79

امیدواروں کے انتخاب نے رسوا کیا انہیں

ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل ، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل:9431414586
ای میل:rm.meezan@gmail.com

اس پارلیامانی انتخاب میں قومی سطح پر ایک مثبت پہلو یہ نظر آرہا ہے کہ حکمراں جماعت کے لیڈران کے ذریعہ اشتعال انگیز اور گمراہ کن جذباتی بیان بازی کے باوجود لوگ باگ مشتعل نہیں ہو رہے ہیں اور گذشتہ پانچ سال کی مدتِ کار میں حکومت کی کارکردگی کا احتسابی جائزہ لے رہے ہیں ۔ بالخصوص گذشتہ پارلیامانی انتخاب میں بے روزگاروں کے لئے روزگار مہیا کرانے اور خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے خصوصی اقدام کے ساتھ ہر ایک شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15لاکھ کی رقم جمع کرانے جیسے ہوا ہوائی وعدوں کا حساب مانگ رہے ہیں ۔ نتیجہ ہے کہ حکمراں جماعت کے امیدواروں کے لئے عوام الناس کے ان سوالوں کا جواب دینا مشکل ہو رہاہے ۔لہذا قومی سطح پر طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور حزبِ اختلاف کوہراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔ باوجود اس کے ہر جگہ آمنے سامنے کی لڑائی دکھائی دے رہی ہے ۔ مگر افسوس ہے کہ قومی جمہوری اتحاد کے خلاف بہار میں جو عظیم اتحاد نے اپنے اتحادیوں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم کی ہے اس سے این ڈی اے کے لئے جنگ آسان ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ ورنہ اگر این ڈی اے کے امیدواروں کے خلاف سیاسی شناخت رکھنے والے اور بالخصوص مقامی امیدوار عظیم اتحاد کی جانب سے دئے جاتے توشاید اس بار کے پارلیامانی انتخاب میں عوام الناس کا جو موڈ نظر آرہا تھا اس سے یہ یقین بن گیا تھا کہ بہار میں عظیم اتحاد کے لئے خوش آئند نتیجہ ہوگا ۔ لیکن پارلیامانی امیدواروں کے انتخاب میں جس طرح عظیم اتحاد کے لیڈروں نے اپنی ذاتی مفاد پرستی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے لوگ باگ میں ایک مایوسی چھا گئی ہے اور ان کے اندر پارلیامانی انتخاب کی تاریخ کے اعلان کے وقت جو جوش وولولہ دکھائی دے رہا تھا وہ کم ہوتا محسوس ہو رہاہے ۔ واضح ہو کہ بہار میں این ڈی اے کے خلاف راشٹریہ جنتا دل یعنی لالو پرساد یادو کی پارٹی کے ساتھ تین چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں یعنی جیتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوامی مورچہ، مکیش سہنی کی نو تشکیل وکاس شیل انسان پارٹی، اور اوپندر کشواہا کی لوک تانترک پارٹی کوشامل کیا گیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل نے اپنے حصے میں 20سیٹیں اور کانگریس کو 9سیٹیں دی تھیں ۔ جب کہ جتین رام مانجھی کو 3، مکیش سہنی کو تین اور اوپندر کشواہا کو پانچ سیٹیں دی گئی تھیں۔اوپندر کشواہا اس بار دو سیٹوں سے خودانتخاب لڑ رہے ہیں ۔ ان میں ان کا راکاٹ اور اُجیار پور شامل ہے۔کاراکاٹ سے وہ ایم پی ہیں جب کہ اُجیار پور ان کے لئے نیا پارلیامانی حلقہ ہوگا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کشواہا نے موتیہاری سے آکاش کمار سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے جو کانگریس کے ممبر پارلیامنٹ اکھلیش سنگھ کے صاحبزادہ ہیں ۔ ان دنوں آکاش سنگھ کا وہ ٹیوٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہاہے جو ان کی شبیہ کو مسخ کرنے والا ہے ۔اسی طرح راشٹریہ جنتا دل نے شیوہر پارلیامانی حلقہ سے سید فیصل علی کو امیدوار بنایا ہے ۔ ظاہر ہے کہ فیصل علی کی بہار کی سیاست میں کوئی پہچان نہیں ہے ۔ ان کا تعلق بہار کے گیا سے ہے اس لئے شیوہر حلقے کی عوام کے لئے وہ بالکل اجنبی ہیں اور اس پارلیامانی انتخاب کا تقاضہ یہ تھا کہ جہاں کہیں بھی امیدوار دئے جائیں وہ این ڈی اے امیدوار کے مقابلے میں برابر کے ہوں بلکہ کوشش یہ ہو کہ اس سے برتر ثابت ہوں ، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔اس لئے خود لالو کے بیٹے تیج پرتاپ بھی فیصل علی کی مخالفت کر رہے ہیں ۔اسی طرح مدھوبنی پارلیامانی حلقہ مکیش سہنی کے حصے میں دے دی گئی اور اس نے بھی ایک ایسے امیدوار کووہاں سے کھڑا کیا ہے جس کا تعلق اس حلقے کی سیاست سے نہیں ہے ۔جب کہ وہاں سے ایک طاقت ور امیدوار علی اشرف فاطمی کا نام لیا جا رہا تھا۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل نے انہیں ٹکٹ سے ہی محروم کردیاجس کانقصان بھی عظیم اتحاد کو ہو سکتاہے کہ فاطمی بہار میں ایک بڑا مسلم چہرہ ہیں ۔اب کانگریس کے سینئیر لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل احمد یہاں سے آزاد امیدوار کے طورپر لڑیں۔جیسا کہ کانگریس ایم ایل اے بھاؤنا جھا نے بھی مطالبہ کیا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مکیش سہنی محض پانچ ماہ پہلے تک این ڈی اے کے لئے کام کرتے رہے ہیں اور اوپندر کشواہا تو مرکز میں وزیر بھی رہے ہیں ۔ جیتن رام مانجھی کی سیاسی سوجھ بوجھ اور حیثیت سے لوگ باگ خوب خوب واقف ہیں ۔
غرض کہ اس بار عظیم اتحاد نے ٹکٹ کی تقسیم میں خواہ وہ اپنے اتحادیوں کے درمیان ہو یا پھر جس سیاسی اتحاد کے حصے میں سیٹیں دی گئیں اس کی تقسیم ہو ،کچھ ایسے بے وزن امیدوار دئے گئے ہیں جو ان کے لئے رسوائی کا باعث ہو سکتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام الناس میں جو اضطراب ہے اور عظیم اتحاد کے لیڈران کے فیصلے کے تئیں غم وغصہ ہے وہ کون سا رخ اختیار کرتاہے ۔ پارلیامانی انتخاب کے پہلے مرحلے میں 91حلقے میں پولنگ ہو چکی ہے ۔ ریاست بہار کے چار حلقوں میں بھی 11اپریل کو پولنگ ہوئی ہے ۔ذرائع ابلاغ جو کہ یکطرفہ حکمراں جماعت کا پروپیگنڈہ کر رہاہے وہ بھی اب دبی زبان سے ہی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ مقابلہ بہت کٹھن ہے۔میں گذشتہ دن ویشالی ضلع کے بھگوان پور کی ایک لائن ہوٹل میں لوگوں کی گفتگو سن رہا تھا ۔ا یک گروپ پارلیامانی انتخاب کے موضوع پر بحث ومباحثہ میں الجھاہوا تھا ۔ ایک طرف پانچ چھ نوجوان تھے جو کانگریس کے منشور میں شامل 72ہزار کی رقم غریبوں کو دئے جانے کے وعدے کو صحیح ٹھہرا رہے تھے اور اپنے مخالف دوستوں کو سمجھا رہے تھے کہ جب گذشتہ پارلیامانی انتخاب میں پندرہ لاکھ کے وعدہ کو ہم لوگوں نے قبول کرلیا تھا تو کیو ں نہیں اس بار 72ہزار کے وعدے کو بھی موقع دیا جانا چاہئے ۔ اشارہ بالکل صاف تھا کہ وہ قومی جمہوری اتحاد کے حق میں نہیں ہیں ۔ کچھ اسی طرح کی آواز مظفرپور میں سنائی دی اور متھلانچل کے دربھنگہ ، مدھوبنی ، سمستی پور میں بھی سنائی دے رہی ہے۔دربھنگہ سے راشٹریہ جنتا دل نے اپنے ایک قد آور لیڈر عبدالباری صدیقی کو امیدوار بنایا ہے جب کہ یہاں کے سابق ممبر پارلیامنٹ کیرتی جھا آزاد بھاجپا چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں ان کی جگہ گوپال جی ٹھاکر کو امیدوار بنایا گیا ہے۔جہاں تک سیمانچل یعنی کشن گنج ، کٹیہار، پورنیہ ، مدھے پورہ ، ارڑیہ ، سپول اورکھگڑیا کا سوال ہے تو ان حلقوں میں مسلم ووٹر وں کی حیثیت فیصلہ کن ہے ۔ اگر ان کے ووٹوں میں انتشار نہیں ہوا تو نتیجہ خاطر خواہ آسکتا ہے ۔ کشن گنج میں سیمانچل سیاست کی ایک معتبر آوازاختر الایمان بھی میدان میں ہیں ۔ گذشتہ پارلیامانی انتخاب میں انہوں نے ایک بڑی قربانی دی تھی کہ جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اقلیت کے ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ہو سکتاہے تو انہوں نے اس وقت کانگریس کے امیدوار مولانا اسرار الحق قاسمی مرحوم کے حق میں انتخاب لڑنے سے انکار کردیا تھا ۔ جب کہ وہ جنتا دل متحدہ کے آفیسیل امیدوار تھے۔
مختصر یہ کہ اس بار عظیم اتحاد نے اگر اپنے امیدواروں کے انتخاب میں پارلیامانی انتخاب کے تاریخی تقاضوں کو مدنظر رکھا ہوتا اور اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک کے آئین کی پاسداری اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کا خیال رکھا ہوتا توشاید بہت سے پارلیامانی حلقوں میں جس طرح کے مبینہ ڈمی امیدوار دئے گئے ہیں وہ نہیں ہوتے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا جس کا فائدہ بہر حال قومی جمہوری اتحاد کو مل سکتاہے ۔ جہاں تک راشٹریہ جنتا دل کا سوال ہے تو لالو پرساد کے گھر کے اندر جس طرح کی رسّہ کشی اور گھماسان ہے اس کا بھی سیکولر سیاست پر منفی اثر ہو سکتا ہے ۔ لالو پرساد یادو کے صاحبزادہ تیج پرتاپ یادو نے عظیم اتحاد کے امیدواروں کے خلاف ہی مورچہ کھول رکھا ہے ۔ وہ شیو ہر سے اپنے پسندیدہ امیدوار انگیش سنگھ اور جہان آباد سے چندر پرکاش یادو آزاد امیدوار کو حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے ۔ایسی صورت میں بہار کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کے متعلق فی الوقت کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا کہ ابھی قومی سطح پر بھی اور بہار کی سطح پر بھی لمحہ بہ لمحہ سیاسی منظر نامہ بدل رہاہے ۔ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے اب بالا کوٹ اور پلوامہ کے شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگنا شروع کردیا ہے ا س سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بار ملکی سیاست کی سمت ورفتار کیا ہے۔***

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں