232

اسلامک کلچرل سینٹر جیسے اداروں سے مسلمانوں کا کیافائدہ ہے؟


افروز عالم ساحل
مسلمان،جن کی شرحِ خواندگی 2011ء کی مردم شماری کے مطابق صرف68.5فیصدہے،جو ہندوستان کے دوسرے طبقات کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔
مسلمان،جن کے چھ سے چودہ سال کی عمر کے 25؍فیصد بچوں نے یاتو کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا یا پھر وہ شروع میں ہی پڑھائی چھوڑ گئے۔
مسلمان،جن کی کل آبادی کے صرف2.75فیصدلوگ ہی گریجویٹ ہیں۔
مسلمان،جن کے بچے ملک کے مشہور کالجز میں پوسٹ گریجویشن کے لیے دوفیصدسے بھی کم تعداد میں داخلہ لے پاتے ہیں۔
مسلمان،جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ملک کی کل آبادی کا13؍فیصدہیں،مگر ملک کی ایڈمنسٹریٹیوسروس میں ان کی تعداد محض3؍فیصد،فارین سروس میں 1.8 فیصد اور پولیس سروس میں محض4؍فیصدہے۔
اب آئیے آپ کولے چلتے ہیں دہلی کے پاش علاقہ لودھی روڈ،یہاں اونچی اونچی عمارتوں کے بیچ ایک عالیشان عمارت انڈیااسلامک کلچرل سینٹر کی بھی ہے(اسے کلچرل سینٹر کی بجاے مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کا کلب کہنا زیادہ بہتر ہوگا)یہاں پچھلا ایک مہینہ بے حد اہم تھا،دہلی میں بے پناہ سردموسم ہونے کے باوجود یہاں کی دیواروں سے سیاسی توے پر سینکی جارہی روٹیوں کی گرماہٹ مسلم علاقوں میں چھائی ہوئی تھی،آخر Elite مسلمانوں کے اس کلب کا الیکشن جو تھا!
اس الیکشن میں مختلف عہدوں پر لگ بھگ 38؍امیدواراپنی قسمت آزمارہے تھے،پیسہ پانی کی طرح بہتا رہا اور اس کلب کے خود ساختہ رہنماتختِ قیادت پر قبضے کی تدبیریں کرتے رہے،اس لڑائی میں مال و دولت ،طاقت و قوت سے لے کر اثر و رسوخ اور ہر قسم کے جوڑ توڑ کا استعمال کیاجاتارہا،حصولِ اقتدارکے لیے ہر قسم کے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ایسا لگاکہ بریانی،چکن و مٹن کی خوشبوآئی آئی سی سی کے احاطے سے نکل کر دہلی کے lutyens-zoneسمیت تمام پاش و مسلم علاقوں میں پھیل گئی ہو،جم کر دعواتیں اڑائی گئیں،یوں محسوس ہورہاتھا کہ یہ کسی کلب کا نہیں،دہلی کی چاندنی چوک سیٹ کا الیکشن ہے ،جسے جیتنے کے لیے کانگریس و بی جے پی کے مابین نوراکشتی ہورہی ہے۔(حالاں کہ اس کلب کے سب سے بڑے عہدے پر کھڑے امیدواروں میں ہمیشہ یہ مقابلہ ہوتا رہاہے کہ کون بھاجپا کے کتنا قریب ہے)اس الیکشن کو جیتنے کے لیے اتنے وسائل جھونک دیے گئے کہ لگا دہلی اسمبلی کا کوئی منی الیکشن ہورہاہے،اہم سیاسی لیڈران کے ساتھ کئی سابق گورنر،سابق جسٹس،سابق آئی اے ایس ،آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران بھی اس الیکشن میں تشہیری مہم اور ووٹ دینے ومانگنے میں شامل تھے۔
محض3214؍اِلیٹ ممبران کے درمیان ہونے والے اس الیکشن کو یوں پیش کیاگیا گویا پورے ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کی عزت کا سوال ہو، باربار اس سینٹر کوعالمی شناخت دلاکر مسلمانوں کی عزت وعظمتِ رفتہ کو واپس لانے کی بات کی جاتی رہی،مگر اس کلب کے رہنما مسلمانوں کے تئیں کتنے حساس اور بیدار ہیں، اس کی کہانی یہاں کی لائبریری ہی بخوبی بیان کردیتی ہے،3214؍اِلیٹ ممبروں والے اس کلب کی لائبریری میں محض2775؍کتابیں ہیں۔
ان گنے چنے مسلمانوں کی انتخابی سیاست کی اہمیت کا اندازہ آپ اسی بات سے لگاسکتے ہیں کہ پچھلے الیکشن میں اس کا معاملہ عدالت تک پہنچ گیاتھا،وہ تو بھلاہو اس ملک کی عدالت کا،جس نے خود کو اس سے دور رکھناہی مناسب سمجھا۔یہاں آپ کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ منتخبِ روزگار مسلمانوں کے اس الیکشن میں محض2041؍ممبران نے ووٹ ڈالا۔حد تو یہ ہے کہ یہ اِلیٹ و سرکاری مسلمان پورے انتخابی مہم میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت کرنے کی بات کرتے رہے؛لیکن سوال یہ اٹھتاہے کہ جب یہ سبھی لوگ نوکر شاہ تھے،تب مسلمانوں کی کوئی خدمت کیوں نہیں کی اور اب وہ اس اسلامک سینٹر کی آڑمیں مسلمانوں کی کیوں اور کیاخدمت کرنا چاہتے ہیں؟جب یہ سارے لوگ کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے جڑے ہوتے ہیں،تو غریب و عام لوگوں کے مسائل پربولتے ہوئے ان کی زبانوں میں آبلے کیوں پڑجاتے ہیں؟غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ جب اسی دور میں ملک کے مختلف علاقوں میں گائے کے نام پر مسلمانوں کو ماراجاتاہے،تویہ اِلیٹ مسلمان کہاں ہوتے ہیں؟اس سینٹرکا پوراڈھانچہ اور اس کو کنٹرول کرنے کے لیے ہونے والے الیکشن کا یہ سارا واقعہ کئی سارے جلتے ہوئے سوالات کھڑے کرتا ہے،مثلاً یہ کہ آخر اس سینٹر کے ذمے داران اسلام اور مسلمانوں کے نام پر کس کی رہنمائی کررہے ہیں؟کروڑوں کا یہ بجٹ کس کے پیسوں سے پھونکاجارہاہے؟نجی جیت ہار کا بوجھ سماج کے کندھوں پر کب تک ڈالاجائے گا؟اور ایک سوال یہ بھی ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی چیخیں آخربریانی و قورمہ کے ذائقوں اوراس طبقے کے سفاک قہقہوں کے شور میں کب تک دفن ہوتی رہیں گی؟
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جو قوم ہرمحاذپر بدحال ہے،اس قوم کے ایک چھوٹے سے الیکشن میں ،جس کا سماج میں کوئی کردارنہیں ہے،کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں ،توپھر وہ قوم اپنی بدحالی کا رونا آخر کیوں اورکس حق سے روتی ہے؟مزیدافسوس کی بات تویہ ہے کہ صرف اس کلب کا الیکشن ہی نہیں ؛بلکہ چھوٹی چھوٹی مسجدوں، مدرسوں اور تنظیموں میں بھی پیسہ اور طاقت و قوت کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں،یہاں تک کہ بعض دفعہ غنڈے تک بلالیے جاتے ہیں اور یہ غنڈے قوم کے رہنماؤں اور مولاناؤں کے ذریعے بلائے جاتے ہیں،ایسے میں یہ سوال یقینی طورپر اٹھتاہے کہ قوم کی ہمہ گیر بدحالی کا ذمے دار کون ہے؟
ہمیں ان تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈنے ہی ہوں گے،ساتھ ہی یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ آئی آئی سی سی جیسے اداروں سے عام و غریب مسلمانوں کا کیافائدہ ہورہاہے؟اور اگر کوئی فائدہ نہیں ہورہاہے،تو پھر ہم اپنے نام پر یہ سیاست کیوں ہونے دے رہے ہیں؟ان سارے سوالوں کے ساتھ ساتھ سراج الدین قریشی صاحب کو چوتھی بار سینٹر کا صدر بننے پر مبارکباد…!
(بہ شکریہbeyondheadlines.in)
ہندی سے ترجمہ:نایاب حسن قاسمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں