124

انسان پکارے تو بھلا کس کو پکارے

بانگِ کہن، سلسلہ 31

فضیل احمد ناصری

زخموں سے پریشان ہیں سب درد کے مارے
انسان پکارے تو بھلا کس کو پکارے

اک دور ہوا صدمۂ گجرات کو ، لیکن
آنکھوں میں ابھی تک ہیں لہو رنگ نظارے

مسلم بھی ہے تہذیبِ برَہْمن سے ہم آغوش
اب چشمۂ زمزم بھی ہے گنگا کے کنارے

اس عہد میں ہر شخص کو اپنی ہی پڑی ہے
پر جوش ہیں بزمیں ، نہ جماعت، نہ ادارے

ہم کو تو کہیں امن کی خو بو نہیں ملتی
اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ اچھے ہیں اشارے

قائد میں بصیرت ہے، بصارت، نہ شجاعت
کیا راہ دکھائیں گے یہ بے نور ستارے

تسبیح کے دانے بھی کہیں نالہ کناں ہیں
طاقوں میں نوا سنج ہیں قرآن کے پارے

اللہ ! مسلمان تو اٹھنے کے نہیں ہیں
جبریل سے کہہ دیجیے فوج اپنی اتارے

ہے فیصلہ ہر بندۂ مومن کا خدایا
جیتیں گے سبھی جنگ دعاؤں کے سہارے

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں