203

اچھا لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟


احمد نعیم چشتی
خشونت سنگھ ہندوستان کے مشہور مصنف اور صحافی تھے جو پاکستان کے ضلع خوشاب کے ایک قصبے ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔ برصغیر پاک و ہند اور دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح موجود ہیں۔ ان کے ناول، افسانے، آپ بیتی اور کالم بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ جو بھی ان کو پڑھتا ہے ان کا معترف ہو جاتا ہے۔ انہوں نے صرف انگریزی زبان کو ہی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
ان کی زبان سادہ اور بے حد جاندار ہے۔ وہ مکمل آزادی اور ایمانداری سے لکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ سادہ، سیدھی، حقیقی، پرلطف، معلوماتی، متاثرکن، دلچسپ، مختصر اور مزاح سے بھرپور نثر لکھنا ان کا خاصہ ہے۔ لفظ لفظ قاری کے دل و دماغ میں سرایت کر جاتا ہے اور وہ عش عش کر اٹھتا ہے۔
ہم اچھا کیسے لکھ سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ خشونت سنگھ کی تخلیقات ہی لکھنے والوں کے لیے بطور نمونہ کام آ سکتی ہیں۔ اچھا لکھنا ہے تو خشونت سنگھ جی جیسا لکھیے۔ ان کا کام لکھنے والوں کی رہنمائی بہت مؤثر انداز سے کر سکتا ہے۔
خشونت سنگھ نے اپنے ایک مضمون میں اچھا لکھنے کے بارے میں چند نصیحتیں کی ہیں جو یقیناً لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان ہدایات کا مختصر مفہوم کچھ یوں ہے۔
خشونت سنگھ کے نزدیک اچھا لکھنا ایسی خوبی ہے جو کسی سکول کالج یا کلاسز سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ یہ قدرت کی ودیعت ہے۔ اگر یہ پیدایشی خوبی آپ میں موجود ہے تو پھر آپ اپنی محنت سے اس میں نکھار لا سکتے ہیں۔
اچھا لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی رائے کا اظہار ایمانداری سے کریں۔ خیالات کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔ جو من میں ہے اس کو چھپائیں نہیں۔ اپنی بات لکھ ڈالیے۔ اور اپنی بات کہنے سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ لوگوں کی رائے یا تنقید کی پرواہ کیے بغیر بے لاگ اظہار کو پڑھنے والے پسند کرتے ہیں۔
آپ میں مسلسل کئی گھنٹے کام کرنے کا جذبہ، ہمت اور لگن ہونی چاہیے۔ اتنا حوصلہ ضروری ہے کہ خالی شیٹ کے سامنے خواہ گھنٹوں بیٹھ کر سوچنا پڑے تب تک نہ اٹھیں جب تک اس کو لکھ کر بھر نہ لیں۔ اس سے قطع نظر کہ آپ کا لکھا ہوا بالکل فضول ہے لگاتار بیٹھ کر سوچنے اور لکھنے کے عمل اور ڈسپلن سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔
لکھنے کی مشق کرنا بہت ضروری ہے۔ اتنی مشق کیجیے جتنی آپ کر سکتے ہیں۔ ڈائری رکھیے اور لکھتے رہیے۔ خطوط اور ای میلز لکھنا بھی اچھی مشق ثابت ہو سکتے ہیں۔
اچھا لکھنے کے لیے پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ پڑھیے، جتنا آپ پڑھ سکتے ہیں۔ جو ہاتھ لگے پڑھ ڈالیے۔ یوں آپ اچھی اور بری تخلیق کا فرق جان سکیں گے۔ کتابیں پڑھنے کا عمل بہت مفید ہے۔ اس کا کوئی متبادل نہیں۔ پڑھنے سے آپ کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
لکھنے والے کو ہرگز دکھاوا نہیں کرنا چاہیے۔ شیخی بگھارنے کے لیے یا اپنی دھاک بٹھانے کے لیے مشکل الفاظ کا استعمال نہ کریں ورنہ پڑھنے والوں کو آپ کی بات سمجھنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔
لکھنے سے قبل ہمیشہ اپنا ’ہوم ورک‘ ضرور کریں۔ مصنف کی ذمہ داری ہے کہ وہ تفریح پہنچانے اور سوچنے پہ قائل کرتے ہوئے پڑھنے والوں تک معلومات پہنچائے۔ مصنف کے لیے چیلنج ہے کہ وہ ایسی باتیں قارئین تک پہنچائے جو وہ پہلے نہیں جانتے۔
خشونت سنگھ کی تحریر میں یہ تینوں چیزیں ہمیں ملتی ہیں۔ ان کی کوئی بھی تحریر پڑھیں وہ ہمیں گدگداتی ہے، ہمارے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھیرتی ہے، ہمارے ذہن کو سوچنے پہ مجبور بھی کرتی ہے اور ہمیں نئی معلومات اور اچھوتے خیالات سے بھی روشناس کرواتی جاتی ہے۔
”میں نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ اس اصول پہ عمل کیا ہے: معلومات پہنچانا، خوش کرنا، سوچنے پہ ابھارنا۔“
خشونت سنگھ کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنف کو اظہار رائے میں ایماندار اور نڈر ہونا چاہیے۔ اپنی تحریر میں بے باک خیالات کے اظہار کی قیمت چکانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ خشونت سنگھ کو اپنی کھری باتوں کی وجہ سے کچھ لوگوں کی طرف سے سخت تنقید بھی برداشت کرنا پڑی۔
’میرا ایسا لکھنے کی وجہ سے مجھے ’ڈرٹی اولڈ مین‘ کہا جانے لگا۔ لیکن مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں‘۔
اگر آپ لکھتے ہیں تو پھر تنقید سننے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
درج بالا تمام خوبیاں ہمیں خشونت سنگھ کی تحریروں میں ملتی ہیں۔ اسی لیے ان کا کام نہایت متاثر کن ہے۔ ان کی تحاریر کتنی دلکش ہیں اگر یہ جاننا ہے تو ان کو پڑھنا شروع کیجیے۔ شرط لگا لیجیے آپ چند سطریں پڑھنے کے بعد کتاب چھوڑنا نہیں چاہیں گے۔ بس پڑھتے ہی چلے جائییں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں