226

امداد الفتاوی جدید مطول حاشیہ

تعارف و تبصرہ
مفتی محمد قاسم قاسمی اوجھاری
آج ایک تقریب سعید میں شرکت کی سعادت میسر ہوئی، جس میں اکابر علماء کے مبارک ہاتھوں سے امداد الفتاوی جدید مطول حاشیہ کا اجرا کیا گیا، یہ بات اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے علوم ومعارف کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے، اور آپ کا انداز تحریر اور انداز فتویٰ نویسی بھی ایک غیر معمولی اور منفرد اہمیت کا حامل ہے، حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے بے شمار علمی و فقہی سوالات کیے جاتے تھے جن کے جوابات مرتب کرکے آپ ماہنامہ النور میں شائع فرماتے تھے، ایک لمبے زمانہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور رفتہ رفتہ مسائل کا ایک بڑا علمی ذخیرہ تیار ہوگیا، بعد میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے ان مسائل کو مرتب کرکے امداد الفتاوی کے نام سے چھ جلدوں میں شائع کیا، جو فقہ و فتاویٰ کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور بر صغیر کے تقریباً ہر دار الافتاء میں اس سے مراجعت اور استفادہ کیا جاتا ہے، اگر ہم کو کسی مسئلہ میں کوئی صریح حکم فقہی کتابوں میں نہ مل سکے اور امداد الفتاوی میں وہ حکم مل جائے تو آنکھ بند کرکے اس پر فتویٰ دیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ امداد الفتاوی کا ہر ہر جواب بڑی گہری تحقیق و تدقیق کے ساتھ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے مرتب کیا ہے، بڑے بڑے علمی و تفصیلی سوالات کے جوابات آپ نے مختصر الفاظ میں سمیٹ دیئے ہیں، اور دو دو تین تین لائن کے جوابات بڑی بڑی لمبی تفصیلات کو محیط ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت تھانوی نورالله مرقدہ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے،
ایک لمبے زمانہ سے علمی حلقوں میں اس چیز کو محسوس کیا جارہا تھا کہ امداد الفتاوی کے مشکل مقامات کی تسہیل ہوجائے، نصوص شرعیہ اور عبارات فقہیہ سے مسائل کی تزئین ہوجائے، متضاد مسائل کی توجیہ ہوکر کوئی ایک وجہ ترجیح سامنے آجائے تاکہ ہر کس و ناکس کے لیے استفادہ آسان ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت استاذ محترم حضرت مولانا مفتی شبیر احمد صاحب دامت برکاتہم کے حق میں مقدر فرمائی اور حضرت والا اس اہم کام کے لئے کمر بستہ ہوئے، اور بہت ہی مختصر مدت میں امداد الفتاوی پر ایک گہری نظر ڈالی اور تمام مسائل کو نصوص شرعیہ اور عبارات فقہیہ سے مزین کیا، فارسی وعربی عبارتوں کا ترجمہ اور ان کی تسہیل کی، جگہ جگہ مفید حواشی بھی لگائے، اور انقلاب زمانہ کی وجہ سے جن مسائل کا حکم بدل گیا ہے ان کی بھی دلائل کے ساتھ حاشیہ میں وضاحت کی، اور متضاد مسائل کی بھی نشاندہی فرماکر کوئی ایک وجہ ترجیح ظاہر کی، حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی بے پناہ محنتوں اور قربانیوں سے یہ مجموعہ آج امداد الفتاوی جدید کے نام سے بارہ جلدوں میں منظر عام پر آرہا ہے، جو فقہ و فتاویٰ کے میدان میں ایک بڑے علمی ذخیرہ کی حیثیت رکھتا ہے،
حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے اس مجموعہ پر جو کام کیا ہے اس کی مختصر وضاحت کرتے ہوئے خود مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں :
راقم الحروف کے کام کا طریقہ اس طرح سے ہے کہ حضرت تھانوی نور ﷲ مرقدہ کے سوال وجواب کے مسائل کو قرآنی آیات اور احادیث شریفہ اور فقہی جزئیات کے ذریعہ سے مدلل کیا جائے اور اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ ہر مسئلے کے ذیل میں اس کے موافق یا اس سے قریب کئی کئی نصوص اور جزئیات درج کرکے مدلل کردیا جائے، تاکہ ناظرین کو حضرت والا تھانوی نور ﷲ مرقدہ کے سادہ جوابات یا اصولی اور علمی جوابات کے ماخذ تک رسائی کرنا آسان ہوجائے اور خاص طور پر افتاء پڑھنے والے طلبہ کے لئے ماخذ تک پہنچنا بہت ہی آسان ہوجائے۔۔۔
ہر مسئلے کے ذیل میں روایات اور جزئیات لکھتے ہوئے اب ’’امداد الفتاوی ‘‘ ۱۲؍ جلدوں میں جا کرکے مکمل ہوئی۔۔۔
ہر مسئلے پر تسلسل کے ساتھ نمبر بھی لگایا گیا، جس سے مسائل کے نمبر شمار کل ۳۵۱۴ ہوئے ہیں ، جن میں حضرت تھانویؒ کے لمبے لمبے علمی مقالات بھی شامل ہیں ۔۔۔
امداد الفتاوی ترتیب جدید منجانب حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کو نسخہ قدیم کا نام دے کر ہر مسئلہ کے ساتھ نسخہ قدیم صحفہ وجلد کی نشاندھی کی گئی ہے، تاکہ قدیم نسخہ کی طرف مراجعت میں سہولت ہو، اس سے مراد ہندوستانی نسخہ ہے، پاکستانی نسخہ مراد نہیں ہے۔۔۔
فارسی سوال وجواب کا ترجمہ کا خلاصہ اردو میں حاشیہ میں درج کردیا گیا ہے؛ کیوں کہ آج کل کے زمانہ میں فارسی داں بہت کم ہیں ۔۔۔
بہت سے ایسے مسائل جن کا حکم آج کے زمانہ میں بدل چکا ہے، ان کا حکم دلائل کے ساتھ حاشیہ میں واضح کردیا گیا ہے۔۔۔
متضاد مسائل کی توجیہ کرکے کسی ایک کی وجہ ترجیح حاشیہ میں لکھ دیا ہے۔۔۔
حضرت والا تھانویؒ نے جن مسائل میں حدیث یا فقہی جزئیہ تحریر فرمایا ہے، ان کا حوالہ جدید نسخوں کے ذریعہ سے حاشیہ میں لکھ دیا ہے، تاکہ جدید نسخوں کے مآخذ حاصل کرنا آسان ہوجائے۔۔۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نور ﷲ مرقدہ نے ’’امداد الفتاوی‘‘ میں عنوانات فارسی میں لگایا تھا، راقم الحروف نے ان فارسی عناوین کا خلاصہ اردو میں کردیا ہے۔۔۔
حضرت اقدس مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور ﷲ مرقدہ کی ترتیب میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی، پس صرف ایک جگہ کتاب الجنائز چونکہ کتاب الصلاۃ اور صلاۃ ہی کے مسائل منشورہ کے درمیان میں آگئی ہے، اس لئے کتاب الجنائز کو درمیان سے نکال کر آخر میں کردیا ہے۔ (ماخوذ از مقدمہ امداد الفتاوی جدید)
یہ بات بے تکلف کہی جاسکتی ہے کہ بڑی بڑی لجنات اور اکیڈمیوں کا جو کام ہوا کرتا ہے، وہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے تن تنہا انجام دیا ہے، اور فقہ و فتاویٰ کی پوری جماعت کی طرف سے حق ادا کردیا ہے، اس پر حضرت والا بے شمار مبارک بادیوں کے مستحق ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت کو صحت و عافیت عطا فرمائے، اور ہم سب کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے، اور اس مجموعہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے، اور مزید اس طرح کے علمی کام کرنے کی حضرت والا کو اور ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں