75

اینٹی لنچنگ موومنٹ و بل کی ضرورت

اسامہ طیب

امریکہ میں جب افریقی نژاد کالے امریکیوں کو آئینی طور پر مکمل شہری حقوق حاصل ہوگئے تو انہوں نے سماجی زندگی میں اپنی ترقی کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا ـ اپنے بودوباش، اپنی تجارت اور اپنی تعلیم کی طرف مکمل توجہ کی اور کامیابیاں حاصل کرنے لگے، لیکن یہ بات متعصب گورے نسل پرست جماعتوں یعنی White Supremacist جماعتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی، انہیں اس بات کا دھوکہ تھا کہ امریکہ کی سرزمین پر صرف امریکی گوروں کا حق ہے، بقیہ لوگ یہاں دوسرے درجے کے شہری ہیں. بلکہ کہا جائے تو سفید نسل پرستوں نے انہیں امریکہ کا باشندہ ماننے سے ہی انکار کردیاتھا. ان انتہا پسندوں نے ان کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام شروع کردیا اور ہم وطنوں کو بھڑکانے لگے، پھر اس تعصب اور نفرت کی آگ میں انہوں نے ان افریقی نژاد امریکیوں کو جلانا شروع کردیا، ان کی تجارت کو نشانہ بنانے لگے،جرائم کو ان کی طرف جھوٹ منسوب کیا جانے لگا، کہا جانے لگا کہ یہ لوگ مجرم ہیں، لٹیرے ہیں اور ان کو یہاں سے نکالا جائے. اس نفرت کی تشہیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف چند سالوں میں لوگوں کا ذہن تیزی سے بدلنے لگا، اور لوگ کالوں سے نفرت کرنے لگے. غصہ اور نفرت کے اظہار کے لئے اسی دوران لنچنگ کا سلسلہ شروع ہوا، عام طور پر افریقی نژاد امریکیوں پر گوری عورتوں کے ریپ کا الزام لگا کر بھیڑ انہیں بہت ہی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتارنے لگی. اور چند سالوں میں ڈھائی ہزار افریقی نژاد امریکیوں کو صرف ریپ کے جھوٹے الزام میں موت کی نیند سلادیااور دیگر الزام میں تقریبا ایک ہزار لوگ لنچنگ سے مار دیے گئے، یوں مجموعی طور پر ساڑھے تین ہزار لوگ لنچنگ کا شکار ہوگئے، یہ تعداد خوفناک حد تک زیادہ ہےـ
اسی وقت سب سے پہلے ایک افریقی نژاد خاتون Ida B wells نے سچائی پر مبنی بہت ہی طاقتور اور مؤثر مضامین لکھے جن میں انہوں نے لنچنگ کرنے والوں کی سفاکیت، لنچنگ کا شکار ہونے والوں کی مظلومیت اور ملک کی سالمیت کی طرف امریکہ کے باشندوں، دیگر صحافیوں اور حکومت کی توجہ مبذول کرائی. ان کی اس کوشش میں کئی دیگر افراد بھی شامل ہوگئے، اور دیگر کئی لوگوں نے بہت ہی طاقتور انداز میں لکھنا شروع کردیا. اس کے بعد جلسوں اور میٹنگز کی ابتدا ہوئی جس سے لنچنگ کے خلاف ماحول سازگار کیا جانے لگا، دھیرے دھیرے یہ آواز ایک تحریک بن گئی، اور ملک بھر میں لنچنگ کے خلاف اخبارات اور جلسوں میں بیباکانہ باتیں ہونے لگیں، اس کے نتیجہ میں انہیں White Supremacist Group کی طرف سے تشدد بھی جھیلنا پڑا، ان کے دفاتر جلائے گئے، انہیں جان سے مارنے کی کوششیں کی گئیں لیکن انہوں نے جمہوریت اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھی، بعد میں ایک تنظیم National Association for the Advancement of Colored People (NAACP) کے نام سے وجود میں آئی اور اس کی کئی ذیلی تنظیمیں بھی بنیں، Ida Bنے اس تنظیم کے لئے بھی اپنی خدمات جاری رکھیں، اس کے کچھ دنوں کے بعد صرف خواتین کی ایک تنظیم Anti Lynching Crusaders کے نام سے بنی، جس کی ابتدا تو سولہ ممبران سے ہوئی تھی لیکن اپنی محنت کی وجہ سے صرف تین مہینوں میں اس تنظیم سے نو ہزار افراد جڑ گئے، دیگر تنظیموں نے بھی مالی طور پر اس تحریک کا ساتھ دیا، مثال کے طور پر ایک فیکٹری سے ایسے بٹن بنائے گئے جس پر Stop Lynching لکھا ہوتا تھا، اور یہ ملک بھر میں عام ہوگیا، اس کی آمدنی تحریک کے لئے مختص کی گئی. یوں دس بیس سال کے عرصہ میں کئی تنظیموں، صحافیوں، مدیروں، حقوق انسانی کے کارکنوں اور مؤثر افراد کی مشترکہ جی توڑ زمینی کوششوں سے پورا ملک White Supremacist جماعتوں کے تعصب اور نفرت کے خلاف کھڑا ہوگیا. اور بہت پرزور انداز میں اینٹی لنچنگ لاء کو منظور کرنے کا مطالبہ کرنے لگا. اور یہ بل US House Of Representative میں کئی بار پیش بھی کیا گیا لیکن یہ بل جسے Dyer Anti Lynching Bill کے نام سے جانا گیا وہ فوری طور پر منظور تو نہیں ہوسکا لیکن مسلسل بیس سالوں کی محنت بھی ضائع نہیں ہوئی،اس کا پھل یہ ملا کہ لوگوں کی ذہنیت بدلنے لگی، اور لنچنگ کے واقعات میں ڈرامائی انداز میں کمی واقع ہوگئی. لنچنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر یہ ساری کوششیں 1890 سے لے کر 1918 کے درمیان ہوئیں ـ
آج ہندوستان کی صورت حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے، وہاں White Supremacist گروپس وہاں کے افریقی نژاد امریکیوں کو لنچنگ کرکے مار دیتے تھے اور یہاں ہندو انتہا پسند جماعتوں اور تنظیموں نے پورے ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ لگا دی ہے، اور لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کو مارنا شروع کردیا ہے- حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ زمامِ حکومت بھی ان ہاتھوں میں ہے جن کی گردن پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے، انہیں قتل کرنے اور کروانے کا الزام ہے. حکومتی اور انتہا پسند تنظیموں سے منسلک افراد سرِعام مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اپنی نفرت کا فخریہ اظہار کرتے ہیں ـ مذہب کے نام پر لنچنگ کے بڑھتے واقعات نے سب کو پریشان کردیا ہے. اس طرح کی خطرناک صورت حال ہمارے ملک کی سالمیت اور امن عامہ کے لئے کوئی ممکنہ خطرہ نہیں بلکہ ایک یقینی خطرہ ہے. ملک یقینی طور پر خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے. جس میں سب سے زیادہ نقصان کسی اور کا نہیں مسلمانوں کا ہونا ہے. لیکن حیرت ہے کہ سیکولر مسلمان ہوں یا غیر مسلم سیکولر لیڈران، مسلم مذہبی قیادت ہو یا مسلم سیاسی لیڈران، کوئی بھی اس تباہی کے خلاف مستقل طور پر کھڑا ہونے کو تیار نظر نہیں آتا. ضرورت اسی اسپرٹ، اسی جذبہ اور اسی مقصد کی ہے جو امریکہ میں Anti Lynching Movement شروع کرنے والوں کی تھی. اس طوفانِ بلاخیز کا احساس کیا جائے جو ملک کی سالمیت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گا. اب ملک کو ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے جسے ملک کا ہر فرد اپنے دل کی آواز سمجھے. جو تحریک ملک بھر میں پھیلے نفرت اور شدت پسندی پر قابو پا سکےـ
جھارکنڈ کی حالیہ لنچنگ کے بعد جلسے تو ہورہے ہیں، غم و غصہ کا اظہار تو کیا جارہا ہے، احتجاج و مظاہرے تو ہورہے ہیں؛لیکن ایک سوال ہنوز قائم ہے کہ ان سرگرمیوں کا کوئی مقصد یا کوئی منزل متعین کی گئی ہے؟کیا اہل وطن کو صرف اپنے غصہ، دکھ اور غم کا احساس کرادینا ہی مقصود ہے؟ یا محض حکومت کو احساس دلانا مقصود ہے؟ وقتی طور پر اٹھایا گیا یہ فی نفسہ ایک مثبت قدم تو ہے لیکن کیا اس سے طویل المدت مقاصد حاصل کئے جاسکیں گے؟ حکومت مذمتی بیان جاری کردے گی، مجرم کو سزا بھی ہوجائے گی لیکن کیا اس سے جڑوں میں پیوست نفرت کا خاتمہ ہوسکے گا؟ اگرچہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں خاموش تماشائی ہوتی ہیں لیکن بسا اوقات اس طرح کے حادثات سے سیاسی فائدے اٹھانے سے بھی نہیں چوکتی ہیں،لہذا ان سے امید کرنا بھی کارِ عبث ہے. اس لئے ان سب سرگرمیوں کو ایک بامقصد تحریک کی شکل دینے کی ضرورت ہے، اور یہ تحریک عوام کے درمیان سے ہی اٹھنی چاہیےـ
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تمام تنظیمیں، تمام ملی تنظیمیں، ملک کے لئے فکر مند صحافی و دانشور، اور خاص طور سے مسلمانوں کی فرنٹ لائن کی قیادت ایک ساتھ مل کر ایک ایسی تحریک کی شروعات ترجیحی بنیادوں پر کرسکتی ہیں جو پر امن ہو اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے ساتھ پورے ملک میں اس نفرت و تعصب کے خلاف فضا سازگار کرے. ملک بھر میں نفرت پھیلانے والے تمام عناصر کے خلاف ایوان میں بل پیش کرنے کے لئے حکومت پر جائز عوامی دباؤ ڈالا جائے، تاکہ بل کے تحت منظور ہونے والے قانون کے دائرہ میں مذہبی منافرت پھیلانے والے تمام وسائل و افراد کو قانون کے دائرہ میں لا کر مکمل طور پر قدغن لگائے جانے کی راہ ہموار ہو سکے، خواہ اس کا تعلق میڈیا سے ہو یا حکومت سے، کسی تنظیم سے ہو یا کسی ادارہ سے، سب کی بلا کسی رعایت روک تھام کی جائے اور قانون ان سے سختی سے نمٹےـ
یہ سب کو معلوم ہے کہ اس زہر ناک صورت حال کے تئیں حکومت غیر سنجیدہ ہے بلکہ ان سب واقعات کو خطرناک حد تک نظر انداز کررہی ہے. جس سے ہر انصاف پسند اور امن پسند ہندوستانی کو تشویش میں مبتلا ہے. حکومت کی لاپرواہی کے باوجود جمہوری ملک میں عوام اپنے زور پر حکومت کو لنچنگ کے خلاف اور نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف بل لانے پر مجبور کرسکتی ہے. اس وقت ملک کو بچانے کے لئے اسی تحریک کی ضرورت ہے جو امریکہ میں افریقی نژاد امریکیوں نے برپا کی تھی اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے حق بھی بہت بھلائی کی ـ
یہ واضح ہے کہ یہ کام ایک دو مہینوں یا سال دو سال کا نہیں ہےـ جب تک ملک کو درپیش اس تباہی سے نمٹنے کے لئے عمریں کھپانے کا عزم ترجیحی طور پر نہیں ہوگا تو اس ملک میں صدیوں پر محیط ہمارے وجود کی شہادت صرف تاریخ کے اوراق ہی دے سکیں گےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں