45

امن واستحکام کے پانچ برس کے انتخاب کا موقع

ڈاکٹر منور حسن کمال
سیاست کی گرم و سرد آندھیاں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے زیادہ ہی تیز ہوگئی ہیں اور سیاست کے بازار میں انصاف کی گرانی نے اس کی روح کو زخمی کردیا ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہےے کہ جسم کا زخم تو جلد یا بدیر بھر جاتا ہے، لیکن روح پر جو زخم کاری لگتا ہے، اس کا اندمال آسان نہیں ہے۔

2019کے عام انتخابات میں سیاسی کشمکش شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ جہاں ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ عروج پر ہے، وہیں الیکشن کمیشن پر تساہلی کے الزامات بھی خوب ہیں۔ الیکشن کمیشن آج کچھ جواب دیتا ہے اور کل اس کا کچھ اور مطلب نکال کر پارٹی لیڈر اسے اپنے حق میں کرلیتے ہیں۔ زعفرانی سیاست کی سیاہی نے آئینی اداروں کے چہروں کو داغ دار کرنے کی جو کوششیں کی ہیں، وہ تاریخ کے صفحات پر بہت واضح نظر آرہی ہیں۔ سیاسی موسم کی شدتیں اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔ ایک طرف موسم کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی پارہ بھی سورج کی تمازتوں کو شرمندہ کررہا ہے۔ اب عام انتخابات کے صرف دومرحلے باقی ہیں، اس لےے تمام امیدوار اپنی پوری طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں ہیں۔ علی الخصوص 12مئی کو ملک کے دارالسلطنت کا الیکشن مرکز نگاہ ہے۔ لیکن یہاں بھی وہی الزامات جوابی الزامات اپنی بہار دکھارہے ہیں۔ عوام جس روشنی کی تلاش میں ہیں وہ ابھی تک گہری تاریکی میں غائب ہے۔ لیکن ہر نگاہ پرامید ہے کہ نور کی کرنیں ضرور پھوٹیں گی۔ دہلی کاالیکشن یہ بھی طے کرے گا کہ ملک آئندہ پانچ برس کے لےے کس کو وزیراعظم کی کرسی سونپنے جارہا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں یہ خبر ہے کہ اگربی جے پی 2014کی طرح 31فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے تو کانگریس کو زبردست نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور وہ پھر اپوزیشن کی نشستیں سنبھالتی نظر آسکتی ہے۔ لیکن اگر ایک دوفیصد بھی بی جے پی کو ووٹ کم ملتے ہیں تو کانگریس کی نشستوں کی تعداد کافی بڑھ سکتی ہے۔ اس لےے کہ 2014کے الیکشن میں درجنوں نشستیں ایسی تھیں جہاں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہارجیت کا فرق بہت معمولی تھا۔ اگر ان نشستوں پر یوپی میں اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو بی جے پی کی بہت سی نشستیں اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔
سیاسی گلیاروں میں یہ خبریں بھی عام ہیں کہ جمہوریت کے چوتھے ستون یعنی صحافت کے نئے پیمانے تراشے جارہے ہیں اور ان پیمانوں میں سب سے زیادہ بہتان طرازی اپنے جلوے دکھارہی ہے۔ خبروں میں افترا پردازیاں پورے شباب پر ہیں۔ صحافت کی آنکھوں نے سرپھری آندھیوں کے تھپیڑے، ظلمتوں کے اندھیارے اور مظالم کی ایسی داستانیں شاید نہیں دیکھی ہوں گی کہ جو لوگ صحافت کا کھاتے ہیں اور اسی کے حلقوم پرخنجر تیز کےے بیٹھے ہیں۔
آتشیں اور گوتم کے گمبھیر تنازع کو بھی اسی سلسلے کی زنجیر کی ایک کڑی سمجھنا چاہےے۔ آتشیں نے خواتین کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تو گوتم اس گمبھیر الزام کو مسترد کررہے ہیں۔
یہ الیکشن اس لےے بھی یاد رکھا جائے گا کہ الیکشن کمیشن کی انتخابی تشہیر واخراجات کے لےے طے شدہ رقم 70لاکھ ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ ایسا امیدوار کوئی شاذ ہی سامنے آسکتاہے جس نے حدود کے اندر رہ کر اخراجات کے پیمانے کو پار نہ کیا ہو۔ ہمیں یہ سوال خود سے بھی کرنا چاہےے کہ ہم ان باتوں سے آگاہ ہیں یا نہیں۔ اگرآگاہ ہیں تو کس امیدوار کو منتخب کریں کہ اس میدان کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے سے بازی مارلینے کی تگ و دو میں آگے اور آگے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ جب امیدوار طے شدہ رقم سے زیادہ ہی نہیں بہت زیادہ رقم خرچ کررہا ہو تو کیا ہمیں اس بات کا جائزہ نہیں لینا چاہےے کہ جو امیدوار جیت جائے گا وہ اپنی خرچ کی گئی رقم کو زبردست منافع کے ساتھ وصول کرے گا۔ اس موقع پر ٹی این سیشن بہت یاد آرہے ہیں، جنہوں نے انتخابی اصلاحات کیں اور تمام امیدواروں کے لےے یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ آج الیکشن کمیشن کئی جگہوں پر یہ اشارہ کرچکا ہے کہ اس کے پاس محدود اختیارات ہیں، جس کی عدالت نے بھی خبر لی۔ الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی حیثیت کو سمجھنا چاہےے کہ اسے آئین کی دفعہ 324کے تحت کس طرح کی طاقت حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن کو غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الیکشن کے صاف وشفاف انعقاد میں اپنی تمام قوتیں صرف کرنی چاہئیں۔
سیاست کی گرم و سرد آندھیاں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے زیادہ ہی تیز ہوگئی ہیں اور سیاست کے بازار میں انصاف کی گرانی نے اس کی روح کو زخمی کردیا ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہےے کہ جسم کا زخم تو جلد یا بدیر بھر جاتا ہے، لیکن روح پر جو زخم کاری لگتا ہے، اس کا اندمال آسان نہیں ہے۔ اس لےے جو لوگ انصاف کی روح کو زخمی کررہے ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہےے کہ زخمی روح جب عقابی رُخ اختیار کرتی ہے تو پھر وہ آسمانوں کی جانب سفر سے پہلے سب کچھ تہہ و بالا کردیتی ہے۔
آج دارالسلطنت دہلی میں حق رائے دہی کے استعمال کا دن ہے، یعنی آئندہ پانچ برس کے لےے اپنے اوپر حکمرانوں کے تسلط کا آج آخری موقع ہے۔ اب یہ ہمیں خود طے کرنا ہے کہ ہم آئندہ پانچ برس کے لےے اپنے اوپر کیسی حکومت کا تسلط چاہتے ہیں۔ سیاسی کشمکش کے پانچ سال یا امن و استحکام کے پانچ سال۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں