116

انور سجاد: بہترین فکشن نگار، ریڈیکل اور تجرباتی ادیب


احمد سہیل
انور سجاد سے 1970 میرا تعارف یوسف کامران نے کروایا تھا۔اس موقع پر لاہور کے ٹی ہاوس میں انتظار حسین ،غالب احمد ، آزر تمنا بھی موجود تھے۔ شاید اب لاہور کے اردو کے وہ واحد ادیب رہ گئے تھےجنھوں نے سعادت حسن منٹو کو دیکھا ہی نہیں ان کے افسانے بھی حلقہ ارباب ذوق میں انور سجاد نے سنے اور ان کے افسانوں پر کی جانے والے مباحثوں میں حصہ بھی لیا۔ انور سجاد کو ان کے دوست “پورا لاہوری” کہا کرتے تھےـ
ڈاکٹر انور سجاد 27مئی 1935 میں‌ لاہور کے علاقے چونا منڈی میں پیدا ہوئے، ان کے والد ڈاکٹر سید دلاور علی شاہ اپنے شعبے کی معروف شخصیت تھے.
سن 1948 میں انھوں نے میٹرک کیا، گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج میں زیر تعلیم رہے۔ کنگ ایڈورڈ کالج، لاہور سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ 1964میں لیورپول یونیورسٹی، انگلینڈ سے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کی ڈگری لی ـ لاہور کے علاقے چونا منڈی میں میڈیکل کے پیشے سے منسلک ہوئے، چونا منڈی میں ان کا کلینک تھا۔لاہور کے دلی دروازے سے گزرکر وزیر خان کی مسجد سے آگے بڑھیں تو چوک پرانی کوتوالی آتا ہے۔ وہاں سے ایک راستہ چونا منڈی چوک کو لے جاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر دلاور کا مشہورِ زمانہ کلینک تھا۔ وہ بچوں کے امراض کے ماہر گردانے جاتے تھے۔ 1952 میں ان کی پہلی کہانی چھپی تھی،ان کا پہلا افسانہ ” چوراہا ” 1965میں شائع ہوا تھا۔ انورسجاد نے 1965 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور اداکار اور لکھاری کیا۔ انور سجاد کی شخصیت ایسی منفرد ہے کہ انہیں کئی شعبوں کا مجموعہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ نظریاتی وابستگی انہیں سیاست تک لے آئی تھی۔ اسٹیج، ٹیلی ویژن کی قوتِ اظہار سے واقف تھے؛ چنانچہ ڈراما نویس بھی رہے اور کامیاب اداکار بھی۔ اس کے علاوہ وہ رقاض اور ٹینس کے بہترین کھلاڑی بھی تھےاور تو اور وہ ایک برش سے کینوس پر رنگ جمانے کا فن بھی جانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے۔ جدید افسانے کا ایک معتبر نام بھی ہیں۔ وہ اپنی شخصیت اور روحِ عصر کے اظہار کے لیے تمام شعبوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔اوائل میں شاعری بھی کی، مگر کلی طور پر فکشن کی سمت آگئےـ پہلا افسانہ ’’ہوا کے دوش پر‘‘ نقوش میں شایع ہواـ سیاست میں ابتدا سے ان کی دل چسپی تھی ـ طلبا سیاست کے زمانے میں جھکاؤ لیفٹ کی جانب تھاـ یساریت پسندی کو مرکزی دھارے میں‌ لانے کے ارادے سے عملی سیاست میں آئےـ 1965 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے بھی لکھے اور ان میں بطور ادا کار حصہ بھی لیا ـ اداکاروں اور فنکاروں کے حقوق و مفادات کے لیے 1970 میں آرٹسٹ ایکٹویٹی کی بنیاد رکھی ـ 1970 میں حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری منتخب ہوئے ۔برلن میں 1973 میں ڈرامے اور موسیقی کا جو میلہ منعقد ہوا تھا،اس میں پاکستان وفد میں رکن کی حیثیت سے شرکت کی، سیاست میں بھی حصہ لیا ۔ 70 کی دہائی میں پابند سلاسل بھی رہے ۔ ڈاکٹر انور سجاد نے جیل میں نالائق قیدیوں کی طرح آمریت کے سامنے سرنڈر نہیں کردیا۔کسی کا انقلابی ہونا جیل جاکر ہی معلوم ہوتا ہے۔ بڑا لیڈر کرپشن کے مقدمات میں جائے تو جیل میں جیسا جاتا ہے، ویسا ہی باہر آجاتا ہے۔ انقلابی جیل سے خالی ہاتھ واپس نہیں آتا۔ انقلابی جیل سے چھوٹےاوراس کے ہاتھ میں فکر سے لبریز کتاب نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ دسمبر 1977ء کے ٹھٹھرتے موسم میں گرفتار اور پھر کوٹ لکھپت میں قید کیا جانے والا ڈاکٹر انور سجاد ، جب جیل سے آزاد ہوا تو اس کے ہاتھ میں انقلابی چی گویرا کی ’’نیلی نوٹ بُک‘‘ کا اردو ترجمہ تھا۔ سوویت انقلاب کی ایک عظیم کتاب جسے عمانوئیل کزاکیویچ نے تحریر کیا۔ یہ روسی ادب کا ایک عظیم شہ پارہ تو تھا ہی، ڈاکٹر انور سجاد کے ترجمے نے اسے اردو ادب کی ایک بے مثال کتاب بنا ڈالا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس سے لے کر اب تک ان کے افسانوں کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ انور سجاد کا پہلا ناولٹ رگ سنگ 1955ء میں شائع ہوا۔ دیگر کتابوں میں استعارے 1970ء، آج، پہلی کہانیاں ، چوراہا، خوشیوں کا باغ اور دیگر شامل ہیں۔
پرفارمنگ آرٹ ابتدا ہی سے دل چسپی کا محور تھاـ ڈراما نگاری کا سفر پی ٹی وی سے شروع ہوا. “رات کا پچھلا پہر”، “پک نک”، “کوئل”، صبا اور سمندر”، ــیہ زمین میری ہے‘‘، ’’روشنی روشنی‘‘ اور ’’جنم دن‘‘ سمیت کئی کام یاب کھیل لکھےـ کئی ڈراموں اداکاری بھی کی ـ
واجد علی شاہ کا کردار نبھانے کے لیے مہاراج غلام حسین کتھک سے رقص سیکھاـ جب 1970کی دہائی کے آغاز میں ڈاکٹر انور سجاد نے چینی ثقافتی انقلاب سے متاثر ہوکر نوجوان فن کاروں کو ’’ایکٹرز ایکیوٹی‘‘ میں ایک جتھے کی صورت جمع کیا تھا۔ اس جتھے کی ’’انقلابی قوت‘‘ کی مدد سے انہوں نے نعیم طاہر سے لاہور آرٹس کونسل کی چیئرمینی ’’چھین‘‘ لی تھی۔ وہ ’’عوامی ناٹک‘‘ کے ذریعے پاکستان میں ’’انقلابی ثقافت‘‘ پھیلانے کو بے چین تھے۔ان کے رویے میں انکار اور بغاوت ہمیشہ نمایاں ترین رہے۔ مروجہ فیشن سے ہٹ کر اپنا لباس تیار کرواتے۔ افسانہ لکھتے ہوئے روایتی پلاٹ کی پرواہ نہ کرتے۔ مصوری کرتے ہوئے بھی انہیں ’’تجرید ‘‘کی طلب رہتی اور عمر کے اس حصے میں جہاں بدن میں لچک نہیں رہتی مہاراج غلام حسین کتھک کے شاگرد ہوکر پاؤں میں گھنگرو باندھ کر طبلے کی تھاپ کے ساتھ کلاسکی رقص سیکھنے کی لگن میں بھی مبتلا ہوگئے۔”{ نصرت جاوید،”ڈاکٹر انور سجاد اور بیت المال” { برملا} نوائے وقت۔لاہور 25 فروری 2019}
دوستوں کے حلقے اور رنگوں میں دل چسپی مصوری کی جانب لائی ـ ان کے فن پارے تاثراتی اور تجریدی رنگوں‌ سے مزین ہوتے ـ
مگر یہ عظیم شخصیت لوگوں کی ’’مصروف نہ ہونے کے باوجود مصروف ترین زندگی‘‘ کی بھاگ دوڑ میں کہیں کھوئے بغیر اس بے حس ہجوم میں تنہا رہ گئی۔ وہ بیمار کیا ہوئے لوگ انہیں بھلاتے ہوئے تنہا ہی کرگئے۔
جب انور سجاد شدید بیمار تھے حکومت سندھ سے مالی اور طبی امداد کی درخواست کی گئی تو حکومت سندھ نے یہ جواب دیاکہ ڈاکٹر انور سجاد کی مدد نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا ہم سے تعلق نہیں، سندھ حکومت نے مراسلہ واپس ایوان صدرکو ارسال کردیا۔
حکومتی بے حسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے ملک کی اتنی خدمت کی اور اب حکومت سے درخواست کی ہے کہ میراخیال کرے۔
ڈاکٹرانورسجاد نے کہا کہ وہ حکومتی رویے سے تنگ آچکے ہیں، ملک میں حق کوئی دیتا نہیں،چھیننا پڑتا ہے،میرے جیسے فرد کو فنا ہوجانا چاہیے۔
ڈاکٹر انورسجاد کی اہلیہ نے کہا کہ ادھار لیکر خاصی مشکل سے گزارا کررہے ہیں۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ نے بھی ڈاکٹر انور سجاد کی تنخواہ روک لی تھی۔کتنے افسوس کی بات کے کہ ڈاکٹر انور سجاد جنھوں نے لاکھوں لوگوں کا مفت علاج کیا ان کو ادوایات بھی فراہم نہیں تھیں۔ صد افسوس سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نےعلم و ادب اور فنون لطیفہ سے متعلق افراد کیلئے 50 کروڑ روپے سے انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا تھا،اس کےباوجود ڈاکٹر انور سجاد کے علاج کے لئے حکومتی سطح پر اقدام نہ ہونا ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔ اور ایسا بڑا ادیب اور فنکار دینا سے اسی لاچارگی میں چلا گیا۔ چھ/6 جون 2019 جمعرات کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔
اس کی مدد نہ حکومت نے کی اورنہ کسی ادبی اور ثقافتی ادارے نے۔یاد رہے ڈاکٹر انور سجاد نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کراچی میں اسکرپٹ سیکشن کے سربراہ تھے، انہوں نے لاتعداد ڈرامے، افسانےلکھے اور ڈراموں میں بھی کام کیا ۔
انور سجاد اپنے افسانوی آفاق کے متعلق کہتے ہیں ۔ “پہلے کہانیاں لکھنی شروع کیں۔ سنہ باون میں شائع ہوئی تھی پہلی کہانی ’نقوش‘ میں اکیاون یا باون میں مجھے اب صحیح سے یاد نہیں ہے،خاص نمبر تھا۔ کہانی کا نام تھا ’ہوا کے دوش پر‘۔ احمد ندیم قاسمی صاحب نے بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔ وہ نقوش سے نئے نئے الگ ہوئے تھے لیکن طفیل صاحب کو گائڈ ضرور کرتے رہتے تھے۔ اس وقت میں سولہ سترہ سال کا تھا جب پہلی کہانی چھپی۔ اس کے تین سال کے بعد میرا ناول آگیا ’رگِ سنگ‘۔ اس وقت ہوتا تھا گوشۂ ادب ملک مبارک علی، ملک عبدالسلام کا، اس زمانے میں بالکل مکتبۂ جدید کی سطح کا تھا۔ ۔۔ اکسٹھ یا باسٹھ میں ـ میری پہلی کہانی تھی مارشل لا کے بعد، ’سازشی‘۔ استعارے کی پہلی کہانی بھی سازشی ہی ہے۔ اس میں میری واحد حمایت شیر محمد اختر نے کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کہانی کیا ہے‘۔ باقی لوگوں نے بس پاگل پاگل کہنا شروع کر دیا۔ کچھ نے کہا کہ کہانی ہے نئی لیکن سوچنا پڑے گا کہ ہے کیا۔ میں بالکل مایوس نہیں ہوا۔ حلقے میں تو میں منٹو صاحب کے ساتھ بھی جاتا تھا نا۔ پہلی بار میں ان سے انیس سو پچاس میں ملا تھا اور ان سے ہمارے بہت تعلقات بن گئے تھے۔ انیس سو انچاس میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی تھی۔ میں اس وقت سولہ سال کا تھا۔ اس زمانے میں ایک تنظیم ہوتی تھی ’ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ جس کے جنرل سیکرٹری ہوتے تھے منصور ملک جو بعد میں پیپلز پارٹی پنجاب کے بھی جنرل سیکرٹری ہوئے۔ ان سے دوستی ہوئی تو مزدور یونینوں اور مرزا ابراہیم سے بھی رسم و راہ ہوگئی۔ سجاد ظہیر کو میں نے کافی دور سے دیکھا ہوا ہے۔ ” انہوں نے حقیقت کوواہمون {Fantasy} کے روپ میں بیان کرنے کے لیے نئی نئی تکنیکیں استعمال کی ہیں۔ استعارے اور علامتوں کی بھرمار سے انہوں نے Inside out کی طرف سفر کیا اور مشاہدے باطن کی دھندلی پر چھائیوں سے عصری حقیقت بیان کی ہے۔ سیاسی اور معاشی ناہمواری ان کے موضوع خاص ہیں “۔
ڈاکٹر انور سجاد نے تشکیل”جنوری 98 سے دسمبر جنوری کے شمارے میں ریحان صدیقی مرحوم اور احمد ہمیش مرحوم سے ایک گفتگو کرتے ہوئے اپنے افسانوی نظریات اور تنقیدی نظریات پر برملا اور کسی بھید بھاو کے بغیر اپنا موقف بیاں کیا۔ ان کے چند فقرے سن لیں۔
1۔ جو خود نکلے گا وہی تو دوسرے کا نکال پائے گا۔ امام حسین { رض} نقیب گذرے ہوئے زمانوں کی احیا کے۔۔۔ مہاجرت کے گر وہ ہجرت کی اصل روح کو پہنچ نہیں پاتے۔ دنیا کے دو سب سے بڑی ہجرتوں کے حوالے سے دیکھیں تو ان کی ہجرت ہے ہی نہیں ۔ ایک تو حضرت موسی {علہ} کی عظیم ہے۔ دوسری ہجرت رسول کریم {ص} والی عظیم {EXODUS} ترین ہجرت ہے جس کے پیچھے ایکی بہت بڑا فلسفہ تھا اور یہ بڑا ثقافتی تجربہ تھا۔انتظار حسین جو کچھوے کی طرح سفر کرتے ہیں جو کچھوے اور خرگوش والی بات اس معنی میں صحیح ہے۔
2۔ مگر نوبل پرائز ملتا ہے ولیم گولڈنگ کو جو تھرڈ کلاس برٹش رائٹر ہے۔
3۔ بہر حال کچھ بھی ہے۔ مابعد جدیدیت تحریک بن نہیں رہی ہے اور نہ ہی بن پائے گی۔ برصغیر میں ادبی تحریک صرف ایک ہی تھی اور وہ ترقی پسند تحریک تھی۔
4۔ ہر وہ شے جو انسانی وژن یا اس کی آزادی کو RESTRICT کرتی ہے یا انسان کے جبر کے تحت لاتی ہے میں اس کے خلاف ہوں شاید وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہو۔

  1. ان کی نظر میں یہاں کوئی بڑا ادبی کارنامہ انجام نہیں دیا گیا۔ ورنہ یہاں اقبال کویہ پرائز ملنا چاہیے تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں