234

امّاں

مولانامحمود احمد خاں دریابادی

اماں چلی گئی، ہم کچھ نہیں کرسکے، کر بھی کیا سکتے تھے، جانے والے کو آج تک کوئی روک پایا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ جوبھی دنیا میںآیا ہے، اس کو جانا ہے، ہمیں بھی اس کا یقین ہے؛ لیکن نہ جانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ اماں ہم سب کو چھوڑ کر کبھی نہیں جائے گی ،مگر چلی گئی،واقعی چلی گئی؟
پچھلے کچھ برسوں میں کئی مرتبہ ایسا لگا کہ ماں ہم سب کو چھوڑ کراب چلی جائے گی،ہم بدحواس ہوجاتے تھے، ہم لوگوں کی کیفیت دیکھ کر شاید وہ اپنے اللہ سے کچھ دن مہلت مانگ لیتی تھی،تقریبا بارہ برس قبل جب اچانک میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوا تھا، تب بھی یہی لگا تھا کہ شاید جوان بیٹے کی موت کا صدمہ اماں کو بھی ساتھ نہ لے جائے، میرے اس بھائی کے چھوٹے بچے تھے، شاید اسی لئے اماں نے ایک بارپھر اللہ سے مہلت مانگی ہوگی،اب ماشااللہ اس بھائی کا بچہ بالغ ہوچکا ہے، اعلی تعلیم حاصل کررہا ہے، اس کی چار بچیوں میں سے دوبچیوں کے گھر بھی بس گئے ہیں؛ اس لئے اس بار شاید مزیدمہلت نہیں مل سکی اور ایک صبح اچانک رخصت ہوگئی ۔
آپ لوگوں نے ایسا یتیم بچہ نہیں دیکھا ہوگا، جو ساٹھ کے لپیٹے میں ہو، سفید بالوں والا، پوتوں نواسوں والا ہو،آئیے مجھے دیکھئے ، میں بوڑھا یتیم ہوں، میرے سر پر ہاتھ رکھئے، سنا ہے یتیم کے سرپر ہاتھ رکھنا بہت ثواب کا کام ہے،مجھے لگتا ہے کہ اماں کی جدائی پر چیخوں، دھاڑیں مار کر روؤں، لوگ کہیں تو کہتے رہیں کہ اس بڈھے کوکیا ہوگیا ہے ؟
اب تک میں بڈھا نہیں تھا، اماں زندہ تھی، ہائے! میرا بچپن بھی ساتھ لے گئی، میں ایک رات میں بوڑھا ہوگیا، میں خاندان میں سب سے بڑا ہوں، کوئی مجھے بھائی کہتا ہے، کوئی ابو، کوئی ماموں، کوئی دادا، کوئی نانا، گھر میں بس ایک ہی شخصیت تھی ،جو مجھے ’’ محمود‘‘ کہہ کر بلاتی تھی، کبھی ڈانٹ دیتی تھی، ڈپٹتی تھی، مجھ پر چیختی چلاتی بھی تھی،میں اب بھی ڈرتا تھا،میں کیا ،گھر کے سارے افراد کی سِٹّی پِٹّی صرف ایک بار اُس کے نظر بھر کر دیکھ لینے سے گم ہوجاتی تھی۔
کمال کی خاتون تھی، پیتالیس سال قبل جب ہم سب چھوٹے چھوٹے تھے ،ہمارے ابا کا انتقال ہوگیا تھا، ہم سب سات بھائی بہنوں میں سب سے بڑا میں پندرہ سال کا اورہمارا سب سے چھوٹا بھائی ایک سال کا تھا ، عجیب قیامت کی گھڑی تھی، میں بھائیوں بہنوں میں کچھ سمجھ دار تھا؛ اس لئے مجھے خوب اندازہ ہے، ہر طرف اندھیرا نظر آتا تھا، ابّا کی آرزو تھی کہ ان کا بڑا لڑکاعالم بن جائے ؛اس لئے میرا داخلہ مدرسے میں کروایا تھا، جب اُن کا انتقال ہوا ،تو میں پنجم میں پڑھتا تھا، میری تعلیم اور چھوٹے بھائی بہنوں کی جو عصری اسکولوں میں پڑھتے تھے سب کی پڑھائی خطرے میں تھی ، ابّا مطب کرتے تھے، دواؤں کا کاروبار بھی تھا، ہم لوگ متمول سمجھے جاتے تھے، ابّا کے بعد مطب تو بند ہوگیا، امّاں بالکل پڑھی لکھی نہیں تھی، دراصل ہم لوگوں کا تعلق نومسلم راجپوت زمیں دار گھرانے سے ہے، ہمارے یہاں غیرت وناموس کا بہت زیادہ پاس ولحاظ تھا، جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچی کو بھی پردے میں رکھا جاتا تھا؛ اس لئے بچیوں کومکتب، مدرسہ بھیجنے کی کوئی روایت نہیں تھی، اس زمانے میں پورے علاقے میں ایسی کوئی خاتون بھی نہیں تھی ،جو گھر آکر بچیوں کو تعلیم دے سکے، بچیاں گھروں میں رہ کر کھانے پکانے ودیگر امور خانہ داری سے تو واقف ہوجاتی تھیں ،مگر عم پارے کی چند سورتیں اور نماز کی دعائیں کچی پکی جیسی بھی بڑی بوڑھیوں کویاد ہوتیں بچیوں کو یاد کرادی جاتی تھیں۔
امّاں اسی ماحول کی پروردہ تھی، بتاتی تھی کہ نماز کا صحیح طریقہ اور الم تر کیف سے آخر کی سورتیں بھی شادی کے بعد سسرال میں گھر آکر پڑھانے والی آپاؤں نے یاد کرائی تھیں ، مکمل قرآن مجید تو ہمارے سامنے ہماری سب سے چھوٹی بہن سے سبقاًسبقاً پڑھ کر ختم کیا تھا۔ ہمارے یہاں دیہاتی تہذیب ہے، گھروں میں ماں کو زیادہ تر واحد کے صیغے سے مخاطب کیا جاتا ہے؛اس لئے ہم سب بھی بچپن سے اماں کو اُسی انداز میں پکارتے رہے ہیں،اس تحریر میں بھی میں نے اپنے اسی فطری انداز کو اپنایا ہے ۔
ممبئی جیسے شہر میں رہ کر بھی اماں اس شہر سے اس حد تک ناواقف تھی کہ اپنے مکان سے باہر دو بلڈنگ آگے اگر چھوڑ دیا جائے ،تو گھر نہیں پہنچ پاتی تھی،دراصل ممبئی میں رہ کر بھی اماں نے پردے کی سخت ترین پابندی کی، سال میں بمشکل چند مرتبہ علاج وغیرہ کے سلسلے میں کسی بچے کے ساتھ مکمل برقعے میں گھر سے باہر نکلتی، اکثر ہم واپسی میں اپنے مکان سے دوبلدنگ پہلے مزاحاً پوچھتے تھے :اماں بتاؤ اپنا گھر کہاں ہے؟ کبھی نہ بتا پاتی۔
دوسری طرف منتظم ایسی تھی کہ خود پڑھی لکھی نہ ہونے کے باوجود سارے بچوں کو اعلی تعلیم دلوائی، اس کا ایک لڑکا عالم ہے، ایک ڈاکٹر ہے، دو گریجویٹ ہیں، بچیاں بھی سب سب کی سب تعلیم یافتہ ہیں، سارے بچے دین دار ہیں ، شہر میں رہ کرعموما وہ بچے، جن کا سرپرست نہ ہو ،اکثر بگڑ جاتے ہیں، پھر ممبئی میں تو اس کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے،مگر اس پردہ نشین خاتون کا کمال دیکھئے ،اس نے اپنے سارے بچوں کو شہر کی غلاظتوں سے بچاکر رکھا، دین دار بزرگوں سے تعلق رکھنے والا بنایا، تعلیم دلوائی۔
مجھے خوب یاد ہے، ابا کے انتقال کے وقت میں پنجم میں پڑھتا تھا، اس وقت ششم کے بعد ممبئی میں عربی کا کوئی مدرسہ نہیں تھا، میں مدرسے کے اوقات کے بعد ایک گھنٹہ دوپہر اور چار گھنٹہ شام دکان میں بھی وقت دیتا تھا، مطب تو ابا کے بعد بند ہی ہوگیا تھا، بس کاؤنٹر سے جو دوائیں فروخت ہوتی تھیں، ان ہی سے اخراجات پورے ہوتے تھے، دوپرانے کام کرنے والے تھے، جو دن بھر دکان میں رہتے تھے،ایسے میں مجھے امید نہیں تھی کہ میری تعلیم مکمل ہوپائے گی ، مگر اماں کا حکم تھا کہ جاپڑھائی مکمل کر اوراپنے ابا کی تمنا پوری کر، میں یہاں سب دیکھ لوں گی، میں دیوبند چلاگیا، سنا تھا وہاں داخلہ امتحان بہت سخت ہوتا ہے، اس زمانے میں تحریری امتحان کا دستور نہیں تھا، تقریری امتحان ہوتا تھا، ابا کے انتقال کے بعد میری تعلیم چونکہ یکسوئی کے ساتھ نہیں ہوپائی تھی؛ اس لئے مجھے اپنی استعداد پر اعتماد نہیں تھا، امید نہیں تھی کہ مجھے مطلوبہ درجہ ہفتم یعنی موقوف علیہ مل سکے گا، اس زمانے میں دارالعلوم داخلے کے لئے آنے والے کسی طالبعلم کو اپنی طرف سے واپس نہیں کرتا تھا؛ بلکہ اُس کے اندر جس درجے کی صلاحیت ہوتی تھی ،وہ دے دیا جاتا تھا، آگے طالب علم کی مرضی ہوتی کہ وہ اسے قبول کرے یا کسی دوسرے مدرسے میں داخلے کی کوشش کرے؛ چنانچہ میرے ساتھ ممبئی سے جانے والے ساتھیوں میں ایک کو ششم اور ایک کوپنجم دیا گیا، ششم والے نے تو قبول کرلیا، پنجم والے کو دوسرا در تلاش کرنا پڑا، مجھے بھی یہی خطرہ تھا کہ میں اگر تنزل کا شکار ہوگیا ،تو کیا ہوگا؟ میرے پاس وقت نہیں تھا، خدانخواستہ ایسا ہوگیا ہوتا ،تو میری تعلیم شاید مکمل نہ ہوپاتی، مگر اللہ کا فضل ہواکہ مجھے مطلوبہ درجہ ہفتم مل گیا، مجھے یقین ہے کہ میری اس کامیابی میں میری صلاحیت سے ذیادہ اماں کی دعا اور خصوصی توجہات کا دخل تھا، ورنہ مجھ سے کہیں ذیادہ قابل طلبہ پچھڑ گئے تھے، مجھے یہ بھی یاد ہے کہ منظوری کے دستخط کے دو دن بعد تک مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں، میں نے دفتر تعلیمات جاکر دوبارہ اپنی کامیابی کی تصدیق کی تھی ۔
میں دو سال دیوبند میں رہا، اس دوران اماں نے گھر کے ساتھ پرانے کارکنوں کے ذریعے دکان پر بھی نظر رکھی، میری تعلیم کے دوران ہی ایک قدیم اور ہمدرد کارکن کا انتقال ہوگیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کاروبار بہت متاثر ہوا، دیگر کارکنان کی لاپرواہی اور خرد برد کی وجہ سے آمدنی بہت ہی کم ہوگئی،مگر اماں کی خوش انتظامی دیکھئے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی، دنیا کی نظروں میں اپنی خوشحالی کا بھرم برقرار رکھا، گھر میں تنگی ترشی سے گزر ہوتا تھا، مگرسارے عزیز یہی سمجھتے رہے کہ یہ لوگ خوب مزے میں ہیں ۔
میں جب فارغ ہوکر پہلی بار گھر پہنچا، تو مجھے دیکھ کر اماں آبدیدہ ہوگئی اور ہمارے ابا کو یاد کرکے کہنے لگی کہ آج بیٹا عالم ہوکر گھر آیا ہے، مگرجن کو عالم بنانے کا ارمان تھا، وہ دیکھنے کے لئے موجود نہیں ہیں ، اسی طرح صدسالہ اجلاس میں مجھے بھی دستارفضیلت ملی تھی، گھر آکرمیں نے وہ دستارجب اماں کے ہاتھ میں رکھی ، تب بھی اماں بہت روئی تھی ۔
تعلیم کے بعد میں کاروبار میں لگ گیا، اماں نے مجھ سے بارہ سے چودہ گھنٹے کام لیا، مجھے ہرطرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لائق بنایا، کیسی کیسی مصیبتیں آئیں، حکومتی ٹیکس کئی سال سے ادا نہیں ہوا تھا، سرکار کا سخت ایکشن ہوا ،دکان میں تالہ لگنے کی نوبت تھی، اسی دوران ایک حادثے میں ہماری رہائشی بلڈنگ کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا، میونسلپٹی کی طرف سے فوراً مکان خالی کرنے کا نوٹس آگیا، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اب کیا ہوگا، کیا ہم سب سڑک پر آجائیں گے؟ دکان کی آمدنی سے روزمرہ اخراجات بھی بمشکل پورے ہوتے تھے، کوئی دوسرا آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا، میں سب سے بڑا تھا، دوسرے بھائی چھوٹے اور زیر تعلیم تھے، بقایا ٹیکس کی ادائیگی اورمکان کی مرمت بظاہر ناممکن نظر آرہی تھی، میں بہت پریشان تھا، تنہائی میں روتا تھا، مگر آفریں ہے اس خاتونِ آہن کی ہمت اور حوصلہ پر، اُس نے اپنے اوسان بحال رکھے، میری بھی ہمت بندھائی ، اس کی دعاؤں سے اللہ نے راستہ نکالا، میں نے بھاگ دوڑ کی، الحمد للہ قسط وار ٹیکس ادائیگی کی سہولت مل گئی، بلدیہ نے بھی مکان میں لکڑی کے عارضی ستون لگانے کے بعد جلد مرمت کی تاکید کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی، اس طرح فوری طور پر بے گھر اور بے روزگار ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔
اماں روز صبح آٹھ بجے مجھے دوکان بھیج دیتی تھی، رات دس بجے تک میں وہاں کام کرتا، دوپہر میں کھانے کے بجائے چند بسکٹ چائے کے ساتھ کھالیتا تھا، وہی عادت آج بھی برقرار ہے ، تجارت کو بڑھانے کاسرمایہ نہیں تھا، مگر محنت، اللہ کے فضل اور اماں کی دعاؤں کی بدولت اللہ نے برکت دی، ٹیکس بھی ادا ہوا، مکان بھی بن گیا، تجارت میں بھی ترقی ہوتی گئی، چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جیسے جیسے مکمل ہوتی گئی، وہ بھی کام کرنے لگے ، ایک بھائی بیرونِ ملک بھی چلاگیا ۔
پردہ میں رہ کر ہی اماں نے اپنے سب بچوں کی شادی کے انتظامات کرنے میں میری رہنمائی کی، دین دار رشتے تلاش کروائے، ماشااللہ تینوں داماد عالم ہیں، ان میں ایک ڈاکٹر بھی ہے، ایک بیرون ملک بڑی کمپنی میں اعلی عہدے پر ہے، ایک لکھنؤ کے بڑے ادارے میں اہم ذمے دار ہے، لڑکوں کی شادیاں بھی قریبی عزیزوں میں کرائیں، اللہ کے کرم سے سب خوشحال بال بچوں والے؛ بلکہ بعض تو پوتے نواسوں والے بھی بن چکے ہیں ۔
اماں کی ایک اور کرامت کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے، جی ہاں موجودہ دور میں یہ ایک کرامت ہی ہے کہ اماں کے سب لڑکے آج الحمدللہ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اللہ کے فضل سے سب خوشحال اور صاحبِ عیال بھی ہیں، مگر شہر میں کئی مکانات ہونے کے باوجود سب ایک ساتھ قدیم مکان میں ہی رہتے ہیں،ایک ساتھ کھانا پکتا ہے، ساری بہوئیں مل کر پکاتی ہیں، ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھاتی ہیں، ساس بہو کے جھگڑے، دیورانی جٹھانی کی چپقلش سے الحمدللہ ہمارا گھر محفوظ ہے،بچیاں سب اپنے گھر میں ہیں ،مگر سال میں دو سے تین مرتبہ سب ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں، سب کے بچے ہیں، مگر سب اس طرح مل کر رہتے ہیں کہ کوئی شناخت نہیں کرسکتا کہ کون کس کا لڑکا ہے ۔
اماں کا رعب گھر کے بچے کیا، بڑے سب پر اس قدر تھا کہ اس کوغصے میں دیکھ کرسب سہم جاتے تھے ۔ میں نے کاروبار کے ساتھ دیگر مذہبی، ملی اور سماجی کاموں میں بھی حصہ لینا شروع کردیا، کئی تنظیموں سے وابستہ ہوا، جلسے جلوسوں میں شمولیت ہونے لگی، ملک وبیرون ملک کے دورے بھی ہوئے، اللہ کے فضل سے کامیابی، عزت وشہرت بھی ملی ، مگر میں آج برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے جو بھی کامیابی ملی، وہ میری اپنی قابلیت کی بدولت بالکل نہیں تھی، مجھ میں قطعی اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ میں یہاں تک پہنچتا، میں کسی نامور شخصیت کا بیٹا بھی نہیں تھا، مجھ سے کہیں زیادہ قابل ترین لوگ موجود ہیں، مجھے جو بھی حاصل ہوا ،وہ صرف اماں کی تربیت، دعا اور خصوصی توجہ کی وجہ سے ملا ہے ، میری کامیابی کے بارے میں جب کسی سے سنتی یا میرے بارے میں چھپی کوئی خبر اخبارات سے بچے سناتے ،تو بہت خوش ہوتی، ساتھ ہی یہ سوچ کر آبدیدہ بھی ہوجاتی تھی کہ ہمارے ابا ان کامیابیوں کو دیکھنے کے لئے زندہ نہیں رہے۔
میں اپنی یہ تحریر اس لئے بھی عام کررہا ہوں؛ تاکہ دنیا یہ جان سکے کہ ایک پردہ نشین، بے پڑھی لکھی مسلم خاتون اتنے عظیم کارنامے بھی انجام دے سکتی ہے، جو لوگ پردے کو مسلم عورتوں کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، انھیں اماں سے سبق لینا چاہیے۔آج اماں نہیں ہے، لگتا ہے ہم سب بے یارومدد گار ہیں، دوبارہ یتیم ہوگئے ہیں ، اس کا پلنگ خالی پڑا ہے، پان کا ڈبہ ایک طرف رکھا ہے، ہم جو کچھ کما کرلاتے، اس کے ہاتھ میں رکھ دیتے تھے، وہ روز مرہ کے اخراجات کے لئے کچھ رقم سرہانے رکھے ایک ڈبے میں رکھ دیتی تھی، اسی سے دن بھر گھر کاخرچ چلتا، بلا استثنا جس کو بھی خرچ کے لئے رقم دیتی، واپسی میں اس سے پورا حساب لیتی تھی، آج وہ ڈبہ بھی خاموش ہے ۔
یوپی کے آبائی گاؤں میں ہماری جوپشتینی زمینیں ہیں ،وہاں کی آمدنی کو اماں نے صرف کار خیر کے لئے مخصوص کررکھا تھا، گاؤں میں غریب بچیوں کی شادی ہو یا کسی غریب کا علاج اماں کو پتہ چلتا ،تو خاص طور پر اس کی دستگیری کرتی، علاقے کی ضرورت مند عورتیں آتی رہتی تھیں، اُن میں کچھ غیر مستحق بھی ہوتیں، اماں سمجھتی بھی تھی، مگر کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں کیا، دروازے پر آکر مانگنے والے فقیر، گلی سے آواز لگا کر چندہ مانگنے والے مستحق ہوں یا غیر مستحق؛ سب کو بچوں کے ذریعے کچھ نہ کچھ بھجواتی تھی ، انتقال کے بعدایسی بہت سی عورتیں گھر ائی تھیں، جن کی اماں مستقل امداد کرتی رہتی تھی۔
بہت پہلے ابا کے ساتھ پانی کے جہاز سے اس وقت حج کیا تھا، جب سعودی میں اتنی ترقی وخوشحالی نہیں تھی، دوسرا حج میرے ساتھ کیا اور تیسرا میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ، چند سال قبل ایک عمرے کا سفر بھی ہمارے سب سے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہوا ۔مزاج میں صفائی بہت تھی، بد نظمی ناقابل برداشت تھی، کہیں آنا جانا نہیں تھا؛ اس لئے غیبت چغلی جیسی برائیوں سے ہمیشہ محفوظ رہی ۔
تقریبا چالیس سال سے ذیابطیس کا شکار تھی، ذیابطیس کے دیگرعوارض کی وجہ سے پچھلے دوسالوں سے ضعف بہت زیادہ ہوگیا تھا، مگر آخر تک سماعت، نگاہ ،یادداشت اور ہوش وحواس سب درست رہے ، انتقال کے دن صبح فجر کے وقت مجھ سے بات بھی کی، اس کے بعد بھی گھر کے دیگر افراد سے حسبِ معمول بات ہوتی رہی، پھر پتہ نہیں کب خاموش ہوگئی اور ایسی خاموش ہوئی کہ پھر دوبارہ نہیں بولی:
خاموش ہوگیا تھا چمن بولتا ہوا
تدفین میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے، حضرت مفتی عزیزالرحمان صاحب اور کئی بزرگ شخصیات بھی تھیں، پہلے میں نے سوچا کہ انہی میں سے کسی بزرگ سے جنازہ پڑھانے کی درخواست کروں، پھر میں نے سوچا کہ اماں نے بڑی قربانیوں کے بعد بڑے ارمانوں سے مجھے عالم بنایا ہے، یقیناًاس کی روح کو زیادہ خوشی ہوگی اگر میں اس کی آخری نماز پڑھانے کی سعادت حاصل کرلوں،میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا تو ہوگیا ،مگر سلام پھیرتے پھیرتے میری جو کیفیت ہوئی ،وہ ناقابل بیان ہے، اندازہ ہو گیا کہ شریعت نے نماز جنازہ پڑھانے کا سب سے پہلا حق قریبی ولی کو کیوں عطا کیا ہے۔
جس وقت یہ سطریں لکھ رہا ہوں، لگتا ہے امّاں سامنے پلنگ پر پان کا ڈبہ سنبھالے بیٹھی ہے اور غصے سے کہہ رہی ہے:’’ رات بہت ہوگئی، سوتا کیوں نہیں؟ ‘‘۔
کیسے کہوں کہ:’’ اماں! جب تک تم تھیں، خوب چین سے سویا، اب تمھارے بعد جو ذمے داریاں آن پڑی ہیں، وہ کیسے سونے دیں گی؟‘‘۔
پھر بھی اماں کا حکم ہے؛ اس لئے آنکھیں بند کرتا ہوں،دعا کی درخواست،اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں