118

اہل علم وقلم کی بارگاہ میں


ابوفہد، نئی دہلی

مجھے کبھی کبھی بعض اہل علم وقلم پر بڑا ترس آتا ہے، یہ بیچارے اپنے وسیع مطالعے ، رسوخ فی العلم اور قابل فخر تجربات کے باوجود کئی اہم چیزوں سے ناواقف یا نابلد ہیں۔میرا خیال کچھ یوں ہے کہ ان میں سے اکثر اہل علم کا حال یہ ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر اپنے فکر وخیال کا اظہار کررہے ہیں۔ کسی مضمون، کسی فکر یا کسی بھی مباحثے میں جو تضاد کی کیفیت ہوتی ہے، اثبات میں جو نفی کا اورنفی میں جو اثبات کا رنگ ہوتا ہے اس کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔جیسا کہ ان تقریری مقابلوں میں ہوتا ہے جن میں بچوں کی دوٹیمیں بنادی جاتی ہیں اور انہیں کوئی ایک عنوان دے دیا جاتا ہے۔ ایک ٹیم دئے گئے عنوان پر مثبت گفتگو کرتی ہے اور اس کے حق میں دلائل لاتی ہے اور دوسری ٹیم اس پر منفی گفتگو کرتی ہے اور اس کے خلاف دلائل لاتی ہے ۔اگر ’’ انسانیت کا عرروج وزوال اور مسلمان‘‘ جیسا کوئی عنوان مقرر کیا جائے ، تو جو ٹیم یہ پوائنٹ رکھے گی کہ انسانیت کا عروج مسلمان قوم کا رہین منت ہے تو وہ ہر قیمت پر یہ ثابت کرکے رہے گی کہ دنیا میں جو کچھ بھی اچھائی ہے، انسان نے آج تک جتنی بھی ترقی کی ہے اور انسانی دنیا میں اخلاقی اقدار کا جس قدر بھی فروغ ہوا ہے یہ سب کا سب مسلمانوں کے اخلاق، ان کی تعلیم ، ان کی انسانیت نوازی اور ان کے آفاقی دین کی وجہ سے ہی ہے۔ جبکہ دوسری ٹیم جو اس کے مخالف رجحان پر بات کرے گی اس کے ہر مقرر کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کردے کہ دنیا میں اخلاقی قدروں کا جو زوال ہے، انسانی سماج میں جو برائی ہے، جتنی بھی قتل و غارت گری ہے، شروفساد ہے اور انسانیت کے کارواں کی ترقی کی رفتار جس قدر بھی سست روی کا شکا رہے ، اس سب کے پیچھے ناہنجار مسلمانوں کا ہی ہاتھ ہے، انہی کی نابکار ذہنیت ہے اور انہی کی محدود سوچ اس کے پیچھے عمل کررہی ہے۔
ان دونوں ٹیموں کے مقررین کو اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوگی کہ سچائی کیا ہےاور انصاف کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، قوموں کی تاریخ ِعروج وزوال کا مطالعہ کیا بتا تا ہے اور اس سلسلے کے ماہرین کی رائے کیا ہے، انہیں تو بس اس بات سے غرض ہوگی کہ انہوں نے مخاطب کو اور خاص کر جج صاحبان کو خطابت کے اپنے اسٹائل سے، اپنے زور بیان سے اور اپنے استدلال او رمنطقی داؤ پیچ سے ، اونچی اور پاٹ دار آواز سے اور سخن گسترانہ لب ولہجے سے ،حتی کہ بے مطلب اور بے معنیٰ اچھل کود سے اور سرکس کے جوکروں جیسی کرتب بازیوں سے ،کس حد تک متاثر کیا ہے ۔ اگر متاثر کیا ہے تو وہ کامیاب رہے اور اگر نہیں تو ناکام رہے۔
ہوسکتا ہے اس عنوان سے قائم مقابلے کا ایک فریق سچائی پر ہو ، خاص کر وہ فریق جو انسانیت کے عروج میں مسلمانوں کے مثبت اور فعال کردار پر بحث کرنے والا ہے، مگر درحقیقت اسے بھی سچائی کے اظہار سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہوگی کیونکہ اس کی نظر مخالف کو مات دینے پر ٹکی ہوئی ہوگی۔ اگر سچائی کے اظہار کی حقیقی کوشش میں وہ پینترے بازی سے کام نہ لے اور وہ یہ سوچے کہ وہ ہر حال میں سیدھے سچے انداز سے اپنے سامعین پر یہ سچائی واضح کرکے رہے گا کہ انسانیت کے قافلے کو عروج پر لے جانے میں فی الواقع مسلم قوم کا بڑا کردار ہے ، اب اس کوشش میں وہ ہار ہی کیوں نہ جائے ، تو درحقیقت یہ اس کی ناکامی ہے ۔ اس کے برخلاف اگر وہ مخالف کو مات دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ کامیاب ہے، اب بھلے ہی سچائی کا اعتراف کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اس کا کما حقہ اظہار ہوپائے یا نہیں اور سامعین اس کی بے سرپیر کی دلیلوں سے فی الواقع اس اشتباہ میں پڑ جائیں کہ انسانیت کے عروج میں مسلمانوں کاکردار اتنا بھی بڑا ، فعال اور موثر نہیں جتنا کہ اس نے بیان کیا۔
بالکل یہی صورت حال ہمارے مذہبی مقررین کی ، مضمون نگاروں کی، فتویٰ نویسوں کی ، صحافیوں کی اور سیاسی لیڈران کی ہے کہ انہیں ’ غرض کسی سے نہ واسطہ، مجھے کام اپنے ہی کام سے‘ والے رویئے سے مطلب ہے اور بس۔ انہیں تو بس اپنی بات کہنی ہے، اپنے مسلک کی بات کہنی ہے، اپنی پارٹی لائن پر چلنا ہے،اپنی تنظیم کی کاسہ لیسی کرنی ہے ، اپنے اساتذہ کی منہ بھرائی کرنی ہے، اب اس کے بعد سچائی کا کیا؟ حقیقت کا کیا اور منصفانہ بات کا کیا؟ سب جائے بھاڑ میں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ ایک رائے قائم کرلیتے ہیں اور پھر اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس میں نہ کوئی استثنیٰ رکھتے ہیں، نہ کسی التباس اورتشابہہ کو بیان کرتے ہیں اور نہ ہی کسی مخالف رائے کو سامنے لاتے ہیں۔فقہی مسائل میں جتنے بھی تنازعات ہیں سب کے رنگ ڈھنگ یہی ہیں، آپ آمین بالجہر او ر بالسر کے دلائل اٹھاکر دیکھ لیں، رفع یدین اور عدم رفع یدین پر طرفین کے دلائل اور طرز استدلال کو دیکھ لیں، اگر آپ منصفانہ مزاج کے حامل ہیں تو شاید آپ پر جلد ہی یہ بات منکشف ہوجائے گی کہ گویاطرفین کی دو ٹیمیں منتخب کرلی گئی ہیں ایک کو رفع یدین کے جواز پر بات کرنی ہے اور دوسرے کو عدم جواز پر ، ایک کو آمین بالجہر کے دلائل دینے ہیں اور دوسرے کو آمین بالسر کے۔ اور پھر اس کے ساتھ وہ سب پینترے بازیاں ہیں جو فرضی مقابلوں میں دو حریف ٹیموں کے مقررین روا رکھتے ہیں، وہی شعلہ بیانی، وہی دھونس دھاندلی، وہی منطقی چالبازیاں اور وہی نفسیاتی حربے ، وہی طرز استدلال کہ ایک ہی مضمون سے متعلق بعض حقائق کو ظاہر کرنا اور بعض کو چھپا لینا، کبھی غصے سے کام نکال لینا، کبھی رو دھو لینا، کبھی سامعین کے جذبات کو برانگیختہ کرنا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر جھوٹے دلائل گھڑنا، کہیں کی دلیل کہیں لا مارنا ،وغیرہ وغیرہ۔
آپ دیکھ لیں جو لوگ عورتوں کے چہرے کے پردے کے حامی ہیں یا عورتوں کے مساجد میں نہ آنے کے حامی ہیں تو وہ اپنے اس رجحان کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس میں کوئی استثنیٰ ہی نہیں رکھتے، تعلیم دین کی ضروریا ت کے تحت گنجائشیں بھی نہیں چھوڑتے ، یہاں تک کہ جو مخالف رجحان کے دلائل ہیں انہیں بھی نظر انداز کرجاتے ہیں۔ اس کے برعکس نظریہ رکھنے والوں کا بھی حال یہی ہے کہ وہ بھی وقت اور حالات کو منہا کرکے بات کرتے ہیں اور اس طرح بات کرتے ہیں جیسے جو انہوں نے کہہ دیا وہ ہونا ہی چاہئے۔
ایک عالم کھڑا ہوگا اورحضورﷺ کے لیے علم غیب کے دلائل دے گا۔ اور ایسے دلائل کا رد کرے گا جن سے یہ ثابت ہوکہ حضور ﷺ کوعلم غیب نہیں تھا یہاں تک کہ قرآن کی صریح آیتوں کی بھی توجیہ کرے گا۔اول تو ان آیتوں کو زیر بحث لائے گا ہی نہیں اور اگر لائے گا بھی تو ان کی توجیہ کرلے گا، کبھی ذرا ڈھنگ کی بھی اور کبھی بالکل ہی بے ڈھنگی بھی ۔ اور دوسرا عالم کھڑا ہوگا وہ حضور ﷺ کے لیے علم غیب کی نفی کرے گا اور اس طرح نفی کرے گا جیسے حضور ﷺ کا غیب کی باتوں سے کچھ سروکار ہی نہ تھا۔ یہاں تک کہ آپﷺ کو محض ایک پیغام رساں ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ محبتوں اور عظمتوں کو بھی منہا کردے گا۔
حالانکہ اس کائنات میں کوئی بھی خیال ، کوئی بھی رجحان یا کوئی بھی قول یا حکم ،سوائے کلمہ توحید وکلمہ رسالت (لا الٰہ الا اللہ ، محمد الرسول اللہﷺ) او ر کلمہ ٔ کفر کے کوئی کلمہ ایسا نہیں جس میں استثنیٰ نہ ہواور اس کے ذریعہ بیان کی جانے والی کلی حرمت میں جزوی حلت نہ نکلتی ہو اور کلی حلت میں جزوی حرمت نہ نکلتی ہو۔ حتی کہ کلمہ توحید اور کلمہ کفر میں بھی یہ استثنیٰ ہے کہ کلمہ توحید اگر دل سے نہیں پڑھا تو اس کی کچھ اہمیت نہیں اور اگر جان بچانے کی مجبوری میں کلمہ کفر بے دلی کے ساتھ اداکرلیا ، تو یہ کفر نہ ہوا۔

جب علم غیب کی بات آئی ہے تو یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ علم غیب بھی اپنے آپ میں اکہری معنویت نہیں رکھتا، اس کے بھی ابعاد ہیں، اس میں بھی کئی پہلو ہیں اور اس کے بھی ایک سے زائد معانی ہیں۔

غیب ایک سطح پر نا معلوم کو معلوم کرنے کا نام بھی ہے اور انسانی ذہانتوں نے اپنے کسبی علم، مطالعے اور تجربات کے ذریعہ فطرت کے بہت سارے رازہائے سربستہ کو معلوم کرلیا ہے جو ابھی ماضی قریب کی تاریخ تک پردہ غیب میں تھے اور انسان کی مجموعی ذہانتوں کی بلندیوں اور پہنچ سے پرے تھے۔ یہ بھی تو غیب کا جاننا ہی ہے۔جس طرح اللہ نے انسان کو طبعی طور پر یہ استعداد بخشی ہے کہ وہ غیب کی باتوں کو اپنے علم اور ذہانت کے ذریعے معلوم کرسکے اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام کو بھی ’وحی ‘ کے توسط سے اور رسول اللہ ﷺ کو اس کےعلاوہ معراج کے ذریعے بھی غیب کے بے شمار رازوں پرمطلع فرمایا، اب جو کچھ باقی امت کے لیے غیب ہے وہ حضورﷺ کے لیے شہود ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جنگل میں ایک شخص نے خزانہ دفن کیا ، وہ اس کی نسبت سے شہود ہے اور باقی تمام لوگوں کے لیے ہنوز غیب ہی ہے، جب تک ان میں سے کوئی بچشم خود اس کا مشاہدہ نہ کرلے۔جنت ودوزخ کل بنی نوع انسانی کے لیے غیب ہیں یہاں تک کہ وہ موت کے دروازے سے گزر کر او ر موت کے دن سے یوم جزا ء تک کے انتظار کے بعد میدان حشر میں جمع ہوں گے تو ان کے لیے جنت و دوزخ شہود بن جائیں گی، مگر حضورﷺ کے لیےدنیا کی زندگی میں بھی جنت ودوزخ نیز عالم بالا کی دیگر بہت سی چیزیں اور باتیں شہود تھیں۔سورۂ آل عمران کی آیت 179 میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ عام مسلمانوں کو تو غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اپنے رسولوں کو غیب پر مطلع کرتا ہے۔ اس آیت میں رسولوں کے لیے غیب کا لفظ بولا گیا ہے۔ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ۔ اللہ تم بندوں میں سے کسی کو بھی غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ وہ غیب کی باتیں بتانے کے لیے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب فرمالیتا ہے۔ (قرآن میں اس مفہوم کی اور بھی آیا ت ہیں جیسے سورۂ جن آیت نمبر27)

لہذا جب ہم رسول اللہﷺ کے لیے غیب کی بات کریں گے تو ان آیات کو جن میں غیب پر مطلع کرنے کی بات ہے اور دوسری آیتوں کوجن میں رسول اللہ ﷺ کے لیے غیب کی نفی آئی ہے باہم جوڑ کر دیکھیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ رسول اللہﷺ کے لیے غیب کی نفی کس معنی میں ہے اور کس حد تک ہے اور غیب کا اثبات کس معنیٰ میں ہے اور کس حد تک ہے۔

تاہم ایک طبقے کی طرف سے جو یہ بات کہی جاتی ہے کہ حضورﷺ کو ماکان ومایکون کا علم عطا کردیا گیا تھا اور آپ ﷺ کی ذات والا صفات میں ایسی خصوصیت پیدا کردی گئی تھی کہ آپ ﷺ جب چاتے تھے ارادہ فرماتے تھے اور غیب کی بات آپ ﷺ پرمنکشف ہوجاتی تھیں۔ اگر ایسا ہوتا تو آپﷺ کے کسی بھی عمل کی کوئی بھی معنویت نہ رہ جاتی ۔ آپ ﷺ کو پتہ ہوتا کہ جنگ میں ہارنے والے ہیں تو آپ ﷺ جنگ سے گریز کرتے اور معلوم ہوتا کہ جیتنے والے ہیں تو آپ ﷺ کو تیاری کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اگر آپﷺ کو ماکان ومایکون کا علم عطا کردیا گیا ہوتا توقرآن آپ ﷺ کے یہ الفاظ(لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ) اپنے ریکارڈ پر قیامت تک کے لیے محفوظ نہ کرتا، پھر تو آپ ﷺ نفع و ضرور کے سلسلے میں خودمختار ہوتے، نفع حاصل کرلیتے اور ضرور سے محفوظ رہتے اور آپ ﷺ کو زندگی بھر کبھی بھی کوئی تکلیف لاحق نہ ہوتی۔ اس کے برخلاف قرآن وحدیث ، تاریخ وسیر کی کتابیں نیز سابقہ آسمانی صحیفے اس بات پر گواہ ہیں کہ ہر نبی ورسول کی طرح آپ ﷺ بھی زندگی کی آزمائشوں اور تکلیفوں سے گزرے ہیں۔مگر پھر بھی پتہ نہیں کیوں ایسا ہے کہ لوگ اتنے واضح اور ٹھوس دلائل اور حقائق کو یک قلم نظرانداز کردیتے ہیں ، کبھی رد کردیتے ہیں اور کبھی توجیہہ کرلیتے ہیں۔اور وہی بات کہتے ہیں جو خود انہوں نے پہلے سے طے کرلی ہے یا ان کے بزرگوں نے بیان کردی ہے، اب بھلے ہی وہ غلطی پر ہوں اور بھلے ہی حقیقت کچھ بھی ہو۔گویا کہ عالم دین نہ ہوئے بلکہ ایک فرضی مقابلے میں فرضی مقرر ہوئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں