172

اقبال قرآن اور سائنس


ڈاکٹر علی احمد ادریسی
شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

فرانس کے عالمی شہرت یافتہ ماہرحنینیات (Embrylogist) و امراض قلب پروفیسر مورس بوکائیے (Morris Buccaille) کے مطابق قرآن کا ایک لفظ بھی سائنس اور عقل سے متصادم نہیں ہے اور قرآن میں جو سائنسی باتیں تحریر ہیں سائنس بھی ان کی پوری طرح تائید کرتی ہے نیز سائنس کے جدید ترین تحقیقات پر پورا اترتی ہے۔ موصوف نے یہ بیان اپنی مشہور زمانہ کتاب La Bible le Cornet La Science میں کی ہے جو فرانسیسی زبان میں لکھی گئی ہے بعد میں اس کتاب کا ترجمہ انگریزی ، اردو اور دیگر زبانوں میں ’’بائبل، قرآن اور سائنس ‘‘ کے نام سے کیا گیا ہے۔ قرآن پر تحقیق ،تفسیر، تشریح، تسہیل اور تفہیم کا کام صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور بلاشبہ محققین ، مفسرین نے جس عرق ریزی کا مظاہرہ کیا اس کے نتیجہ میں بہترین دینی ادب منصب شہود پر آیا ان کی یہ خدمات صدیوں پر محیط ہے۔ سقوط غرنا طہ(Grenada) کے بعد مسلمانوں کا زوال شروع ہوا اور یہ سلسہ خلافت عثمانیہ کے زوال پر اپنے نقطۂ عروج کو پہنچا۔ جس زمانہ میں ہمارے محققین دانشور، فلاسفر قرطبہ (Cordoba) ، غرناطہ اور تولیڈو (Toledo) کی یونیورسٹیوں میں بیٹھ کر تحقیق کررہے تھے اس زمانہ میں یورپ اپنے عہد تاریک (Dark ages, 500-1000 CE) سے نکل کر دورتو ثیق (Reaffirmation) اور اس کے بعد نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یورپ کا عہد زریں جسے ہم روشن خیالی (Enlightenment) سے تعبیر کرسکتے ہیں‘ اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔بعض حکما کے نزدیک یورپ میں روشن خیالی کا آغاز آرنلڈ جے ٹوائن بی Arnold J. Toynbee) )نے کیا جبکہ یہ درست نہیں ہے۔ دراصل یورپ میں روشن خیالی کا تصور ہم نے دیا ہے یہ ہمارافکر تھا جو غرناطہ، قرطبہ اور تولیڈو کی یونیورسٹیوں سے نکل کر پورے یورپ میں پھیلا جس کے سبب وہاں روشن خیالی آئی۔ بہرحال دوران نشاۃ ثانیہ ہی سے یورپ نے اپنی زندگی کے دھارے سائنس کی جانب موڑ دئے تھے جہاں سائنسی علوم کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں بیداری کی لہر جاری تھی اورزمانہ گزر نے کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی گئی۔ نتیجتاً روشن خیالی کے بعد سائنس یورپ کے ہر عہد میں محاورہ قرار پائی اور زندگی کے ہر شعبہ میں سرایت کر گئی اسی لئے اقبال نے جدید مغربی تہذیب کا انر کور (inner core) قرآنی قرار دیا ہے۔ بات بہت گہری ہے جس کا اعادہ کسی ایک مضمون میں ممکن نہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ پروفیسر ایم۔ ایم۔ شریف کی شہرہ آفاق تصنیفA History of Muslim Philosophy کی صداقتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں ماننا پڑے گا کہ انسان کے اعمال و افعال اور فکری پختگی کا دور تقریباً پانچ سو قبل مسیح یا اس کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ یہی وہ دور ہے جب انسان ہر اعتبار سے جامعیت اور تکمیلیت کے منہاج کو پہنچا اور فلسفہ اور منطق کے ہر بڑے اصول اسی عہد میں وضع کئے گئے۔ اس دور میں توہم پرستی عام تھی لہذا فلسفہ یا منطق میں صرف استخراجی منطق جسے ہم Detective Knowledge کہتے ہیں، کا راز تھا۔ توہمات پرستی کی تاریکیوں سے نوع انسانی کو نکالنے والا قرآن ہے۔ گویا یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ قرآن سے قبل دنیا میں استخراجی منطق کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ قرآن نے دنیائے عالم کو استقرائی منطق جسے ہم Inductive Knowledge کہتے ہیں سے روشناس کرایا، دیکھو، مشاہدہ کرو، غور کرو پھر نتائج اخذ کرو۔
کھول آنکھ زمیں دیکھ،فلک دیکھ ،فضا دیکھ ۔مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
یہی اسقفرائی منطق سائنس کی بنیاد بنا اور سائنس جدید مغربی تہذیب کا انرکور بن گیا۔ اور ہمارا حال یہ ہوا کہ ۔
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی
شہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئیں
قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ نشانیوں کی کتاب ہے۔ جیسا کہ اللہ خود فرماتا ہے کہ ’’ہم انہیں آفاق اور انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔ قرآن میں چھ ہزار چھ سو چھتیس آیات ہیں جن میں ایک ہزار سے زائدآیات سائنس کے متعلق ہیں۔ جدید سائنس نے جتنے بھی مشاہدات تجربات کئے ہیں سب کے سب سائنس کے میزان پر کھرے اترے ہیں۔ مثلاً فلکیات (Astronomy) ، نباتیات (Botany) ، حیوانیات (Zoology) ، طب (Medicine)، حنینیات(Embryology)، آبیات (Hydrology) طبیعیات (Physics) ، بحریات (Oceanology) ، ارضیات (Geology) ، فعلیات (Physiology) ، ریاضیات (Mathematics) وغیرہ۔ ان سبھی میدانوں میں جو بھی ا نکشافات ہوئے ہیں ان سبھی کی تصدیق قرآن کرتا ہے۔ گذشتہ صدی میں فلکی طبیحیات کے ماہرین نے بگ بینگ تھیوری (Big Bang Theory) وضع کی اور بتایا کہ ابتداء میں یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت کی شکل میں تھی جسے Primary Nebula بھی کہتے ہیں۔ پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا جس کا نتیجہ کہکشانوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشاں نیں تقسیم ہوکر ستاروں،سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔ اس واقعہ کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ’’ کیا لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کردیا‘‘۔ اسی طرح ۱۹۲۵ء میں پھیلتی ہوئی کائنات کا تصور امریکی ماہر طبیحیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے دیا اور اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دورہٹ رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات پھیل رہی ہے ۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے جس کی تصدیق قرآن کرتا ہے نیز گذشتہ صدی کا عظیم سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) اپنی غیر معمولی شہرت یافتہ کتاب A Brief History of Time میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ بیسویں صدی کی عظیم علمی وفکری انقلاب میں سے ایک ہے۔‘‘ اقبال کا مشہور زمانہ شعر بھی ہماری فہم میں ہونا چاہئے:

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیا کون
قرآن کی حقانیت او ر اس کی صداقت کی گواہی جدید دور کے بڑے بڑے سائنس داں نوں نے دی ہے۔ مضمون کی طوالت کے سبب یہاں سبھی کا ذکر نہیں کیا جاسکتا محض ایک دو ناموں پر اکتفا کیا جائے گا۔ بحریات کے متعلق قرآن میں جن آیات کا ذکر ہے سائنسی نقطۂ نظر سے ان کی تصدیق ڈاکٹر ولیم ہے (Dr. William Hay) نے کی ہے جو کولوراڈو یونیورسٹی امریکہ کے مشہور ماہر بحریات اور علوم ارضی کے پروفیسر ہیں۔ جینی مراحل (Embryological Stages) کا جو تذکرہ قرآن نے پیش کیا ہے اس کا اعتراف پروفیسر کیتھ مو (Keith Moore) اور پروفیسر مارشل جانسن (Marshal Johnson) نے ان الفاظ میں کی ہے ۔’’جینی نشوو نما کے مرحلے کی جو وضاحت قرآن پاک نے ہمیں دی ہے اس سے بہتر کوئی اور ممکن نہیں۔‘‘
اقبال کا قرآن پاک کی جانب بار بار لوٹنے کا اصرار اور اس میں غوطہ زنی کرنا نیز مستغرق رہنا ان تمام قضیہ کا حل تلاش کردیتا ہے جس کا ذکر ہم سطور بالا میں کرچکے ہیں۔ اقبال کی دانش بہت سے جدید علوم کی جامع تھی۔ اقبال کے زمانہ میں سائنس میں جو نئے نئے تجربات ، مشاہدات وانکشافات رونما ہورہے تھے ان تمام تبدیلیوں سے وہ کماحقہ واقف تھے ان کے ذاتی لائبریری کے مشاہدہ سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے اور خوش گوار حیرت بھی ہوتی ہے کہ اقبال کا جدید سائنسی علوم کا مطالعہ کتنا عمیق اور وسیع تھا۔ یہ کتب و رسائل ہمیں مقام حیرت میں ڈالتے ہیں۔چند سائنس دانوں کے نام جو مطالعہ اقبال میں رہے۔
Cantor, R. Bacon,F.Bacon Eddington, Darawin, Freud, Einstein, Newton,Hobbs, Whitehead, Spencer, Max Planck وغیرہ۔ خطبات اقبال میں کثرت سے پھیلے ہوئے سائنسی تصورات میں چند کا ذکر بھی دلچسپی کا باعث ہے۔ آپ موضوعات پر غور کریں کہ ان میں ایسا کوئی بھی موضوع نہیں جو جدید سائنس کی اساس نہ ٹھہرتا ہو۔ ایٹم، وقت، زماں و مکاں،ارتقاء حیات ، شکل نفسیات(Configuration Psychology)حسی ارتقاء (Emergent avolution) دہر، روشنی،میکانکیت، طبیعیات، نفسی مظاہر (Psyche Phenomena) حرکت کی مقدار (quantum of action) حر کی میکانیات (Dynemic Mechanic) اضافیت و عمل (Relativity and Action) جنسی تمثال وغیرہ۔ ان میں بیشتر موضوعات کا تعلق physics یا theoretical Physics سے ہے۔ اس حقیقت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اقبال کو طبیعیات سے کس قدر شغف تھا۔ بنیادی طور پر اقبال مابعد الطبیعیات (Metophysis) کے طالب علم ر ہے۔مگر پوری زندگی اس قضیہ کا حل تلاشتے رہے کہ کس طرح مابعد الطبیعیات کے روحانی پہلوؤں کو طبیعیات میں جم کیا جائے یا طبیعیات مابید الطبیعیات میں جم ہوکر ایک اکائی کی شکل اختیار کرلے ان کا ایقان تھا کہ یہ ہم آہنگی ہوکر رہے گی چاہے مستقبل قریب میں نہ ہو کر مستقبل بعید میں ہو اور واقعہ بھی یہ ہے کہ جدید سائنس نے جن فتوحات کے پرچم لہرائے ہیں ان تمام تر انکشافات کو قرآن نے درست قرار دیا ہے۔لہذا اقبال کی یہ prophacy شرمند�ۂ تعبیر ہورہی ہے۔ اقبال سائنسی منہاج اور استقرائی فکر کو کس قدر اہمیت دیتے تھے اور ان کی نظر اپنے دور کے نت نئے سائنسی انکشافات کے حوالے سے کس قدر عمیق تھی اس کی مثال ان کے شعر و ادب سے دی جا سکتی ہے۔ جہاں ہر سو جانب حرکت و عمل کا دفتر کھلا ہوا ہے۔ ’’ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘‘ کو ہم نے شاعران تعلی سمجھ لیا جبکہ اس سے اقبال کی مراد یہ تھی کہ نوجوان زیادہ سے زیادہ سائنس کی جانب راغب ہوں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں ۔ جاوید نامہ جو ان کے روحانی سفر کی داستان ہے جسے ہم ایشیا کی ڈیوائن کمیڈی (Devine Comedy) کہہ سکتے ہیں ،میں جب اقبال فلک مریخ پر پہنچتے ہیں تو وہاں کے مثالی شہر مرغدین کو دیکھ کر ان کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں اسی مثالی شہر میں ان کی ملاقات حکیم مریخی سے ہوتی ہے جنہیں عرف عام میں افلاطون کے نام سے جانا جاتا ہے وہ اقبال کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے سائنسی تحقیق و جستجو کے لئے امریکہ، جاپان اور چین کے سفر کئے ہیں اور یہ سفر انہوں نے دھاتوں (Metals)کی تحقیق کے لئے کیا تھا۔ میں زمین کے شب و روز کی خبر رکھتا ہوں میں نے زمین کے بحر و بر کا سفر کیا ہے۔ اقبال نے حکیم مریخی کو ایک روحانی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اقبال سائنس اور روحانیت کی ہم آھنگی کے قائل تھے جو ایک انوکھا اور نادر تصورر ہے نیز قابل قدر ہے۔ اقبال زندگی کے ارتقا کے لئے سائنس کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک زندگی کا ارتقا اس تعلق پر منحصر ہے جو اس نے خارجی حقائق سے استوار کیا ہے لہذا وہ قرآن کی بنیادی روح کو استقرائی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب استقرائی استدلال سے دوری ہے جو سائنس کی بنیاد ہے لہذا قرآن کو کتاب زندہ کا لقب دیا اور فرمایا:
خوار از مجہوری قر آں شدی شکوہ سنج گردش دوراں شدی
اے چو شبنم بر زمیں افتندئی، دربغل داری کتاب زندہ ئی
موجودہ دور میں جدید طبیعیات دراصل روحانیت کی ہی جانب محو سفر ہے اور اس سفر میں وہ منزل ضرور آئے گی جب طبیعیاتی اور مابعد الطبیعیاتی حقائق ایک ہوجائیں گے۔ کچھ امور پر یہ کامیابی حاصل ہوچکی ہے کچھ پر باقی ہے جو مستقبل بعید میں انشااﷲ پوری ہوکر رہے گی۔ جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود

idrisio77@gmail.com
9891129986

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں