41

انتخابی جنگ میں دو تہذیبوں کا تصادم

عبدالعزیز
ہندستان میں فرقہ وارانہ آہنگی کا ماحول سب سے زیادہ مغربی بنگال میں پایا جاتا تھا لیکن جب سے آر ایس ایس اور بی جے پی نے مغربی بنگال میں آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنانا شروع کیا فرقہ وارانہ پرامن ماحول خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے۔ خاص طور سے 2014ء سے جب مرکز میں بی جے پی برسراقتدار آئی اس وقت سے اور بھی خراب ہوتا گیا۔ آر ایس ایس نے مغربی بنگال میں بھی فرقہ واریت اور نفرت کا زہر گھول دیا ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی آج بی جے پی سے برسر پیکار ہیں، مگر محترمہ ہی کی بداندیشی تھی کہ بی جے پی کی سربراہی میں بنی این ڈی اے میں شامل ہوئیں اور اسمبلی کا الیکشن بی جے پی کے ساتھ لڑیں۔ بی جے پی کو دو تین فیصد ووٹ ملتے تھے،مگر اس الیکشن میں بی جے پی 7فیصد تک پہنچ گئی۔ 2014ء میں 17فیصد ووٹ بی جے پی نے حاصل کیا۔ پنچایت انتخاب اور ضمنی انتخابات میں بی جے پی ریاست میں نمبر 2 پر آگئی اور خاص اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگی۔ سی پی ایم اور کانگریس کو بی جے پی نے پیچھے چھوڑ دیا۔ بی جے پی کا ملک بھر میں جو ایجنڈا ہے، اسی ایجنڈے کو مغربی بنگال میں بھی نافذ العمل بنانا چاہتی ہے۔ وہ ایجنڈا یہ ہے کہ پورے ملک کو ہندوتو کے رنگ میں رنگ دیا جائے۔ ہندی بیلٹ (ہندی علاقہ) میں بی جے پی کو کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے؛ لیکن مغربی بنگال میں ہندی بیلٹ سے تہذیب اور ماحول کچھ مخصوص اور مختلف ہے۔
گزشتہ روز (14مئی) کلکتہ میں امیت شاہ کے روڈ شو میں جو تشدد اور ہنگامہ آرائی ہوئی،وہ اسی کا نتیجہ تھا۔ کلکتہ یونیورسٹی کے علاقے سے جب روڈ شو کا گزر ہورہا تھا، تو ہنگامہ شروع ہوا۔ ترنمول کانگریس کے طلبہ اور دیگر جماعتوں کے طلبہ نے روڈ شو میں جو نعرے بلند کئے جارہے تھے ”جے شری رام“ کے کلچر کو ابھارا جارہا تھا۔ انتخاب کے آخری مرحلہ میں امیت شاہ کی پوری نظر مغربی بنگال کی سیٹوں پر ٹکی ہوئی ہے،جو سیٹیں ہندی بیلٹ میں کم ہورہی ہیں،وہ یہاں سے کسی نہ کسی طرح پوری کرنے کیلئے جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ آخری مرحلے کی پولنگ سے پہلے روڈ شو کے دوران بھاجپا اور آر ایس ایس کے کارکنوں کا جلتا ہوا بائیک، ودیا ساگر اور کلکتہ یونیورسٹی کے کیمپس میں بھاجپا کارکنوں کی توڑ پھوڑ سے یہی ظاہر ہوا کہ بی جے پی انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ دینا چاہتی ہے۔ امیت شاہ روڈ شو جیسے تیسے ختم کرکے دہلی چلے گئے؛لیکن کلکتہ کا کالج اسٹریٹ نفرت کی آگ میں بہت دیر تک جلتا رہا۔
روڈ شو کے دوران جب امیت شاہ کی پھولوں سے لدی ہوئی گاڑی جس پر دلیپ گھوش (صدر مغربی بنگال بی جے پی) اور راہل سنہا (علاقہ کے امیدوار) اور مُکل رائے سوار تھے کلکتہ یونیورسٹی کے سامنے پہنچی، تو وہاں درجنوں طلبا اور طالبات نے سیاہ جھنڈے دکھائے اور نعرہ بازی کی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ امیت شاہ نے بنگال کو کنگال کہہ کر بنگال اور بنگالیوں کی بے عزتی کی ہے۔ وہ لوگ کسی قیمت پر فرقہ پرست طاقتوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ امیت شاہ کے خلاف ’واپس جاؤ‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ پولس کی طرف سے شہید مینار سے بی جے پی کو روڈ شو کی اجازت نہیں تھی جہاں سے بی جے پی روڈ شو نکالنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے دھرمتلہ اسٹریٹ سے روڈ شو نکالا اور کالج اسٹریٹ کی طرف قدم بڑھایا۔ پولس نے اس کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔
ٍ روڈ شو کے دوران ممتا بنرجی کے خلاف انتہائی بیہودہ قسم کی نعرے بازی ہوتی رہی،جس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے طلبہ اور کارکنوں میں شدید غصہ پیدا ہوا اور وہ طیش میں آگئے۔ کلکتہ یونیورسٹی کے قریب دونوں گروپوں کے حامیوں میں کشمکش شروع ہوئی،جو جلد ہی جھڑپ میں تبدیل ہوگئی، پھر دونوں طرف سے اینٹ اور پتھرپھینکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بی جے پی لیڈروں کا الزام ہے کہ ودیا ساگر کالج اسٹاف اور ترنمول یونین کے ممبروں نے کیمپس کے اندر سے جلوس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں تشدد برپا ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے بے قابو کارکنان کالج اور یونیورسٹی میں گھس پڑے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ کلکتہ پولس کے اہلکاروں نے کلکتہ والوں کو رام کے نام پر حد سے گزرنے کا پیغام دیا اور کہاکہ اس حکومت کے خاتمہ کا وقت آگیا ہے،جو شری رام کے نام پر ان کے لوگوں کو حراست میں ڈال رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے رد عمل میں کہاکہ امیت شاہ اور ان کی جماعت کے لوگوں نے جو کلکتہ یونیورسٹی، وِدیا ساگر کالج اور ہوسٹل کے سامنے ہنگامہ آرائی کی اور تشدد برپا کیا، اس کی مذمت کیلئے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ وہ شرمندہ ہیں کہ ایشور ودیا ساگر جیسی عظیم شخصیت کے مجسمہ کا احترام نہ کرسکیں،وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ بی جے پی اور امیت شاہ اور نریندر مودی کو اس کیلئے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ممتا بنرجی نے اسے بی جے پی کے غنڈوں اور بدمعاشوں کے شرمناک اور قابل مذمت اور بدبختانہ کھیل سے تعبیر کیا۔
ایشور ودیا ساگر کی مورتی توڑ کر بی جے پی نے اپنی رام بھکتی کے جذبہ کو تسکین دینے کی کوشش کی ہے،مگر اس سے بی جے پی کی جو بدنامی مغربی بنگال میں ہورہی ہے،اس کاشاید بی جے پی والوں کو اندازہ نہیں تھا کیونکہ وہ مغربی بنگال میں اپنے اچانک عروج پر نشے سے پھولے نہیں سمارہے ہیں۔
کلکتہ کے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے پہلی خبر کالج اسٹریٹ میں روڈ شو کے ہنگامے پر بنائی ہے، سرخی ہے: وِدّیا (تعلیم) کو پاش پاش کرنے والے کا غضب کا جوش اور نعرہ ”ودیا ساگر کے دن چلے گئے“۔ اخبار مذکور نے لکھا ہے کہ بی جے پی کے مشکوک ورکر جس نے ایشو ودیا ساگر کی مورتی کو ٹکڑے ٹکڑے کیا،اسی نے یہ نعرہ بلند کیا۔ گویا اب ودیا (تعلیم) کی جگہ ہندوتو نے لے لی ہے۔ ودیا ساگر کے دن گئے،ہندوتو کا زمانہ آگیا ہے۔ روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ کے صفحہ اول پر ایک خبر کے ساتھ s A Clash of Culture (تہذیب کا تصادم) کی سرخی بھی لگائی ہے، جس میں اس کے نامہ نگار نے لکھا ہے کہ جے شری رام کلچر کا نقطہ آغاز اس وقت ہوا،جب مودی جی نے بنگال میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگایا۔ اس کے نامہ نگار نے لکھا ہے کہ مودی جی نے الزام لگایا ہے کہ بنگال میں جے شری رام کا نعرہ بلند کرنے نہیں دیا جاتا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو اپنے کلچر کے فروغ اور تبلیغ و اشاعت کی آزادی ہے، مگر بی جے پی اور آر ایس ایس کی جارحانہ طور پر اپنے کلچر اور نظریہ کو تھوپنے کی کوشش کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ جنوبی چوبیس پرگنہ کے باروئی پور میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے امیت شاہ کا دماغی بخار اور بھی چڑھا ہوا تھا۔ کلکتہ میں وہ سارا بخار اتارنے کا مظاہرہ کر رہے تھے،مگر ’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘۔
مغربی بنگال بی جے پی نے پہلے مسلمانوں کو اپنا دشمن بنایا کہ سب کے سب گھس پیٹھیا (درانداز) ہیں۔ یہاں بھی این آر سی لاگو ہوگا جب مرکز میں دوبارہ بی جے پی برسر اقتدار آئے گی۔ اب جبکہ یہاں کے ماحول اور کلچر پر غلبہ پانے کی کوشش شروع کی، تو اس کا نتیجہ وہی ہوا جو گزشتہ روز کلکتہ کے کالج اسٹریٹ میں ہوا۔ امیت شاہ کے جوش نے ہوش کو باقی نہیں رکھا اور یہی حال بی جے پی کے دوسرے لیڈروں اور کارکنوں کا بھی تھا،مگر ممتا بنرجی نے ایشور ودیا ساگر کے منہدم مجسمہ کے ٹکڑے ٹکڑے جمع کرکے ہاتھ میں لیے اور بنگالیوں پر ظاہر کر دیا کہ بی جے پی کس قسم کا کلچر مغربی بنگال میں پھیلانے اور نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں