82

اکتیس دسمبر

⁠⁠⁠
احمدبن نذر
وہ اکتیس دسمبر نہیں تھا،کوئی اور تاریخ تھی، جس کا مجھے تب پتہ تھا،نہ اب یاد ہے-میں ابوجی کے پاس بیٹھاکھیل رہاتھا،جی ہاں!کھیل رہاتھاکہ تب میری عمر دس گیارہ برس سے زائد نہ تھی-یوں ہی کھیلتے کھیلتے اچانک میری نگاہ ایک نام پر پڑی جس کے آگے”رحمۃاللہ علیہ”لکھاتھا-نام پہ بھلامجھے کیااعتراض ہوناتھا؟نام تو میری محبتوں کامحوراور عقیدتوں کامطاف تھا،مجھے اشکال اس سے آگے موجوددعائیہ جملے”رحمۃ اللہ علیہ”پرتھا-من کی دنیامیں سوال کلبلایا،توابوجی سے پوچھ لیاکہ”یہ کیسے؟حضرت کے حین حیات ہی بے وقوف کاتب نے ان کا نام مرحومین کے فہرست میں کس طرح درج کرڈالا؟ہائے بدبخت کاتب!”مگر یہ تو میری باتیں تھیں،میرا خیال تھا،میرا اندازہ تھا؛ چنانچہ ابوجی کے جواب کامنتظررہااور جب جواب ملا،تووہ میرے دماغ کی چولیں ہلادینے کیلئے کافی تھاــــــــــ ابو جی کا کہنا”نہیں بیٹا!کئی سال پہلے ان کاانتقال ہوچکاہے” مجھ پر عجیب بے یقینی کی کیفیت طاری کر رہاتھا، پھر جب رفتہ رفتہ مجھے اس کا یقین ہونے لگا، تومیرے اوپرغم واندوہ کی متاسف کن بدلی یوں چھاتی چلی گئی،گویاجانے والے نے کئی سال قبل نہیں؛ بلکہ آج،نہیں نہیں؛ بلکہ ابھی ہی رخت سفر باندھاہوــــــــــــ یہ توبات تب کی ہے، جب انہیں جانتاتھا،پہچانتانہ تھااوراب جب کہ دھیرے دھیرے ان سے تعارف میں اضافہ ہوتا چلاجارہاہے، توکاروان محبت دل کے نہاں خانوں سے نکل کران کی بلندوبالاذات کو سلام کرناچاہتاہے، ان کی یگانگت پر گلہائے عقیدت نچھاور کرنےکومتمنی رہتاہے،ان کی عبقریت کی بارگاہ میں خراج الفت پیش کرنے کو بے تاب ہواجاتاہے؛ کیونکہ وہ شخص محض”علی میاں” تھانہ صرف”ابوالحسن علی ندوی”ــــــــــ بلکہ یقینی طور پر وہ مفکرِاسلام تھا،مفکرِاسلام!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں