318

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا


عبداللہ
بی اے آنرس، شعبۂ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
mdabdullah604@gmail.com

29؍جنوری کو صبح 3 بج کر 42 منٹ پر میرے موبائل کی گھنٹی بجی، میری آنکھ کھل گئی اس سوال کے ساتھ کہ اس وقت کس کا فو ن ہے؟ آخر کیا بات ہے؟ دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہ تو مولانا فاروق صاحب ہیں، جو حضرت مولانا قاسم صاحب (نوراللہ مرقدہ) کے خادم خاص ہیں، بہرحال میں نے فون رسیو کیا، ادھر سے بالکل کراہتے ہوے درد بھرے لہجے میں آواز آئی کہ’’ اب حضرت ہمارے بیچ نہیں رہے‘‘ میرے تو ہوش ہی اڑ گئے، میں حواس باختہ ہو گیا، مجھ پر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی، کچھ لمحوں کے لیے مجھے ایسا لگا کہ میں شاید کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہوں، بہرحال اب تو میری نیند بھی اڑ چکی تھی، پورے ہوش وحواس میں تھا ،مگر یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ حضرت مولانا اب ہمارے بیچ نہیں رہے؛ لیکن جو میرے کانوں نے سناتھا، وہی حقیقت تھی، دھیرے دھیرے وہ تمام مناظر میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے، جن کا اس عاجز نے براہِ راست مشاہدہ کیا تھا۔
بات ان دنوں کی ہے، جب میں جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ میں زیرِ تعلیم تھا، میری عربی تعلیم کی ابتدا وہیں سے ہوئی تھی، ان کی شفقت و محبت، طلبہ کے تئیں انکا مشفقانہ لہجہ، ایک باپ کی طرح تمام بچوں کا حال چال جاننا اور پھر تمام پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا، حضرت کے اندر یہ تمام صفات ایسی160 تھیں ،جن کی وجہ سے سامنے والا فوراً ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا، سوتے جاگتے ہمیشہ امت کی فکر میں سرگرداں رہنا، خاص طور سے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کو درست کرنے کے لیے در در کے چکر لگانا، یہ ان کی زندگی کا ایک خاص مشن تھا، ان کے سینے میں امت مسلمہ کے لیے ایسا درد تھا، جس سے لگتا تھا کہ ان کی زندگی کا مقصد ہی خدمت خلق کے ہے، آپ کی سب سے بڑی خصوصیت160 اعلی ظرفی تھی، امن کی بات کرتے تھے، اتحاد و اتفاق کی لڑی میں سب کو پرو دینا چاہتے تھے، حق کے علمبردار تھے، تقریباً 26؍ سال کے لمبے عرصے تک گاندھی میدان میں نماز عیدین کی امامت کرانے کے دوران کوئی بھی ایسی بات نہیں کہی، جس سے دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو تھوڑی سی بھی تکلیف پہنچی ہو، شاید اسی وجہ سے آپ ہر مسلک کے لوگوں کی نظر میں ایک پسندیدہ شخصیت کے مالک تھے، 30 ؍سال سے بھی زائد عرصے تک آپ نوری مسجد، پٹنہ میں قرآن و تفسیر کا درس دیتے رہے ،جس سے ہزاروں لوگ مستفیض ہوئے، اس دوران آپ نے ہمیشہ جوڑنے کی بات کی، مسلکی تنازعات سے اوپر اٹھ کر امت کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی دعوت دی، امت مسلمہ کو’’جسدِ واحد‘‘ بنانے کی کوشش کی، آپ یقیناً نمونۂ اسلاف تھے، دین کے سچے سپاہی تھے، آپ نے اپنی انتھک کوششوں کے بعد 80 ؍اور 90؍ کی دہائی میں پٹنہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک تعلیمی انقلاب برپا کر دیا، جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ اس کی شاندار مثال ہے، اس مدرسے کا شمار بہار کے بڑے اداروں میں ہوتا ہے، اللہ نے آپ کے ہاتھوں سبل پور کی سنگلاخ اور بنجر زمین کو گلشنِ علم میں تبدیل کر دیا،یہاں سے علم کا ایسا چشمہ نکلا ،جس سے نہ صرف صوبہ بہار؛ بلکہ پورا ملک آج سیراب ہو رہا ہے، دور دور سے علم کے متلاشی یہاں آتے ہیں اور اپنی علمی تشنگی کو بجھاتے ہوئے پوری طرح آسودہ ہو کر جاتے ہیں، یہاں کے فیض یافتہ اکنافِ عالم میں اور ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں، ملک و بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں اور قوی امید ہے کہ یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا جائے گا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ اپنی اس تعلیمی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے حضرت مولانا علیہ الرحمہ ہر عام و خاص سے مشورہ کرتے تھے، طبیعت کے اندر انتہائی عاجزی و انکساری تھی، طلبہ کو مخاطب کرنے کا ایک خاص انداز تھا، مثلاً’’ زید میاں! کیا حال ہے؟ ‘‘ وغیرہ ،آواز میں اعلیٰ قسم کی نرمی تھی، جس سے سامنے والا فوراً بے تکلف ہوجاتا تھا، اساتذہ کی غیر موجودگی میں بچوں سے بے تکلفی سے باتیں کرتے اور سب سے گھل مل جاتے، طلباکی سہولت کا بہت خیال فرماتے تھے۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کا تعلق ضلع بھاگلپورکی ایک مردم خیز بستی ’’کو روڈیہہ‘‘ سے تھا، والد صاحب کا نام ثابت حسین اور دادا کا نام جناب محفوظ حسین تھا، جو حافظ قرآن بھی تھے، 20؍نو مبر 1953ء کو آپ پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم160 مدرسہ اسلامیہ اعزازیہ پتھنہ بھاگلپور اور مدرسہ اسلامیہ گیا میں حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے 1966میں ازہرہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے،وہاں چارسال تک علوم نبویہ سے فیضیاب ہوتے رہے،آپ نے صحیح بخاری فخرالمحدثین حضرت مولانافخرالدین صاحب ؒ 160 سے،صحیح مسلم مو لانا شریف صاحب ؒ سے،سنن ترمذی مولانا فخرالحسن صاحب ؒ سے،سنن ابو داؤد مولانا عبدالاحد صاحب ؒ سے،سنن نسائی مولانا حسین بہا ر ی صاحب ؒ سے،مؤطا اما م ما لک مو لانا نصیر احمدصاحب ؒ سے،مؤطا اما م محمد مو لانا نعیم الدین صاحب ؒ سے،سنن ابن ماجہ شریف مو لا نا انظر شاہ کشمیری ؒ سے اور طحاوی مو لانا اسلام الدین صاحب ؒ سے پڑھی، فراغت کے بعد اپنے استاذ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کے حکم کو بجا لاتے ہوئے آپ نے جنوری 1971ء میں مد رسہ حسینیہ بیگا والا بجنورسے درس وتدریس کا کام باضابطہ طریقے سے شروع کردیا، تین سال تک پورے انہماک کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد مدرسہ اشرف المدارس کلٹی ضلع بردوان تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے پوری مستعدی کے ساتھ چھ سال تک تیسرالمبتدی سے مختصر المعانی اور نورالانوار جیسی متعددکتابوں کا درس دیا۔ پھر 20؍نومبر 1979 میں ’’مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ‘‘ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے آپ بحال ہوئے اور یہ سلسلہ نومبر 2012 ء تک چلا، بعدازاں آپ وظیفہ یاب ہوگئے، اس بیچ آپ گاندھی میدان پٹنہ میں امام و خطیب کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کے اندر جہد مسلسل کا ایسا جذبہ تھا ،جو بہت لوگوں میں ہوتا ہے، اسی جذبے اور بلند ہمتی نے آپ کو امت کے لیے کچھ کر گزرنے کی طرف مائل کر دیا، یوں تو مولانا فراغت کے بعد سے ہی خدمت خلق اور علومِ اسلامیہ کی نشر و اشاعت میں مصروف تھے؛ لیکن باضابطہ طور پر یہ سلسلہ یکم جنوری 1980ء سے شروع ہوتا ہے، جب آپ نے مرکزی نوری مسجد پٹنہ میں جمعہ سے قبل خطبہ اور عصر کی نماز کے بعد تفسیر قرآن کی شروعات کی،بعد میں پٹنہ کی اکثر مسجدوں میں تفسیرِ قرآن کا ایک رواج پیدا ہو گیا۔ عوام الناس میں آپ کے لیے بے پناہ محبت اور قبولیت خاصہ کو دیکھتے ہوئے آپ کے پیرو مرشد فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نوراللہ مرقدہ (جن سے آپ بیعت بھی تھے) نے 12 ؍نومبر 1986ء کو شری کرشن میموریل ہال پٹنہ میں دینی تعلیمی بورڈ کے احیاے نو کے موقعے پر دینی تعلیمی بورڈ بہار و جھاڑکھنڈ کا صدر منتخب کیا، آپ نے اپنی ایک ٹیم بنائی، جس نے پورے بہار و جھار کھنڈ کا دورہ کیا اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کام انجام دیے،جگہ جگہ مکاتب کا سلسلہ شروع ہوا۔
پٹنہ میں ایک عظیم دینی مدرسے کی ضرورت حضرت مولانا کو بار بار پریشان کر رہی تھی، انہوں نے اس کے لیے160 انتھک کوششیں بھی کیں، ہمتِ مرداں مدد خدا، اللہ نے کسی وسیلے سے حضرت مولانا کی ملاقات جناب سمیع احمد ابن جمیل احمد مرحوم ایم ایل اے پٹنہ سیٹی سے کرا دی اور 50 کٹھہ کا پلاٹ تھانہ دیدار گنج کے متصل سبل پور گاؤں پٹنہ میں مل گیا، 1919ء میں مالک زمین نے یہ اراضی دینی مقاصد و کار خیر کے لیے وقف کر دی تھی، جناب سمیع احمد صاحب اس زمین کے وارث و نگراں تھے،انہوں نے یہ ملکیت حضرت مولانا کے حوالے کردی، اس طرح 1989ء میں جامعہ مدنیہ کا قیام عمل میں آیا اور باضابطہ طور پر 1990ء سے بھاگلپور فساد زدہ مظلومین کے چار بچوں کے ساتھ تعلیم و تربیت کا آغاز ہو گیا، حضرت مولانا کی بے پناہ محنت و قربانیوں کے نتیجے میں مدرسہ آج ایک جامعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں سات سو سے بھی زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔
مولانا موصوف علیہ الرحمہ کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ قوم کو مزید بیدار کرنے کی ضرورت ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے 2003 میں سہ ماہی ندائے قاسم کا اجرا کیا ،جو اب ماہنامہ کی شکل میں قوم و ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک اہم رول ادا کر رہا ہے۔مذکورہ تمام مشاغل کے باوجود بھی موصوف علیہ الرحمہ جمیعت علماے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن، جمیعت علماے بہار کے صدر، دارالعلوم دیوبند کی تعلیمی تنظیم ” رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ” کی ریاستی شاخ کے صدر اور اس کے علاوہ بے شمار دینی و علمی مراکز اور مدارس و مکاتب کے سرپرست و صدررہے، انہوں نے اپنی پوری زندگی کو ملک و ملت کے لیے وقف کر دیا تھا۔
قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے نہج کو عام کرنے کے لیے اور حفظ قرآن کے رواج کو پیدا کرنے کے لیے حضرت مولانا نے دو مرتبہ صوبائی سطح پر بہار میں مسابقۃ القرآن کا اہتمام کیا، جس میں سیکڑوں مدارس کے بچوں نے حصہ لیا تھا، اس کی وجہ سے نہ صرف قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کا رواج عام ہوا؛ بلکہ ریاست بھر میں ایک انقلاب برپا ہو گیا، چاروں طرف تجوید کی فضا قائم ہو گئی۔
لیکن آہ!!’’ کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ کے تحت اس مرد مجاہد کا وقتِ موعود آگیا، آناً فاناً میں برین ہیمریج کا بہانا لگا اور پارس اسپتال پٹنہ میں اس مسافر نے آخری سانس لی، عینی شاہدین کے مطابق 27 ؍جنوری 2019ء کو نوری مسجد میں فرض نماز کی ادائیگی کے بعد سنت کی نیت باندھ ہی رہے تھے کہ اچانک گر گئے، جلدی سے پی ایم سی ایچ لے جایا گیا، بعد میں مگدھ اسپتال بھی لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے پارس اسپتال ریفر کردیا ،جہاں 28؍ تاریخ کی صبح آپریشن کردیا گیا ،اس کے باوجود بھی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی اور مسلسل طبیعت بگڑتی چلی گئی، بالآخر 29؍ جنوری 2019ء کی صبح 3 بج کر 10 منٹ پر آپ کی روح اس دار فانی سے دار بقا کی طرف پرواز کر گئی۔اناللہ وانا الیہ راجعون!
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں