267

ایک بے درداور سفاک نظام کے مارے

تحریر:شوبھا ڈے

ترجمہ:محمد عبداللہ معروفی

آج کے اس پر فتن اور نہایت پریشان کن حالات میں، ایک ایسا واقعہ نظر سے گذرا،جس نے میرے دل کو جھنجھوڑکر رکھ دیا۔ ہندوستان کےایک بڑے اور مشہور اخبار کے ایک صفحے کے نچلے حصےکے ایک کونے میں ایک خبر چھپی تھی اورشاید میں نےدوسری بڑی خبروں کے پڑھنے کے چکر میں اس کو مکمل طور پر نظر اندازہی کر دیا تھا کہ اچانک کسی چیز نےمیری توجہ اس چھوٹی سی خبر کی طرف مبذول کرائی اور جب میں نے اس کو شروع سے آخر تک پڑھا،تو میں تعجب میں پڑگئی کہ آج کے دن کی اس سے بڑی اور اہم خبر اور کیا ہوسکتی تھی؟
ناسک میں ٹاڈا کی خصوصی عدالت کے جج ایس، سی کٹی نے ایک منٹ سے کم وقفے میں 11/معصوم افراد کو نئی زندگی دی،جو تقریباً 25 سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے، ان کے الفاظ تھے: ’’عدالت کی نظر میں آپ بے قصور ہیں‘‘۔
اخبار نے خبرمیں آگے اس جذباتی لمحے کی منظر کشی کی ہے، جب وہ 11 معصوم خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے ، آنسؤوں کا سیلاب آنکھوں سے نکل کر رخساروں کو بھگو رہا تھا،ایسی صورت حال کے کرب کا تصور کیجیے،جب کسی نے اپنی زندگی کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذارا ہواور وہ بھی ایک ایسے جرم کی پاداش میں،جو اس نے کیا ہی نہیں۔
ان میں سے زیادہ افراد تعلیم یافتہ تھے،جن کو غلط طریقے سے ایسے کیسوں میں پھنسایا گیا تھا،جو نام نہاد خفیہ اطلاعات پر مبنی تھے، جس کی بنیاد پر کیس کے اہم ملزم جمیل احمد خان اور ان کے 8 ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، مزید تین افراد کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا،جن میں سے ایک سرکاری گواہ بن گیا۔
ان گیارہ افراد کے خلاف سنگین الزامات لگائے گئے تھے، بھساول بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے، ڈی انگلے نے اپنی ایف آئی آر میں کہا تھا کہ ان لوگوں نے ملک کے خلاف سازش اور غداری کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ خفیہ اطلاع میں یہ بات بتائی گئی تھی کہ اس گروپ نے جنگل کے اندر خفیہ میٹنگ اور ٹریننگ کا انعقاد کیا تھا جس کا مقصد بابری مسجدکی مسماری کا بدلہ لینے کے لیے سرکاری دفاتر اور ہندؤوں کو بم دھماکوں سے اڑانا تھا۔ ان افراد کو دہشت گردی اور تباہی پھیلانے والی سرگرمیوں (کی روک تھام)
Terrorist and Disruptive Activities (Prevention) Act
کے ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
اس گروپ میں تین ڈاکٹر، ایک انجنیئر،ایک پی ایچ ڈی ہولڈر اور ایک چھ بار کونسلر رہ چکے افراد شامل تھے. آج وہ رہا ہوگئےہیں، لیکن 25 سال کےلمبے عرصے تک ان پر ‘دہشت گرد’ اور ‘خودکش بمبار‘ کا لیبل چسپاں رہا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ ان پر کیا بیتی ہوگی، وہ اب بھی بے رحم حالات کی اندھیاروں میں سڑ رہے ہونگے، جن کی کوئی خیر خبر لینے والا نہیں ہوگا۔ اوروہ فرسودہ نظام کے مارے تھے جس میں اس غیر معمولی تاخیر کا کوئی مداوا نہیں ہےجو انصاف کے بنیادی تقاضوں کوہی پامال کرتا ہے۔
اب ان اشخاص کا کیا ہوگا، وہ اپنے گھروں کو واپس تو آگئے ہیں لیکن اپنی زندگیوں کو دوبارہ بحال کیسے کر پائیں گے او راپنی پہلے والی خوشگوار زندگیوں سے کیسے دوبارہ ہم آہنگ ہو پائیں گے جس کو تج دینے کے لیے ان کو مجبور کیا گیا، کیا وہ اپنی پہلے والی معمول کی زندگی سے مربوط ہو پائیں گے جو اس تکلیف دہ عرصے میں ڈرامائی طور پر بدل چکی ہے۔
وہ ڈاکٹر، انجینیر اوروہ ریسرچ اسکالر، جس نے اپنی پی ایچ ڈی ایام اسیری کے دوران ہی مکمل کی ، وہ کہاں سی اپنی زندگی کی شروعات کریں گے، کون ہے جو ان کے ان قیمتی سالوں کا ہرجانہ دے گا جو جیل کی تاریک کوٹھریوں کی نذر ہو گئے۔
ان کے جیسے ہزاروں ابھی جیلوں میں بند انصاف کے منتظر اپنے بے گناہی کے ثبوت کی راہ دیکھ رہے ہیں اور نتیجتاً ان کو ایسے فراموش کردیا گیا کہ اعداد و شمار سے زیادہ ان کی حیثیت باقی نہیں رہی، سب نے ان کو بھلا دیا سوائے ان کے خستہ حال گھر والوں کے۔
غلط طریقے سے مقدمات میں ماخوذ افراد کی تعمیر نو اور بازآبادکاری کے ہزار دعووں کے باوجود درحقیقت یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن ہے، بے گناہوں کو اس کرب سے گذارنا بے دردی کی انتہاہے۔یہ ہمارے نام نہاد مہذب معاشرے کے گھٹیا رویے کی عکاسی کرتا ہے، اس طرح کے حالات کے شکار لوگوں کوہم کس طرح کا معاوضہ پیش کرسکتے ہیں کیوں کہ کسی بھی صورت میں کوئی بھی معاوضہ کسی کی زندگی کےسب سے قیمتی مرحلے کی جو جیل کی سلاخوں کی نذر ہو گئے بھر پائی نہیں کرسکتا ، ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو بالکل نوجوانی کے ایام میں اندر کردیے گئی اور جب باہر آئے تو ان کی جھریوں سے بڑھا پے کے آثار نمایاں تھےـ حال ہی میں ڈاکٹر یونس فلاحی کو رہا کیا گیا تھا، رہا ہونے کے بعد انہوں نے بہت ہی درد بھرے لہجے میں سوال کیا تھا ’’خدا کے لیے مجھے بتائیے ایک ڈاکٹر ہو نے کے ناطے میں کسی کی جان لینے کے بارے میں سوچوں گا بھی کیوں؟”ان دنوں ہمارے ملک کاماحول اتنا دھماکہ خیز ہے کہ مت پوچھیے، ابھی حال ہی میں لکھنؤ میں ایک متشدد بھیڑ دو کشمیری ڈرائی فروٹ بیچنے والوں پر بے رحمی سے حملہ کر دیتی ہے۔اس حملے کے متأثرین محمد افضل نائک اور عبد السلام ڈرائی فروٹ بیچنے کے لیے ہر سال اپنی فیملی کے ساتھ لکھنؤ آتے ہیں ، انھوں نے بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کو ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ حملہ کرنے والوں میں سے ایک کےخلاف چوری ڈکیتی اور قتل و غارت گری کے تقریباً ایک درجن کیس درج ہیں ، اگر وہاں کے مقامی لوگوں نے وقت پر مداخلت نہ کی ہوتی تو ان تاجروں کا ہجومی تشدد کا شکار ہونا کوئی بعید بات نہیں تھی۔ خوش قسمتی سے اتر پردیش کے ڈی، جی،پی۔ او، پی سنگھ بر وقت حرکت میں آئے اور ان بدمعاشوں کو گرفتار کرلیا۔
اس سے پہلے ملک کے مختلف حصوں میں معصوم کشمیری طلبا کو نشانہ بناکر زدوکوب کیا گیا۔ اور متشدد بھیڑ نے اپنے اس بے جا عمل کو پلوامہ دہشت گرد حملے کا ردعمل بتا کر اس کو جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش کی۔
یہ بڑی شرمناک بات ہے کہ اس طرح کی حملوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آوازیں نہیں اٹھتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ ایسے کام گھٹیا مذہبی گروپوں کی سر پرستی میں انجام دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اتھارٹی بھی ایسے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔
ہم تاریخ کےبہت ہی نازک موڑپر ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے عناصر کی خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو ہمارے بیچ دراریں پیدا کررہے ہیں اور نفرت پھیلا رہے ہیں ، جب تک کہ ہم ایک قوم ہو نے کے ناطے ان نفرت پھیلانے والوں کی بھر پور طریقے سے مذمت نہیں کریں گے ایک ایسا ناپسند مستقبل ہمارا مقدر ہو گا جہاں ہماری اگلی نسل کو آپس میں مذہب اور ذات کی بنیاد پر ناروا امتیازی سلوک کرنے کی شہ ملےگی۔ جب تک ہماری نوجوان نسل ظلم او رنا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے سی باز رہے گی، اپنی ذات، اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے ساتھ ایک پرامن اور ہم آہنگ زندگی کےمشترکہ وجود کی امید کی بغیر جینےکے لیےہماری مذمت ہوتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں