155

اسلام امن و سلامتی کا پیامبر !

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ
اسلام امن و سلامتی کا علم بردار اور محبت و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے ،جس میں ظلم و تشدد کی مطلق گنجائش نہیں،خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جوازنہیں۔مذاہب عالم کے غیرجانب دارانہ مطالعہ کے بعد پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انسانی جان کے احترام و وقار اور امن و اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو دین اسلام نے جس درجہ اہمیت و اولیت دی ہے ،کسی مذہب نے نہیں دی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 146146جو کوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا او رجو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ 145145 (الانعام:32)اسی طرح حج? الوداع کے تاریخی موقع پر آپ ﷺ نے اپنے اس عظیم خطبہ میں جو انسانیت کے لیے دائمی منشور اور حقوق و فرائض کے حوالہ سے مکمل دستور کی حیثیت رکھتا ہے ،اس بات پر زور دیا کہ ناحق کسی کا خون نہ بہایا جائے ، چناں چہ ارشاد فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لیے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اسی مہینے ( ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) او رتمہارے اس دن کی حرمت ہے ۔ تم سب اپنے پروردگار سے جاکر ملوگے ، پھروہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گم راہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری، باب حجۃ الوداع، صحیح مسلم )یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گم راہوں کا کام ہے ، نیز ایک دوسرے کو کافر یا گم راہ کہہ کر قتل کرنا شریعت مطہرہ میں گناہ وجرم ہے ۔ علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں:146146اسلام عدل ،سچائی اورامن پسندی کادین ہے ؛ یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے اسلام کو امن وسلامتی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا ہے ۔انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے اور منہجِ سلف کو اختیار کرنے ہی سے ممکن ہے ۔145145
اسلام قتل و خونریزی کے علاوہ فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور جھوٹی افواہوں کی گرم بازاری کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے وہ اس کو ایک جارحانہ اور وحشیانہ عمل قرار دیتاہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 148اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا مت کرو147(الاعراف:56)۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے ؛جس کو قرآن نے عطیہ الٰہی کے طور پر ذکر کیا ہے ،فرمایا: 148اہل قریش کو اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہئے جس رب نے انہیں بھوک سے بچایا کھانا کھلایا اور خوف و ہراس سے امن دیا147(القریش:4)اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت (حرم مکہ)کو گہوارۂ امن قرار دیاگیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 148اس کے سایہ میں داخل ہونے والا ہر شخص صاحب امان ہوگا۔( آل عمران:97)
یہ اسلامی تعلیمات ہی کا فیضان ہے کہ بعثت محمدی کے بعد رافت ورحمت،ہمدردی و رواداری اورامن و شانتی کے حیرت انگیز مناظر سامنے آئے اور دنیا میں بڑی بڑی حکومتوں کے اندر انسانی جان کی ناقدری کے خوفناک واقعات اور ہولناک حادثات آمد اسلام کے بعد موقوف ہوئے اور دہشت وخونریزی سے عالم انسانیت کو نجات ملی، انہیں تعلیمات کے باعث ایک مختصر مدت میں عرب جیسی خونخوار قوم تہذیب وشرافت کے سانچے میں ڈھل گئی اور احترامِ نفس وامن و سلامتی کی علمبردار ہوکر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی، جس کا نقشہ قرآن کریم نے کچھ اس طرح کھینچا ہے : 146146اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔145145 (آل عمران: 103)
یہ حقیقت واقعہ ہے کہ اسلام نے احترام انسانیت کی جگہ جگہ تلقین کی ہے ،جملہ انسانوں کو ایک پالنہار کی رعایا اور ایک باپ کی اولاد بتلایا ہے ؛کیوں کہ انسان ہی سے کائنات آباد وشاد ہے ،اسی سے دنیا کی مصلحتیں پوری ہوتی ہیں اور نظام حیات اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے ،تکریم نوع انسانی کے تعلق سے ارشاد خداوندی ہے :اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی۔(سورۂ اسراء: 70)خود نبی اکرم ﷺنے آغاز وحی سے قبل قیام امن کے لیے جو کوشش و جدو جہد فرمائی اس کا اندازہ حلف الفضول کے اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ زبید شہر کا رہنے والا یمن کا باشندہ مکہ مکرمہ کچھ تجارتی ساز و سامان لے کر آیا ، عاص بن وائل نے اس سے وہ سامان تجارت کے طورپر خریدلیا؛ لیکن اس کاحق دینے سے مکرگیا ۔ وہ شخص فریاد و دادرسی کے لئے سرداران قریش کے پاس گیا اور اپنا مدعا پیش کیا؛لیکن کسی نے اس کی دادرسی نہیں کی چونکہ عاص بن وائل کی قریش کی نظر میں بڑی وقعت تھی اس لئے اس کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے کوئی اس مظلوم کی نصرت و حمایت کے لئے آمادہ نہ ہوا ۔ چنانچہ اس نے جبل ابی قیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ کھینچا اور انسانیت نواز افراد کو نصرت و حمایت کے لئے پکارا ۔ زبیر بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ اس مظلوم کو اس طرح نہیں چھوڑسکتے ، اس کی حمایت کرنا ہمارا فریضہ ہے ۔پھر آپ نے دیگر قبائل کے سرداران سے تبادلۂ خیال کیا اور ذوالقعدہ کے مہینہ میں پانچ قریشی قبائل :بنوہاشم ،بنومطلب ،بنو اسد ، بنو زہرۃ اور بنوتیم کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طئے پایا ۔ مذکورہ قبائل کے سردار بنوتیم کے سردار عبداللہ بن جدعان کے گھر میں کھانے پر جمع ہوئے ۔ اس عہد و پیماں میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ? و سلم بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ شریک تھے ۔ معاہدہ یہ تھا کہ اگر مکہ میں کسی پر ظلم ہوا تو ہم اس کی مدد کو دوڑیں گے اور ظالم کو مکہ میں رہنے نہیں دیا جائیگا۔ السیرۃ النبویۃ ، ابن کثیر ، ۱:۷۵۲ کے مطابق 146146بنوہاشم ، بنوزہرہ اور بنوتیم بن مرہ ، عبداللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کے نام پر باہمی معاہدہ کیا کہ جب تک سمندروں میں پانی موجود ہے اور جب تک حرا اور شبیر پہاڑ اپنی جگہ موجود ہیں ، وہ ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں یکجاں ہونگے حتی کہ اسے اس کا حق مل جائے نیز آپس میں ہمدردی اور غمخواری کا سلوک کریں گے 145145۔
آپﷺ اعلان نبوت کے بعد انسانیت پر مبنی تاریخی معاہدہ کا ذکر فرماتے اور فرمایا کرتے : میں عبداﷲ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر مجھے اس کے لئے دور اسلام میں بلایا جاتا تو میں اسے یقیناًقبول کرلیتا۔ (الرحیق المختوم )
پچھلی چاردہائیوں میں دور حاضر کا سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ جس نے انسانیت کو شعلہ زن آگ میں دھکیل دیا اور جس کی لپیٹ میں پورا عالم جھلس رہاہے وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے ، اضطراب وبے چینی اور خوف ودہشت پھیلانے کا مسئلہ ہے ۔اس وقت دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان میں بھی فسطائیت و فرقہ پرست قوتیں امن وامان کی فضاکومکدرکرنے پرتلی ہوئی ہیں۔ابھی حال ہی میں ہندوستانی فوج پر پلوامہ میں جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے وہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے،حقائق سے پردہ تو اس وقت اٹھے گا جب اس سانحہ کی اعلی سطحی تحقیقات ہوں گی ۔
اس اندوہناک حادثہ نے پورے ہندوستان میں غم و ماتم کی ایک لہردوڑگئی ہے ، ہر آنکھ اشکبار ہے ، ہر دل رنج میں ڈوبا ہوا ہے ،اس کیفیت کے باوجود ملک کا ہر شہری یہ چاہتا ہے کہ ظالموں کو منہ توڑ جواب دیاجائے ، ہمارے سپاہیوں کی شہادت کا انتقام لیاجائے ، جس طرح خفیہ سازش کے تحت ہمارے درجنوں جوانوں کو جاں بحق کیاگیا اسی طرح خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ ان کے اصلی قاتلین کا پتہ لگایاجائے ۔سیاسی اعتبار سے دیکھاجائے تویہ افسوس ناک واقعہ جہاں ایک طرف ملک کی سیکولرزم پر ایک سیاہ دھبہ ہے وہیں دوسری طرف موجودہ مرکزی حکومت کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔مذہبی اعتبار سے غورکیا جائے تو یہ دہشت گردانہ حملہ ،اسلام و ایمان کے سراسر خلاف ہے ،نبی اکرمﷺکی تعلیمات کے بالکل منافی ہے ؛بلکہ آگے بڑھ کر یہ کہنا بجا ہوگا کہ انسانیت اورانسانی اقدار کے بھی بالکل مغائر (opposed)ہے ۔
حقیقت کو جانے بغیر معاملہ کی تہہ تک پہونچنے سے پہلے ہی بعض غیرمسلم تنظیمیں پورے زورو شور کے ساتھ مسلمانوں کواس کا ذمہ دار بتلاکر ٹیررسٹ Terroristو دہشت گرد قرار دے رہی ہیں اور جہاں 148قال اللہ وقال الرسول147 کی صدا بلند کی جاتی ہیں اسے جہادی سینٹر اور دہشت گردی کے اڈے بتلارہی ہیں؛جب کہ احادیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اتنی کثرت سے ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جو ایک عام ذہن والے کو بھی یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ دین اسلام کی تعلیمات و ہدایات میں انسانی زندگی کے لئے وہ بہترین رہنمائی ہے جو نہایت خوش گوار اور خوش حال، پُرامن اور پُرمسرت زندگی کی ضامن،پیار والفت، سلامتی و عافیت، راحت و رحمت اور ہر طرح کے فوز و فلاح کی باعث ہے ۔ وہ دین جو نماز کے لئے وضو میں مسواک پر زیادتء اَجرکی خوش خبری سناتا ہے کہ منہ سے بدبو نہ آئے تاکہ مسجد میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوسرے نمازیوں کو کراہت محسوس نہ ہو، وہ دین جو حلال جانور کو بھوکا پیاسا ذبح کرنے سے منع کرتا ہے ،تاکہ جان نکلنے میں تکلیف و دقت نہ ہو، وہ دین جو رہ گزر سے کانٹے دور کرنے پر ثواب بتاتا ہے تا کہ راہ چلنے والوں کو دشواری نہ ہو، وہ دین جو جانور کی جان محض تلف کرنے کے لئے شکار کو پسند نہیں کرتا اور کسی جان کا بھی مُثلہ کرنے(صورت و حلیہ بگاڑنے ) کی سختی سے ممانعت کرتا ہے ، وہ دین جو کسی کی عزت، جان، مال کے ناحق معمولی سے نقصان کو بھی گناہ عظیم بتاتا ہے ، وہ دین جوباہمی محبت کو ٹھیس پہونچانے والی بیماری غیبت وچغلی کو زنا جیسی برائی سے زیادہ سخت بتاتا ہے ،کیااس دن میں دہشت پھیلانے اور نفرت کو عام کرنے کا الزام مبنی بر انساف ہوسکتا ہے ؟؟؟
اسلام ،اہل اسلام اور مدارس اسلامیہ کے خلاف یہ پروپیگنڈہ جہاں ہمارے لیے باعث حیرت و استعجاب ہے وہیں یہ ہمارے لیے نہایت شرم وافسوس کا مقام ہے کہ صدیوں سے ایک ساتھ رہنے کے باوجود برادران وطن کو ہمارے بارے میں صحیح بات معلوم نہیں،باشندگان وطن کی ایک بڑی تعداد کثرت اختلاط و معاملت کے باوجود ہم سے اور ہمارے دین سے واقف نہیں، ہم خود مخالفت میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔آج ضرورت ہے کہ ہم آپس کی اس خلیج کو کم کریں اور برادران وطن کے ساتھ بیش از بیش تعلقات بڑھانے کی کوشش کریں۔ماضی میں ہندوستا ن کے مخلوط معاشرے میں ہمارے تعلقات گہرے تھے اور ہماری بلند اخلاقیات کی گواہی خود غیر مسلم دیتے تھے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانان ہند برادران وطن کے سامنے امن وسلامتی کے پیامبربن کر خود کو پیش کریں۔ ہم سب کو اپنے قول وعمل سے یہ پیغام دینا ہے کہ ہم صلح وآشتی کے پیامبر ہیں۔توحید کا تصور پیش کرنا دوسرا مرحلہ ہے ۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ غیر مسلمین سے تعلقات استوار کئے جائیں۔ تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ اس کے لیے طویل مدتی لائحۂ عمل اور انتھک محنت و جدو جہد درکار ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں