179

ایودھیاپردوتازہ کتابوں کے انکشافات


کیاسنگھ پریوار اب کھل کرسامنے آناچاہتاہے؟
ڈاکٹر پنکج شریواستو
سپریم کورٹ نے ایودھیا(بابری مسجد،رام مندر) ملکیت کا معاملہ جنوری تک کے لیے ٹال دیاہے،جنوری میں عدالتِ عظمیٰ یہ طے کرے گی کہ اس معاملے کی سماعت کب اور کیسے ہو؟ظاہر ہے کہ انتخابی آہٹ کے بیچ اس ایشوکے ذریعے ماحول گرمانے کے منصوبے کی راہ میں تھوڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے؛لیکن رام پراعتقادکے سہارے انتخابی بیڑا پار لگانے کی تدبیرکوئی نیاموڑ بھی لے سکتی ہے؛چنانچہ رام مندر کے حوالے سے آرڈیننس کی مانگ کوبھی ہوا دی جانے لگی ہے۔ویسے جس ایشوکوعقیدے کا مسئلہ بناکر بی جے پی نے اب تک کا لمباسیاسی سفر طیکیاہے،اسے وہ آسانی سے کورٹ کے حوالے کرے گی بھی نہیں، سبریمالامعاملے پر جس طرح حکمراں پارٹی کے صدرنے عقیدے میں کورٹ کی مداخلت پر تنقید کی ہے،وہ رام مندر۔بابری مسجد تنازع پر پارٹی کے مستقبل کے نظریے کا اشارہ بھی ہے،گویا عدالتِ عظمیٰ کے لیے یہ ایک دھمکی ہے۔
ظاہر ہے کہ سیاسی اسباب کی بناپر عقیدے کایہ مسئلہ باقاعدہ پیداکیاگیااوراسے فروغ دیاگیاہے اور اب یہ بات وہاں تک پہنچ گئی ہے،جہاں کسی بھی قسم کے پردے بے معنی ہوجاتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دہلی میں گزشتہ۲۰؍ستمبر کوآرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے صحافی ہیمنت شرماکی جس کتاب کا اجراکیا،اس میں پوری تفصیل درج ہے کہ کیسے۲۲؍اور ۲۳؍دسمبر۱۹۴۹ء کی رات بابری مسجد میں زبردستی گھس کر رام کی مورتی رکھی گئی،یعنی آرایس ایس نے مان لیاہے کہ’’بھے پرکٹ کرپالا‘‘کی کرامت کے پس پردہ ایک منصوبہ بند ناٹک تھا،ایودھیاتنازع پر ایک ساتھ دوکتابیں’’یدھ میں ایودھیا‘‘اور’’ایودھیاکا چشم دید‘‘کا اجراکرنے کے لیے سٹیج پر صرف بھاگوت ہی نہیں ،بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی موجود تھے۔بنارس کے رہنے والے ہیمنت شرما ’’جن ستا‘‘کے رپورٹر کے طورپر لمبے عرصے تک لکھنؤمیں کام کرتے رہے اور ایودھیاتحریک کوقریب سے دیکھا،’’جن ستا‘‘کے ایڈیٹر پربھاس جوشی انھیں سرِ عام’’کارسیوک صحافی‘‘کہتے اور لکھتے تھے،انھوں نے اس کتاب میں بہ طورصحافی اپنا ہنر دکھایابھی ہے،خوب دستاویز اور ثبوت مہیاکیے ہیں،البتہ ان کی تشریح و تعبیر اسی طرح کی ہے،جس کی وجہ سے پربھاس جوشی نے انھیں’’کارسیوک صحافی‘‘کا خطاب دیاتھا،معاملہ چاہے عدالت میں زیر غور ہو،مگر ہیمنت کواس میں کوئی شبہ نہیں کہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے مندر توڑکر مسجد بنائی اور اس جگہ عالیشان مندر بنانے کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے،وہ مانتے بھی ہیں کہ’’مسلمانوں کولبھانے کے حوالے سے وشوہندوپریشدکے پرچار‘‘کا ان پر کافی اثر پڑا،یہی وجہ ہے کہ آرایس ایس اور بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈران ان کی کتاب کااجراکرنے پہنچے تھے۔
بہر حال اس بات پر توان کی تعریف بنتی ہے کہ انھوں نے بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کی پوری سازش کوصاف صاف لکھاہے،’’یدھ میں ایودھیا‘‘نامی کتاب کے صفحہ نمبر۲۷۳؍سے شروع’’بھے پرکٹ کرپالا‘‘کے عنوان سے شروع ہونے والے چھٹے باب میں۲۲؍اور۲۳؍دسمبر۱۹۴۹ء کی سرد رات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’سریو(ندی)کے کنارے اکٹھاہونے والے پانچ لوگوں میں گورکھ پیٹھ کے مہنت دگوجے ناتھ،دیوریاکے غیر ہندی بولنے والے سنت بابا راگھو داس،نرموہی اکھاڑاکے باباابھیرام داس اور دگمبر اکھاڑاکے رام چندر پرم ہنس تھے،اس خفیہ آپریشن میں گیتاپریس گورکھپور کے بانی ہنومان پرساد پوداربھائی جی بھی نظم و انتظام کے لیے وہاں موجود تھے،کچھ لوگوں کاکہناہے کہ بھگوان کو پرکٹ کرانے والے اس گروہ میں سنگھ پرچارک ناناجی دیش مکھ بھی تھے، رام چندر پرم ہنس بھی دبی زبان میں ان کانام لیتے تھے،مگر جب ناناجی سے اس بابت بات ہوئی،تو انھوں نے نہ کبھی اس کی تصدیق کی،نہ تردید کی‘‘۔(ص:۲۷۴)
ہیمنت کے مطابق سریواشنان کے بعد یہ لوگ تیس چالیس ویراگی سادھووں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں،پودار کے ذریعے آٹھ دھاتوں کی بنی رام کے بچپن کی مورتی کو بانس کی ٹوکری میں رکھا جاتاہے،اس احاطے کی حفاظت پر تعینات کانسٹبل شیر سنگھ کا گانجا بھانگ سے پرانا رشتہ تھا،اس نے تالا کھول کرسات آٹھ سادھووں کواندر داخل کروادیا،پی اے سی کے قریبب درجن بھر اہلکار تمبومیں سورہے تھے،باری باری سے دودوکی ڈیوٹی تھی،پھر وہاں زبردستی مورتی رکھ دی گئی:
’’سب سے پہلے اکھاڑے کے ان طاقت ور سادھووں نے مسجد کے مؤذن محمد اسماعیل،جو موٹے،ٹھگنے اور کالے رنگ کے تھے،انھیں مارپیٹ کر باہر بھگایا اور پھراندرگھس گئے،پرم ہنس بتاتے تھے کہ مؤذن نے اس دن لمباکرتا اور لنگی پہن رکھی تھی،وہ پہلے ابھیرام داس کی طرف لپکاتھا؛کیوں کہ انہی کے ہاتھ میں مورتی تھی،ابھیرام داس نے خود کوچھڑایا اور پھر لات گھونسے چلے،جب مؤذن نے سمجھاکہ وہ ویراگیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا،تووہ اندھیرے میں سرپٹ بھاگا‘‘۔(ص:۲۷۷)
ایودھیاتحریک کے دوران اس بات کا بار بار پرچار کیاگیاکہ ایودھیاکی بابری مسجد میں اس دن کوئی نادیدہ حادثہ ہواتھا،رام اپنے آپ ظاہر ہوئے تھے،اس کے لیے ثبوت کے طورپر ایک مسلم سپاہی ابوالبرکات کا ذکرکیاجاتاہے،ایودھیامیں وشوہندوپریشد کے ذریعے مندر کی تعمیرکے لیے بنائی گئی کارگاہ میں ایک پتھر پر درج یہ معجزاتی کہانی عقیدت مندوں کو بہت متاثر کرتی ہے،جبکہ اِس کتاب میں اس معجزے کی کہانی یوں درج کی گئی ہے:
’’ لالٹین کی روشنی میں پہلے سریوکے پانی سے کمرے کو دھویاگیا،پھرلکڑی کا ایک تخت رکھ کراس پر چاندی کا ایک چھوٹا تخت رکھاگیا،اس پر کپڑا بچھاکر مورتی رکھی گئی،دیپ اور اگربتیاں جلیں،منترپڑھتے ہوئے مورتی کی تنصیب عمل میں آئی،پوجاارچنا شروع ہوگیا،شیر سنگھ کی ڈیوٹی بارہ بجے (رات)تک ہی تھی،مگر شیر سنگھ اس کے بعد بھی کام پورا ہونے تک مزیدایک گھنٹہ ٹکا رہا،ایک گھنٹے کے بعد اس نے اپنے مسلم ساتھی ابوالبرکات کو جگاکر ڈیوٹی پر بھیجا،جگ مگ روشنی میں پیتل کی مورتی دیکھ کر اس کی ایسی حالت ہوگئی کہ کاٹو توبدن میں خون نہیں،بالکل حواس باختہ،ایک گھنٹہ تاخیر سے آنے والے اس سپاہی مہودے نے اسی میں بھلائی سمجھی کہ وہ رام للاکے ظہور کی کہانی کی تائید کریں،سپاہی برکات نے ایف آئی آرمیں بہ طور گواہ پولیس کو بتایاکہ کوئی بارہ بجے کے آس پاس بیچ والے گنبد کے نیچے ایک عجیب روشنی ہوئی،روشنی کم ہونے پر اس نے جوکچھ دیکھا،اس پر یقین نہیں ہورہاتھا،وہاں اپنے تینوں بھائیوں کے ساتھ بھگوان رام کی بچپن کی مورتی براجمان تھی،ابوالبرکات کایہ بیان مورتی لانے والے گروہ کے لیے فائدہ مند تھا؛ کیوں کہ یہ معجزے کا ثبوت تھا‘‘۔(ص:۲۷۸)
بہر حال۲۳؍دسمبر کو ایودھیا تھانہ کے سینئر سب انسپکٹر رام دیودوبے نے ایک ایف آئی آر درج کرائی،اس میں ابھے رام داس،رام شکل داس اور سدرشن داس کو ملزم ٹھہرایاگیا،ایف آئی آرمیں صاف لکھاگیاکہ ان تینوں نے پچاس ساٹھ نامعلوم لوگوں کے ساتھ مسجد میں زیادتی و فسادکرکے اور مورتی رکھ کر مسجد کی بے حرمتی کی،ایف آئی آرکے مطابق کانسٹبل نمبر۷؍ماتاپرساد کی زمینی اطلاع کے مطابق یہ حادثہ رونما ہوااور کانسٹبل نمبر۷۰؍نے انھیں منع کیا،مگر وہ لوگ مانے نہیں،یعنی اس کتاب میں مسجد میں زبردستی مورتی رکھنے کی ساری تفصیلات موجودہیں،سوال یہ ہے کہ کیا آرایس ایس نے باضابطہیہ قبول کرلیاہے کہ ایودھیا کا پورا معاملہ اس اعتقاد کے برخلاف ہے،جو اس نے دہائیوں سے عقیدت مندوں کے دلوں میں بٹھارکھاہے کہ رام للااپنی جنم بھومی میں ظاہر ہوئے تھے؟شاید اب اسے اس کی پروابھی نہیں ہے؛ کیوں کہ عقیدے کے نام پر کئی دہائی قبل بھیڑاکٹھاکرنے کا جو منصوبہ اس نے بنایاتھا،اس میں وہ کامیاب ہوچکاہے اور اس بھیڑ میں اب کسی قسم کاسوال کرنے کا شعور باقی ہی نہیں رہ گیا۔
پس نوشت:کارسیوک صحافی ہیمنت شرمانے اپنی اس کتاب میں مندر کے حق اور مسجد کے خلاف میں جو دلیلیں دی ہیں ،وہ ان کا حق ہیں؛لیکن اس جوش میں انھوں نے سوامی تلسی داس کے نام پر چلائی گئی ایک فرضی کہانی کوحقیقت ثابت کرنے کی جوکوشش کی ہے،وہ غلط ہے،انھوں نے مبینہ طورپر تلسی داس کے ذریعے لکھی گئی’’دوہاشتک‘‘کا ذکرکیاہے،جس میں رام مندر توڑے جانے کا تذکرہ ہے،نامور سنگھ اور چند دیگر بائیں بازوکے دانشوران کے ذریعے اس کی حقیقت پر اٹھائے جانے والے سوال کا سرسری ذکر کرنے کے ساتھ وہ اسے تفصیل سے بیان کرتے ہیں،اسی کوچترکوٹ کے سنت رام بھدراچاریہ نے عدالت میں پیش کیا اور اس پر توجہ بھی دی گئی،وہ جذباتی ہوکر لکھتے ہیں کہ تلسی کے دوہے اس زبردست ناانصافی کا ثبوت ہیں؛لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری طرح تلسی کے نام پر گھڑاگیاافسانہ ہے،واٹس ایپ کے دور سے پہلے بھی ایسی فرضی کہانیاں بہت بنائی گئی ہیں،ادب کا معمولی طالب علم بھی اس کہانی کے جعلی ہونے کی گواہی دے گا،ہیمنت شرمابتاتے ہیں کہ انھیں یہ کاشی میں ملے؛لیکن وہاں کی ناگری پرچارنی سبھاکے ذریعے چار جلدوں میں شائع شدہ تلسی کی تخلیقات میں’’دوہاشتک‘‘کا کوئی ذکرنہیں ہے،یہی نہیں،تلسی اور ان کے ادب کا تحقیقی مطالعہ کرنے والے الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر ماتا پرساد گپت نے بھی اس کاکہیں ذکرنہیں کیاہے۔
ہیمنت شرمایہ بھی لکھتے ہیں کہ تلسی داس نے’’بھے پرگٹ کرپالا دین دیال کوسلیاہت کاری‘‘تبھی لکھاتھا،جب رام مندر توڑاگیاتھا،ان کے حساب سے یہ سن۱۵۲۸ء تھا؛لیکن تلسی تواکبر کے معاصر تھے،ان کی پیدایش ساون۱۵۸۹ یعنی۱۵۳۲عیسوی میں ہوئی تھی اور رام چرت مانس لکھنا انھوں نے ۱۵۷۴ء میں شروع کیاتھا،انھوں نے کہیں رام مندرتوڑنے کا ذکرنہیں کیا،البتہمانگ کر کھانے اور مسجد میں سونے کی بات ضرور لکھی ہے:
دھوت کہو،او دھوت کہو،رجپوت کہو،جولہاکہوکوؤ
کاہوکی بیٹی سے بیٹانہ بیاہب،کاہوکی جاتی بگاڑنہ سوؤ
تلسی سرنام ہے غلام رام کو،جاکوروچے سوکہے کچھ کوؤ
مانگ کے کھائیبو،مسیت میں سوئیبو،لے وے کوایک، نہ دے وے کودوؤ
ترجمہ:نایاب حسن
(یہ مضمون میڈیاویجل نامی ہندی ویب سائٹ پر شائع ہواہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں