155

اہلِ غزہ کا کتاب الٰہی پر غیر معمولی یقین

عبدالعزیز

فلسطین کے ایک قطعہ ارضی کا نام غزہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جدامجد ہاشم بن عبدمناف اپنے تجارتی سفر کے دوران ملک شام جاتے ہوئے غزہ ہی میں انتقال فرماگئے۔ غزہ کے محلے الدرج میں آج بھی ان کی قبر موجود ہے۔ قبر کے پڑوس میں ایک شاندار تاریخی مسجد، مسجد سید ہاشم واقع ہے۔ غزہ کو اسی حوالے سے غزہئ ہاشم بھی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
مصر کی وادی سیناسے منسلک اور بحر متوسط کے ساحل پر پھیلی ۰۴ کلو میٹر لمبی ۰۱کلومیٹرچوڑی غزہ کی پٹی میں ۵۱ لاکھ فلسطینی بستے ہیں۔ ۸۴۹۱ میں سرزمین فلسطین پر قبضہ کرکے جب صہیونی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیاگیا تو غزہ کی پٹی مصر کے زیر انتظام آگئی۔ مصری انتظام ۹۱ سال تک قائم رہا۔ ۷۶۹۱ کی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں دیگر وسیع علاقوں کے ساتھ ہی غزہ پر بھی صہیونی افواج نے قبضہ کرلیا۔ اس طرح غزہ پر ابتلا اور مصیبت کا نیا دور شروع ہوا۔ ۸۴۹۱ کے بعد دیگر فلسطینی علاقوں سے بھی مہاجرین کی بڑی تعداد غزہ منتقل ہوگئی تھی۔ آٹھ مہاجر خیمہ بستیاں وجود میں آئیں۔ یہودیوں نے بھی یہاں ۵۲ جدید بستیاں تعمیر کیں۔ غزہ کی یہ مختصر سی پٹی کثافت آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے گنجان آبادی بن گئی۔ یہودیوں کا جبر وستم بھی سب سے زیادہ غزہ کے اسی علاقے میں شروع ہوا جہاں مسلمان آباد ہیں۔ 

غزہ کی یہ آبادی سسک سسک کر جی رہی تھی کہ وہاں جہادو مزاحمت سے آشنا ایک نئی نسل نے جنم لیا۔ شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر عبدالعزیز اور انجینئر یحیٰ شہید جیسے راہ نماؤں نے اس نسل کی تربیت کا بیڑا اٹھایا، اسلامی یونیورسٹی غزہ جیسے شان دار تعلیمی ادارے قائم کئے اور بالآخر ۷۸۹۱ء میں اسلامی تحریک مزاحمت(حماس) کا وجود عمل میں آیا۔ آغاز کار میں پتھروں اور غلیلوں سے ٹینکوں کا مقابلہ کیا گیا، معصوم بچوں نے کنکریوں سے دیو قامت ٹینکوں اور جدید ترین ہتھیاروں کا مقابلہ کیا۔ قرآن مجید پڑھ کر ابابیل صفت بچے گھر سے نکلتے، مساجد میں نوافل اداکرتے اور صہیونی درندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نکل آتے۔ دنیا بڑے غور سے دیکھ رہی تھی کہ بظاہر صہیونی اسلحے کے انباروں اور بے وسیلہ بچوں کا کوئی تقابل نہیں تھا؛ لیکن ساری دنیا نے دیکھا کہ ہزاروں شہدا، زخمیوں اور قیدیوں کا نذرانہ دینے کے بعد بالآخر بے وسیلہ تحریک انتفاضہ ہی کامیاب ہوئی اور ۷۶۹۱ء سے غزہ پرقابض صہیونی افواج ۵۰۰۲ء میں انخلا پر مجبور ہوئیں۔
یہ بات شک وشبہے سے بالا تر ہے کہ اللہ کے ایک سہارے کے باعث ۰۰۴ مربع کلو میٹر پر مشتمل غزہ میں محصور ۵۱ لاکھ انسان مسلسل ۲۲ دن تک دنیا کے مہلک ترین بموں کا عشر عشیر بھی کسی ایسی بڑی سے بڑی اور جدید سے جدید فوج یا ملک پر برسایا جاتا، جس کے پاس قرآن مجید کی تعلیمات کے نتیجہ میں الٰہی آسرا نہ ہوتا، تو ۲۲ دن نہیں، ۲ دن میں ہتھیار ڈال دیتا۔ ۷۶۹۱ء میں اسرائیلی فوج اس سے بہت کم ہتھیاروں کے ساتھ شام، مصر اور لبنان کی باقاعدہ افواج پر حملہ آور ہوئی۔ ۶ دن کی جنگ میں مصر نے صحرائے سینا، شام نے گولان کی پہاڑیوں اورلبنان نے سارا جنوبی حصہ اسرائیلی فوج کے سپرد کرکے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ یہ تینوں ملک مسلمان تھے لیکن ان کی قیادت غیراللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے اور قرآن مجید کو چھوڑدینے کی وجہ سے شرمناک شکست سے دوچار ہوئی۔
غزہ پٹی کے جیالے نوجوان اور ابابیل صفت بچے قرآن مجید کے ایک لفظ ایک حرف پر اعتماد کرنے کی وجہ سے کامیابی اور کامرانی کی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل غزہ پٹی کے مسلمانوں کا نعرہ ہوتا۔ ایک ہی وقت میں دو دو، تین تین معصوموں کی لاشیں بازووں میں سمٹی ہوتیں، یا لوگ ملبے اور لاشوں کے ڈھیر سے اپنے گم شدہ پیاروں کی تلاش کررہے ہوتے، بولتے تو یہی کہتے حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ میڈیا سے بات ہوتی تو گاہے گاہے یہی دعا بددعاکی صورت بھی اختیار کرجاتی حسبنا اللہ علی الحکام العرب…… حسبنا اللہ علی الیہود”پروردگار! عرب حکمرانوں کے مقابل تو کافی ہوجا…… یہودیوں کے مقابلے میں ہمارے لئے کافی ہوجا۔ ان حکمرانوں اور یہودیوں سے تو خود نمٹ پر وردگار۔“آج ہر عرب ملک میں معصوم شہیدوں کا خون رنگ لارہاہے۔ حکمران یا تو زیر عتاب ہیں یا ملک سے فرار ہورہے ہیں۔ حسنی مبارک اور ان کی ذریات نے فلسطینیوں پر جو ظلم ڈھائے تھے،ان پر اللہ کا عتاب بڑھتا جارہاہے اور غزہ پٹی کے مسلمانوں کی دعائیں ایک ایک کر کے اللہ تعالیٰ قبولیت کا درجہ عنایت فرمارہاہے۔
یہ سب نتیجہ ہے قرآن مجید پر بے پناہ اور غیر معمولی یقین کا:
ملاحظہ فرمائیے کس طرح غزہ والوں کو اللہ اور اس کی کتاب سے عقیدت اور محبت ہے۔ کس طرح وہ اپنے سینوں سے قرآن کو لگائے ہوئے ہیں؟ کس طرح اپنے آپ کو قرآن مجید کے سانچے میں ڈھالنے میں سرگرداں ہیں؟ علامہ اقبال نے ایسے مردمسلماں کیلئے کہا تھا:
ہر لخط ہے مومن کی نئی شان نئی آن

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان!
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان!
ہمسایہ جبریل امیں بندہئ خاکی

ہے اس کا نشیمن، نہ بخارا نہ بدخشاں!
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
یہ ۰۱۰۲ء کی بات ہے کہ غزہ سے آنے والا ایک فلسطینی عجیب جذبے سے سرشار تھا۔ بتارہاتھا آپ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہم ہر کام میں قرآن کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ گذشتہ تقریباً چار برس سے ہم مکمل حصار میں مقید کردیے گئے ہیں۔ جینے کی تمام راہیں مسدود کردی گئی ہیں۔ ہم نے قرآن سے رجوع کیا، اس نے بتایا: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لایحسب (الطلاق -۵۶:۲-۳)”جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لئے ہر مشکل سے راہ ِ نجات عطا کرے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے گا کہ جو اس کے گمان میں بھی نہ ہوگی۔“ ہم خود اس کواور اپنی نسلوں کو قرآن کریم کے زیر سایہ لے آئے۔ دانہ، پانی، دوا، سازوسامان، سب ناپید ہونے لگے۔ قرآن کریم سے پوچھا تو اس نے بتایا: لاتقنطوا من رحمۃ اللّٰہ(الزمر ۹۳:۳۵)”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔“ ومامن دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا(ھود۱۱:۶) ”زمین وآسمان میں چلنے والی کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا رزق خود اللہ کے ذمے نہ ہو۔“ اور یہ کہ وان لیس للانسان الا ماسعیٰ(النجم ۳۵:۹۳) ”انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی وہ سعی و کوشش کرے گا۔“
ہم نے زیر زمین سرنگوں کے ذریعے سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کی سعی شروع کردی۔ میلوں لمبی سرنگوں کا پورا جال بچھ گیا۔ تھوڑی سی کوشش میں اللہ کی اتنی نصرت شامل ہوگئی کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود روز مرہ کی کئی اشیا ایسی ہیں کہ جو غزہ میں تقریباً آدھی قیمت میں مل رہی ہیں، جب کہ مصر میں جہاں سے یہ اشیا لائی جارہی ہیں وہی چیزیں دگنی قیمت میں ملتی ہیں مثلاً چھوٹا گوشت یا تو ملتا ہی نہیں، ملے تو غزہ میں ۰۳ مصری پونڈ(۰۳۴ روپئے) کلوملتا ہے، جب کہ مصر میں ۰۶پونڈ میں، غزہ میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ کیونکہ نایاب ہے تو قیمت بڑھادو۔ غزہ میں ایک خدا کا خوف اور ہر دم بیدار قیادت آنے سے فلسطین کی تاریخ میں پہلی بار وہ امن وامان قائم ہوا کہ جس کا ذکر ہم صرف تاریخ میں پڑھتے ہیں۔
میں نے سوال کیا لیکن اس ۰۹ فٹ گہری زیر زمین فولادی دیوار کا کیا بنا جو ان سرنگوں کو بند کرنے کے لئے مصر اور غزہ کی سرحد پر تعمیر کی گئی ہے، اور اس کے لئے امریکہ سے ایسی آہنی چادریں بھیجوائی گئی تھیں کہ بم بھی جن پر اثر نہ کرسکے؟ کہنے لگا: یہاں ہم نے پھر قرآن کریم سے استفسار کیا۔ قرآن نے جواب دیا: واعدوالہم ما استطعتم من قوۃ (انفال ۸:۰۶) ”ان سے مقابلے کے لئے ہر وہ طاقت فراہم کرو جو تمہارے بس میں ہے۔“ ہم نے ان فولادی دیواروں کو کاٹنے کے لئے جو کچھ بھی انسانی ذہن میں تدبیر آسکتی تھی، اختیار کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس آیت کا ورد اور اللہ سے مدد بھی طلب کرتے رہے۔یقین کیجئے کہ بموں سے بھی نہ کٹ سکنے والی ان چادروں میں بھی ہم اتنے بڑے شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے کہ اب وہاں سے گاڑیاں تک گزر سکتی ہیں۔ یہی نہیں قرآن کریم نے ہمیں بتایا: عسیٰ ان تکرھوا شیئا! وھو خیر لکم(البقرہ۲:۶۱۲)”ہوسکتا ہے کوئی چیز تمہیں ناپسندیدہ لگ رہی ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر اور باعث خیر ہو۔“ اس آہنی دیوار سے پہلے ہمارا ایک مسئلہ یہ تھا کہ طویل ہونے کی وجہ سے سرنگیں درمیان سے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ اب ان آہنی اور کنکریٹ کی دیواروں سے انہیں درمیان میں ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے۔۰۹روز میں مکمل حفظ قرآن کے معجزے کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگا: زیادہ بڑی تعداد اب ۰۹ نہیں ۰۶ روز میں پورا قرآن حفظ کرنے لگی ہے۔ اب بچوں کے علاوہ بچیوں اور خواتین کے لئے بھی حفظ قرآن کیمپ لگائے جارہے ہیں۔
انہی دنوں غزہ کی ایک ۹۵ سالہ داعیہ صبحیہ علی کا انٹرویو دیکھا تھا۔وہ کہہ رہی تھیں: ”ہمارا یقین ہے کہ ہماری نصرت کے تین مطلوبہ ستون ہیں: مسجد، قرآن اور ثابت قدمی۔“ ہماری خواتین صرف رمضان یا جمعہ ہی کو مساجد نہیں جاتیں بلکہ ہفتے میں تین روز عصر سے عشا تک مسجدیں آباد رکھتی ہیں۔صرف نمازوں کی ادائیگی ہی نہیں کرتیں، ایک مسلسل اور جامع تربیتی پروگرام میں شریک ہوتی ہیں۔ اس دوران دروس بھی ہوتے ہیں۔ مختلف کورسز بھی اورتربیتی ثقافتی اور تفریحی مقابلے بھی۔ ہماری تربیتی سرگرمیوں میں ہر عمر کی بچیاں اور خواتین شریک ہوتی ہیں، لیکن ۰۱ سے ۴۱ سال کی بچیاں ہماری خصوصی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔
صبیحہ کا کہنا تھا ”ہمارا یقین ہے کہ ہم جب تک قرآنی اخلاق سے آراستہ نہیں ہوں گے، آزادی کی نعمت حاصل نہیں کرسکتے۔ دشمن نے بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ وہ اخلاقی بے راہ روی پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کررہاہے اور ہم قرآن کے سہارے اپنی اخلاقی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ۷۰۰۲ء میں غزہ میں دارالقرآن والسنۃ نے ۰۶ روز کے اندر اندر قرآن کریم حفظ کروانے کا آغاز کیا۔ ۰۰۴ بچوں اور بچیوں نے حفظ کیا۔ اگلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پھر تباشیرالنصر (فتح ونصرت کی علامات) کے عنوان سے کیمپ لگائے گئے۔ اس سال ۳ ہزار طلبہ وطالبات نے قرآن حفظ کیا۔ پھر تو غزہ میں جگہ جگہ حفظ قرآن کیمپ لگنے لگے۔ حدیث کے مطابق حافظ قرآن کے والدین کو حشر میں وقار ومرتبت کا تاج پہنچایا جائے گا۔ سورج کی روشنی اس کے سامنے ماند ہوگی۔ اب مخیمات تاج وقار (تاج الوقار کیمپ)کے عنوان سے جگہ جگہ سرگرمی ہوتی ہے۔ بینر دکھائی دیتے ہیں: ھذا ھو جیل النصر”یہ ہے وہ نسل جسے اللہ کی نصرت ملنا ہے۔“ تاج الوقار، للاقصیٰ انتصار”تاج وقار، اقصیٰ کی نصرت ہے۔“صبحیہ نے کہا تھا: میں نے حفظ قرآن کیمپ کی ایک تقریب تقسیم اسناد میں شرکت کی، ۶۱ ہزار حفاظ جمع تھے، سب کے چہرے قرآنی نور سے دمک رہے تھے۔ غزہ سے آنے والا مسافر بتارہا تھا،اس وقت غزہ میں ان نئے حفاظ کی تعداد ۰۹ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اب ہم قرآن اور بندوق، دونوں سے آراستہ ہورہے ہیں۔ اسی روز عالمی ذرائع ابلاغ نے خبر شائع کی: غزہ میں نئے راکٹ کا کامیاب تجربہ، رینج دگنی ہوگئی۔ تل ابیب زد میں آگیا، امریکہ اور اسرائیل کااظہار تشویش!یہی نہیں غزہ کی حکومت اور حماس کی قیادت نے عالمی روابط اور سفارت کاری میں بھی کئی منزلیں کامیابی سے طے کی ہیں۔ اس ضمن میں آخری اہم پیش رفت ماسکو کے ساتھ مضبوط تعلقات کے قیام کی ہے۔ حماس کے سربراہ خالد مشعل اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ روس کا دورہ کرچکے ہیں اور روسی وزیر اعظم نے بھی دمشق آمد پر ان کے ساتھ خصوصی ملاقات کی ہے۔ اللہ کے وجود سے انکاری ملحد روس اور بنیاد پرست حماس……؟ بظاہر نہ سمجھ میں آنے والا فارمولا ہے، لیکن اب یہ ایک اہم زمینی حقیقت ہے۔ یہی نہیں روس میں اور بھی کئی اہم تبدیلیاں روبہ پذیر ہورہی ہیں۔ (ترجمان القرآن)
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں