197

ایک عہد کا خاتمہ !

نایاب حسن

لگ بھگ سترہ اٹھارہ سال قبل میں جوگیشوری، ممبئی کے ایک ادارے میں فارسی کے ابتدائی درجے کاطالب علم تھا، مدرسے کے قریب ہی ایک چھوٹاسا میدان ہواکرتاتھا، جہاں طلباکرکٹ کھیلاکرتے تھے، اسی میدان کے ایک گوشے میں ایک ریڈنگ سٹینڈہوتاتھا،جس پراردو، ہندی وانگریزی کے متعدداخبارات پڑے ہوتے،یہ انتظام کس کی طرف سے تھا نہیں معلوم، مگروہاں روزانہ اخبارات پابندی سے نظرآتے، میری عمرتب بہت چھوٹی تھی، کھیلوں سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی،البتہ اس میدان کی سیرکوجاتاہرروزتھا اورمقصدہوتاتھااخباپڑھنا، روزنامہ “انقلاب “پابندی سے پڑھاجاتا،سب سے پہلے کرکٹ والاصفحہ بالتفصیل پڑھاجاتا، زیادہ “دلچسپ “خبریں ہوتیں، توبعدمیں مزیدتفصیل سے پڑھنے کے لیے ادھرادھرنگاہ دوڑاتے اورجب کسی کواپنی طرف متوجہ نہ پاتے، تواس صفحے کوہی پھاڑکراپنی جیب میں اڑس لیتے، دوسراوہ صفحہ ہوتا،جس پرنئی ریلیزیونے والی رنگارنگ فلموں کے اشتہارات ہوتے، ظاہرہے کہ سنیماہال میں جاکروہ فلمیں تودیکھ نہیں سکتے تھے، توان کے اشتہارات کوہی دیدے پھاڑکردیکھتے، تب مراٹھامندرمیں ڈی ڈی ایل جے کاغالباڈھائی سوواں/تین سوواں ہفتہ چل رہاتھا،اس کے بعدجس صفحے کواہتمام سے پڑھاجاتا، وہ ادارتی صفحہ ہوتاتھا،ظاہرہے کہ اس میں جومضامین شائع ہوتے، وہ اس وقت کماحقہ ہماری سمجھ میں نہ آتے تھے، مگراس پیج میں کوئی کشش ہوتی تھی کہ ہم اسے بھی شوق اورغورسے پڑھتے اوردیکھتے تھے،خاص مضمون والے کالم میں مختلف ایام میں کئی لوگوں کے مضامین شائع ہوتے تھے، مگرایک نام ہمیشہ مجھے اپنی جانب متوجہ کرتا، اس وجہ سے نہیں کہ ان کے مضمون کی خوبیاں اورخصوصیات مجھے پتاتھیں؛ بلکہ اس لیے کہ ان کانام مجھے عجیب سامخلوط قسم کالگتاتھا،”کلدیپ نیر “شروع میں تومیں مضمون پڑھنے سے زیادہ اس پرغورکرتارہاکہ یہ بندہ ہندوہے یامسلمان ہے یادونوں ہے؟ پھراس نام کاعادی ہوتاگیا اور پابندی سے ان کے کالم پڑھنے لگاـ ممبئی میں قیام کازمانہ لگ بھگ سواسال کاہوگا اوراس دوران کلدیپ نیر/نائرکوہم نے پابندی سے پڑھاـ
بعدکے دنوں میں انھیں ہوش اورشعورکے ساتھ پڑھا، پھریہ عقدہ بھی کھلا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں، البتہ ان کے مضامین اردواخباروں میں مسلسل چھپتے رہتے ہیں؛ اس لیے اردووالوں نے انھیں نائرسے نیربنادیاہے،حالاں کہ ان کی کئی کتابیں، جو اردومیں پاکستان سے چھپی ہیں، ان کے ٹائٹل پر ان کانام کلدیپ نائرہے ـ
بہرکیف وہ ایک وژنری صحافی تھے، ان کے اندرسطحیت کی بجاے دروں بینی، بصیرت مندی، ژرف نگاہی،فکری آفاقیت اورسینہ ودل کاتوسع پایاجاتاتھا، انھوں نے کم وبیش سترسال سرگرم عملی،صحافتی زندگی گزاری، اس عرصے میں ان کے رول بدلتے بھی رہے،وہ صحافی ہونے کے علاوہ ایک ڈپلومیٹ، مصنف، سماجی کارکن، ہند-پاک دوستی کے نہایت پرجوش داعی ومحرک تھے، ان کی پیدایش سیالکوٹ کی تھی اوردہلی میں تمام ترآسایشوں، کامیابیوں کے حصول کے باوجودوہ سیالکوٹ سے خودکوجدانہیں کرسکے تھے، یہی وجہ ہے کہ انھوں سترسال کے عرصے میں اپنی حدتک ہندـ پاک کوقریب لانے کی ہرممکن عملی کوششیں کیں ـ ان کے مضامین ابھی تک ہندوستان میں بہ یک وقت اردو، ہندی اورانگریزی اخبارات میں شائع ہوتے تھے،بیرونی ممالک کے دسیوں اخبارات ان کے کالم پابندی سے چھاپتے تھے،انھوں نے لگ بھگ درجن بھرکتابیں لکھی ہیں،بہت سارے قومی وبین الاقوامی اعزازات سے نوازے گئے، حتی کہ ان کی زندگی میں ہی ایک پرائیویٹ ادارے کی جانب سے ان کے نام سے ایک صحافتی ایوارڈکی شروعات کی گئی اورپہلاایوارڈمعروف ٹی وی جرنلسٹ رویش کمار کوملاتھاـ
کلدیپ صاحب نے ایک بھرپورزندگی گزاری، کامیابیوں اورسربلندیوں کے کئی آسمان چھوئے،اپنے حصے کی شمع پوری قوت وہمت کے ساتھ جلائے رہے، ان کی رحلت آزادہندوستان کی صحافتی تاریخ کے ایک عہد، ایک قرن کی رحلت ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں