61

ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر

کامران غنی صبا
درگا پوجا کی لمبی چھٹی گزارنے کے بعد آج اسکول آیا ہوں،پتہ نہیں کیوں اسکول کے اور گرد و اطراف کے در و دیوار سے اجنبیت ٹپک رہی ہے،ایسا لگ رہا ہے کہ گھر پر دو ہفتہ نہیں پوری ایک صدی گزار کر آ رہا ہوں:
ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
زندگی تیز، بہت تیز چلی ہو جیسے
26 ستمبر کو گھر جاتے ہوئے دل میں خیالوں کی ایک حسین دنیا آباد تھی لیکن اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ کبھی کبھی خوشی غم کا دائرہ بنا کر آتی ہے اور ہماری بے بسی پر قہقہے لگا کر چلی جاتی ہے،26 ستمبر کو ننا کے گرنے کے ساتھ ہی گویا ہمارے ارمانوں کا تاج محل بھی زمیں بوس ہو گیا. 2 اکتوبر کو میرا نکاح ہونا تھا 30 ستمبر کی شام تک ننا زندگی اور موت کی جنگ لڑتی رہیں اور میری خوشی میں شامل ہوئے بغیر ہی 29 ستمبر کی رات کو انہوں نے اس بے ثبات دنیا کو خیر باد کہہ دیا،ننا اپنے ساتھ ہماری ساری خوشیاں بھی لیتی گئیں. لوگ ہمیں صبر و حوصلے کی تلقین کرتے رہے. نکاح کی تاریخ 2 اکتوبر کی جگہ 5 اکتوبر کر دی گئی، سادگی کے ساتھ نکاح بھی ہو گیا لیکن قدرت کو ہم سے مزید امتحان لینا تھا، نانا جان ننا کی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے اور ہمارے نکاح کے ٹھیک دوسرے دن 7 اکتوبر کو وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئےـ
ننا کے انتقال کے بعد میں نے ایک مختصر سی تحریر لکھی تھی جس کے بعد دل کو ذرا سا قرار بھی آیا تھا. خدا کا شکر ہے کہ اس نے ٹوٹی پھوٹی صورت میں ہی سہی اظہار کی دولت دی ہے جو کبھی نثر تو کبھی شعر کے پیکر میں ڈھل کر بے قرار دل کو قرار عطا کرتی ہےـ
نانا جان کے انتقال کے بعد سے مسلسل کوشش کرتا رہا کہ کچھ لکھ کر اپنے بے قرار دل کو قرار دلا سکوں لیکن دل میں ایک عجیب سی اضطراب کی کیفیت تھی جو کم ہونے کے باوجود ابھی تک برقرار ہے. یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کی کڑیاں اتنی منتشر ہیں کہ انہیں سمیٹ پانا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا. پھر بھی نانا جان سے جڑی اپنی کچھ یادوں کو آنسؤؤں کے نذرانے کے ساتھ لفظوں کا روپ دینے کی کوشش کر رہا ہوں ـ
نانا جان علیہ الرحمتہ کئی اعتبار سے ہمارے لیے ایک آئڈیل شخصیت کے مالک تھے. ہم نے ہوش سنبھالا تو نانا جان کو بینائی سے محروم پایا لیکن ان کے اندر کی دنیا بہت زیادہ روشن تھی. ایمان و یقین، عزم و حوصلہ، اخلاص و وفا، ایثار و قربانی کی شمعوں سے ان کی روح اس قدر منور تھی کہ نابینا ہونے کے باوجود بینائی رکھنے والے ہم جیسے لوگوں سے وہ بدرجہا بہتر تھے. یادداشت کا عالم ایسا تھا کہ انتقال سے ایک دن قبل تک وہ ابن خلدون کی لکھی ہوئی عربی عبارت سنا رہے تھے. نانا جان یقیناً بہت بڑے انسان تھے. وہ طبیہ کالج کے پرنسپل ہو کر ریٹائر ہوئے. اگر وہ چاہتے تو شان و شوکت کی زندگی گزار سکتے تھے لیکن رزق حلال پر وہ اس قدر زور دیتے تھے کہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا تھا کہ نانا جان رزق حلال کی جدوجہد کو عبادت سے بڑھ کر تصور کرتے ہیں. میں نانا علیہ الرحمتہ کے ساتھ اکثر فتوحہ خانقاہ گیا. وہ ہمیشہ اپنے ذاتی خرچ سے آٹو اور رکشہ سے فتوحہ جاتے،میں نے انہیں کبھی کسی کے گھر چائے اور ناشتہ کرتے بھی نہیں پایا،نانا جان کی نماز جنازہ میں لوگوں کا جم غفیر تھا. غیر مسلم حضرات کی بھی کثرت تھی، نماز جنازہ میں نانا جان کے پٹنہ کے ایک غیر مسلم پڑوسی بھی موجود تھے. نانا جان کے عقیدت مندوں کی بھیڑ اور جزبہ دیکھ کر وہ مسلسل یہی کہے جا رہے تھے کہ چچا حضور چاہتے تو سونے کی گاڑی پر گھومتے لیکن انہوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری ـ
غرور، تکبر، انا جیسی صفت نانا کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی. میں نانا سے فارسی پڑھتا تھا، انہیں اخبارات و رسائل پڑھ کر سناتا، اگر کبھی بغیر بتائے ایک دو دن ناغہ ہو جاتا تو نانا کسی کو لے کر گھر چلے آتے اور کہتے “بیٹا اچانک سے تم نے آنا چھوڑ دیا تو مجھے تشویش ہونے لگی. ہم لوگوں نے اکثر دیکھا کہ محلے اور پڑوس کے لوگ میلاد یا نکاح وغیرہ پڑھوانے کے لیے عین وقت پر نانا جان کو طلب کرتے. کئی بار تو ایسا بھی ہوتا کہ کسی دوسرے خطیب یا قاضی کو بلایا گیا اور ان کے نہیں آنے پر تقریب سے ٹھیک کچھ دیر پہلے لوگ نانا کو آکر لے جاتے، ہم لوگ نانا جان سے بہت زیادہ فری تھے. ایک بار میں نے نانا جان سے پوچھا کہ نانا جان یہ تو آپ کی اہمیت کو گرانا ہوا. آپ کیوں سب کے بلانے پر چلے جاتے ہیں. نانا جان مسکرانے لگے اور کہا کہ بیٹا وہ ان کا طریقہ ہے یہ میرا طریقہ ہے. نانا جان دل توڑنے کے سخت مخالف تھے. رواداری ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،آج کے زمانے میں خانقاہوں سے وابستہ سجادگان اور خانقاہوں کے ماحول سے کون واقف نہیں لیکن نانا حضور میں مسلکی شدت ذرہ برابر بھی نہیں تھی،ہم لوگوں نے بچپن میں مولانا مودودی علیہ رحمتہ اور جماعت اسلامی کے لٹریچر کو سب سے زیادہ پڑھا. ہمیں یہ تحریک اپنی نانیہال اور نانا حضور سے ہی ملی. نانا جان کے پاس جب کوئی سائل کوئی مسئلہ لے کر آتا تو وہ پہلے سائل کا فقہی مسلک دریافت کرتے اور اس کے فقہی مسلک کے مطابق جواب دیتے،مسلکی اختلافات میں ان کا نظریہ بہت واضح تھا. کسی نے سوال پوچھا کہ شب برات میں حلوہ نہیں بنائیں گے تو کیا ہوگا. آپ نے بڑی آسانی سے جواب دیا کہ “کچھ نہیں ہوگا، ہاں حلوہ کے نام پر لڑو گے تو لڑنے اور دلازاری کا گناہ ہوگا”ـ
نانا جان جلدی کسی کو مرید نہیں کرتے تھے. زیادہ تر لوگوں کو وہ ٹال جاتے یا کسی دوسرے کے پاس بھیج دیتے، میں جب ایم اے میں داخلہ لینے کے لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی جا رہا تھا تو جانے سے پہلے نانا جان سے گزارش کی وہ مجھے اپنے ہاتھ پر بیعت کر لیں… نانا جان نے مجھے گلے سے لگا لیا…. خود بھی روئے مجھے بھی رلایا… کہنے لگے کہ بیٹا میری دلی خواہش تھی کہ تم ہمارے سلسلے میں شامل ہو جاؤ تم نے میرے دل کی بات سن لی…. میں نے اگلے ہی دن نانا جان کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ فردوسیہ کی غلامی قبول کر لی ـ
نانا جان کے سینے میں مختلف علوم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوشیدہ تھا. کسی موضوع پر بولنا شروع کرتے تو بغیر تھکے گھنٹوں بولتے مگر وہ اپنے علم سے کبھی کسی کو مرعوب کرنے کی کوشش نہیں کرتے…. وہ عام لوگوں سے بہت عام اور گھریلو قسم کی بات کرتےـ
نانا جان کی حس مزاح بھی غضب کی تھی. وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی مزاح کا پہلو نکال لیتے تھے. ایک بار ریڈیو پر گانا بج رہا تھا. “بابل کا یہ گھر بہنا دو دن کا ٹکھانا ہے”ـ اس گانے کا آخری شعر ہے:
یادیں تیرے بچپن کی ہم سب کو رلائیں گی
پھر بھی تیری ڈولی کو کاندھا تو لگانا ہے
یہ شعر سن کر نانا جان ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ڈولی نہیں جنازہ اٹھنے کی بات کی جا رہی ہوـ
ہم لوگوں کا پورا بچپن اور جوانی نانا ننا کی سرپرستی میں گزری…. کن کن یادوں کو جمع کیا جائے…. خیالات منتشر ہوں تو گفتار کو اسلوب نہیں مل پاتا… کچھ اسی کیفیت سے گزر رہا ہوں:
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
ان شاء اللہ کبھی فرصت سے ننا اور نانا کی یادوں کو سلیقے سے ترتیب دینے کی کوشش کروں گا. اس وقت اتنا لکھنا روح کا تقاضا تھا. شاید کہ اب دل کے اضطراب کو کچھ قرار آئے.
اللہ ہمارے نانا اور ننا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر منتخب فرما لےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں