107

احساس کے ساحل پہ کھڑا ایک تخلیقی فنکار

(رفیق انجم کی یاد میں)


٭ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل ، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل:9431414586
ای میل:rm.meezan@gmail.com
اردو ادب کی یہ بد قسمتی رہی ہے کہ اس کے بیشتر جینوئن تخلیقی فنکار مفلسی کے شکار رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان کے فکری اثاثے کی دنیا بھی محدود رہی ہے۔ کیوں کہ جب کوئی فنکار تلاشِ معاش کی خاطر دربدری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھراسے یہ خیال کہاں رہتا کہ وہ اپنے فن پارے کو دنیا تک پہنچائے کہ پیٹ کی آگ تو اچھے اچھوں کے ہوش وحواس گم کردیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑا سے بڑا فنکاراپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود دنیائے ادب میں وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔تاریخِ ادب میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔پھر بعد کے دنوں میں تو آپسی چشمک اور ادبی گروہ بندی نے بھی بہت سارے تخلیقی فنکاروں کو افقِ ادب پر ابھرنے ہی نہیں دیا ۔حالیہ دو تین دہائیوں کا اگر جائزہ لیں تو یہ حقیقت خود بخود عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ دور تو شہرت پسند اور تجارتی ذہن کے لوگوں کی مٹھی میں بند ہے۔ بونے کو قد آوری بخشنے کی روش کچھ اس طرح عام ہوگئی ہے کہ اب یہ امتیاز بھی ختم ہوتا جا رہاہے کہ کون حقیقی فنکار ہے اور کون فرضی۔بالخصوص جدید تکنیک اور سوشل میڈیا کے سہارے تو گھٹنوں کے بل چلنے والے لوگ بھی میراتھن میں شامل نظر آتے ہیں ۔ایسے دور میں حافظ محمد رفیق انجم کو اگر مایوسی ہاتھ آئی یا پھر گمنامی ان کا مقدر بنا تو اس کے لئے اگر ایک طرف خود مرحوم رفیق انجم کی خود داری اور شہرت پسندی سے پرہیزرہی تو دوسری طرف ہماراکھوکھلا ادبی سماج بھی ہے کہ جو صرف اورصر ف چڑھتے سورج کا پجاری بن بیٹھاہے۔۲۵؍ اگست کی نصف شب میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہنے والے حافظ محمد رفیق انجم نے تقریباً نصف صدی تک اردو زبان وادب کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ان کے حصے میں کبھی بھی شجرِ ادب کا کوئی پھل ہاتھ نہیں آیا۔اگرچہ اس کا انہیں کوئی ملال بھی نہ تھا کہ وہ ایک فطری تخلیقی فنکار تھے اور اردو زبان کے فروغ کے لئے کام کرنے کو ایک عبادت تصور کرتے تھے۔
واضح ہو کہ تقریباً چار دہائیوں سے مرحوم حافظ رفیق انجم سے میری آشنائی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ پہلی بار میرے آبائی گائوں سکری (مدھوبنی) کے مدرسہ قدرتیہ کی مسجد میں تراویح پڑھانے آئے تھے۔اس وقت وہ شاید کشن گنج واقع انسان اسکول میں درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے اور ماہِ رمضان میں اپنے آبائی گائوں بتھیا (منی گاچھی) آتے تھے۔ چوں کہ میرے گائوں سے ان کے گائو ںکی دوری محض دس کلو میٹر ہے اس لئے وہ میرے گائو ںکی مسجد میں پورے ماہ تراویح پڑھاتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت وہ ایک خوش گلو حافظِ قرآن کے طور پر علاقے میں مشہور تھے اور ان کی یادداشت بھی بہت بہتر تھی۔لہذا گائو ںکے لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ یہ سلسلہ تقریباً پانچ چھ سالوں تک چلا اور وہ جب بھی آتے تو مجھ سے ضرور ملتے۔ پھر نہ جانے کیوں ان کے آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور میں بھی اپنے گائوں سے منتقل ہو کر شہر چلا آیا ۔ تقریباً پندرہ برسوں کے بعد اچانک ان سے دربھنگہ میں ملاقات ہوئی ۔ اس وقت میں ملّت کالج دربھنگہ میں پرنسپل تھا ۔ وہ اپنے پرانے انداز میں گویا ہوئے کہ’’ اب پھر آپ کے سر پڑا ہوں‘‘ پھر انہوں نے تفصیل بتائی کہ وہ کشن گنج کے ایک مدرسہ سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور دربھنگہ شہر میں ایک پرائیوٹ اسکول جوائن کرلیا ہے ۔ حالیہ ایک دہائی سے وہ دربھنگہ میں تھے اور اس عرصے میں ہفتہ دس دنوں پر ان سے ملاقات کا سلسلہ چلتا رہا ۔ اس درمیان ان کے دو شعری مجموعے بھی شائع ہوئے ۔ پہلا مجموعہ ’’ساحل بولتا ہے ‘‘(2014ء ) میں منظرِ عام پر آیا ۔اس وقت وہ اپنے ایک شاگردِ عزیز عمر خاں کے اسکول اینجل ہائی اسکول میں درس وتدریس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اپنے اس پہلے شعری مجموعہ کا اجراء بھی اس خاکسار کے ہاتھوں سے کرایا ۔اس کے بعد ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’منور افکار‘‘ ( 2017ء ) میں شائع ہوا۔ حافظ رفیق انجم شخصی طورپر بھی ایک سادہ لوح انسان تھے۔ دربھنگہ میں ان کی آمد میرے لئے باعثِ مسرت رہی کہ ایک جینوئن فنکار اس شہر میں قیام پذیر ہے۔وہ اپنی تازہ ترین تخلیقات سے محظوظ کرتے ۔ اکثر مغرب کے بعد میرے پاس آتے اور گھنٹوں اپنی تازہ ترین شعری تخلیقات سے نوازتے۔ اس محفل میں کبھی ڈاکٹر محمد پرویز، استاد شفیع مسلم اسکول ہوتے تو کبھی رفیق انجم مرحوم کے ساتھ ڈاکٹر سہیل اختراور کبھی کبھار پروفیسر سلطان احمد بھی جب دربھنگہ میں ہوتے تو ان کے ساتھ آتے۔بعد کے دنوں میں پروفیسر ظفر حبیب صاحب سے بھی ان کی صحبت رہی اور ان کی ایماء پر ہی وہ اپنی چیزوں کو شائع کرانے کی طرف متحرک بھی ہوئے ۔ ظفر حبیب صاحب کی مدد بھی ان کے ساتھ رہی جس کا وہ اکثر ذکر بھی کیا کرتے تھے۔ مرحوم رفیق انجم معاشی طورپر شروع سے ہی بد حال رہے۔ ایک بڑا کنبہ تھا ۔ چار بیٹیاں او ردو بیٹے اور اہلیہ گائوں میں رہتی تھیں۔ اگرچہ دونوں بیٹے بر سرِ روزگار تھے لیکن شاید اتنی آمدنی نہیں تھی کہ جس سے ان کو آسودگی ملتی ۔ اور شاید ہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ضعیف العمری میں بھی نجی اسکولوں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ نجی ٹیوشن کے لئے بھی بھاگ دوڑ کرتے تھے۔ گذشتہ سال ان کے ساتھ ایک بڑا حادثہ ہوا کہ ان کے ایک جواں سال داماد کا انتقال ہوگیاتھا ۔اپنی لڑکی کی بیوگی کا صدمہ انہیں اندر سے توڑ چکا تھا۔ لیکن وہ اتنے خود دار تھے کہ کبھی بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ کئی بار انہوں نے کچھ قرض لیا اورمتعینہ وقت سے پہلے ہی لے کر حاضر ہوئے۔ میں نے کئی بار ان سے کہا کہ اگر آپ کو ضرورت ہے تو ابھی رہنے دیں لیکن وہ کہتے کہ یہ قرض میرے ذہن پر ایک بوجھ بن کر رہے گا۔ابھی ایک ماہ پہلے وہ کچھ زیادہ ہی پریشان نظر آئے ۔ میں نے وجہ دریافت کی تو بس وہی اپنی بیوہ بیٹی کی بدحالی کا ذکر کرکے آبدیدہ ہوگئے۔ مجھے لگا کہ رفیق انجم صاحب کو یہ صدمہ متزلزل کرچکا ہے۔ پچھلے ہفتہ بھی فون پر انہو ںنے اپنی کئی پریشانیوں کا ذکر کیا اور یہ ارادہ بھی ظاہر کیا کہ اب شاید شہر چھوڑ کر گائوں میں ہی رہوں گا ۔ ان دنوں بھی ایک نجی اسکول فاطمہ زہرہ اکیڈمی میں پڑھا رہے تھے۔ اپنی موت سے محض دس گھنٹے قبل مورخہ25اگست 2019کو دن کے 11:35بجے مرحوم کا فون آیا تھا اور انہوں نے مغرب کے بعد ملنے کا وعدہ کیا ۔ میں نے ہنستے ہوئے یہ کہا کہ لگتا ہے کوئی نئی غزل وارد ہوگئی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ نہیں کچھ خاص کام ہے ۔ پھر انہو ںنے اپنی عادت کے مطابق مقامی بولی میں فرمایا ’’سب پر لمبا لمبا مضمون لکھوہو ہم پر کب لکھبوہو‘‘ واضح ہو کہ وہ اکثر مقامی بولی میں گفتگو کرتے تھے اور دلچسپ گفتگو کرتے تھے۔ اگر چہ اردو زبان پر انہیں عبور حاصل تھا ۔ عربی زبان کی بھی اچھی معلومات تھی ۔ وہ محض رٹے رٹائے حافظ نہیں تھے بلکہ عربی صرف ونحو پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ علم عروض پر انہیں پوری دسترس حاصل تھی۔ان کی پوری شاعری میں کہیں بھی فنّی جھول دکھائی نہیں دے گا اور نہ بھرتی کے اشعار نظر آئیں گے۔بالخصوص نظم نگاری کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ موضوعی نظموں پر عبور حاصل تھا ۔ سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ طنزیہ ومزاحیہ شاعری بھی کرتے تھے۔وہ اکثر اپنے انسان اسکول کے زمانے کو یاد کرتے تھے جہاں نہ صرف درس وتدریس کا صحت مند ماحول تھا بلکہ تخلیقی ادب کے لئے بھی سازگار ماحول تھا۔ وہ اپنے قریبی مخلص اردو کے نامور افسانہ نگار مشتاق احمد نوری، علی امام وغیرہ کا خوب خوب ذکر کیا کرتے تھے۔علی امام صاحب کے ساتھ انہوں نے انسان اسکول میں کام بھی کیا تھا۔پھر وہ کشن گنج اور آس پاس کے شعراء اور ادباء کا بھی تفصیلی ذکر کیا کرتے تھے۔ پروفیسر طارق جمیلی سے بہت متاثر تھے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ 26اگست کی صبح میں یہ اندوہناک خبر ملی کہ 25اگست کی رات تقریباً 9بجے ان کا انتقال ہوگیا ۔یہ خبر میرے لئے ایک ذاتی صدمہ ہے کہ جس شخص سے تقریباً چار دہائیوں کی آشنائی ہو اور حالیہ ایک دہائی سے مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ رہا ہو ان کا چلا جانا کسی اپنے سے بچھڑنے سے کم نہیں ہے ۔میں نے مرحوم کے پہلے مجموعہ ’’ساحل بولتا ہے ‘‘ کی آمد پر ایک مضمون لکھا تھا جو ان کی دوسری کتاب میں شامل ہے۔ وہ مضمون بطورِ خراجِ عقیدت پیش کررہاہوں۔ان ہی کے اس شعر کے ساتھ کہ ؎
احساس کے ساحل پہ کھڑا سوچ رہا ہوں لفظوں کے سمندر میں وہ طوفان نہیں ہے
اردو شعر وادب کے سنجیدہ قارئین کے لئے رفیق انجمؔ کا اسمِ گرامی نا آشنا نہیں ہے کہ انجم تقریباً تین دہائیوں سے شعروادب کے پودوں کی آبیاری اپنے خون وجگر سے کر رہے ہیں۔ان کے کلام پر طائرانہ نگاہ ڈالنے سے ہی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انجم ؔکا شاعرانہ رویہ نہ صرف پختہ ہے بلکہ دانشورانہ بھی ہے ۔وہ اردو شعری روایت سے بخوبی واقف ہیں اور تغیرِ زمانہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔انہیں اپنے فن پر مکمل اعتماد ہے اور ان کا ذہن تخلیقیت سے بھرپور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں کلاسیکیت کی خوشبو بھی ہے اور جدیدیت کا رنگ بھی۔انہوں نے خود کو کسی خاص حصار میں قید نہیں کیا ہے بلکہ اپنے اشعار میں بدلتے زمانے کی عکاسی کی ہے ۔نتیجتاً ان کا کلام ماضی اور حال کی شکست وریخت کا آئینہ بن گیا ہے۔ میں ذاتی طورپر دو دہائیوں سے ان سے واقف ہوں ۔وہ عصرِ حاضر کے ان شعرا ء میں شامل ہیں جنہیں اپنے منفرد لب ولہجے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔وہ پیشۂ درس وتدریس سے وابستہ ہیں اس لئے ان کا سماجی سروکار بھی بڑا مستحکم ہے۔ اخلاقی اسباق اور تعمیری فکر ان کے یہاں زیریں لہروں کی طرح کام کرتے ہیں۔زبان پر بھی انہیں مضبوط گرفت حاصل ہے اور موضوع کو شعری قالب میں ڈھالنے کا سلیقہ بھی خوب خوب آتا ہے ۔زندگی کی ٹھوس سچائیاں اور گردونواح کے مسائل کی ترجمانی ان کے اشعار میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے ۔ان کی شاعری کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے احساسات وتجربات کی الگ دنیا قائم کی ہے اپنے ہم عصروں سے متاثر ضرور ہیں لیکن نقّال نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عہدحاضر کے شعراء کی بھیڑ میں ان کی اپنی منفرد پہچان بھی ہے اور مستحکم شناخت بھی۔یوں تو انہوں نے اردو کی تمام مقبول اصنافِ سخن کو اپنے دائرۂ فکر کا حصہ بنایا ہے لیکن وہ بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں۔غزل اردو کی محبوب صنفِ سخن بھی ہے اور مظلوم بھی۔محبوب اس معنی میں کہ اردو کا شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جنہوں نے غزل کی زلفِ گرہ گیر کو سنوارنے کی کوشش نہ کی ہو اور مظلوم اس معنی میں کہ ہماری تین سو سالہ شعری روایت میں محض گنتی کے ایسے شاعر ہوئے ہیں جنہوںنے لوازماتِ غزل کی پاسداری کی ہو۔بلا شبہ غزلیہ شاعری نہ صرف خونِ جگر چاہتی ہے بلکہ صحرہ نوردی کی بھی متقاضی ہے۔چوں کہ بیشتر شعراء پیش پا افتادہ مضامین سے استفادہ کرکے غزل کی دنیا آباد کرنا چاہتے ہیں اس لئے اچھے سے ا چھے غزل گو شعراء کے یہاں بھی غزل کے بولتے ہوئے اشعار کی کمی نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ولیؔ دکنی سے لے کر شہر یار تک غزل کے شاعر کو ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ ترتیب میں ناقدین کی ترجیحات ایک دوسرے سے الگ ہوسکتی ہیں لیکن ولیؔ کے عہد میں فائزؔ، میرؔ کے عہد میں سوداؔ ودردؔ،عہدِ غالبؔ میں غالبؔ کے علاوہ ذوقؔ ومیرؔ پھر لکھنؤ کی طرف نگاہ ڈالئے تو ناسخؔ وآتشؔ اور عظیم آباد میں شادؔ کے علاوہ کتنے غزل گو ہیں جو اب تک مثالی ہیں۔بعد کے دنوں میں اقبالؔ،جگرؔ،اصغرؔ،جذبیؔ،کلیم عاجزؔ، فراقؔ،ناصرؔ کاظمی، فیضؔ،ساحرؔ لدھیانوی، شہر یارؔ، احمد فراز، ؔحسن نعیمؔ ،مجروح سلطانپوری وغیرہم نے غزل کی نہ صرف آبرو رکھی بلکہ اس کی دنیا میں چار چاند بھی لگائے۔ حالیہ دور میں منور راناؔ، وسیم بریلویؔ، حسن کمالؔ نے غزلیہ شاعری کو پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔آپ اس فہرست میں چاہ کر بھی دو چار نام سے زیادہ کا اضافہ نہیں کر سکتے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بقیہ شعراء کی شاعری قابلِ اعتناء نہیں ہے ۔لیکن میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ غزلیہ شاعری کو ہم لوگوں نے جتنا آسان سمجھ رکھا ہے اتنی یہ آسان صنف نہیں ہے۔ صرف قافیہ اور ردیف پیمائی عروضی تقاضے کو تو پورا کرسکتی ہے لیکن موضوعی اعتبار سے غزل کا شعر نکالنا صحرا میں کشتی چلانے کے مترادف ہے۔شاید اسی حقیقت کا احساس اردو کے نامور ناقد پروفیسر آل احمد سرورؔ کو تھا کہ انہوں نے غزل کا شعر کہنا ’’چاول پر قل ہو اللہ لکھنا‘‘ قرار دیا تھااور جب حالیؔ نے یہ بات کہی تھی کہ ’’جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے‘‘ تو ان کے پیشِ نظر بھی غزلیہ شاعری کا پست معیار ہی تھا۔ اگرچہ کلیم الدین احمد نے مغربی عینک سے غزلیہ شاعری کو دیکھنے کی کوشش کی تھی اور اسے ایک نیم وحشی صنفِ سخن قرار دیا تھا لیکن موضوعاتی اعتبار سے غزل کی پستی کے تعلق سے جو بات انہوں نے کہی تھی اسے یکسر رد بھی نہیںکیا جا سکتا۔دراصل غزلیہ شاعری اردو شاعری کی شناخت ہے اور یہ نہ صرف ایک شعری صنف ہے بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب کی امین بھی ہے۔واضح ہو کہ ہر زبان میں کوئی ایک ایسی صنف ہوتی ہے جو ا س زبان کی شاعری کو اعتبار بخشتی ہے ۔ اردو میں غزل کو یہ درجہ حاصل ہے۔اس لئے غزل کہنے والے شاعروں کو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ غزلیہ شاعری کا تقاضا کیا ہے۔علامہ اقبال ؔ نے کیا خوب کہا تھا ؎
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہیں سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
مختصر یہ کہ رفیق انجمؔ ہمارے ان شعراء کی صف میں شامل تو نہیں ہیں کہ جنہیں ہم غزلیہ شاعری کو اعتبار بخشنے والے کی فہرست میں شامل کرتے ہیں لیکن ان کی غزلیہ شاعری ان کی انفرادی شناخت کو مستحکم بنانے کی ضامن ضرور ہے۔ مثلاً ان کا شعری مجموعہ ’’ساحل بولتا ہے‘‘ جو خالص غزلوں کا مجموعہ ہے اس میں زندگی کے نشیب وفراز کی ترجمانی دیکھی جا سکتی ہے ؎
راستے میں گر گیا میں ہی چلو اچھا ہوا
میرے پیچھے آنے والا تو سنبھل کر آئے گا
٭
ماحول کی فرسودہ روایت سے لڑا ہوں
اس واسطے دنیا کی نگاہوں سے گرا ہوں
٭
احساس کے ساحل پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
لفظوں کے سمندر میں وہ طوفان نہیں ہے
٭
حیرتی بن کے ہنس اٹھیں گے ہزاروں چہرے
کسی شیشے پہ ذرا ما ر کے پتھر دیکھو
٭
ہاتھ کی الٹی لکیروں نے کہا مجھ سے کہ تو
آبلہ پا ہے رہ ِپر خار کو دستک نہ دے
٭
گلے اس کے علاوہ کچھ نہ ہوں گے پوچھ کر دیکھو
ہم ان کے در پہ صبح وشام درباری نہیں کرتے
٭
فروعی مسئلوں کی آگ سے گھر پھونکتے ہم کیوں
یہ کارِ خیر مذہب کے علم بردار کرتے ہیں
تمہارے پاس امنگوں کا اثاثہ ہے تو اے انجم
چلو بنجر زمینوں کو کہیں گلزار کرتے ہیں
٭
وہ سطحِ آب پہ ہے بلبلے کی قیمت کیا
گُہر کو دیکھئے گہرائیوں میں رہتا ہے
٭
زمانہ حرص زدہ ہو گیا اب اے انجمؔ
لکھوں کتاب میں بابِ حرام کس کے لئے
٭
چپ رہو آگ اسے لگانے دو عہدِ نوکا ہے رہنما وہ بھی
اپنی ضد پر ہوا پشیماںکب جب کٹی شاخ اور گرا وہ بھی
مذکورہ اشعار کی ایماندارانہ قرأت سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انجمؔ کے یہاں فکری وموضوعاتی سمت ہر اعتبار سے مستحکم ہے اور انہوں نے اپنی شاعری کو عصری معنویت کا اعلیٰ نمونہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ آغاز میں حمد، دعا، نعت پاک کے لئے تین صفحات مخصوص ہیں بقیہ صفحات پر ۹۸؍ غزلیں ہیں۔میں نے جو اشعار منتخب کئے ہیں وہ بس بطورِ نمونہ ہے مکمل مجموعے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عہدِ حاضر میں جب اردوکی غزلیہ شاعری موضوعاتی اعتبار سے پست ہوتی جا رہی ہے ایسے وقت میں انجم کی شاعری ریگزاروں میں ٹھنڈی چھائوں کا احساس کراتی ہے۔
٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں