63

ایودھیامعاملے پر فرقہ پرست لیڈروں کے زہریلے بیان کے خلاف سپریم کورٹ خود ایکشن لے:مولانا بد رالدین اجمل

نئی دہلی(پریس ریلیز)آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر ،رکن پارلیمنٹ اور جمعیۃ علما صوبہ آسام کے صدرمولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈروں کے ذریعے ایودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد معاملہ پر زہریلے بیانوں کے لئے ان کے خلاف کار وائی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ عدالت کی توہین ہے اور ملک کی فضا کو فرقہ وارانہ فسادات کے زہر سے مکدر کرنے کی کوشش ہے جس پر فوری طور پر قد غن لگنا ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور مسلمان اس بات کو بار بار کہہ چکا ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ کریگی وہ اسے قبول ہوگا تو پھر اچانک سے آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈروں کو بے چینی کیوں ہونے لگی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ عدالت میں ان کی آستھا پر مبنی دلائل کار گر ثابت نہیں ہوں گی کیوں کہ یہ صرف اور صرف ملکیت کا مقدمہ ہے اسلئے یہ لوگ واویلا مچاکر اپنی روٹی سینکنے میں مصروف ہو گئے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک چھوٹے موٹے لیڈر ایودھیا معاملہ پرمتنازع بیان دیتے تھے مگر اب تو آر ایس ایس کے سر براہ اور بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے علاوہ مرکزی وزرا اور وزیر اعلی جو آئینی عہدوں پر ہیں ،وہ بھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تاریخ بتانے لگے ہیں، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی سرکار کو اپنی ناکامی کا اندازہ ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جن وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی ان کو پورا کرنا تو درکنار، اس نے ملک کی حالت انتہائی بد تر بنا دی ہے اور عوام ان سب باتوں کو جان چکی ہے اسلئے آئندہ الیکشن میں ووٹوں کو پولرائز کرنے کے لئے رام مندر پر نفرت بھری سیاست کے لئے اس نے اپنے کچھ لیڈروں کو لگا دیا ہے۔مولانا نے ملک کی سیکولر عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ رام مندر کا راگ الاپ کر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے لیڈروں کو سبق سکھانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں اور ان لیڈروں کو ان کے جرم کی سزا ان کی سیاسی طاقت کو توڑ کر دیں تبھی ملک سلامت رہ سکتا ہے ،ورنہ اگر ان لوگوں کی پلاننگ کامیاب ہو گئی ،تو اس ملک کو برباد ہونے سے نہیں بچا یا جا سکتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں