126

امام المؤرخین مسعودی

ڈاکٹرنگارسجادظہیر
امام المؤرخین ابو الحسن علی بن حسین بن علی المسعودی عراق میں پیدا ہوئے، ان کا سلسلہ نسب صحابئ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود سے ملتا ہے،اسی مناسبت سے مسعودی کہلاتے ہیں، بغدادی الاصل تھے، وہیں کے علما سے اکتساب فیض کیا، انہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ سیاحت میں گزارا اور عراق شام،ارمینیا، روم، افریقہ، سوڈان، چین، تبت، ہندوستان اور سراندیپ کی سیاحت کی اور ان مقامات پر کئی کئی برس قیام کر کے ان ملکوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں ۔مسعودی نے اپنی زندگی کے آخری دس سال مصر میں گزارے، یہیں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئےـ (345 ھ/956ء)
مسعودی کثیر التصانیف بزرگ تھے، تاریخ کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی کتابیں تحریر کیں ۔تاریخ پر 23 کتابوں کا تذکرہ خود مسعودی نے ‘التنبیہ والاشراف ‘میں کیا ہے۔لیکن دو کے علاوہ ان کی ساری تصانیف دست برد زمانہ کی نذر ہو گئیں ۔ان دو کتب میں ایک تو التنبیہ و الاشراف ہے اور دوسری مروج الذھب و معادن الجوھر ہے۔
مسعودی کی خواہش تھی کہ ایک ایسی جامع تاریخ مرتب کی جائے، جو اسلامی اور عمومی تاریخ کے ہر پہلو پر محیط ہو ۔اس کے لئے انہوں نے اپنی سابقہ تصنیف شدہ کتب “اخبار الزمان”اور”الاوسط”کی اہم اور نادر تاریخی معلومات، نیز اپنی دوسری علمی و ادبی تصنیفات کے جستہ جستہ واقعات لے کر مروج الذھب و معادن الجوھر مرتب کی ۔مسعودی نے اس کتاب میں ایسے کئی تاریخی واقعات کا ذکر کیا ہے،جن کا تذکرہ سابقہ کتب میں نہیں ہو سکا تھا ۔
یہ کتاب مسعودی نے336ھ/947ء میں مکمل کی۔اس کتاب کے کئی قلمی نسخے ہونے کی وجہ سے یہ کتاب محفوظ رہ گئی ۔مصر سے یہ کتاب کئی بار شائع ہوئی، فرانسیسی زبان میں اس کا ترجمہ نو جلدوں میں پیرس سے شائع ہوا ۔اردو میں اس کا ایک ترجمہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن سے اور دوسرا نفیس اکیڈمی کراچی سے شائع ہو چکا ہے ۔یہ ترجمہ کوکب شادانی نے کیا ہے، جو گمراہ کن ہے۔
اس کتاب میں مسعودی نے اپنے زمانے(یعنی 947ء) تک کی تمام مشرقی و مغربی اقوام عالم کے حالات لکھے ہیں، ان اقوام کے مذہب، رسوم و رواج، شہروں کے حالات اور جغرافیائی معلومات تفصیل سے بیان کی ہیں، مضامین کے تنوع کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔مسعودی اپنی اس تصنیف پر بڑا ناز کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مروج الذھب بادشاہوں کو تحفے میں دینے کے لائق ہے ۔
مسعودی نے یہ کتاب بڑےترقی یافتہ انداز میں لکھی ہے۔باب اول میں انہوں نے اپنے تمام مآخذ کا ذکر کیا ہے، بعض کی تعریف اور بعض پرنقد کیا ہے ۔یہ طریقۂ کار مستشرقین نے محض دو سو سال قبل ہی اختیار کیا ہے ۔
مسعودی نے جس جدید اور ترقی یافتہ انداز میں تاریخ لکھی ہے، اس کے پیش نظر وان کریمر اسے “عربوں کا ہیروڈوٹس “کہتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صاف اور سادہ واقعہ نگاری کا بہت عمدہ نمونہ ہونے کے علاوہ ادبی حیثیت سے بھی ممتاز ہے،اس کے مختصر ادبی فقرے، سادہ اور بے تکلف روزمرہ کے الفاظ کا استعمال اور طرز ادا کی بے ساختگی قابل تعریف ہے ۔مروج الذھب میں انہوں نے جہاں دیگر مسالک و مذاہب کا ذکر کیا ہے، وہاں انہوں نے بین المذاہب اختلافات کو نہیں چھیڑا؛ کیونکہ اس کتاب کو وہ مسائل جدل و نظر سے بچا کر صرف فراہمیِ معلومات تک محدود رکھنا چاہتے تھے ۔خود مسعودی معتزلی تھےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں