41

انتخابات اور ہندوستانی مسلمان


مسعود جاوید
2019 کے انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں، قیاس آرائیاں بھی شروع ہیں ،اسی دوران کرناٹک کے ضمنی انتخابات کے 4۔1کے نتیجے سے اس کا عندیہ بھی ملتا ہے کہ بی جے پی گٹھ بندھن کا زور کم ہوا ہے اور مودی لہر 2014 و الی رفتار سے نہیں چل رہی ہے؛لیکن صوبائی اور ضمنی انتخابات کے نتائج مرکزی انتخابات عامہ کے لیے پرفیکٹ بیرومیٹر نہیں ہوتے ہیں، مقامی الیکشن کے موضوعات اور ترجیحات مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں ،جبکہ مرکزی انتخابات کل ہند سطح کے ہونے کی وجہ سے اس کے لیے کوششیں اور توڑ جوڑ کے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کییجاتے ہیں۔
انتخابات کا ایک اہم حصہ دار مسلم کمیونٹی بھی ہے، یہ اور بات ہے کہ پچھلے دس سالوں میں اس کمیونٹی کو بے وقعت بنانے کی جو کوشش شروع ہوئی تھی، اس کا عروج 2014 میں ہوا کہ directly یا indirectly اعلان کرکے یا عمل اور رویہ سے بتادیا گیا کہ مسلم امیدوار اور ووٹ کے بغیر بھی الیکشن نہ صرف جیت سکتے ہیں ؛بلکہ اتنی اکثریت سے کہ حکومت اپنے بل بوتے بنا سکیں؛ لیکن اب مین اپوزیشن نے بھی ووٹرز کو گول بند کرنے کے وہ سب ہتھکنڈے اپنانا شروع کیا ،تو تخمینہ لگانے والوں نے یہ تخمینہ لگا لیا کہ اب اپوزیشن پارٹیز بھی ہندو ووٹ کاٹ سکتی ہے،اس عجیب و غریب پیچیدگی نے ایک بار پھر مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کو مسلم ووٹ کی تھوڑی بہت اہمیت کا احساس دلایا ہے ،اب یہ مسلم قیادت اور عوام پر موقوف ہے کہ اس وقتی جزئی دائمی یا کلی احساس کا فائدہ کتنا اٹھا پائیں، ڈاکٹر ابو صالح شریف Abusaleh Shariff یو ایس انڈیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن USIPIکے چیف اسکالر ہیں،پالیسی میٹر پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، سچر کمیٹی رپورٹ کی تیاری اور اسی طرح اقلیتوں سے متعلق دیگر پالیسیوں پر منموہن سنگھ سرکار میں باہر سے مشیرکار رہے ہیں اور ان موضوعات پر بے شمار سیمینار اور سمپوزیم منعقد کرایا ہے۔
وہ پچھلے کئی سالوں سے اقلیتوں کے ووٹ کی اہمیت ،افادیت اور ضرورت کے تعلق سے سابق چیف الیکشن کمشنر وائی قریشی صاحب کے ساتھ بیداری لانے کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں؛ لیکن مشکل یہ ہے کہ زیادہ تر ان کے پروگرام میں شریک ہونے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ،جن کی ایک بڑی تعداد ووٹنگ و الے دن کی چھٹی کو پکنک ڈے کے طور پر لیتی ہے،ہر کمیونٹی میں اصل ووٹرز مڈل اور لوور کلاس کے لوگ ہوتے ہیں، ہمارے وہ تعلیم یافتہ افراد ،جو انتخابات کی اہمیت اور اسٹریٹجی سے واقف ہیں اور اس طرح کی ہائی ٹیک میٹنگز میں شریک ہوتے ہیں ،وہ اپنے حصے کا کام انجام دیں ،یعنی بیداری مہم کو کارگر بنانے کے لئے اپنے اپنے حلقۂ اثر و نفوذ میں ابھی سے کام شروع کردیں، ورنہ برساتی مینڈک کی طرح نکلنے والے مسلم قائدین الیکشن سے عین قبل خواب غفلت سے بیدار ہوں گے، اخبارات میں فل پیج کا اشتہار چھپوائیں گے ،جس کے عوض میں ان ملی وقومی پارٹیوں کے صدر و سکریٹری صاحبان کے تصاویر کے ساتھ بیانات کبھی دو کالمی، تو کبھی سہ کالمی چھپیں گے، جس میں لکھا ہوگا کہ انصاری یا فلاں فلاں برادریوں کا اشرافیہ طبقے نے ہمیشہ استحصال کیا ہے ؛اس لیے ان سے انتقام لینے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے ان کو اور ان کی پارٹی کو ووٹ دیں،وہی ان کی مسیحا ہیں وغیرہ وغیرہ،برادری کے نام پر عوام میں ہیجان پیدا کرکے بڑی سیاسی پارٹیوں کو اپنی تعداد اور ووٹ کا احساس دلائیں گے ،پھر ووٹنگ سے چند روز قبل ٹھنڈے پڑ جائیں گے،اس وجہ پبلک جانتی ہے؛لیکن یہی پبلک مذہب اور ذات کے نعروں کے نشے میں ایسی بد مست ہوجاتی ہے کہ اچھے برے کی تمیز اور شعور بھی ختم ہوجاتا ہے۔
پچھلے ماہ ایک علاقے کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ مختلف مقامی ملی تنظیموں کے نمائندوں نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی میٹنگ کا انعقاد کیا،کارروائی شروع ہونے سے چند منٹ قبل ایک برادری کا نیتا اور سرگرم ملی کارکن ایک سابق ایم ایل اے کو لے کر اسٹیج پر آگیا، جبکہ طے یہ ہوا تھا کہ چونکہ یہ جلسہ کسی پارٹی کی تائید یا حمایت کے لیے نہیں ہے؛ اس لیے سیاسی پارٹیوں کے موجودہ یا سابق ذمے داروں کو دعوت نہیں دی جائے گی، نتیجہ ہہ ہوا کہ اتحاد کا بہترین مظہر یہ جلسہ بدترین انتشار کی نذر ہوگیا،اس طرح کی حرکتیں کرنے والوں سے گریز کرنا ہی دانشمندی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں