102

اردومیڈیم سے سی بی ایس ای ٹاپر ثنانیازکو قومی کونسل کے صدردفتر میں استقبالیہ


نئی دہلی:

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں سرودیہ کنیا ودیالیہ 2- جامع مسجد سے 97.06فیصد نمبر حاصل کر کے سی بی ایس ای (CBSE) ٹاپرس میں تیسرا مقام اور دہلی میں اول مقام حاصل کرنے والی طالبہ ثنا نیاز کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے ثنا نیاز کو گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا اور کونسل سے شائع ہونے والی کتابیں اور رسائل و جرائد بھی دیے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اردو کے حوالے سے منفی سوچ رکھنے والے کے لیے ایک پیغام ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلانا چاہیے انھیں نے مزید کہا کہ اردو زبان میں اتنی قوت ہے کہ تمام سائنسی اور سماجی علوم پر عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اردو میڈیم سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی ثنا نیاز نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو ترجیحی طو رپر انگریزی میڈیم سے تعلیم دلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اردو کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ثنا نیاز کی یہ کامیابی ایسے والدین کے لیے ایک سبق ہے۔ ثنا نیاز کی اس کامیابی سے نہ صرف اردو دنیا بلکہ کونسل کو بھی فخر ہے۔ ثنا نیاز نے انگریزی میں 96فیصد، اردو میں 98فیصد، تواریخ میں 100فیصد، سیاسیات میں 96فیصد، ہوم سائنس میں 98فیصد اور سماجی علوم میں 98فیصد نمبر حاصل کیے۔اس موقعے پر ثنا نیاز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے یہ میرا موقف رہا ہے کہ میں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کروں اور اعلیٰ نمبر حاصل کر کے اس تصور کو توڑوں کہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کر کے بھی اعلیٰ مقام نہیں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مزیدکہا کہ میں آگے چل کر آئی اے ایس(IAS) افسر بننا چاہتی ہوں اور انشاء اللہ یہ کامیابی اردو زبان و ادب کے ساتھ ہی حاصل کروں گی۔ ثنا نیاز نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اردو میڈیم سے پڑھنے والے طالب علموں کو کئی مراحل پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سپورٹ میٹریل کی عدم موجودگی اور دیگر کتابوں کا اردو میڈیم میں نہ ملنا جیسے مسائل قابل ذکر ہیں۔ میٹنگ میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر جناب کمل سنگھ (انتظامیہ)، ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اکیڈمک) اور باہر سے تشریف لائے جناب شباہت حسین، پروفیسر مشاہد رضوی اور عارف حسین کاظمی کے علاوہ کونسل کے دیگر اسٹاف موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں