99

انتخابی سیاست میں مسلمان کہاں ہیں؟


تحریر:پروفیسر محمد سجاد(شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)


ترجمہ:نایاب حسن قاسمی
فطرت کی طرح سیاست کوبھی خلاسے نفرت ہے،اسے ہرحال میں بھرناہوتا ہے؛چنانچہ سیاست میں لمبے عرصے تک کسی بھی سماجی طبقے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،اگر ایسا ہوتا ہے ،تووہ طبقہ کسی نہ کسی طرح اپنی راہ ضرور نکال لے گا۔اس سال کے لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جوتعلیمی و دانشورانہ سطح پرشمالی ہند کے مسلمانوں کی نمایندہ سمجھی جاتی ہے،وہ بھی اس الیکشن میں خاموش نظر آرہی ہے،حالیہ چند سالوں میں اے ایم یوکے ساتھ اوراس کے اندر کچھ غیر معمولی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں،جن کی وجہ سے بجاے اس کے کہ یہ ادارہ ملک کے مسلمانوں کو الیکشن اور ووٹنگ کے سلسلے میں کوئی مشورہ دیتا،خود ہی بعض بہت حساس اور خطرناک معاملوں میں گھراہوا ہے۔
اسی کشمکش کے بیچ 18؍ اپریل کو علی گڑھ میں پولنگ ہوچکی ہے،اس سے پہلے 11 ؍اپریل کو اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اترولی (علی گڑھ) کے ایک انتخابی جلسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار اور موجودہ ایم پی ستیش گوتم کے حق میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرنے آئے تھے،یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ستیش گوتم کو دوبارہ جیتنا اس لیے ضروری ہے؛ تاکہ اے ایم یو میں دلتوں اور پچھڑو ں(ایس سی،ایس ٹی اور اوبی سیز)کو ریزرویشن دلایا جا سکے۔انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ہندستان میں جناح کا احترام نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ اس نے ملک کو تقسیم کروایاتھا۔یہ دراصل گزشتہ سال مئی میں اے ایم یو سٹوڈینٹ یونین ہال میں 1938سے آویزاں جناح کی ایک تصویر پر برپاہونے والے ہنگا مے کی طرف اشارہ تھا اور یوگی قوم پرستی کے نام پر ہندووں کے جذبات کوبھڑکانے کی کوشش کررہے تھے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یوگی نے یہ تقریر اترولی میں کی تھی، جو سابق وزیر اعلی یوپی اور راجستھان کے موجودہ گورنر کلیان سنگھ کا گھریلوعلاقہ ہے(کلیان سنگھ کی چیف منسٹری کے دور میں ہی 6؍دسمبر1992کوبابری مسجد شہید کی گئی تھی)خبر آئی تھی کہ کلیان سنگھ کے کیمپ نے شروع میں موجودہ ایم پی کو پھر سے ٹکٹ دیے جانے کی مخالفت بھی کی تھی۔
اے ایم یوکے اقلیتی کردار کامعاملہ عدالتِ عظمی کی ایک بڑی آئینی بنچ کے زیر سماعت ہے اور فی الحال اے ایم یومیں نہ تو ایس سی،ایس ٹی اور اوبی سیز کے لیے ریزرویشن ہے اورناہی مذہب کی بنیاد پرکسی قسم کاکوئی ریزرویشن ہے؛ عدالت کافیصلہ آنے تک اے ایم یو کو بی جے پی کی طرف سے اس طرح کے حملوں کا سامنا رہے گا،مگر اسے ان کا جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔سیاسی پارٹیاں ،جو ہندومسلم پولرائزیشن کے لیے بیتاب رہتی ہیں ان کے پاس اس طرح کی فساد انگیزی کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔یوپی میں ایس پی و بی ایس پی اتحاد کی جانب سے جاٹ برادری کے اجیت بالیان کو علی گڑھ سے امیدوار بنایاگیا ہے،اس وجہ سے بی جے پی مزید ایسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح دلت ووٹ کو بی ایس پی سے اپنی جانب کھینچ لے۔ ایک تخمینی اعداد و شمار کے مطابق علی گڑھ لوک سبھا میں کل ساڑھے پندرہ لاکھ ووٹ ہیں،جن میں مسلمانوں کی حصے داری21؍فیصد(سواتین لاکھ)ایس سی9؍فیصد،یادو5؍فیصد(اس طبقے کا ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کی طرف میلان یقینی مانا جارہاہے)اعلیٰ ذات کے ہندو40؍فیصد اور کچھ دوسرے طبقات ہیں، جن کے بارے میں ایسا کہاجارہاہے کہ وہ بی جے پی کے حامی ہیں ہے۔
حالیہ چند سالوں میں اکثریت پسندوں کے مضبوط اتحاد نے مسلم رائے دہندگان کوانتخابی سیاست میں غیر متعلق بنادیاہے،اسی وجہ سے اس الیکشن میں مسلمان عام طورپرخاموشی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اے ایم یوکیمپس میں سیاسی پارٹیوں کی آمد ورفت نظر نہیں آتی،جو تقریباً ہر الیکشن میں نظر آتی تھی۔اس صورتِ حال کے مضمرات کیاہیں؟1946کے الیکشن سے ہی ایک روایت رہی ہے کہ اے ایم یوکے طلباکا ایک گروپ الیکشن کے دنوں میں ملک کے مختلف خطوں ،خصوصاً یوپی،بہاراورپنجاب میں الیکشن کمپیننگ کے لیے جایاکرتاتھا،جہاں سے علی گڑھ کے زیادہ تر طلبہ کا تعلق ہوتا تھا۔آزادی کے بعدبھی یہاں کے طلبہ نے کئی بار یوپی اور بہار میں انتخابی کمپیننگ کی،مگرانھوں نے امیدواروں کے وزن و اہمیت پر توجہ دینے کی بجاے اپنی ترجیح کے امیدواروں؍پارٹیوں کے لیے لابنگ کی۔پھراے ایم یوہی نہیں،کئی مسلم ثقافتی وسماجی تنظیموں مثلاً جمعیت علماے ہند،جماعت اسلامی ہند،امارت شرعیہ اور شاہی امام بخاری وغیرہ سے بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم ووٹروں کے نام انتخابی اپیلیں جاری کروانے کے لیے رابطے کرتی رہی ہیں،مگر اب ایسا لگ رہاہے کہ محراب و منبر کی سیاست کا دور لد چکاہے اور اگر ایسا ہوا،تومزید سیکولرسیاست کے لیے راہیں ہموار ہوں گی۔
اس وقت توصورتحال اتنی نازک ہے کہ مشہور سیکولر پارٹیاں بھی اپنی شناخت مسلمانوں سے وابستہ کرنے سے کترارہی ہیں اور ان کے تحفظ جیسے مسائل سے کنارہ کشی کرتی نظر آرہی ہیں،اسی طرح یہ پارٹیاں مسلم سماجی و ثقافتی تنظیموں سے بھی فاصلہ بنائے ہوئی ہیں۔سیکولر پارٹیوں کے اس رویے کو بی جے پی کے”minority appeasement”والے پروپیگنڈے کی کامیابی قراردیاجاسکتاہے؛حالاں کہ فی الحقیقت مسلمانوں کے ساتھ ترجیحی معاملہ کیے جانے کی کوئی اصل نہیں ہے اور تعلیمی یا اقتصادی شعبوں میں مسلمانوں کوبااختیار بنانے کی سمت میں کچھ بھی نہیں کیاگیا۔سیکولر حکومتیں بس بعض کنزرویٹیومسلم طاقتوں کے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتی رہیں۔بعض نمایاں مسلم چہروں کو اسمبلی یا پارلیمنٹ پہنچاکر اور کچھ لوگوں کو بعض سرکاری دفاترکے لیے نامزدکرواکے مسلم ووٹ حاصل کیے جاتے رہے۔یہاں تک کہ اس زمانے میں ہندواکثریت پسندانہ رجحانات کی نمایندہ بی جے پی نے بھی ایک’’واجپئی حمایت کمیٹی‘‘بنائی تھی،جس کامقصد 2005کے الیکشن میں دوبارہ واجپئی کی حکومت لانے کے لیے مسلمانوں کا سپورٹ اور ووٹ حاصل کرنا تھا۔
اس قسم کی خفیہ سیٹنگ کا سلسلہ اسی وقت بند ہوگا،جب مسلم قانون سازوں،متعلقہ سیاسی پارٹیوں اور پردے کے پیچھے سے مسلمانوں کا سوداکرنے والے اِلیٹ مذہبی و سیاسی قائدین کا محاسبہ کیاجائے،ان سے سوالات کیے جائیں اورمسلمانوں کے مسائل پر ان سے جواب طلب کیاجائے۔اس طرح اس قسم کے مسلم ادارے اور افراد کی معتبریت ختم ہوگی اور سیاسی طورپرحاشیے پر ڈالے جاسکیں گے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس زبردست سیاسی خلا کوکون پر کرے گا؟ایک طرف بہارمیں آرجے ڈی۔کانگریس کے اتحاد نے ٹکٹوں کی تقسیم میں اجلاف وارذال مسلم برادریوں کو نظر اندازکیاہے، دوسری طرف برادریوں پر مبنی مختلف پارٹیاں یوپی اور بہار کے سیاسی اتحادکا حصہ بن رہی ہیں،جس سے کچھ نئے ابھر نے والے سیاسی و انتخابی رجحانات کا پتاچلتاہے، پسماندہ دانشوران و سماجی کارکنان نے الگ سے اپنی’’جے ہندپارٹی‘‘بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح ممکن ہے کہ مختلف چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیاں مثلاً جنوبی ہند اور مشرقی بہار میں اسدالدین اویسی کی سربراہی میں مجلس اتحاد المسلمین، مشرقی یوپی میں ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی اور آسام میں مولانا بدرالدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف بھی مستقبل میں ابھر کر سامنے آئیں گی۔پھریہ منظرنامہ صرف مسلمانوں کی سطح پر ہی سامنے نہیں آرہا؛بلکہ علاقائی ومقامی سطح پر برادری اور مخصوص ذاتوں پر مبنی نشاد پارٹی،سہیل دیو،اپنادل،وکاس شیل انسان پارٹی وغیرہ بھی اسی رنگ ڈھنگ میں سامنے آرہی ہیں۔
چوں کہ قومی یا ریاستی سطح کی بڑی پارٹیاں بعض مخصوص سماجی طبقات کے مسائل و مشکلات کو نہیں سن رہی ہیں؛اس لیے عین ممکن ہے کہ چھوٹے چھوٹے مقامی سماجی گروپس اپنا آپسی اتحاد کرکے اپنے سیاسی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کریں گے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہاجاسکتاہے کہ مستقبل قریب میں بڑی سیاسی پارٹیوں میں دراڑ اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد کا دور آسکتاہے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں عام طورپر ایک جاگیر بن کر رہ گئی ہیں،جہاں بعض مخصوص برادریوں اور خاندانوں کا تسلط ہے،یہی وجہ ہے کہ اب محروم و پسماندہ سماجی طبقات میں ان پارٹیوں کے خلاف ایک اتحاد قائم ہورہاہے اور ان کے اندر قومی سیاست پر چھائی ہوئی مرکزی سیاسی پارٹیوں سے ڈیل کرنے کا حوصلہ و ہمت بڑھتا جارہاہے۔
موجودہ انتخابی سیاسی سیناریومیں ایسا لگتاہے کہ مسلم اداروں؍تنظیموں کی سیاسی اہمیت ختم ہوگئی ہے اور ہندستانی سیاست کے حوالے سے ان میں اب کوئی جاذبیت باقی نہیں رہی، یہ امکان اگر حقیقت ہے تواچھاہی ہے؛کیوں کہ اس طرح حقیقی جمہوریت کے مضبوط ہونے کی راہیں ہموار ہوں گی۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا اسی الیکشن میں ہوگا یا اس کے لیے آیندہ انتخابات کا انتظار کرنا ہوگا؟کیاجامعات اور یونیورسٹیزمیں عیش و آرام کے ساتھ بیٹھے دانشوران مذکورہ سیاسی امکانات اور ان کے دوررس اثرات کو محسوس کریں گے اور ان سے لوگوں کو روشناس کروائیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں