56

ادبِ اسلامی قطر کے زیر اہتمام ادبی اجلاس ومشاعرے کا انعقاد


دوحہ قطر(عامر شکیب)
قطر میں بھوپال اور لکھنؤ بھی ہے، دلّی اور حیدرآباد بھی ہے، قطر میں اردو زبان و ادب کی بڑی خدمات ہورہی ہیں، یہ بازگشت کل تک ہمیں وطن میں سنائی دے رہی تھی، آج ہم نے بنفسِ نفیس اپنی آنکھوں سے حقیقت کی شکل میں دیکھ لیا۔ یہ کلمات تھے برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال کے سابق پروفیسر ڈاکٹر حسان خان ندوی صاحب کے جو حلقہ ادب اسلامی قطر کے ماہانہ اجلاس ومشاعرے میں اپنی تاثراتی گفتگو میں کہے۔ حلقے کا ماہانہ ادبی اجلاس ومشاعرہ حسبِ روایت اپنے مرکز مدینہ خلیفہ جنوبیہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت اشتیاق عالم فلاحی نے کی، ڈاکٹر محمد حسان خاں ندوی، سابق پروفیسر برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے ،جبکہ دوحہ قطر کے معروف شاعر احمد اشفاق بحیثیت مہمانِ اعزازی شہ نشیں پر جلوہ افروز رہے، اجلاس کا آغاز نوجوان قاری سید یونس (میکانیکل انجینئر، حیدرآباد) کی خوبصورت تلاوت سے ہوا۔
اجلاس کے ابتدائی حصے کی نظامت صدرِ حلقہ عامر شکیب نے کی، مہمانوں کے استقبال وتعارفی کلمات کے بعد حسب روایت دو نثری تخلیقات پیش ہوئیں، پہلی تخلیق بعنوان (منظوم تاریخ نگاری اور علامہ شبلی نعمانی) ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی نے پیش کیا، جس میں مقالہ نگار نے علامہ شبلی کے کلام سے وہ حصہ پیش کیا، جس میں علامہ نے مختلف اسلامی وتاریخی واقعات کا تذکرہ فرمایا ہے جس سے علامہ شبلی کی تاریخ پر گہری نظر رکھے جانے کے علاوہ اسے منظوم انداز میں پیش کرنے کی قدرت اور مہارت پر روشنی پڑ رہی تھی، معلومات سے بھر پور جامع وبلیغ ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر سے سامعین خوب محظوظ ہوئے، جو بقول صدر اجلاس ایک زبردست علمی اضافہ تھا۔ نثری حصے میں دوسری تخلیق بعنوان ’’پالتو اور غیر پالتو جانوروں کا اجتماع عام‘‘ تجمل حسین نے پیش کیا، جس میں انسانی معاشرے کے مختلف منفی پہلووں کو استعارہ کی شکل میں اجاگرکیا گیا تھا، تجمل حسین صاحب کی یہ تخلیق زبان اور بیان کے اعتبار سے ایک جاندار تحریر تھی، سامعین نے طنزو مزاح سے پُر اس تحریر کی بھر پور پذیرائی کی۔ مذکورہ دونوں دلچسپ اور پر مغز تخلیقات کے بعد چائے نوشی کا وقفہ رہا جس کے بعد شعری نشست سجائی گئی، جس کی نظامت دوحہ کے ابھرتے ہوئے شاعر راقم اعظمی نے کی، مشاعرہ میں 15 شعرانے ا پنے منتخب اور تازہ نظموں اور غزلوں سے محفل کو آراستہ کیا، محفلِ مشاعرہ کے بعد شہ نشیں پر تشریف فرما صدر و مہمانوں نے اظہارِ خیال کیا۔
اجلاس کے مہمانِ اعزازی احمد اشفاق صاحب کا شمار دوحہ کے معروف شعرامیں ہوتا ہے، 2014 م میں ’’دسترس‘‘کے نام سے آپ کا مجموعۂ کلام شائع ہو چکا ہے، اجمل پرفیومس کمپنی قطر، میں آپ ایک اہم عہدے پر فائز ہیں، اپنی تاثراتی گفتگو میں ایجاز سے کام لیتے ہوے اولاً تو اپنی عزت افزائی پر حلقہ کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا، ثانیاً آج کی معیاری وکامیاب نشست پر حاضرین کو مبارکباد کا قیمتی نذرانہ پیش کیا۔ اجلاس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد حسان خاں ندوی نے آج کی نشست پر جامع تبصرہ کیا۔ اپنی گفتگو میں اسلامی مآخذ کے حوالے دیتے ہوے ادبِ اسلامی پر مختصر و جامع روشنی ڈالی، جس میں ایک اہم نکتہ یہ بتلایا کہ اسلام نے ہر چیز میں اعتدال اور توازن کو بر قرار رکھا ہے، شعر و شاعری کے باب میں بھی ایک طرف کلام الہی نے شعرا کی مذمت کی تو وہیں بلند کردار شعرا کی تعریف وتوصیف کی، جب کہ کلام نبوی نے حکیمانہ شاعری کی حوصلہ افزائی کی، یہاں مہمان موصوف نے شعرا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو مطلوبہ اسلامی صفات میں ڈھالنے کی کوشش کریں، تاکہ وہ الہی مذمت سے خود کو محفوظ رکھ سکیں، عالمِ اسلامی میں عموما اور برّصغیر میں خصوصاً ادب اسلامی کی فکری اٹھان پر بھی آخر میں روشنی ڈالی۔
صدارتی کلمات میں محترم اشتیاق عالم فلاحی نے آج کے اجلاس کی خصوصیات کا تذکرہ فرماتے ہوے کہا کہ ایک طرف جہاں ہم نے ہندوستان سے تشریف لائے ہوے مہمان محترم حسان خاں ندوی صاحب سے استفادہ کیا ، وہیں دوسری طرف نثری حصے میں شاندار مضامین پیش کئے گئے ،تیسری طرف آج کا مشاعرہ ہمیشہ کی طرح معیاری اور خوب رہا، موصوف نے فرما یا کہ قطر ایک ایسا گلستاں ہے، جہاں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بر صغیر کے سارے رنگ اور خوشبوئیں گویا جمع ہوگئی ہیں، ہمیں چاہیے کہ اس عظیم نعمت کو محسوس کریں، یہاں کے اردو شعرا و ادبا کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس خوبصورت ادبی گلستاں کی حفاظت کرتے ہوئے اسے پروان چڑھانے کی ہراعتبار سے کوشش کریں۔ سٹیج سے دونوں مہمان اور صدرِ اجلاس کے بھر پور تبصرہ کے بعد محترم مظفر نایاب (نائب صدر حلقہ) نے مہمانوں اور حاضرین (خواتین وحضرات) کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں