44

اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام ’مشاعرہ یومِ اساتذہ‘کاانعقاد

نئی دہلی:(پریس ریلیز)
اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام قمررئیس سلورجبلی ہال میں سابق صدرجمہوریہ ہندسرووپلی رادھاکرشنن کی یاد میں ’مشاعرہ یوم اساتذہ‘کاانعقادکیاگیا،جس کی صدارت شاعروادیب اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدرشعبہ اردوپروفیسرخالدمحمودنے اورنظامت جواہرلعل نہرویونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹرشفیع ایوب نے کی۔
اس موقع پراساتذہ شعرااورسامعین کا استقبال کرتے ہوئے اردواکادمی کے وائس چیئرمین اورممتاز شاعرپروفیسر شہپررسول نے کہا کہ یوم اساتذہ کے موقع پر اکادمی ہرسال مشاعرہ منعقد کرتی ہے۔سابق صدرجمہوریہ رادھا کرشنن صاحب بنیادی طور پر معلم تھے انہی کی یاد میں یہ مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے،ہماری قدروں کو اساتذہ اپنے طلبا کو سکھاتے ہیں یہ بہت اہم ذمہ داری ہے،جسے وہ بخوبی نبھاتے ہیں۔اساتذہ اپنے طلبا کی منصبی ذمہ داری کے ساتھ ان کی تربیت بھی کرتے ہیں۔طلبا کی تربیت اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حسن اتفاق کہ دہلی کے اساتذہ میں ایسی شخصیات ہیں،جو بحیثیت شاعر پوری دنیا میں معروف ہیں۔دہلی میں بہت سے ایسے شعرا بھی ہیں،جو ملک گیر سطح پر دہلی کی نمائندگی کرتے ہیں،اس طرح کے اساتذہ ہی طلبا کو ایک کامیاب انسان بناسکتے ہیں۔طلبا وطالبات کا اپنی قدروں اورتہذیب سے آشنا ہوناجتنا اس دور میں ضروری ہے،شاید اس سے پہلے اتنی ضرورت نہیں تھی۔
اس موقع پر نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے کہاکہ دہلی اردواکادمی پورے ملک میں واحد ایسی اکادمی ہے،جواردووالوں کا بھرپورخیال رکھتی ہے اورہر موقع پر اردووالوں کو مواقع پیش کرتی ہے۔اس مشاعرے میں بہت اہم شعراشریک ہیں،جن کی اپنی ایک مضبوط اورمستحکم شناخت ہے۔آج کا مشاعرہ اساتذہ کا مشاعرہ ہے جویقینا یہ دیگرمشاعروں سے الگ نوعیت کا ہے۔ان کلمات کے ساتھ ہی پروفیسر شہپر رسول نے تمام شعرا اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پرتمام شعرا،اساتذہ اورسامعین کا شکریہ اداکرتے ہوئے اردواکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمدنے کہاکہ میں آپ تمام اساتذہ شعراکا شکریہ اداکرتاہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے اور اکادمی کے اس تاریخی مشاعرے کو کامیاب بنایا۔اکادمی ہرسال متعددمشاعرے کراتی ہے،جن میں آج کامشاعرہ اپنی الگ شناخت رکھتاہے۔جس میں صرف وہی شعرا اپناکلام سناتے ہیں،جودرس وتدریس سے وابستہ ہیں۔اس موقع پراردواکادمی کے وائس چیئرمین اور صدرمشاعرہ نے تمام اساتذہ شعراکو گلدستہ اور قلم پیش کیا۔ یوم اساتذہ کے موقع پر منعقدمشاعرے میں پیش کیے گئے چندمنتخب اشعارحاضرہیں۔
شب فرقت اگریہ ہے کہ شب کاٹے نہیں کٹتی
توساری زندگی ہم نے اسی شب میں گزاری ہے
(پروفیسرخالدمحمود)
میں آج میں بھی کل کے آداب دیکھتاہوں
تعبیرآپ جانیں،میں خواب دیکھتاہوں
(پروفیسرشہپررسول)
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی عارف
کہ زندگی میں ترستے ہیں زندگی کے لیے
(عارف عثمانی)
آدمی نے بھردیاہے زہرجب ماحول میں
غیرممکن ہے چلے شام وسحرتازہ ہوا
(ڈاکٹرجی آرکنول)
ربط ہے اس کو زمانے سے بہت سنتاہوں
کوئی ترکیب کرومیں بھی زمانہ ہوجاؤں
(پروفیسرکوثرمظہری)

نہ آفتاب سے حاصل نہ ماہتاب سے ہے
جوسلسلہ ہے یہاں نورکاکتاب سے ہے
(پروفیسراشہرقدیر)
سجدہ بھی جبینوں پہ بس ایک داغ ہی رہتا
یزداں سے اگرآپ سفارش نہیں کرتے
(ڈاکٹرسہیل احمدفاروقی)
زندگی اس قدرلطیف نہ ہو
کچھ تورشتے خراب رہنے دے
(ڈاکٹرشفیع ایوب)
وہم کی پرچھائیوں سے دل کوبہلاتے نہیں
اہل دانش اس فریبِ شوق میں آتے نہیں
(ڈاکٹرشبانہ نذیر)
دورحاضرکی تلخیاں سہ کر
اپنے احساس کوبچاناہے
(ڈاکٹرنگارعظیم)
زندگی سے دورلیکن زندگی کی حدمیں ہوں
ہوں توآئینہ مگرمیں پتھروں کی زدمیں ہوں
(ڈاکٹرعفت زریں)
اس بے وفاکی دیکھئے تصویربن گئی
میں نے لہواگل دیاجب کینواس پر
(اعجازانصاری)
خوداپنے ہاتھوں اپنی ذات آزاری سے بازآیا
اے دنیااب میں تیری نازبرداری سے بازآیا
(ڈاکٹرواحدنظیر)
پچھلی شب خواب محبت کا دکھایاگیاتھا
صبح میں پیڑسے لٹکاہواپایاگیاتھا
(ڈاکٹررحمان مصور)
کہیں ہوتے نہیں آپے سے باہر
بہت دن سے زبانی ہورہی ہے
(ڈاکٹرظہیررحمتی)
اے خاک ہندبول کہ توجانتی ہے سب
کچھ توبتاکہاں مرے لعل وگہرگئے
(ڈاکٹرخالدمبشر)
زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
یادرکھتے ہیں انہیں لوگ مثالوں کی طرح
(ڈاکٹروسیم راشد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں