187

اچھے دن

(انشائیہ)
مبارک علی مبارکی
آج آخرکار میں نے اُس دھوکے باز کو انفرینڈ کر کے بلاک کر دیا ؛ بلکہ اُس کے خلاف فیس بُک والوں کو رپورٹ بھی کردی ،ہُوا یوں کہ پرسوں اُس انفرینڈ شدہ فرینڈ نے صندوقِ داخلی یعنی اِنباکس میں ایک تصویری پوسٹ بھیجی اور کہا کہ جو شخص گیارہ لوگوں کو یہ پوسٹ سینڈ کرے گا، اُس کی سب سے بڑی تمنّا چوبیس گھنٹے کے اندر پوری ہو جائے گی ،میں نے سوچا اِس سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے دینا تو بہت بڑی بیوقوفی ہوگی ، بس فوراً پوسٹ کو شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ،اچانک خیال آیا کہ میٹرِک کا مارک شیٹ گُم ہونے پر اس کی ڈُپلی کیٹ کاپی نکالنے گیا تھا تو دو مہینے میں ڈپلی کیٹ مہیا کرنے کی فیس ایک سو روپئے تھی، جبکہ دو سو روپے میں ارجنٹ یعنی ایک مہینے میں ہی ڈپلی کیٹ فراہم کرنے کا آپشن بھی موجود تھا ، سو میں نے دو سو روپے دے کر ارجنٹ کاپی کے لیے درخواست جمع کردی تھی ،یہ خیال آتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ اِس بار بھی ارجنٹ کاپی کی درخواست ہی کر دیتا ہوں؛ تاکہ میری سب سے بڑی آرزو چوبیس کی بجائے بارہ گھنٹوں میں ہی پوری ہوجائے،بس پھر کیا تھا دھڑادھڑ اُس کمبخت دوست کا میسج سینڈ کرنا شروع کردیا اور پلک جھپکتے میں 22 لوگوں کو وہ کراماتی میسج سینڈ کردیا ؛تاکہ میری سب سے بڑی تمنّا آدھے وقت میں پوری ہوجائے اور میری طرح دوسرے لوگ بھی اِس کارِ خیر کا حصّہ بن سکیں ، میں نے جلدی جلدی میں یہ بھی نہیں دیکھا کہ میسج کس کس کوبھیج رہا ہوں، آخری میسج شام کے تقریباً سات بجے سینڈ کیا ہوگا ، بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا کہ جلدی سے بارہ گھنٹے پورے ہوں اور…لیکن گھڑی کمبخت تو گویا بھارتیہ ریل ہوگئی تھی، چل ہی نہیں رہی تھی ،میرا دل اچّھے دنوں کے انتظار میں بے قرار ہُوا جارہا تھا؛لیکن میں نے اِس دیوانے کو سمجھایا کہ بھائی اِتنی بے صبری اچّھی نہیں ، تیس پینتیس سال بُرے دنوں کو برداشت کرلیا، تو کیا چند گھنٹے اور برداشت نہیں کرسکتے ،ذرا سا صبر کرو ، صبح سات بجے تو اچھے دن آ ہی جائیں گے ،میرے سمجھانے سے دیوانے دل کو ذرا سا قرار آیا؛ لیکن آنکھوں میں نیند نہیں آئی ، پتہ نہیں صعوبتِ دیرینہ سے بچھڑنے کا غم تھا یا راحتِ آیندہ سے ملنے کی خوشی، جس نے آنکھوں سے نیند چھین لی تھی ۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی ، پانچ بجے،پھر چھ بجے اور آخر سات بھی بج گئے؛ لیکن اچھے دنوں کا دُور دُور تک پتہ نہیں تھا ،رات آنکھوں میں کاٹی تھی ؛اِس لیے اب آنکھوں پر نیند کا غلبہ محسوس ہو رہا تھا، ویسے تو میں صبح چھ بجے ہی ڈیوٹی کے لیے نکل پڑتا ہوں؛ کیونکہ سات بجے کی ٹرین پکڑنی ہوتی ہے؛ لیکن گزشتہ شام بائیس لوگوں کو پیغام برائے تکمیلِ تمنّا شیئر کرنے کے بعد ہی یہ فیصلہ لے چکا تھا کہ آج ڈیوٹی کے لیے نہیں جاؤنگا ؛کیونکہ میں سُپر فاسٹ ٹرین سے ڈیوٹی پر جاتا ہوں، جو ہوڑہ اسٹیشن سے چھوٹتی ہے ،تو دو گھنٹے بعد کھڑگپور اسٹیشن پر ہی رُکتی ہے، میں نے سوچا سات بجے ٹرین چُھوٹے گی اور سات بجے ہی سب سے بڑی تمنّا پوری ہوگی،گھر والے کال کرکے اچھے دن آنے کی خبر دیں گے ،تو پہلی ٹرین سے واپس آنا ہوگا، پھر عزیز و اقارب کو خبر دینے اور باقی انتظامات کرنے کے لیے وقت بھی تو چاہیے؛ لہٰذا چھٹی لینا ہی مناسب لگا ، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ سات بجنے کے باوجود اچّھے دنوں کا دُور دُور تک پتہ نہ تھا، سوچا شاید کچھ میسج ابھی منزلِ مقصود تک پہنچے ہی نہ ہوں؛ اِس لیے تھوڑا اور انتظار کرلینے میں کیا بُرائی ہے؟انتظار کرتے کرتے آٹھ بجکر 47 منٹ اور 36 سکنڈ ہوگئے ، شادیِ غم کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکا تھا؛ اِس لیے آخرکار نیند آگئی ،
اچانک خواب میں ایک چڑیل آئی اور کرخت آواز میں بولی’’ اسکول نہیں جانا ہے؟‘‘۔
میں نے خواب میں ہی جواب دیا’’نہیں،اچّھے دن آنے والے ہیں ‘‘۔
چڑیل شاید امیت شاہ کی طرح اپنی پارٹی کی کرسیِ صدارت پر براجمان تھی ، چیخ کر بولی’’ اوئے شیخ چِلّی! خواب دیکھنا چھوڑ دے ،کوئی اچھے دن وِن نہیں آنے والے ، سب جملہ بازی ہے ،اُٹھ اور چائے کے لیے دودھ لے کر آ ‘‘۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے چڑیل،معاف کیجیے بیگم ہاتھ میں دودھ کا برتن لیے کھڑی تھیں۔ اب بتایئے،کیا ایسے دھوکے باز دوست کو انفرینڈ کرکے میں نے کوئی غلطی کی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں