129

ابوظہبی عالمی کتاب میلے میں ’ہندی، اردو اور پنجابی: ساجھی وراثت‘کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد

ابو ظہبی:ہندوستان میں بہت ساری زبانیں اور تہذیبیں ہیں مگر الگ الگ زبانوں اور تہذیبوں کے باوجود یہ سب ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ ان میں جو چیز مشترک ہے وہ ہندوستانی روح اور مشترکہ طرز احساس ہے۔ زبان چاہے اردو ہو، ہندی ہو یا پنجابی یا دیگر علاقائی زبانیں، تہذیب آریائی ہو یا دراوڑی سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور یہی ساجھی وراثت ہے جس پر ہمیں ناز بھی ہے، فخر بھی ہے اور مسرت بھی۔ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سفیر جناب نودیپ سنگھ سوری نے ابو ظہبی عالمی کتاب میلے میں ’ہندی، اردو اورپنجابی:ساجھی وراثت‘ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ زبانیں جوڑنے کا کام کرتی ہیں۔ آج کا یہ مباحثہ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جہاں تین زبانوں کے ادیب ایک ساتھ بیٹھے ہیں اور زبانوں کے آپسی رشتوں اور ساجھی وراثت پر گفتگو کر رہے ہیں۔
سمپوزیم میں حصہ لیتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ ہندوستان میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں وہ سب ہند آریائی زبانیں ہیں اور ان زبانوں کا سرچشمہ سنسکرت ہے۔ہندوی کی ہندوستانی وراثت سے جن زبانوں نے جنم لیا ان میں اردو اور ہندی، پنجابی تہذیبی امتزاج کی روشن مثال قائم کر رہے ہیں۔ ان زبانوں کی جڑ ایک ہے۔ خاندان ایک ہے۔ثقافت ایک ہے اور ان زبانوں کی اپنی ایک ملی جلی تہذیب اور وراثت بھی ہے اور یہ زبانیں الگ الگ ہونے کے باوجود ایک مشترکہ پہچان کے ساتھ ارتقا کی راہ پر گامزن ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج کا یہ سمپوزیم اپنی نوعیت کا کامیاب پروگرام تھا جس میں تین زبانوں کے ادیبوں نے شرکت کی اور زبانوں کے آپسی روابط پر گفتگو کی گئی۔ سمپوزیم میں نیشنل بک ٹرسٹ کے اردو ایڈیٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ جن شاعروں نے اپنی شاعری میں عربی فارسی علامات کا استعمال کیا وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے جبکہ اردو زبان کی شناخت اس کی ہندوستانیت اور یہاں کی تہذیبی وراثت میں پنہاں ہے۔ اس سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے پنجابی کے مشہور ادیب پدم شری سردار سرجیت پاتر نے پنجابی کے کئی اشعار سنائے جن میں فارسی، عربی اور اردو کے کئی الفاظ تھے۔ ڈاکٹر لکھوندر جوہل نے شاہ مکھی اور گرمکھی رسم الخط پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ شاہ مکھی اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے۔سمپوزیم کی نظامت ڈاکٹر للت کشور منڈورا نے کی۔ سمپوزیم کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر للت بہاری گوسوامی، نوجوت کور اور شری دھر پراکڑ کے نام قابل ذکر ہیں۔ سمپوزیم میں این بی ٹی کے چیئرمین پروفیسر گووند پرساد شرما، ڈائرکٹر ڈاکٹر رِیتا چودھری، ڈاکٹر سرجیت جج، دیپک کمار شرما، ڈاکٹر سربجیت کور سوہل کے ساتھ ساتھ ابو ظہبی کے درجنوں ادبا و شعرا موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں