157

اردو اکادمی دہلی کے سالانہ ایوارڈ زسال ۲۰۱۸ء کا اعلان


”کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ“ پروفیسر شارب ردولوی کو
اور”پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی“ ایوارڈ پروفیسرعتیق اللّٰہ کو،
سال۲۰۱۸کی بہترین کتابوں پر انعامات و مسودات پر مالی تعاون کابھی اعلان کیاگیا
نئی دہلی۱۱/جولائی۔
نائب وزیراعلیٰ و چیئرمین اردو اکادمی، دہلی عالیجناب منیش سسودیا نے اکادمی کی ایکزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ میں اکادمی کا سال 2018 کا سالانہ ایوارڈز مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق دینے کا فیصلہ کیا۔ ”کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ“ ممتاز ادیب و ناقددہلی یونیورسٹی و جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر شارب ردولوی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ”پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی ایوارڈ“ ممتاز ادیب، ناقد، شاعر اور سابق صدر، شعبہئ اردو دہلی یونیورسٹی پروفیسر عتیق اللہ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ دونوں ایوارڈ دولاکھ اکیاون ہزار روپے نقدفی کس سند، شال اورمومینٹو پر مشتمل ہیں۔
علاوہ ازیں (۱)ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید صاحبِ علم بصیرت اورمحقق، نقاد و ادیب پروفیسر وہاج الدین علوی کو،(۲)ایوارڈ برائے تخلیقی نثر معروف افسانہ نگار جناب اظہار عثمانی کو،(۳) ایوارڈ برائے شاعری ممتاز شاعرڈاکٹر جی۔ آر۔ کنول کو، (۴)ایوارڈ برائے اردو صحافت معروف صحافی شکیل حسن شمسی کو،(۵) ایوارڈ برائے ترجمہ پروفیسر انیس الرحمن کو اور(۶)ایوارڈ برائے غزل گائیکی محترمہ رادھیکا چوپڑا کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ایوارڈز ایک لاکھ ایک ہزار روپے فی کس نقد، شال، سند اورمومینٹو پر مشتمل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی سال۲۰۱۸ء کی کتابوں پر انعامات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیاہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
پہلے انعام(پندرہ ہزار روپے) کے لیے منتخب کتابیں: (۱)اُفق کے پار (مینو بخشی)،(۲)ابن صفی کا ادبی نصب العین (محمد عارف اقبال)،(۳) رنگ سب رنگ (شاہد ماہلی)، (۴)اردو شاعری (پروفیسر ابن کنول)،(۵) زہرہ بیگم (امیرمہدی۔ سلیم شیرازی)،۶) عوامی مرثیے کی روایت (لئیق رضوی)
دوسرے انعام (د س ہزار روپے کے لیے منتخب کتابیں) (۱) چاند کی پلکیں (منیرہمدم)، (۲) بڑھاپے میں جوانی(پروفیسر بدرالدین الحافظ)، (۳)خواب کے اس پار(سیدہ نفیس بانو)، (۴)تذکیر و تحلیل (ڈاکٹر ندیم احمد)، (۵)نقش ثانی (اودھ کے فارسی گو شعرا) (ڈاکٹر زہرہ فاروقی)، (۶)ریت دریا اور سراب (پی۔پی۔سریواستو رند)، (۷)تعلیم سے ہی تصویر بدلے گی (کلیم الحفیظ)، (۸)پنجاب کی تاریخی مساجد (مفتی عطاء الرحمن قاسمی)، (۹)عربی ادبیات کے اردو تراجم (ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی)، (۱۰)علی عباس حسینی کے فکر و فن کا تجزیاتی مطالعہ (ڈاکٹر سید سجاد مہدی حسینی)، (۱۱)سفر در سفر (رضوان لطیف خاں) (۱۲)عدالتی زبان میں مستعمل اردو، عربی و فارسی اصطلاحات (خواجہ عبدالمنتقم)،(۱۳)قاضی عبدالستار کی افسانہ نگاری (مہناز عبید)۔
تیسرے انعام (پانچ ہزار روپے) کی منتخب کتابیں: (۱)گردو پیش (ماسٹر نثار احمد)، (۲)قلم کی شوخیاں (حامد علی اختر)، (۳)روشن باتیں (مرزا ذکی احمد بیگ)، (۴)احوال و کوائف (فلاح الدین فلاحی)جب کہ منشی نول کشور انعام برائے بہترین ناشرکے لیے ”کتاب والا“ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اسی نشست میں سال ۲۰۱۸کے۲۲مسودات پر مالی تعاون دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں