسپی لینے، لطف اندوز ہونے اور فائدہ اٹھانے میں بہت سے لوگ میرے شریک ہیں، اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ آپ کی تحریروں میں کیسی بے پناہ کشش ہو تی ہے، ادب مولانا کی زندگی کا کوئی تفریحی مشغلہ نہیں؛بلکہ اسے ایک فطری اور مقدس منصب سمجھ کر انجام دے رہے ہیں، اپنی عربی دانی کو کمائی یا دنیاوی عز وجاہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا؛ بلکہ علم وہنر ہی مولانا کی زندگی ہے:

نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا
میں جب ندوہ میں تھا، طلبِ علم کی ایک لگن تھی اور پڑھنے لکھنے اور مطالعہ کرنے کی فکر تھی، مادر علمی کا ہر استاد خوبیوں کا مجموعہ اور ہنروں کا گلدستہ تھا اور ہر طالب علم کو علم وہنر کا شوق تھا اور دن رات لکھنے پڑھنے کا ذوق:
وہ لطف لب آب کہاں سے لاؤں
وہ دور مے ناب کہاں سے لاؤں
ممکن ہے یہ اسباب بہم ہوں لیکن
وہ دوست، وہ احباب کہاں سے لاؤں
مولانا شہباز اصلاحی مرحوم اور مولانا واضح صاحب کی علمی وادبی مجلسوں اور صحبتوں سے سیری نہیں ہوتی تھی، مولانا شہباز مرحوم ندوہ کے احاطے میں رہتے تھے اور میرے ہاسٹل (رواق اطہر تیسری منزل) کے نگراں بھی تھے، جس کی وجہ سے مولانا کی طویل صحبت ہر وقت میسر آتی؛لیکن مولانا واضح صاحب سے استفادہ کا موقع صرف کلاس روم میں، یا اگر کوئی گھنٹی خالی ہوتی تو ’’الرائد‘‘ کے دفتر میں ملتا، مولانا سے استفادہ کی عجب دھن سوار رہتی، مولانا کی صحبت سے اس قدر فیض حاصل ہوتا کہ بیٹھ کر اٹھنے کو جی نہ چاہتا اور نہ ہی وقت گزر جانے کا احساس ہوتا، ان مجالس سے دل میں ایک ابھار، ایک حوصلہ اور ایک ابتہاج پیدا ہوتا:

بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی
وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں
یہ مضمون مولانا کے کارناموں اور مآثر کی تفصیل بیان کرنے کے لئے نہیں ہے، نہ ہی اس تحریر میں آپ کی تصنیفات ومقالات کا علمی وادبی تجزیہ مقصود ہے، یہ مضمون مولانا کی تعلیم وتربیت کے اسالیب اور نمونوں پر روشنی ڈالنے کی ایک معمولی کو شش ہے، تربیت وتعلیم کے تمام جوانب کا جائزہ آسان نہیں، یہاں صرف ان پہلوؤں کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جنہوں نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا، نیت یہ ہے کہ معلمین واساتذہ ان مثالوں کی پیروی کریں۔

ہمہ گیری وفراخ دلی:
مولانا کی اہم خصوصیت علم کی وسعت وگہرائی ہے، آپ نے اپنا مطالعہ کبھی کسی ایک فکر وخیال یا ایک تہذیب وتمدن تک محدود نہیں رکھا، آپ کی فطرت ہے کہ کہاں سے یا کس سے کیا چیز لیں، اور کیا چھوڑ دیں، ’’خذ ما صفا ودع ما کدر‘‘ کی حکمت آپ کے طرزِ عمل سے عبارت ہے، تعصب وگروہ بندی یا تنگ نظری کا یہاں گزر نہیں، فکرِ اسلامی کی تشریح کرتے وقت مولانا مودودی، سید قطب شہید، محمد مبارک، مالک بن نبی اور عالم اسلام کے دوسرے مفکرین کے خیالات اسی دلچسپی اور تفصیل سے پیش کرتے ،جس طرح مخدوم معظم مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی فکری اساسوں کا جائزہ لیتے، عصر حاضر کے ادبا کا تعارف کراتے، ان کی آرا وخیالات پر تنقید کرتے، طہ حسین کے فکری انحراف، احمد امین وغیرہ کی مرعوبیت کا تذکرہ کرتے؛لیکن انصاف کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جاتا، طہ حسین کی ’’علی ھامش السیرۃ‘‘، ’’الایام‘‘ اور ’’حدیث الاربعاء ‘‘وغیرہ، مصطفی لطفی منفلوطی کی’’نظرات‘‘ و’’عبرات‘‘ اور احمد امین کی ”فجر الاسلام”، ”ضحی الاسلام”، ظہر الاسلام” اور مجموعۂ مقالات ”و’’فیض الخاطر‘‘ ہم لوگوں نے مولانا ہی کے مشورے سے پڑھیں، مولانا کی تربیت ورہنمائی کا یہ اثر رہا کہ طہ حسین کے انحراف یا احمد امین وغیرہ کی مرعوبیت کا ہم طلبہ نے کبھی کوئی اثر نہیں لیا۔مولانا کے مزاج وکردار کی اس ہمہ گیری، فراخ دلی، اور حقیقت آشنائی کی مثال بہت کم ملے گی۔

علمی وادبی نفع رسانی:
مولانا کے درس کی اہم خصوصیت افادہ ونفع رسانی تھی، مولانا کے ہر درس میں عقل ودماغ کو نئے مواد ملتے، ہر مجلس میں علم وادب کی نئی معلومات حاصل ہوتیں، اور ہر صحبت میں اخلاق وروحانی تربیت کا نیا سامان بہم ہوتا، نہ کہیں تکرارِ ممل، نہ ہی علم وادب کی سطح سے فرو تر کوئی گفتگواور نہ ہی اخلاق وشائستگی سے دور کوئی تبصرہ ہوتا۔ میں نے استاد مرحوم مولانا ابو العرفان ندوی سے ایک بار استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ندوہ کے قدیم طلبہ اور فارغین جب یہاں آتے ہیں ،توآپ کا اس قدر احترام کرتے ہیں اور اتنی عقیدت ومحبت سے آپ سے ملاقات کرتے ہیں، مولانا نے فرمایا اس کے دو اسباب ہیں: ایک تو یہ کہ جب میں درس دیتا ہوں، تو طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کچھ اخذ کر رہے ہیں اور نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں، دوسرا سبب یہ ہے کہ جب انتظامی امور میرے ذمے تھے ،تومیں نے نا انصافی اور انتقام سے احتیاط برتی، اگر کوئی طالبعلم کسی ناجائز غرض سے میرے پاس آتا ،اس پر ناراض ہوتا اور اسے کوئی سزا دیتا اور کچھ ہی دیر کے بعد اگر وہی طالبعلم کسی جائز کام کے لئے آتا، تو میں اس کا کام کردیتا اور اپنی پچھلی ناراضگی کو اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بناتا۔ یہی طرزِ عمل استاد محترم مولانا محمد واضح رشید ندوی کابھی تھا، میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ مولانا کا درس نئے نئے علمی وادبی فوائد پر مشتمل ہوتا ہے۔
زبان واسلوب کی اصلاح:
زبان واسلوب کی اصلاح پر مولانا کو غیر معمولی قدرت حاصل تھی، عالمیت کے آخری سال میں ہمارا ”تعبیر” یعنی عربی انشا پردازی وتحریر کا مضمون مولانا کے ذمے تھا، اس ایک سال میں عربی ترجمہ وتحریر کی جو مشق ہوئی، اسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا، مولانا ہمارے ترجموں اور مضامین کی اصلاح فرماتے، زبان واسلوب درست کرتے، زبان کی نزاکتوں کو واشگاف کرتے، الفاظ وتراکیب کے نکات وقائق سمجھاتے، فکر اسلامی کے مختلف مکاتب ومدارس سے روشناس کراتے اور عالمی مسائل پر بصیرت افروز تبصرے فرماتے، مولانا کے طریقۂ اصلاح کا مجھ پر بڑا اثر ہے، بعد میں جب ”الرائد” کے لئے کوئی ترجمہ کرتا، تو مولانا کی اصلاح سے مستفید ہوتا۔
”الرائد” میں شائع ہونے والے مضامین وترجمے جن طلبہ یا اہل علم کے ہوتے ہیں، انہی کے نام سے شائع ہوتے ہیں، مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان میں مولانا کا کتنا اہم حصہ ہوتا ہے، مولانا بہت محنت اور سلیقے سے ترجموں اور مضامین پر نظر ثانی کرتے ہیں، نہایت دیدہ ریزی سے ان کو درست کرتے ہیں، اہل علم وادب پر مخفی نہیں کہ مفہوم کو برقرار رکھ کر دوسروں کی تحریروں کی اصلاح کرنا اور ان کی زبان درست کرنا ہر کسی کا کام نہیں، ”الرائد” میں اشاعت کے لئے جو ترجمے یا مقالے آتے ہیں ،ان میں سے اکثر غلطیوں کا انبار اور ژولیدہ بیانی کا طومار ہوتے ہیں، مولانا ہی ان کو اشاعت کے قابل بناتے ، مولانا کی اہم خوبی تھی کہ ہر ایک کا احترام کرتے اور غلطی کو غلطی ہی سمجھتے ، کسی شخص کی غلطی کو خواہ مخواہ اہمیت دے کر رائی کا پہاڑ نہ بناتے؛بلکہ معمولی اور ناقابلِ التفات کام سمجھ کر اسے درست کردیتے ، سالوں مولانا کے قریب رہنے کا موقع ملا ؛ لیکن کبھی مولانا کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ فلاں کے مضمون میں اس قدر غلطیاں تھیںیا فلاں مضمون یا ترجمے کی میں نے اصلاح کی ہے۔اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تردد نہیں کہ دار العلوم ندوۃ العلما کے فارغین کی نئی نسل میں جو لوگ بھی عربی زبان میں کچھ لکھنا جانتے ہیں ،وہ بڑی حد تک ممنون ہیں مولانا کی تربیت کے، میں جب بھی عربی میں کوئی چیز لکھتا ہوں،تو اسے مولانا ہی کا فیض سمجھتا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ اپنے ہر نقش کو ابن طباطبا کے اس شعر کے ساتھ مولانا کے نام معنون کروں:
لا تنکرن اھدائنا لک منطقا
منک استفدنا حسنہ ونظامہ
فاللہ عز وجل یشکر فعل من
یتلو علیہ وحیہ وکلامہ
ہمت افزائی اور قدر دانی:
مولانا کی تربیت کا اہم پہلو طلبہ کی ہمت افزائی اور قدر دانی تھا، مولانا کو دیکھا ہے کہ پابندی کے ساتھ اردو، عربی اور انگریزی جرائد ومجلات کا مطالعہ کرتے، ایک صحافی کی حیثیت سے مولانا کی یہ پیشہ ورانہ ذمے داری بھی تھی، اس مطالعے سے ایک طرف مولانا کی زبان واسلوب ہمیشہ جدید اور معاصر رہتی ، دوسری طرف انگریزی اور اردو اخبارات میں جو چیزیں اس لائق ہوتیں کہ انہیں ”الرائد” میں شائع کریں، ان پر نشان لگا کر رکھ لیتے اور ہم طلبہ کے حوالے کرتے کہ ان کا ترجمہ کریں، ہم ان کا ترجمہ کرتے، پھر مولانا کی اصلاح کے بعد وہ ترجمے ہمارے ناموں سے شائع ہوتے، ”الرائد” میں اشاعت ہی ہم لوگوں کی بڑی ہمت افزائی ہوتی، اس پر مستزاد یہ کہ مولانا ہماری تعریف بھی فرماتے، مولانا کے توصیفی الفاظ بھی بہت جچے تلے ہوتے، مولانا کے تعریفی کلمات مشابہ نظر آتے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے کلماتِ تعدیل وتوثیق کے، الفاظ کم، معانی زیادہ۔
بد گمانی سے پرہیز:
مولانا کے یہاں بدگمانی کا نام ونشان نہیں تھا، مولانا نے ایک بار مجھے یہ واقعہ سنایا کہ ندوہ کے ابتدائی زمانۂ تدریس میں تخصص ادب عربی (ایم اے) کی ایک گھنٹی آپ کے ذمے تھی، اس کلاس میں ایک طالبعلم، جو ممتاز تھے، آپ سے جلد ہی مانوس ہوگئے، ایک بار آپ کلاس روم میں پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے ،تو تمام طلبہ ہنس رہے تھے، اس ہنسی میں یہ طالبعلم بھی شریک تھے، آپ کو شبہہ ہوا کہ یہ لوگ آپ کی کسی بات پر ہنس رہے ہیں اور اس سے آپ کو کچھ تکلیف بھی ہوئی، آپ نے درس شروع کیا، اثناے درس میں بھی ان لوگوں نے ہنسنا شروع کردیا، آپ کو ان طلبہ کے طرزِ عمل سے بڑی پریشانی ہوئی، درس ختم ہونے کے بعد آپ نے ان طالبعلم سے جو آپ سے مانوس تھے، اس ہنسنے کی وجہ دریافت کی،تو انہوں نے عرض کیا کہ مولانا ہم آپ پر ہنسنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، بات یہ تھی کہ آپ کی گھنٹی سے پہلے ہم اپنے ایک ساتھی سے مذاق کر رہے تھے اور اس کی کسی بات پر ہنس رہے تھے کہ اسی دوران آپ تشریف لے آئے اور آپ نے ہمیں ہنستے ہوئے دیکھا، آپ کے درس کے دوران اسی طرح کی بات آگئی، جس کی وجہ سے ہم اپنے ساتھی پر ہنس رہے تھے، بے ساختہ ہمیں پھر ہنسی آگئی، مولانا نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اس کے بعد میں نے طے کرلیا کہ کسی سے بدگمانی نہیں کروں گا اور حق یہ ہے کہ مولانا نے اپنے اس عہد کو جس طرح نبھایا ہے ،اس کی نظیر بمشکل کہیں ملے گی، میں نے ندوہ کے طویل دورانِ قیام میں مولانا کو کبھی بدگمان ہوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی سے مولانا کے متعلق اس طرح کی کوئی بات سنی۔
فضول سے اجتناب:
مولانا کے اوقات مشغول تھے، آپ فضول گوئی، اور محلس آرائی سے پاک تھے، پڑھنے پڑھانے اور استفادہ وافادہ کی مشغولیت ہوتی یا پھر تحریر ومقالہ نویسی اور دوسروں کے مضامین وترجموں کے اصلاح ودرستگی سے مطلب ہوتا، دوسروں کی عیب جوئی تو بہت دور کی بات ہے، آپ کے یہاں ان مباح امور کی بھی گنجائش نہیں تھی، جو نہ دنیا میں سود مند اور نہ ہی آخرت میں کار آمدہوتے ہیں، علم وعبادت میں آپ کے اوقات اس طرح مصروف تھے کہ خاطر مجموع اور حضور قلب میں کنج نشینوں اور گوشہ گزینوں سے بھی سبقت لے گئے ۔
مثالی زندگی:
ماہرین تعلیم وتربیت متفق ہیں کہ تعلیم وتربیت کے باب میں سب سے مؤثر چیز اسوۂ حسنہ اور عملی مثال ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اس کی سب سے جامع اور مکمل مثال ہے، قرآن نے ایک طرف آپ کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ”انک لعلی خلق عظیم” اور دوسری طرف آپ کے اسوہ کے اتباع کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ”۔مولانا اس اسوۂ نبوی کا بہترین نمونہ تھے، آپ کی زندگی مثالی تھی، نماز واذکار کے پابند تھے، زہد وتقوی ان کاشعار تھا، تواضع وانکسار مزاج پر غالب تھا، کم آمیزی وکم گوئی طبیعت ثانیہ تھی، عیب جوئی کا گزر نہیں تھا، ریا کاری اور نام ونمود سے کوسوں دور؛ بلکہ اگر تصنع وبناوٹ کرنا بھی چاہتے، تو بن نہ آتا، جبلت میں اخلاقِ حسنہ رچے بسے تھے، حلم ومروت کا کچھ بیان نہیں، بغض وحسد کا نام ونشان نہیں، ”سینہ چوں آئینہ” کی تصویرتھے، اور ”ما ہذا بشرا، ان ھذا الا ملک کریم” کی تفسیر:
پیکر آراے ازل صورت زیباے ترا
نقش می بست وہم از ذوق تماشا می کرد
اس تواضع وانکسار اور مجموعۂ اخلاقِ حسنہ کے باوجود طلبہ پر آپ کا رعب تھا اور لوگ آپ کی تعظیم واحترام پر مجبورتھے:
ہیبتِ حق است ایں از خلق نیست
آپ کا طور ہی جدا تھا اور رنگ ڈھنگ ہی نرالا تھا، آپ کے یہ انفرادی اوصاف ماحول سے اس قدر مختلفتھے کہ آپ ہر طبقے اور ہر گروہ میں اجنبی معلوم ہوتے ، صحیح معنوں میں غریب در وطن کی مثال؂:
نہیں گفتار ہی عالم سے نرالی اس کی
طرزِ رفتار الگ، بندشِ دستار جدا
یہی نہیں؛ بلکہ مجاہدے کے ساتھ آپ نے تمام نا موافق ماحول اور مخالف قوتوں اور کششوں کے مقابلہ میں اپنی اصلی فطرت اور سالمیت قائم رکھی، آپ کی مثالی زندگی مصداق ہے شوقی مرحوم کے اس مصرعے کی: کاد المعلم ان یکون رسولا
خوفِ طوالت سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں:
اس قدِ کشیدہ کی جو شرح کروں ،کم ہے
اک مصرع موزوں میں سو بیت کا مطلب تھا

ما شئت قل فیہ فانت مصدق
والفضل یقضي والمحاسن تشہد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں