101

اردو ناول کا رمز شناس: ڈاکٹر یوسف سرمست

                                

ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل:9431414586
ای میل:rm.meezan@gmail.com

اردو تحقیق وتنقید کی دنیا اختتامِ شب وروز کے ساتھ ہی خالی ہوتی جا رہی ہے کہ حالیہ دنو ں میں جہانِ ادب کی کئی معتبر آوازیں خاموش ہوگئی ہیں۔ یوں تو ہر جاندار شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے یہ فرمانِ الٰہی ہے اور یہ حادثہ روز ہوتا رہتا ہے کہ ہمارے درمیان سے مختلف شعبہئ حیات کی ایک سے بڑھ کر ایک نمایاں شخصیات ہمارا ساتھ چھوڑ تی جاتی ہیں۔لیکن اردو ادب کے ساتھ حالیہ دنوں میں یہ سانحہ کچھ زیادہ ہی برق رفتار ہوگیا ہے۔ حال ہی میں اردو کی ایک قاموسی شخصیت پروفیسر جمیل جالبی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ اس سے پہلے فکشن کی دنیا کے شہنشاہِ ڈکشن پروفیسرقاضی عبدالستار سے جہانِ اردو محروم ہوگئی تو ان سے ذرا پہلے نسائی ادب کی معتبر آواز فہمیدہ ریاض کی آنکھیں بھی بند ہوگئیں۔اردو میں علامتی اور تجریدی افسانوں کو نئی سمت ورفتار دینے والے ڈاکٹر انور سجاد نے بھی ابھی ابھی 6جون کو اس دارِ فانی کو الودا ع کہہ دیا اور آج یہ غمناک خبر ملی کہ اردو تحقیق وتنقید کے قطب نما اور بالخصوص اردو میں فنِ ناول نگاری کی نئی تشریح وتعبیر پیش کرنے والے رمز شناس ڈاکٹر یوسف سرمست نے بھی اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ظاہر ہے کہ ہر جاندارچیز کو جب فنا ہونا ہے تو اس ابدی حقیقت سے انکار نا ممکن ہے۔لیکن تاریخِ بشریت میں جب چند شخصیات اپنے کارناموں کی بدولت اپنی جگہ مستحکم کرلیتی ہیں تو ان کا چلا جانا باعثِ افسوس ضرور ہوتاہے کہ پھر اس طرح کی شخصیت نہ جانے کب نصیب ہو۔ڈاکٹر یوسف سرمست کی ادبی اور علمی خدمات کا ایک سرسری جائزہ لینے کے بعد یہ اعترافیہ جملہ لکھنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ وہ خود کو علم وادب کے لئے وقف کرچکے تھے۔ ان کی کتابوں کی ضخامت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ علمی اور ادبی کاموں کے تئیں کس قدر سنجیدہ تھے۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی لازمی ہے کہ کسی شخص کی علمی اور ادبی حیثیت کا اندازہ صرف ان کی کتابوں کی تعداد اور اس کی ضخامت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کی فکری دانشوری ان کی شناخت کا ضامن بنتا ہے۔ ورنہ اردو ادب میں تو سو دو سو کتابیں لکھنے والوں کی تعداد بھی سینکڑوں کی ہے لیکن ان کی شناخت آسمان چلتے پھرتے دھوئیں کے مرغولے سے زیادہ نہیں ہے۔ڈاکٹر یوسف سرمست کے مضامین ہوں یا موضوعاتی کتابیں، ہر جگہ ان کے تحقیقی وتنقیدی بصیرت کا چراغ روشن نظرآتا ہے اور ان کا ادبی کمٹمنٹ بھی دکھائی دیتا ہے۔ اردو میں ناول نگاری کے فن، تکنیک اور موضوع کے تعلق سے بیشمار کتابیں شائع ہوئیں اور مضامین کے انبار موجود ہیں۔لیکن فنِ ناول نگاری کی زیریں لہروں تک رسائی کے لئے یوسف سرمست کی تصانیف کا مطالعہ لازمی ہے کہ انہوں نے اپنی تحقیقی اور تنقیدی کاوشوں سے اردو ناول نگاری کے تمام تاریک جہتوں کو روشن کردیا ہے۔ ان کی مشہورِ زمانہ تصانیف ”بیسویں صدی میں اردو ناول“ اور ”پریم چند کی ناول نگاری“ نہ صرف اردو کے طالب علموں کے لئے بلکہ اکابرین کے لئے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تحقیقی وتنقیدی کتابوں میں ”نظری اور عملی تنقید، تحقیق وتنقید، اردو افسانے میں کرشن چندر کی انفرادیت“ اور دکنیات کے تعلق سے ”دکنی ادب کی مختصر تاریخ“ حوالہ جاتی کتابوں میں شمار کی جاتی ہیں۔میری خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر یوسف سرمست سے کئی مرتبہ ادبی جلسوں میں ملنے کا موقع نصیب آیا۔ لیکن ان کی کتابوں سے استفادہ کرکے نہ جانے کتنے سمیناری پرچے لکھے یہ یاد نہیں۔بلکہ اردو ناول کے تعلق سے میری جو بھی تھوڑی بہت سمجھ بنی اس میں ڈاکٹر سرمست کی کتابیں معاون رہی ہیں۔ اپنے طلباء کو بھی مذکورہ کتابوں کے مطالعے کی تلقین کرتا رہا ہوں اور چوں کہ میری نگرانی میں بیشتر تحقیقی مقالہ برائے امتحانیہ پی ایچ ڈی فکشن کے تعلق سے لکھے گئے ہیں اس لئے اپنے ریسرچ اسکالروں کو بھی ان کتابوں کے مطالعے کی طرف راغب کرتا رہا ہوں۔ کیوں کہ میری ناقص رائے ہے کہ پروفیسر قمر رئیس،پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر وہاب اشرفی،پروفیسر شارب ردولوی، پروفیسر ابو الکلام قاسمی، پروفیسر جعفر رضا،پروفیسر عتیق اللہ، شمس الرحمن فاروقی اور حالیہ دنوں میں پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر ارتضیٰ کریم نے فکشن کی تنقید کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس فہرست میں ڈاکٹر یوسف سرمست کا شمار بھی لازمی ہے کہ انہوں نے نہ صرف اردو ناول کی تنقید کو اوڑھنا بچھونا بنایا تھا بلکہ اردو ناول کی قرأت کے لئے ایک فضا بھی سازگار کی۔کرشن چندر کی افسانہ نگاری کے تعلق سے ایک نیا وژن پیش کیا اور دکنی ادب کو جہانِ اردو سے روشناس کرانے کی ایک کامیاب کوشش کی۔لیکن وہ دیگر ماہرِ دکنیات کی طرح علاقائی تعصب وتحفظ سے پاک تھے کہ ان کے یہاں شدت پسندی دکھائی نہیں دیتی۔ بلا شبہ ادبی اور علمی معاملے میں علاقائی شدت پسندی نے اردو کو خسارہئ عظیم پہنچایا ہے کہ جس کا خمیازہ آج سامنے ہے۔ ہماری ادبی تاریخ آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔
بہر کیف! اس وقت ڈاکٹر یوسف سرمست کو خراجِ عقیدت پیش کرنا مقصد ہے اس لئے طویل گفتگو ممکن نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو فکشن کی تنقید کو معیار ووقار کے ساتھ اعتبار بخشنے والوں میں یوسف سرمست امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ عملی تنقید کے تئیں وہ نہ صرف سنجیدہ تھے بلکہ عملی تنقید کی اہمیت وافادیت کے علم بردار رہے۔ ان کے سینکڑوں مضامین بکھرے پڑے ہیں جس میں عملی تنقید دکھائی دیتی ہے۔ ان کی تعمیری اور صحت مند بالغ النظری نے انہیں دنیائے ادب میں ایک نئی شناخت بخشی۔ ان کے تہذیبی شعور اور تنقیدی بصیرت وبصارت نے بہت کم وقت میں انہیں جہانِ ادب میں نہ صرف روشناس کرایا بلکہ ان کی شناخت کو مستحکم بھی کیا۔ ان کا خاندان بھی علمی وادبی تھا۔ حیدر آباد کے روزنامہ سیاست میں بہ عنوان ”حیدر آباد جو کل تھا“ کے تحت ان کے تاثرات شائع ہوتے تھے۔ ایک بار انہوں نے لکھا تھا:

”میرا اصل نام سید یوسف شرف الدین ہے۔ میرے والد بزرگوار کا نام سید قادر الدین تھا اورمیرے دادا سید فصیح الدین تھے۔ میرے والد کا قلمی نام تمکین سرمست تھا میں نے اپنا نام یوسف سرمست رکھ لیا“۔
اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک علمی وادبی ماحول کے پروردہ تھے او رظاہر ہے کہ حیدر آباد کی ایک تاریخی حیثیت ہے بالخصوص اردو زبان وادب کے فروغ میں شہر حیدر آباد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں کی خاک سے ایک سے بڑھ کر ایک قد آور شاعر، ناقد، افسانہ نگار، مزاح نگار اور صحافی آفتاب بنے ہیں۔ڈاکٹر یوسف سرمست ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے لیکن دیگر ترقی پسندوں کی طرح ان کے یہاں جارجیت دکھائی نہیں دیتی۔وہ اپنی تحریروں میں متوازن نظریہ کے قائل نظر آتے ہیں۔ ان کا تعلق درس وتدریس سے رہا، وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نئی نسل کے ذہنوں کی آبیاری کرتے رہے اور اپنے فکری شہ پاروں سے حلقہئ ادب کو مستفیض کرتے رہے۔اگرچہ یوسف سرمست کی ادبی خدمات پر حالیہ دنوں میں کئی ریسرچ اسکالروں نے تحقیقی مقالہ برائے امتحانیہ لکھا ہے اور ان کی علمی وادبی خدمات پر مبنی اعترافیہ مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ان کی زندگی میں ان کی علمی اور ادبی خدمات پر اتنا بحث نہیں ہوئی جس کے وہ متقاضی تھی۔اب جب کہ ڈاکٹر یوسف سرمست ہمارے درمیان نہیں رہے تو ممکن ہے کہ ہم اپنی مردہ پرستی کی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے ڈاکٹر سرمست کی تصانیف کو اپنے مطالعے کا محور ومرکز بنائیں اور تقریر کے ساتھ تحریری عمل کا آغاز ہو۔ راقم الحروف نے ایک دہائی پہلے ان کی کتاب ”پریم چند کی ناول نگاری“ کے تعلق سے ایک مختصر سا مضمون لکھا تھا اور اس کا اعتراف تو کر ہی چکا ہوں کہ ان کی کتابوں سے میں نے خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ یہ مختصر مضمون ان کے تئیں خراجِ عقیدت ہے اور صدق دل سے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔آمین۔پروفیسر یوسف سرمست شخصی طورپر بھی ایک ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر ایک خالص انسان چھپا تھا جو ہر کس وناکس سے ملتے وقت اس کا مظاہرہ ہوتاتھا۔ جہاں تک ان کی دانشوری کا سوال ہے تواس معاملے میں بھی ان کا قد نہ صرف اعلیٰ تھا بلکہ مثالی تھا۔ ا ن کی تحریروں میں جو گہرائی اور گیرائی ہے اور بصیرت وبصارت کا چراغ روشن ہے اسے دیکھ کر غالبؔ کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ:
گنجینہئ معانی کا طلسم اس کو سمجھئے جو لفظ کہ غالبؔ! مرے اشعار میں آوے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں