52

’’ادبِ اطفال سائنسی نقطہ نظر سے‘‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

نئی دہلی:(پریس ریلیز)آل انڈیا ادبِ اطفال کے زیر اہتمام اوکھلا وہار میٹرو اسٹیشن کے دہلی پولیس لائبریری ہال میں منعقدہ سمینار میں مقررین نے اردو میں موجود ہ ادب اطفال کی صورتحال کا جائزہ لیا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تجاویز پیش کیں۔ پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو میں ادب اطفال اب بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ بچوں کے رسالے اب بھی ہزاروں کی تعداد میں شائع ہورہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے یہاں ادب اطفال کا جو سرمایہ ہے اس کی بازیافت کی جائے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل خلیل الرحمان نے اپنے کلیدی خطبہ میں زمانہ جاہلیت سے لے کر اب تک کے ادب اطفال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب اطفال کا مقصد صحیح زبان کی تدریس ہے۔ انہوں نے اردو کے مشہور مزاحیہ کرداروں ملانصیرالدین، چچا چھکن، اور شیخ چلی جیسے کرداروں کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ حقیقی زندگی میں یہ سبھی بڑے عالم اور فلسفی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے ان کرداروں کو سامنے رکھ کر بچوں کے لیے عمدہ سیریل اور کہانیاں لکھی جاسکتی ہیں۔ پروفیسر ابن کنول نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو میں بچوں کے ادب کی قدیم روایت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کو بچوں کی پہنچ میں لائیں۔موجودہ زمانے کے مطابق لکھا گیا بچوں کا ادب ہی نئی نسل کی تربیت میں مدد گار ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے داستانوں کی طلسمانی دنیا ہیری پوٹر کی دنیا سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ لیکن یہ سب بچوں کی پہنچ سے باہر ہیں اس وجہ سے وہ ہیری پوٹر جیسے سیریل دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل یونی ورسٹی کے چانسلر فیروز بخت نے ان لوگوں کی خدمات کے اعتراف اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا جو بچوں کا ادب تخلیق کرتے ہیں۔ ماہنامہ ’’گل بوٹے‘‘ کے مدیر فاروق سید نے کہا کہ بچے پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ہم انہیں پڑھنے نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل بوٹے اب بھی پچیس ہزار کی تعداد میں شائع ہورہا ہے اور اس کی آفس میں درجنوں لوگ کام کرتے ہیں،ہمارے لیے یہ آج بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ کناڈا سے آئے پروفیسر ادریس صدیقی نے کہا کہ ادب کی اس تقسیم کو میں نہیں مانتا، بچوں اور بڑوں کا ادب الگ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے زمانے میں وہی کہانیاں بچوں کو پسند آئیں گی جو ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہوں ۔ ادب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ سیکھنے کا عمل سزا کے بجائے مزہ میں تبدیل ہوجائے۔ پروگرام کے کنوینر سراج عظیم نے سوسائٹی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس تنظیم کے بینر تلے اردو میں ادبِ اطفال کو ایک تحریک میں تبدیل کردیں۔ یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے اور شکریے کے کلمات اس پروگرام کے روح رواں سراج عظیم نے انجام دیے۔ پروگرام میں شعیب رضا وارثی، خورشید اکرم، حقانی القاسمی،ڈاکٹر عبدالحی، ڈاکٹر نعیم فلاحی، ڈاکٹر عزیر احمدکے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں