149

انڈرورلڈ،داؤد،دلیپ کمار اور امیتابھ بچن ممبئی میں پہلا انکاؤنٹر کرنے والے ریٹائرڈپولس افسر اسحاق باغبان کی یادیں


شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
یہ ایک ریٹائرڈ پولس افسر کی انوکھی کتاب ہے!
اور کتاب کا نام ہے ’می اگینسٹ دی ممبئی انڈرورلڈ‘
Me Against the Mumbai Under World
یعنی ’میں‘ ممبئی انڈرورلڈ کے مقابل‘۔
انوکھی اس لیے کہ یہ کتاب گڑھی ہوئی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ انڈرورلڈ کا حقیقی چہرہ دکھاتی ہے۔وہ حقیقی چہرہ جس میں ’گلیمر‘ سے کہیں زیادہ ’ تاریکی ‘ہے۔ بمبئی انڈر ورلڈ پر یوں تو انگریزی اور ہندی میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔۔۔۔اردو کا دامن ایسی کسی کتاب سے تقریباً خالی ہے یہ اور بات ہے کہ انگریزی اور ہندی والوں نے انڈر ورلڈ پر زیادہ تر مواد اردو اخبارات ہی سے حاصل کیا ہے۔ چند کتابیں مقبول بھی ہوئی ہیں اور چند پر فلمیں بھی بنی ہیں ، لیکن زیادہ تر کتابوں اور فلموں میں بھی یا تو انڈر ورلڈ کی تاریکی پر چمک دمک کا ملمع کردیا گیا ہے ،یا کرداروں میں وہ’خوبیاں‘ اور ’خامیاں‘ ڈال دی گئی ہیں جو حقیقتاً ان میں نہیں تھیں ،یا ان سے جھوٹے اور فریبی قصے منسوب کردیے گئے ہیں۔ اور اگر کہیں مصنف یا فلمساز کی وطن پرستی میں ابال آیا تو مختلف مذاہب کے کرداروں کو ایک دوسرے کےمقابل اس طرح سے کھڑ ا کردیا ہے جیسے بی جے پی کے سامنے مجلس اتحادالمسلمین یا مسلم لیگ کھڑی کردی گئی ہو! اسحاق باغبان ممبئی پولس کے ان اعلیٰ افسران میں سے ایک تھے جنہو ں نے شہر ممبئی میں انڈرورلڈ کی کمر توڑنے میں بھی اور شہر کو جرائم سے پاک کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اے سی پی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے سے قبل موصوف اپنی بہادری کے لیے تین بار صدرجمہوریہ کے ہاتھوں پولس میڈل حاصل کرچکے تھے۔ ایک میڈل 26/11حملے کے دوران پاکستانی دہشت گردوں کو نریمان ہائوس تک محدود کرنے اور علاقے سے تین سو سے چار سو کے درمیان افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کےلیے تھا۔ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے شہر سے ممبئی تک کے سفر او رپولس کی ملازمت اور اس دوران طرح طرح کے اتار چڑھاؤ اور نمایاں کارناموں کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کے ذکر کے ساتھ اپنی یادوں کو اسحاق باغبان نے اس کتاب میں خوبی سے پیش کردیا ہے۔ یہ کتاب ممبئی انڈرولڈ کی تاریخ بھی ہے کیو ں کہ ۹۰۔۱۹۸۰ کے دوران ممبئی انڈرورلڈ میں جہاں ایک جانب داؤد ابراہیم یا ڈی کمپنی کا طوطی بولتا تھا وہیں ارون گاؤلی اور امرنائک کے گروہ بھی سرگرم تھے۔ انڈرورلڈ کے دو بڑے کردار حاجی مستان مرزا اورکریم لالہ کا دبدبہ بھی قائم تھا اور عزیز دلیپ اور ان کے بیٹوں حمید اور مجید کے نام بھی لوگوں میں تھرتھری پیدا کرتے تھے۔ اورپٹھان گینگ میں صمد خان کی بربریت کے واقعات سے لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے ہوجاتے تھے۔ اور منیا سروے اور منیر شیخ الگ ممبئی والوں کے لیے سردرد بنے ہوئے تھے۔
اسحاق باغبان نے مہاراشٹر کے شہر بارہ متی سے، جو گھاگ سیاست داں شرد پوار کی کرم بھومی ہے، اپنی زندگی کی شروعات کی۔ ۱۹۷۴ میں ممبئی پولس میں بھرتی ہوئے اور ۲۰۰۹ میں پولس ملازمت میں ۳۵ سال گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ اسحاق باغبان نے اپنی کتاب میں جہاں انڈرورلڈ سے تعلق رکھنے والے کرداروں کا تفصیلی ذکر کیا ہے وہیں سیاست دانوں، بشمول شرد پوار اوربال ٹھاکرے ، اور فلمی اداکاروں بشمول دلیپ کمار اورامیتابھ بچن کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسحاق باغبان کی پہلی تعیناتی قلابہ پولس اسٹیشن میں ہوئی تھی اور اسی پولس اسٹیشن میں کام کرتے ہوئے انڈرورلڈ کے کئی بڑے چہرے ان کے سامنے آئے تھے۔ جن لوگوں نے انیل کپور اور مادھوری دکشت کی ہٹ فلم ’تیزاب‘ دیکھی ہوگی انہیں فلم کا ایک کردار لوٹیا پٹھان ضرور یاد ہوگا جو ایک ڈانسر کو اٹھا لےجاتا ہے۔ لوٹیا پٹھان کا کردار کرن کمار نے ادا کیا تھا اور ڈانسر مادھوری دکشت تھیں۔ یہ دونوں ہی کردار حقیقی زندگی سے لیے گئے تھے۔ کریم لالہ کے بھتیجے صمد حان نے قلابہ پولس اسٹیشن حلقے میں آنے والے ایک مشہور بار’سونیا محل‘ سے ایک ڈانسر کو اغوا کیا تھا۔ باغبان اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : ’’ایک شب جب سب انسپکٹر راجہ تامبٹ، سب انسپکٹر اشوک دیسائی اور میں ڈیوٹی پر تھے، سونیا محل کا مالک ایک بوڑھے شخص کے ساتھ پولس اسٹیشن پہنچا ۔ ’’سر! یہ شریف آدمی ریٹائرڈ ریلوے افسر ہے، اس کی بیٹی سونیا محل کی ڈانسروں میں سے ایک ہے، آج کچھ لوگ آئے اور اسے اُٹھا لے گئے‘‘۔ ’’وہ کون لوگ تھے؟‘‘ ’’سر! وہ صمد خان اور انجم پہلوان تھے‘‘۔ ہم انہیں خوب جانتے تھے، صمد خان، کریم لالہ کا بھتیجا تھا اور عورت بازی کے لیے بے حد بدنام ۔ ہم نے معاملہ درج کرکے پولس انسپکٹر (کرائم) این جے مانک شاہ کو اطلا ع دی، انہوں نے فوراً کارروائی کا حکم دیا۔ اسی شب سب انسپکٹر تامبٹ اور سب انسپکٹر دیسائی نے خان کو اس کی رکھیل کے گھر سے دھر دبوچا۔ پولس انسپکٹر مانک شاہ اور میں نے مرین ڈرائیو کے جیوتی سدن سے پہلوان کو پکڑلیا‘‘۔ اسحاق باغبان کے مطابق صمد خان نے ’سونیا محل‘ میں سب کے سامنے ڈانسر کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر ڈال لیا تھا۔ وہاں بیٹھے لوگوں کے ہوش اڑ گئے تھے۔ صمد خان کی موت ڈی کمپنی کے گرگوں کی فائرنگ میں ہوئی تھی۔ اسحاق باغبان نے داؤد ابراہیم اورپٹھان گینگ کے اختلافات اوران کے درمیان خون خرابے کو انتہائی دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ عدالت کے اندر پیش آئے ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : ’’عدالت پٹھان گروہ کے ممبران سے جن کی رہنمائی امیر زادہ کے والد نواب خان کررہے تھے کھچا کھچ بھری تھی ، ان کا پارٹنر مادھو بھائی مٹکے والا آگے بڑھا اور کہنے لگا ’بھائی آج مخالف پارٹی بھی عدالت میں موجود ہے، اسی لیے ہم پوری طاقت کے ساتھ یہاں موجود ہیں‘۔ دوسرے منزلے پر داؤد کی سنگا پور اسمگلنگ معاملے کی شنوائی تھی۔ گینگ کے زیادہ تر ممبران عدالت میں موجود تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ امیر زادہ کے مقدمے کی پہلے منزلے پر شنوائی ہے تو نیچے اترآئے۔ جب ہم امیر زادہ کو کمرہ عدالت میں لے جارہے تھے، تب داؤد راستے میں آگیا، اور بے طرح گالیاں دینے لگا۔ امیر زادہ نے کہا ’میں پٹھان زادہ ہوں، سر برائے کرم میری ہتھکڑیاں کھول دیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ بھاگوں گا نہیں، میں بس اسے (داؤد کو) اس ہتھکڑی سے سبق سکھاناچاہتا ہوں‘۔ میں نے کہا ’ان کے پاس ہتھیار ہیں‘۔ ’سر میں ڈرتا نہیں، کسی کی جان صرف بندوق کی گولیوں سے نہیں جاتی‘۔ فضا کشیدہ ہوگئی، ہر طرف تناؤ تھا اور دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ مٹکے والا ، دائود اور اس کی گینگ کے سامنے اکڑ دکھا رہا تھا، داؤد نے اسے تھپڑ جڑ دیا اور دونوں ہی گینگ ایک دوسرے سے بھڑ گئیں‘‘۔
کتاب میں ممبئی انڈر ورلڈ کے دو انتہائی اہم واقعے بتائے گئے ہیں۔ ایک واقعہ کمرہ عدالت میں بڑا راجن کے قتل کا ہے۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ کو ممبئی کی ’اسپلینڈر کورٹ‘ میں چندرا شیکھر سفالیگا نامی قاتل نیوی افسر کے لباس میں موجود تھا، اس نے قریب سے بڑا راجن پر گولیاں برسائیں، اس نے وہیں دم توڑ دیا۔ یہ قتل پٹھان گینگ کے امیر زادہ کے قتل کا بدلہ تھا۔ امیر زادہ کو بھی کمرہ عدالت ہی میں ڈیوڈ پردیسی نامی قاتل کے ہاتھوں قتل کرایاگیا تھا۔ اسحاق باغبان تحریر کرتے ہیں: ’’اس معاملے میں بڑا راجن کا نام پہلی بار سامنے آیا تھا۔ پردیسی نے تفتیش کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ داؤد نے صابر کے قتل کا بدلہ لینے کےلیے بڑا راجن سے ہاتھ ملا لیا تھا اور اس سے امیر زادہ کے قتل کی منصوبہ بندی کےلیے کہا تھا۔ بڑا راجن نے اس کام کے لیے پردیسی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ دائود اس منصوبے کا دماغ تھا‘‘۔
کتاب میں ممبئی کی تاریخ کے پہلے پولس مڈبھیڑ کی دلچسپ تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔اور ممبئی میں کسی گینگسٹر کو مڈبھیڑ میں مارنے کا پہلا کارنامہ کسی اورکا نہیں اسحاق باغبان ہی کا تھا۔ منیا سروے اپنے دورمیں ممبئی میں ایک ’دہشت ‘ کا نام تھا۔ یہ لوگوں سے ’ہفتہ وصولی‘ کرتا تھا اور ’ہفتہ‘ نہ دینے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں اسے کوئی ہچک نہیں ہوتی تھی۔ منیا سروے اپنی گینگ کے ہوٹلوں ، شراب کے اڈوں ، باروں او رمٹکوں کے اڈوں پر لوٹ ماربھی کیا کرتا تھا۔ وڈالا کے علاقے میں امبیڈکر کالج کے قریب منیا سروے کی موجود گی کی اطلاع پانے کے بعد جو پولس ٹیم وہاں پہنچی تھی اس میں اسحاق باغبان شامل تھے۔ پولس نے علاقے میں گھیرا ڈال دیا۔ جب منیا سروے پولس کو نظر آیا تب اسحاق باغبان نے اسے للکارا۔ وہ تحریر کرتے ہیں: ’’حیران ، منیا پلٹا، اس کا توازن بگڑگیا تھا۔ موقع کا فائدہ اُٹھانے کےلیے اس نے اپنے موزے میں ہاتھ ڈالا جہاں اس کی مائوزر (پستول)تھی او رمجھ پر فائر کردیا۔ بس گولیاں مجھے تقریباً چھوتے ہوئے گزر گئیں۔ اسی وقت بس اسٹاپ پر ایک بیسٹ بس رکی تھی، اس کاکنڈکٹر یہ دیکھنے کےلیے کہ کیا ہورہا ہے نیچے اترا تھا، وہ منیا کی اندھا دھند گولی باری سے زخمی ہوگیا۔ دریں اثنامیں نے درست نشانے کےلیے پوزیشن لی او رچھ فٹ کے فاصلے سے منیا پر گولی چلادی۔ گولی ہدف پر لگی ۔ میں چیخا ’راجہ فائر کرو‘ اور سب انسپکٹر تامبٹ نے بھی منیا پر گولی چلادی‘‘۔ کتاب میں آگے منیا سروے کے جگری دوست اور خوفناک گینگسٹر منیر شیخ کے مڈبھیڑ کی بھی سنسنی خیز تفصیلات شامل ہیں۔
کتاب میں کئی دلچسپ واقعات ہیں مثلاً فلمی ویلن شکتی کپور کے گھر میں چوری کی کوشش، امیتابھ بچن کو دھمکی ’شکتی‘ فلم کے پروڈیوسروں مشیر اور ریاض میں سے مشیر کا اغوا اور ہفتہ وصولی ، کرکٹ کے جعلی ٹکٹوں کا ریکٹ، منشیات فروش آغاخان سے ٹکراؤ، غرضیکہ یہ کتاب دلچسپ واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ کتاب میں سیاست دانوں کے بھی دلچسپ واقعات شامل ہیں بالخصوص این سی پی قائد شرد پوار اور شیوسینا پرمکھ بال ٹھاکرے کے۔ شیوسینکوں کے خلاف باغبان کی کارروائی کے بعد جب اس وقت کی شیوسینا کی ریاستی سرکار نے انہیں معطل کردیا تھا تب وہ بال ٹھاکرے سے ملے تھے اور ان سے ساری حقیقت بیان کی تھی۔ باغبان لکھتے ہیں: ’’اپنے مخصوص انداز میں ، انہوں (بال ٹھاکرے) نے اپنے سکریٹری سے کہا ’راجے چیف منسٹر کو فون لگائو‘۔ شری بالا صاحب نے چیف منسٹر سے تفصیلی بات کی۔ ان کی وضاحت سے غیر مطمئن ، انہوں (بال ٹھاکرے) نے کہا ’حکوت جائے بھاڑ میں، ان لڑکوں (پولس افسران) کی کیا غلطی ہے؟ انہیں کیوں معطل کیاجائے؟ جو ہوا سو ہوا، اب فوراً ہی یہ سب ختم ہوناچاہئے‘۔ اور ہماری معطلی کے احکامات واپس لےلیے گئے‘‘۔
باغبان نے 26/11یعنی ممبئی حملوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس حملے میں عام لوگوں کی جانیں بچانے اور دہشت گردوں کو نریمان ہائوس تک محدود رکھنے کےلیے اسحاق باغبان کو صدرجمہوریہ کے ہاتھو ںپولس میڈل ملا تھا۔ وہ تحریر کرتے ہیں : ’’۲۶ جنوری ۲۰۱۰ کو مجھے نریمان ہا ئوس آپریشن کےلیے گورنر شنکر نارائن کے ہاتھوں بہادری کا ایک ایوارڈ دیاگیا ۔ حالانکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا تھا حکومت نے مجھے ایوارڈتقریبات کے موقع پر یونیفارم پہننے کی خصوصی اجازت دی۔ یہ تیسرا موقع تھا جب مجھے بہادری کا ایوارڈ ملا تھا۔ میں اپنے ملک او راپنے پیارے شہر ممبئی کی انتہائی دشوار حالات میں، دہشت گردوں سے بھڑ کر خدمات کرسکا، اس کےلیے شکرگزار ہوں، بھلے یہ موقع میرے کیرئیر کے آخری دنوں میں آیا۔ تمام ممبئکروں کی طرح میں اس باب کو کبھی فراموش نہیں کرسکوں گا‘‘۔ یہ کتاب جہاں مدھوکر زینڈے جیسے کئی بے مثال پولس افسروں کی خدمات کو سراہتی ہے وہیں کئی پولس افسران کے چہروں سے نقاب ہلکے سے سرکاتی بھی ہے بھلے ہی پورا چہرہ نہ دکھاتی ہو، جو کرپٹ تھے اور جنہوں نے سروس میں دوسرے افسران سے جانبداری برتی تھی۔ ایک دلچسپ کتاب ہے اسے ضرور پڑھناچاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں