130

اردو نواز ریاست میں اردو اساتذہ کی مشکلات

عبدالغنی
abdulghani630@gmail.com
اردو نواز ریاست بہار میں اردو اساتذہ کی بحالی کی خونچکاں داستان سن کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے، جی ہاں! بہار ملک کی ایسی ریاست ہے، جہاں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ،مگر اردو کے حقوق ملنا تو درکار ،اردو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کیا اپنے کیا غیر کوئی بھی توجہ نہیں دیتا، یہی وجہ ہے کہ یہاں اردو کے مسائل کے حل کے لیے قومی وملی لیڈران بھی ادائے بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ذرا عمر عزیزکے بیش قیمتی پانچ سال کا اندازہ کیجیے اگر وہ صرف انتظار میں ضائع ہوجائیں، تو آپ کے ذہن و دماغ پر کیسی قیامت ٹوٹ پڑے گی ،ایسی ہی قیامت بہار کے ہزاروں نوتعلیم یافتہ نوجوانوں پر اس وقت ٹوٹ پڑی تھی، جب انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن ڈگری ہولڈر ان نوجوانوں نے سال 2013 ء میں اردو کا استاذ بننے کے لیے امتحان دیا تھا، امتحان بحسن و خوبی اختتام پذیر بھی ہوگیا، چند دنوں بعد نتیجہ بھی منظر عام پر آگیا ،نتیجہ خلافِ توقع تھا کہ اس میں صرف15310 امیدوار ہی کامیاب ہوئے تھے، بعد کے دنوں میں یہ انکشاف ہوا کہ متعصب افسران نے اکزام کے ریزلٹ میں چھیڑ چھاڑ کی ہے، اسی کے مد نظر ڈیڑھ سال کے بعد ایک بار پھر ریزلٹ جاری کیا گیا ،جس میں امیدواروں کی کل تعداد 22000 ہوگئی، اس دوران چند نام نہاد ملی لیڈران نے اردو ٹی ای ٹی کو بہتی گنگا سمجھتے ہوئے خوب خوب ہاتھ دھویا، سب بہتر تھا، اب بحالی ہوتی ؛لیکن نتیش جی لوک سبھا الیکشن 2014ء ہار گئے؛ اس لیے جان بوجھ کر بحالی کو روک دیا گیا،پھر چند ناسمجھ اشخاص کی وجہ سے معاملہ کورٹ میں پہنچ گیا، جہاں حکومت نے چھ مہینہ لگادیا، اس دوران امیدواروں کی کربناکی میں اضافہ ہوتا رہا ،حتی کہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا، جس سے ہزاروں لوگوں کے ارمان قتل ہوگئے ،یعنی اب پھر پاس آؤٹ کی تعداد گھٹ کر 16818 ہوگئی، اس کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مانند نتیش کمار جی نے اردو والوں کی بحالی روکے رکھی حتی کہ انہوں نے 2015 ء کابہار کا قلعہ فتح کر لیا، اب بحالی شروع ہوئی، تو اس میں ہزاروں الجھاؤ پیدا کردیے گئے، پہلے مرحلے میں 5؍ فیصد امیدوار بحال ہوئے، پھر نومبر 2016 ء میں کیمپ کے ذریعے بحالی ہوئی، جس میں تمام بحالیوں کے مراحل میں تقریبا 1000 ؍ہزار سے زائد امیدوار بحال ہوگئے اور یہ حکومت کی اردو نوازی ہے، مگر ہنوز تقریبا پانچ ہزار امیدواربحالی سے محروم ہیں اورہر صبح اپنے منتخب عوامی نمائندوں اور ملی ومذہبی رہنماؤں کی پر اسرار خاموشی کی وجہ جاننے کی خواہش کے ساتھ بیدار ہوتے ہیں، پھر شام تک امیدیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوجاتی ہیں اور یہ سلسلۂ محرومی اپنے اندر درد کرب، سیاسی بے وزنی ،حق کی پائمالی لیے ہوئے ہے، وہیں 11؍ ہزار فیل کردیے گئے امیدوار اب بھی انصاف کے منتظر ہیں ،پتہ نہیں کب انصاف عدالت اور نام نہاد رہنماؤں کے چنگل سے نکل کر ان بے یاروگار مدد کار قوم کے نوجوانوں تک پہنچے گا؟!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں