108

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا حصول اور عصرحاضر


ڈاکٹر منور حسن کمال
افلاک عالم میں پھیلے ہوئے فطرت کے رازہائے سربستہ یکے بعد دیگرے کھلتے جارہے ہیں اور بڑی واضح شکل میں دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔ ان کی ضرورت بھی اسی شدومد کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے، جس شدومد کے ساتھ دنیا کی لامحدود وسعتوں میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آب گم کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
آج آئی ٹی کے طلبا کے لیے بڑا بیش قیمت وقت ہے، وہ زندگی کی نئی منزلوں کو چھونے کے لیے جہاں بیتاب نظر آتے ہیں، وہیں ان کے پاس مواقع بھی کثیر ہیں، ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر وہ نہ صرف کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں، بلکہ اپنے والدین، سرپرست اور قوم و ملک کے لیے بھی قابل قدر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اردو زبان نے بھی قابل ذکر ترقی کی ہے۔ عصرحاضر میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ساتھ ساتھ ریاستی اکادمیاں اور بعض ادارے بھی بہت سے سائنسی اور تکنیکی علوم و فنون کو جہاں اردو زبان میں منتقل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے ہیں، وہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ان کے توسط سے کثیر مواد جمع کیا جارہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی ایک حد تک اپنا حصہ ادا کررہا ہے۔ آج انٹرنیٹ پر اردو کی بے شمار ویب سائٹس اس بات کی گواہ ہیں کہ انفارمیشن کی دنیا میں اب اردو زبان شجرممنوعہ نہیں رہی اور سائبر اسپیس میں اردو زبان نے اپنے قدم مضبوطی سے جمالیے ہیں۔ اسی طرح اب موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر اردو زبان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے دروازے وا ہوگئے ہیں۔ ذرا سوچئے اگر اردو زبان جدید ٹیکنالوجی سے ناآشنا رہتی تو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کثیر سرمایہ کیسے میسر آتا۔ اینڈرائڈ کے لیے اردو کی بورڈ آن لائن اور آف لائن لغات، آزاد دائرۃ المعارف، وکی پیڈیا اور انسائیکلو پیڈیا وغیرہ یہ سب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکتیں ہیں، جن سے دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان بھی مالا مال ہورہی ہے اور اردو زبان کے قارئین بھی اس سے بڑی تعدا دمیں مستفید ہورہے ہیں۔
ہمارے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی سے کس حد تک واقف ہیں۔ انفارمیشن یعنی معلومات۔ مثلاً ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت سی چیزوں کی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ہم حاصل ہونے والی معلومات کے توسط سے ہی کسی نہ کسی چیز کے بارے میں جانتے ہیں اور معلومات کے حصول کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی کی مدد درکار ہوتی ہے۔ کہاں سے کیا معلومات حاصل کی جائے، یہ ٹیکنالوجی ہمارے اس کام میں مدد کرتی ہے۔ بیسویں صدی میں جب سے کمپیوٹر ایجاد ہوا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں نئے انقلابات آئے ہیں۔ انسان کو اپنا پیغام یا معلومات دوسروں تک پہنچانے میں مہینوں لگ جایا کرتے تھے اور آج چند سیکنڈ میں یہ اطلاعات ہمارے مطلوبہ شخص تک پہنچ جاتی ہیں۔ معلومات کو محفوظ کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کا یہ عمل ہزاروں سال کی جہدمسلسل کے بعد یہاں تک پہنچا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت انٹرنیٹ پر ایک اعشاریہ آٹھ بلین ویب سائٹس موجود ہیں اور انٹرنیٹ پر انفارمیشن کی تعداد شبانہ روز بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ یہ سب انفارمیشن کو آسان اور بہتر بنانے کے لیے ہے۔
دراصل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں کے قیام کا مقصد ایسی معیاری تعلیم فراہم کرنا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایسے ماہرین تیار کیے جاسکیں جو آئی ٹی انفرااسٹرکچر کی تیاری اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق مواد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ آئی ٹی کا کاروبار پوری دنیا میں جس تیزی سے پھیلا ہے، ایسا ماضی میں کہیں نظر نہیں آتا، اس لیے ملک و قوم کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور فنی تربیت سے آراستہ ایسے گریجویٹ کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے جو دنیا کے قدم سے قدم ملاکر چل سکیں اور نئی دنیاؤں کی دریافت میں اپنے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بھی نمایاں شناخت کا ذریعہ بن سکیں۔
این آئی آئی ٹی کے مطابق طلبا کو تین پہلوؤں پر دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے۔ الف: بہتر سلسلۂ تعلیم کا انتخاب۔ ب:انسٹی ٹیوٹ کی منظوری سے متعلق تفتیش۔ ج:فیکلٹی سے متعلق پرکھ۔ اس کے علاوہ تعلیم کے معیارات، پلیسمنٹ ریکارڈ اور کورس کے سرٹیفکیٹس کے لیے انسٹی ٹیوٹ کا کن منظورشدہ تعلیمی اداروں سے اتحاد ہے، بھی معنی رکھتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سابق طلبا یہاں سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد کہاں کہاں پہنچے اور اس انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں اب ان کے کیا خیالات ہیں؟ کیا یہ انسٹی ٹیوٹ ان کے اعلیٰ تعلیمی معیارات پریوار اترا ہے؟ اور اس انسٹی ٹیوٹ کے سرٹیفکیٹ سے انہیں کیا کیا فوائد حاصل ہوئے ہیں، صرف بڑے بڑے اخبارات میں فل سائز کے اشتہارات دیکھ کر ہی کسی انسٹی ٹیوٹ پر بھروسہ نہیں کرلینا چاہیے۔ اگر ٹریننگ کی بنیاد مضبوط کرنی ہے تو بہترین اور قابل اعتماد تعلیمی اداروں کا انتخاب کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب مرحلہ آتا ہے بہترین مشاہرہ پر غیرممالک میں سروس حاصل کرنے کا۔ نیسکام اور میکنسے کے سروے کے مطابق وہاں لاکھوں آئی ٹی پروفیشنلز ماہرین کی ضرورت ہے۔ لیکن ہندوستان میں موجودہ وقت میں 75سے85ہزار آئی ٹی ڈگری ہولڈر بنتے ہیں۔ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی صنعتوں کے بعد بھی آئی ٹی ماہرین کی تعداد آنے والے برسوں میں کئی گنا بھی ہوجائے تو بھی ضرورت کے اعتبار سے کم رہے گی۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ دہائی تک تقریباً 22لاکھ آئی ٹی ماہرین کی ضرورت تھی۔ اتنے آئی ٹی ماہرین حاصل کرنا ایک زبردست چیلنج تھا، جس میں ہندوستان نے بڑی حد تک اپنا حصہ ادا کیا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہندوستانی دماغ کو آج پوری دنیا میں اولیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے کمپیوٹر انجینئر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی اہلیت منوا چکے ہیں۔ آئی ٹی سے وابستہ ہندوستان کے کمپیوٹر ماہرین کو امید ہے کہ جلد ہی وہ دن لوٹ آئیں گے، جب امریکہ کی ’آئی بی ایم‘ جیسی کمپنیاں تین تین کروڑ روپے سالانہ مشاہرہ کی پیشکش کریں گی اور ہندوستانی کمپیوٹر انجینئروں کو دعوت دینے کے لیے ڈالر، مارک اور پونڈ کے ساتھ ساتھ دوسری گراں قدر کرنسیاں ہندوستان کی طرف دوڑیں گی، لیکن ان اونچے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سخت مقابلہ جاتی دور سے بہت آگے نکلنا ہوگا۔ اس وقت ہمارے سامنے ایک موقع ہے، اس لیے کہ کئی ملکوں نے ہندوستان کے لیے اپنے امیگریشن قوانین گزشتہ برسوں میں نرم کیے ہیں۔ اٹلی، فرانس، جرمنی، سوئزرلینڈ، برطانیہ، بلجیم اور نیدرلینڈ ہر جگہ سے ہندوستان کے انجینئر کروڑوں روپے کی آمدنی کرکے کثیر رقم ہندوستان بھی بھیج رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلز کی اہمیت تسلیم شدہ ہے۔ یہاں سافٹ ویئر ایپلی کیشن سے لے کر اینڈیوزر تک ہر فن کے لوگ موجود ہیں۔ اس لیے ان کی ڈیمانڈ غیر ممالک میں بڑھی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سینٹرمیٹروپولیٹن شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں میں بھی کھل گئے ہیں۔ صدی کے آغاز میں یہ بات نہیں تھی، اس وقت آئی ٹی سینٹر صرف بڑے شہروں تک ہی محدود تھے۔
یہ ملک کے لیے بڑی خوش آئند علامت ہے، لیکن اس مہم میں قوم کے نونہال کہاں ہیں، ہمیں یہ دیکھنے اور ان پر محنت کرنے کی سخت ضرورت ہے، تاکہ وہ بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا حصول اور عصرحاضر” ایک تبصرہ

  1. محترم ڈاکٹر منور حسن کمال صاحب کا یہ مضمون نہایت ہی معلوماتی ہے
    امید ہے ان شاء اللہ نوجوان طبقہ اس سے استفادہ کرے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں