181

اردو اخبارات کے مدیران سے کچھ باتیں

محمد علم اللہ
ہندوستان کی اردو صحافت پر مایوسی اور نا امیدی کا غبار چھایاہوا ہے، اب تو اردو اخبار دیکھ کر واقعی گھن آنے لگی ہے۔ وقفے وقفے سے دردمند احباب اس کا شکوہ کرتے رہتے ہیں ، ہر روز ایک نیا جہان تعمیر کرنے کے دعوے کے ساتھ کوئی نہ کوئی اخبار نکلتا ہے؛لیکن وہی ڈھاک کے تین پات والی بات ہے۔ مجھے نہیں پتہ اردو کے قارئین کی وجہ سے ایسا ہے یا اخبار والوں نے اپنے قارئین کو واقعی احمق سمجھ رکھا ہے؟ بلا شبہ اردو اخبارات صحافت کی آبرو ہیں۔ وقت کے لحاظ سے ان میں تنوع بھی آیا ہے اور مثبت تبدیلی بھی؛لیکن معیار کے اعتبار سے دیکھا جائے،تو ترقی کی بجائے تنزلی کا احساس ہوتا ہے۔
متعدد مرتبہ میں نے اپنے مضامین اور کالم کے علاوہ براہ راست فون پر بھی اس حوالے سے جملہ ذمے داران کو توجہ دلائی ہے۔ مگر شاید ان لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنی خو نہیں بدلیں گے،چاہے کچھ بھی ہو جائےاور غالباً اسی لئے اُردو کے ایک بزرگ ادیب نے کہا تھا کہ اردو اخبارات دیکھ کر اب متلی آتی ہے۔جب کبھی میں اردو کا کوئی بھی اخبار دیکھتا ہوں،تو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ کیا یہ وہی اردو اخبارات ہیں،جن کا ایک شاندار و یادگار ماضی رہا ہے۔ اسی احساس کے تحت میں یہ مضمون رقم کر رہا ہوں۔ اپنے قارئین سے تو میں روزانہ بات کرتا ہوں ، مگر آج میرے مخاطب اردو اخبارات کے مدیران ہیں ، امید کہ وہ اس جانب توجہ فرمائیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اردو کا ایک قاری ان سے کیا توقع رکھتا ہے۔ میری رائے کے مطابق چند اصلاحات ازحد و ازبس ضروری ہیں،جن کی طرف توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
(1) اس وقت مسلمانوں میں بے چینی، اضطراب اور بے قراری کا عالم ہے، مسلمان کافی پریشان ہیں۔ ایسے نازک اور پیچیدہ ماحول میں صحافت کو کافی سوجھ بوجھ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر اردو اخبارات جذباتیت کے جلد اور زیادہ شکار ہو جاتے ہیں،جس کی وجہ سے معروضیت کا گلا گھٹنے کا احساس بھی عام ہو جاتا ہے۔ بڑی تمنا ہے کہ اردو اخبارات کے مدیران سنجیدہ اور دانشمندانہ صحافتی مواد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
(2) ماضی قریب میں شدت کے ساتھ میں نے محسوس کیا ہے کہ اردو اخبارات سے رپورٹنگ غائب ہوتی جا رہی ہے۔ اردو اخبارات کے ذمے داران اُن تجزیوں اور تبصروں کو ہی بدقسمتی سے اصل صحافت سمجھ بیٹھے ہیں، جن میں احوال و واقعات کی یک رُخی تصویر پیش کرتے ہوئے مفاداتِ خصوصی کے حصول کی کوشش کی اور کروائی جاتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ مدیران رپورٹنگ پر توجہ دیں اور زمینی حقائق پر مشتمل رپورٹوں کو اپنے اخبارات میں جگہ دیں؟
(3) آج کل اردو اخبارات صرف پریس نوٹس اور جلسے/ جلوس کی یک طرفہ رپورٹوں کوبنا پڑھے اور ادارتی عمل سے گذارے شائع کر رہے ہیں۔ خصوصی اسٹوریز کے زیرِعنوان بھی سیاسی قائدین کے بیانات یا پھر سیاسی جماعتوں سے جڑی خبروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ماضی میں اردو اخبارات پڑھ کر امیدوار سول سرویسز کے امتحانات میں کامیاب ہوتے تھے؛کیونکہ انہیں اردو اخبارات کے ذریعے وہ خزانہ فراہم کیا جاتا تھا،جو دیگر زبانوں میں نہیں ملتا تھا۔ (اب عالم یہ ہے کہ سول سروس کے امتحان میں کامیابی کی تمنا رکھنے والے اگر اردو اخبارات کی قرات تک خود کو محدود رکھیں،تو ان کی ناکامی کی ضمانت دی جا سکتی ہے)۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ماضی کے اس پیشہ ورانہ معمول کا احیا ہو جاتا۔
(4) عالمی خبروں پر توجہ، معیشت و تجارت کے مسائل پر مرکوزکیریر سازی کے مواد کی اشاعت کو ناگزیر بنایا جائے۔
(5) بڑی شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کاش روزانہ پیش آنے والے اہم مسائل پر وقتاً فوقتاً خصوصی ضمیمے شائع کیے جائیں۔ ساتھ ہی ملک و بیرون ملک تعلیمی میدان میں پیش رفت اور مواقع، دونوں میں تقابل اور اصلاحات، مدارس اور جدید دانش گاہوں کا تقابل، ماہرین تعلیم کی آراوافکار، اسکالر شپ کی حصولیابی کے طور طریقوں و اعلانات کی تفصیل وغیرہ کے حوالے سے فکری مضامین کی اشاعت کے فقدان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
(6) ٹکنالوجی سے جڑی ہوئی خبریں بھی اردو اخبارت میں نمایاں طور پر شائع نہیں ہوتیں۔ کس ہارڈ وئیر یا سافٹ ویر کے کیا فائدے ہیں؟ کونسے ایپ سے کیا فائدہ یا نقصان ہوگا؟ کون سی ڈیوائسز مارکٹ میں آنے والی ہیں؟ ایسی خبریں عموماً یا تو اُردواخبارات میں شائع نہیں ہوتیں یا پھر دیگر زبانوں میں شائع ہونے کے بعد ہی انہیں اردو اخبارات میں جگہ ملتی ہے۔ اس سے بہتر انداز میں ابلاغ بھی نہیں ہو پاتا حالانکہ براہ راست اردو میں ایسے لکھنے والے افراد موجود ہیں۔
(7) اردو اخبارات کی خبریں، خبر کم اور تبصرہ زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔ گویا نمائندہ یا مدیر پہلی نظر میں ہی خبر کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جبکہ تبصرہ یا تنقید کیلئے اداریہ کا صفحہ موجود ہے یا مضامین کا سیکشن۔ اکثر اردو اخبارات بے بنیاد موضوعات و مضامین قارئین پر تھوپ دیتے ہیں، جبکہ ادارہ یا انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے قارئین کو اختیار دیں کہ وہ موضوعات کا انتخاب کر سکیں، اپنی رائے دے سکیں۔
(8) خبروں کو زبردستی کلمہ پڑھوا کر مسلمان بنانے کے مزاج کو ختم کیا جانا چاہیے، ساتھ ہی خبروں اور دیگر مواد کی اشاعت میں سرقہ کے کلچر کو ختم کر کے تخلیقیت اور محنت کا رجحان اخبار سے وابستہ ہر صحافی میں پیدا کرنے کی ضرورت درپیش ہے۔
(9) بیشتر اردو اخبارات کا مواد اور بطور خاص ادارتی صفحہ پاکستانی نقطۂ نظر والے متن کا سرقہ یا چربہ ہوتا ہے۔ جبکہ ضروری امر یہ ہے کہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے معاملات و مسائل سے قاری کو زیادہ اور بہتر طورپر واقف کرایا جائے۔ جن قارئین کو پڑوسی ملک کے نقطہ نظر یا وہاں کے مسائل سے واقفیت میں دلچسپی ہو گی؛ وہ وہاں کے اخبارات کے ویب ایڈیشن سے خود استفادہ کر لیں گے۔
(10) ادارتی صفحات میں لکھنے والے صحافیوں کو مختلف و متنوع موضوعات تقسیم کیے جانے چاہییں۔ ادارتی عملہ حالات حاضرہ، سماج و ثقافت، تعلیم و تدریس اور سیاست و معیشت پر غور و فکر کرکے نت نئے موضوعات سامنے لائے تاکہ عوام میں ایک مثبت اور انقلابی پیغام پہنچے۔ موجودہ دور میں اردو اخبارات نے اس قدر منفی اور جذباتی رویہ قوم میں پیدا کر دیا ہے کہ اس سے قوم کو باہر نکالنا بھی اپنے آپ میں میں ایک بڑا کام ہوگا۔
(11) مدیر کے نام خطوط میں تقریر اور وعظ کے بجائے حالات حاضرہ پر تبصرہ کیے جانے والے مکتوبات کو زیادہ قابل اشاعت بنانے کی طرف توجہ ضروری ہے۔
(12) علمی، ادبی، سماجی، سائنسی، برقی و مواصلاتی شعبہ جات میں سنجیدگی سے برسرکار قابل مگر گمنام شخصیات کے انٹرویوز کی اشاعت کو ترجیح دی جائے،نیز اس ضمن میں بیرون ممالک کے افراد کو اگر اہمیت دی جائے تو اردو میں ایک نئی روایت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس طریقے سے جہاں انٹرویو دینے والے افراد کی ہمت افزائی ہوگی وہیں اردو داں حلقے کو اس بات کا علم بھی ہو سکے گا کہ دنیا میں کیا کیا نیا ہو رہا ہے۔
(13) ان دنوں اردو اخبارات کی زبان بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ الم غلم مواد شائع کیا جا رہا ہے۔ نہ کوئی معیار ہے اور نہ کوئی پیمانہ۔ انگریزی الفاظ اور ہندی لہجے کے استعمال کی کثرت سے اہل زبان کا ذائقہ بگڑ رہا ہے۔ جملوں کی ساخت کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ و تراکیب کے استعمال سے پرہیز کی سخت ضرورت ہے۔ ترجمہ شدہ خبروں کی تعداد میں کمی اور ترجمہ کے معیارکو بلند کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
(14) دور حاضر میں میڈیا کی زبان اور طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن اردو اخبارات وہی برسوں پرانے ڈھرے پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ تو وہ اپنے قارئین کی توجہ کا محور بن رہے ہیں اور نہ ہی نوجوان نسل کو اردو اخبارات کے مطالعے کی جانب راغب کر پا رہے ہیں۔ لہذا جدید تبدیلیوں سے ادارتی ٹیم کو واقف کرانا اور ان کی مخلصانہ تربیت کا فریضہ نبھانا بھی ازحد ضروری ہے۔
(15) جن اردو داں احباب کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے، وہی لوگ اپنی کمیونٹی/ادارہ سے وابستہ افراد کا ہر سطح پر استحصال کرتے نظر آتے ہیں۔ یعنی اردو سے متعلقہ اداروں میں ملازمین پر سختی اور ان سے ناانصافی کی روایت بڑی پرانی ہے۔ ذمہ دارانِ ادارہ اپنے ہی ملازمین کے حقوق کو اپنی جوتیوں تلے روند دیا کرتے ہیں، ان کے مسائل کے حل کی کوشش نہیں کرتے، کم اجرت پر زیادہ کام کرانا چاہتے ہیں جب کہ اسی کام کیلئے دوسری زبانوں اور کمیونٹی کے افراد کو زیادہ اجرت اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ کاش ہمارے مدیران اس پر بھی سنجیدگی سے سوچتے۔
(16) عمدہ اور پیشہ ورانہ مضامین لکھنے والے قلمکاروں کی ٹیم بنائیں، اس ٹیم کے ارکان مناسب معاوضہ کی ادائیگی کے عوض ایسے تحقیقی و تجزیاتی مضامین ادارہ کو فراہم کریں کہ جن کی اشاعت سے روزنامہ اخبار کی قدر و منزلت بڑھنا یقینی ہو۔ بالخصوص مفت میں لکھوانے کے کلچر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف معیاری صحافت کو فروغ ملے گا بلکہ جو صحافی سنجیدگی سے لکھ رہے ہیں اور جو کچھ بھی لکھ رہے ہیں، حقیقتاً خلوص اور دیانتداری سے لکھیں گے اورنتیجتاً قابل تحسین اردو صحافت تخلیق پائے گی۔
(17) محض ایجنسیوں کی خبروں پر انحصار کرنے کے بجائے ادارے کے صحافیوں سے بھی خبریں منگوانے کے کاز پر عمل ہونا چاہیے۔ اردو اخبار کو مسلم محلوں کا اخبار بننے سے روکنا، بے سر و پا ذاتی تشہیر پر مبنی پریس اعلامیوں کا رد اور بے معنی تعزیتی، مبارکبادی اور احتجاجی بیانوں کو نظر انداز کیا جانا لازمی حکمت عملی ہونا چاہیے۔ اخبار کے عمومی معیار سے سمجھوتا نہ کرنے کا مطلب یہی واضح ہونا چاہیے کہ اخبار کی بنیادی پالیسی مسلم تنظیموں/اداروں کا اعلانچی یا ڈھنڈورچی بننے سے یکسر گریز ہے۔
(18) اکثر قارئین کو شکایت رہتی ہے کہ اردو اخبارات میں روزگار، تعلیم، تجارت وغیرہ سے منسلک خبریں شائع تو ہوتی ہیں، لیکن دیگر زبانوں کے بالمقابل اردو میں ان کا بس سرسری تذکرہ ہوتا ہے۔ انگریزی کے علاوہ مقامی اور ہندی اخبارات میں کسی بھی امتحان کے ماڈل پیپرس ہر روز شائع کیے جاتے ہیں لیکن اردو اخبارات میں اعلامیہ جاری ہونے کے بعد بھی ماڈل پیپر شائع نہیں ہو پاتا۔ سرکاری محکمہ جات میں تقرری کے حوالہ سے کچھ خاص جانکاری نہیں دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں تعلیمی میدان کے انتخاب کے متعلق بھی خبریں برائے نام شائع ہوتی ہیں۔ روزگار، تعلیم اور نوجوانوں کی رہنمائی پر اگر معقول دھیان دیا جائے تو نئی نسل دوبارہ ذوق و شوق سے اردو اخبارات کی طرف متوجہ ہو سکتی ہے۔
(19) عمومی طور پر یہ مشہور ہے کہ اردو اخبارات مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جبکہ اس طرزِ فکر سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اُردو اخبارات کو کیسے غیر مسلم اردو داں طبقہ تک پہنچایا جائے؟ اس کیلئے جن وسائل کی ضرورت ہو انہیں کو بروئے کار لایا جائے۔ ہفتہ وار ‘اسلامی سپلیمنٹ’ کا عنوان تبدیل کیا جانا چاہیے۔ مذہب و روحانیت یا مذہب و اخلاقیات جیسے عنوانات کے ذریعے غیرمسلم طبقے تک پہنچنا زیادہ بہتر اور موثر حکمت عملی ہوگی۔ علاوہ ازیں دیگر مذاہب کی اچھائیوں، ان کی کتب اور شخصیات و رہنماؤں کا مختصر و مفید تعارف بھی ہر طبقے کے قاری کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔
(20) کئی میڈیا گھرانوں کے ہندی ایڈیشن بھی شائع ہوتے ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہندی میں بھی اقلیتی مسائل کے ذکر کیلئے ہندی ایڈیشن کی کچھ جگہ حاصل کی جائے۔ یعنی اردو کی اہم رپورٹنگ کو ہندی لب و لہجے و انداز میں ہندی ایڈیشن میں شائع کروانے کی گنجائش نکالی جائے۔ اور مثبت ردعمل کے بطور ہندی کی عمدہ رپورٹس کو اردو ایڈیشن میں بھی بہ اہتمام شائع کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
(21) برقی و مواصلاتی ہوشربا ترقی کے موجودہ عہد میں، اپنی ویب سائٹ پر اکثر اردو اخبارات، اخباری صفحات کی امیج فائل ہی پیش کر رہے ہیں۔ ای۔پیپر کی اشاعت اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخبار کی ویب سائٹ کے اردو یونیکوڈ ورژن کا اجرا بھی یقینی اہمیت رکھتا ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اردو داں قارئین و صارفین کے ایک وسیع حلقے تک رسائی ممکن ہے۔
(22) اردو اخبارات کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ ہر معاملے میں ملت، ملی قائدین، نام نہاد مذہبی پیشواؤں اور مولویوں کی یکطرفہ حمایت کرتے ہیں نیز ان کی کمیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف کسی ایک مخصوص حصے کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
کسی بھی فرد یا ادارہ کے ہر جائز و ناجائز اقدامات کی جانے انجانے طریقے سے تعریف اور حوصلہ افزائی کا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے خامیاں یا لغزشیں سامنے نہیں آ پاتیں اور نتیجتاً متعلقہ فرد یا ادارہ اور قاری کسی غلط کام کو بھی درست سمجھ بیٹھتا ہے۔
اس رویے کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو دوسرے رخ کے بارے میں بھی بتایا جائے اور اس حوالے سے خصوصاً ملی تنظیموں، مدرسوں، مسلم اداروں کا دیانتدارانہ احتساب کیا جائے، ان سے سوال پوچھے جائیں۔ زکوۃ، فطرے، خم اور وقف املاک کے اسراف کے بارے میں بھی ان سے دریافت کیا جائے۔ ملت کے اندر پائی جانے والی کمیوں اور خامیوں کی نشاندہی اور بازپرس وقت کا اولین تقاضا بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں