79

اکشردھام مندر حملہ معاملے میں گرفتار ملزم کی ضمانت عرضداشت منظور

جمعیۃ علما کو ایک بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی
ممبئی:۱۱؍ جنوری(پریس ریلیز)
گزشتہ کل جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو اس وقت بڑی کامیابی ملی، جب احمد آباد میں واقع ا سپیشل پوٹا عدالت کے جج ایم کے دوے نے اکثر دھام مقدمہ کے ملزم محمد فاروق محمد حنیف شیخ کو مشروط ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے۔عیاں رہے کہ اکثر دھام مقدمہ کے ۶؍ ملزمین کو ۲۰۱۴ء میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا تھا، محمد فاروق اور دیگر کئی افراد کو اس مقدمہ میں مفرور بتایا گیا تھا، جن میں سے محمد فاروق کو گزشتہ ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۸ء کی رات میں سعودی عرب سے واپسی پر احمد آباد ایئرپورٹ سے پولس نے گرفتا ر کرلیا تھا، محمد فاروق کے گھر والوں کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے جمعیۃ علماء احمد آباد کی نگرانی میں قانونی مدد فراہم کی اور جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ الیاس خان نے عدالت میں کامیاب پیروی کی جس کے نتیجے میں بحث سے مطمئن ہوکر عدالت نے ۲۵؍ ہزار کے ذاتی مچلکہ پر ملزم کو ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔
ایڈوکیٹ الیاس خان نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے ہی سپریم کورٹ نے تمام ملزمین کو باعزت بری کردیا ہے، نیز عرضی گذار کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے، لہذا اب ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے، حالانکہ سرکاری وکیل ایس بی بھرم بھاٹ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیے جانے کی مخالفت کی، لیکن عدالت نے دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے۔حالانکہ ملزم کو ضمانت پررہا کرنے کے ساتھ ان پر یہ پابندی بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنا پاسپورٹ پولس اسٹیشن میں جمع کروائیں، نیز وہ اپنے خلاف موجود گواہوں سے رابطہ قائم نہیں کریں گے اور تحقیقاتی افسر سے تعاون کریں گے۔جیل سے رہائی کے بعد گذشہ شام محمد فاروق اور ان کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء احمد آباد کی آفس میں ذمہ داروں سے ملاقات کی اور جمعیۃ علماء کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں