281

اظہارِ تشکراورحقیقتِ حال

ڈاکٹرشاہدبدرفلاحی
جنوری2001 میں گجرات بھج میں شدید زلزلہ آیاتھا۔اس موقع پر اسٹوڈینٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا(سیمی) نے وہاں کے متاثرین کے مابین بہت بڑے پیمانے پر ریلیف کا کام کیا تھااور موقع موقع سے عوامی تذکیری پروگرام بھی کئے تھے،جو خالص دینی بیداری پیدا کرنے کے لئے تھا،ایسے ہی پروگرام میں میرا بھی خطاب ہوا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس خطاب عام کو لیکر مقامی پولیس نے مقامی رفقا کو گرفتار بھی کیااور ان پر مقدمہ بھی چلایا۔وہاں مقامی طور پر میرے نام کا بھی تذکرہ تھا۔ یہ بات sim پر پابندی لگنے سے تقریبا 4ماہ قبل کی ہے۔27ستمبر کو پابندی لگ گئی اور مجھے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا،جیل میں رہتےہوئے میری کوشش تھی کہ میرے خلاف پورے ملک میں جہاں جہاں مقدمات ہیں،ہر جگہ مجھے لےجایا جائے تاکہ اسی عرصہ میں سارے مقدمات فیصل ہوجائیں اور ایسا ہوا بھی،گورکھپور سے وارنٹ گیا،بہرائچ سے وارنٹ گیا،اعظم گڑھ میں بھی میرے خلاف مقدمہ پہلے سے تھا۔یہاں سے بھی وارنٹ گیا۔ مجھے دہلی تہاڑ جیل سے گورکھپور جیل،یہاں سے بہرائچ جیل لے جایاگیا اور اعظم گڑھ جیل سے 7اپریل 2004کو میں رہا ہوا،الحمدللہ ؛لیکن اس عرصے میں گجرات بھج سے کوئی وارنٹ نہیں آیا۔
ابھی 5ستمبرکوعشاسے قبل آٹھ بجےاچانک ایک Boleroگاڑی پر سوار کچھ لوگ سادہ لباس میں آئے ،انکے ساتھ بلرام پور پولیس چوکی سے ایک سپاہی تھا۔انہوں نے پوچھا شاہدبدر؟؟میں نے کہا:ہاں،میں ہوں۔ کہا: گاڑی پر بیٹھو، پولیس اسٹیشن چلنا ہے۔ مقامی پولیس نے یقین دہانی کرائی۔ خیر مجھے گاڑی پرسوارکرکے پولیس چوکی لایا گیا۔ وہاں سے کوتوالی۔ گجرات پولیس مجھے فورًا گجرات لے جانا چاہ رہی تھی۔ میں دل ہی دل میں دعائیں کررہا تھاکہ اے اللہ! ایسا نہ ہو۔ میں وہاں بھج آزادانہ طور پر جاؤں اوراپنے معاملے دیکھوں۔۔میرے گاؤں کے سارے نوجوان اور شہر سے مدثر جاوید یہ تمام کوتوالی فورًا پہنچے ۔ محترم ایڈوکیٹ عبدالخالق صاحب کو رفقا نے اطلاع دی، وہ بھی 20منٹ کے اندر کوتوالی پہنچ گئے ۔ وہ میرے لئے کھانا لائے تھے۔ لیکن گجرات پولیس کہ رہی تھی:چلو کھانا راستے میں کھا لینا،وکیل عبدالخالق صاحب نے وارنٹ دیکھا،اس پر اعتراض کیا کہ آپ ان کو ایسے نہیں لے جاسکتے،پہلے ان کا میڈیکل ہوگا۔یہاں کی کورٹ میں پیشی ہوگی اورجج کے آرڈر (transitremand)کے بعد ہی آپ ان کو لے جا سکتے ہیں ۔اللہ ایڈوکیٹ عبدالخالق صاحب کی عمر،صحت اور رزق میں برکت دے،جو رات 8:30بجے میری رہائی اور بسلامتی گھر پہنچنے تک ساتھ رہے۔انہوں نے اپنے ساتھ محنتی وکلا کی ایک ٹیم تیار کی ،سنیئر وکیل ارون سنگھ جی کی قیادت میں بینچ سے ہہلےیہ معاملہ جج کے روبرو پیش ہوا۔وکلاکی مدلل بحث کو سننے کے بعد جج نے فیصلہ سنانے میں کافی وقت لیا،شام 5بجےاسنے فیصلہ سنایا۔۔اس کے بعد ہم رہا ہوئے۔ پورے دن کورٹ میں چاہنے والوں کا ہجوم تھا۔ وحدت اسلامی کے مقامی ذمہ داران جناب ماسٹرطریق احمد صاحب،رضوان بھائی،رہائی منچ سے مسیح لادین سنجری ،طارق شفیق،جامعتہ الفلاح سے مولانا کمال الدین صاحب، مولانا اظہار صاحب،منچوبھا اور پڑوسی گاؤں ککرہٹہ کے سارےبیدار نوجوان بطورخاص سابق پردھان عبدالمنان،محتر عبداللہ بھائی رحمت نگر بھی پورے وقت موجود رہے۔۔محترم عالم بدیع اعظمی صاحب کے فرزندبابو بھائی پورے دن کورٹ میں ہی رہے۔ احاطہ کوتوالی سے لیکر ڈسٹرکٹ ہاسپیٹل اور احاطہ عدالت میں چاہنے والوں کا ایک سیلاب تھا،جو امڈا جا رہا تھا۔ میں کٹگھرے میں ہی تھا، شام تقریبا 4بجے نورالھدی علما کونسل اپنے دوساتھیوں کے ساتھ مجھ سے ملنے آئےاور بتایا کہ باہر مولانا طاہرمدنی صاحب بھی موجود ہیں،رہا ہونے کے بعد جب میں باہر آیا تو مولانا محترم سے ملاقات ہوئی ،یہ رہائی خالص اللہ کا کرم ہے، اسکی عطا ہے۔
ایڈوکیٹ رفیق احمد صاحب محنتی، نڈر، بے خوف وکلا کی محنت بطورخاص ایڈوکیٹ عبدالخالق صاحب، ایڈوکیٹ ارون کمار سنگھ جی، ایڈوکیٹ شمشاد بھائی اور ان کے رفقا کی بر وقت محنت اور کوشس، جاں نثار نوجوانوں کی استقامت اور مخلصین کی دعاؤں کا ثمرہ ہےیہ کامیابی۔اللہ نے ان بدخواہوں کی چالوں کو الٹا کردیا۔ بیشک اللہ بہترین کارساز ہے۔۔میں اس وقت دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں ان تمام لوگوں کا،جنہوں نے میری خاطر تگ ودوکی،میری رہائی کیلئے دعائیں کیں،جو لوگ کورٹ میں پورے دن کھڑے رہے،ملک بھر کے ان تمام لوگوں کابھی مشکورہوں،جنہوں نے فون کیا اور میری خاطر دعائیں کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں