32

اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ا منعقد سہ روزہ قومی سمینار اختتام پذیر


نئی دہلی:31؍مارچ(پریس ریلیز)
اردو اکادمی،دہلی کے زیراہتمام اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول،اجمیری گیٹ میں منعقد سہ روزہ قومی سمینار بیاد رفتگاں (ڈاکٹر تنویر علوی،پروفیسر عنوان چشتی،ڈاکٹر خلیق انجم،جناب زبیررضوی،ڈاکٹراسلم پرویزاور جناب مخمورسعیدی)کے تیسرے اور آخری روز کے پہلے اجلاس میں ڈاکٹر اسلم پرویز کی ادبی خدمات پر مقالات پیش کیے گئے۔اس سمینار کی صدارت پروفیسرابن کنول اور پروفیسر انورپاشا نے کی اورنظامت خان محمدرضوان نے کی۔ اس اجلاس میں زبیرخان سعیدی نے ’’اسلم پرویز اورمطالعۂ بہادرشاہ ظفر‘‘،ڈاکٹر عمیرمنظرنے ’’اسلم پرویز کی خاکہ نگاری‘‘، ڈاکٹر شمیم احمدنے ’’اسلم پرویز کی ادبی صحافت‘‘ جیسے عناوین پر مقالے پیش کیے۔اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر انورپاشا نے کہا کہ یادرفتگاں کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ دبستان دہلی کے اجڑنے کے بعد آزادی کے بعد جو دبستان وجود میں آیا، اس کے بنیاد گزاروں میں یہ شخصیات تھیں۔ان تمام شخصیات کی تخلیقات و کتب سب شائع شدہ ہیں،لیکن جب سمینار ہوتا ہے تو ہمیں بہت سی تفصیلات کتابوں کے باہر کی بھی ملتی ہیں۔آزادی کے بعد کے اردو کے حالات پر اسلم پرویز کی حیثیت بہت مستحکم تھی،اسلم پرویز کی شاعری کا مجموعہ ’چندن کا پیڑ‘ سنجیدہ شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔اردو ادب کو اسلم پرویز نے ایک معیار عطا کیا۔ وہ بیحد سلیقہ مند مدیر تھے۔وہ زندگی کے تمام کام سلیقے سے کرتے تھے۔انہوں نے جے این یو میں ایک مثالی استاذ کی شناخت قائم کی تھی، وہ سادگی کے بڑے قائل تھے۔شاعری پر اسلم پرویز کی گہری نظر تھی،شاعری پڑھانے کا جو ہنر اسلم پرویز صاحب کے پاس تھا وہ سب کے حصے میں نہیں آتا۔ایک شعر کی افہام وتفہیم کے لیے وہ حوالے کے طور پر دسیوں اشعار پیش کرتے تھے، نظامِ بلاغت کی تشریح کرتے تھے۔اسلم صاحب کو ہم نے بیحد مشفق استاذ کے طور پر دیکھا۔ہم نے کبھی کسی سے تلخ لہجے میں بات کرتے نہیں سنا۔سیاست میں شمولیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سیاست کا شکار بھی ہونا پڑا۔وہ نہایت بے ضرر قسم کے انسان تھے۔ اسلم صاحب کے حوالے سے پڑھے گئے مقالے اہم تھے،محنت سے لکھے گئے تھے۔ پروفیسرابن کنول نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ اردو اکادمی اور شہپر رسول صاحب مباک باد کے مستحق ہیں،یہ وہ شخصیات ہیں جن پر سمینار کا انعقاد ہوا ہے انہیں ہم بھولتے جارہے ہیں۔اکادمی نے یہ سمینار کرکے قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔اس سمینار میں موضوع بحث شخصیات علاوہ پروفیسر عنوان چشتی کے اس اسکول سے محض دو تین کلو میٹر کی دوری پر رہتے تھے۔یہ تمام شخصیات ناقابل فراموش ہیں۔اسلم پرویز کی کتاب کو پڑھے بغیر بہادر شاہ ظفر کوسمجھناتقرینا ناممکن ہے۔بہت سے گوشے ایسے ہوتے ہیں،جو شخصیت کے گزرنے کے بعد نظر انداز ہوجاتے ہیں۔اسلم پرویز صاحب تخلیقی نثر لکھنے پر بھی قادرتھے۔بہت مشکل ہوتا ہے مدیر ہونا اور ادارت کا حق ادا کرنا اور اسلم پرویز صاحب نے یہ کرکے دکھایا۔ان کے اداریے بہت پسند کیے جاتے تھے۔یہ شخصیات دہلی کی ایسی شخصیات ہیں،جنہوں نے آزادی کے بعد دہلی کی ادبی فضا کو بہت متاثر کیاہے۔
سمینار کے آخری روز کے دوسرے اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر سیدشاہدمہدی نے کی اورنظامت ڈاکٹر خالدمبشر نے کی۔اس اجلاس میں ڈاکٹرکلیم اصغر نے مخمورسعیدی کا ترجمہ’’دستنبو‘‘،حقانی القاسمی نے مخمورسعیدی کی ادبی صحافت،ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے مخمورسعیدی کی غزل،پروفیسر کوثر مظہری نے مخمورسعیدی کی نظم نگاری اور ڈاکٹر ذکی طارق نے مخمورسعیدی:سوانح وشخصیت کے عناوین کے تحت مقالے پیش کیے۔
سیدشاہد مہدی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر سمینار کا انعقاد ایک مستحسن قدم ہے،ان تمام شخصیات سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں،جن پر سمینار کا انعقاد ہواہے،یہ تمام شخصیات اہم تھیں۔ انھوں نے اکادمی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اکادمی نے ان لوگوں کی یاد تازہ کردی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ تمام مقالات یقیناًکتابی شکل میں شائع ہوں گے اور ان شخصیات سے اردو کی نئی نسل واقف ہوسکے گی۔ انھوں نے کہا کہ میری نظر میں صرف دہلی اردو اکادمی،اکادمی کہلانے کی مستحق ہے، ہندوستان کی تمام ریاستوں میں اردو اکادمیاں ہیں،مگر وہ عموماً کام نہیں کرتی ہیں۔ادب میں مختلف اور متضاد تحریکوں سے لکھنے والوں کو فائدہ بھی پہنچتا ہے۔
اس موقع پر اردو کادمی کے سمینار کمیٹی کے کنوینر جناب صلاح الدین نے کہا کہ میں اس پروگرام کے لیے اردو اکادمی اورخاص طور پر وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔ ڈاکٹر صفدر امام قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زیادہ تر مقالات سنے، تمام مقالات اچھے تھے،قدر اول کے مقالات تھے۔اردواکادمی، دہلی کے تمام پروگرام معیاری ہوتے ہیں۔ سمینار کے اختتام پروفیسر شہپررسول نے سامعین ، مہمانوں اور اکادمی کے جملہ کارکنان کا شکریہ اداکیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں