151

ائمہ، مؤذنین اور خادمینِ مساجد کی تنخواہیں اور ہمارا رویہ

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
آج کل مہنگائی کا دور دورہ ہے، ایک طرف ضروریاتِ زندگی کے مد میں آنے والی اشیا کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں ،تو دوسری طرف لوگوں میں قوت خرید تیزی سے گھٹ رہی ہے۔اچھے بھلے بھی (جن کی آمدنی اور تنخواہیں لاکھوں میں ہے) حالات سے گھبرا کر کراہنے لگے ہیں، تو ایسے میں سماج کے اُس طبقے پر کیا کچھ گذررہی ہوگی ،جس کی تنخواہ پر ایک عرصے سے جمود طاری ہوچکا ہو، اُس کا اندازہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ معاشی مجبوری ایک ایسا بوجھ ہے، جس کے نیچے دب کر آدمی نہ صرف اپنی نگاہ میں ذلیل ہوجاتا ہے؛ بلکہ معاشرے میں بھی اس کی وقعت کم ہوجاتی ہے۔
اسلام دینِ اعتدال ہے، اس کے نزدیک سماج کے ہر فر د کی اہمیت ہے۔ وہ جہاں مالکوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اُن کی مزدوری ادا کر دی جائے، وہیں یہ بھی کہتا ہے کہ اگر مزدور نے کام میں جان بوجھ کر کوئی کوتاہی کی ،تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اُس کے لے حلال نہیں ہے۔ ملازمین اور ماتحتوں کی تنخواہیں کم از کم اتنی ضرور ہونی چاہئے کہ وہ اپنی ضروریات زندگی کے حصول میں پریشان اور خوار نہ ہوتے پھریں۔ اگر سماج کے عام افراد کے تعلق سے اسلام میں اتنی تاکید ہے ،تو وہ لوگ، جو معاشرے میں اسلام کی علامت سمجھے جاتے ہیں ،ان کی کتنی اہمیت ہوگی، یہ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔
مگرہمارا معاشرہ ایک زوال پذیر معا شرہ ہے، ہم معاشی، دینی اور اخلاقی ہر میدان میں دیوالیہ ہوتے جارہے ہیں اور اس کی ذمے دار بھی ہم خود ہیں۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی معاشرے میں فعالیت لانے کے لئے انقلابی اصلاحات کرتی رہتی ہیں، چاہے اس کی وجہ سے انہیں خود اپنے معاشرے کی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے؛ لیکن ہم اپنی دقیانوسی سوچ کے ساتھ اندھی تقلید میں مبتلا ہر اس عمل سے بدکتے ہیں، جس سے تبدیلی کی بو آتی ہے۔ اکابر اور بزرگوں کی رٹ لگاتے لگاتے ہماری اپنی سوچ مردہ ہوچکی ہے، کسی بھی معاملے میں ہم حالات کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرنے سے خوف کھاتے ہیں، ہم میں موجود خود اعتمادی کی کمی ہی ہمارے زوال کی حقیقی وجہ ہے۔
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کے دور میں اگر کوئی عام سی زندگی بھی جینا چاہے، تو اس کے لئے کتنے خرچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم خود اس مرحلے سے بارہا گذرتے رہتے ہیں ؛لیکن جب ہمارے ان ماتحتین کا معاملہ آتا ہے، جن سے براہِ راست ہماری کوئی معاشی وابستگی نہیں ہوتی، جو ہمارے ماتحت میں ہوتے ہوئے بھی راست طوپرہمارے ماتحت نہیں ہوتے ،جیسے امام، مؤذن اور خادمِ مسجد، تو پھر ہمیں بزرگوں کی روایتیں، بیت المال کی حفاظت اور اس کو لے کر آخرت کا خوف بری طرح جکڑ لیتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم نے جو تنخواہیں اسلام کی ان علامتی شخصیتوں کے لئے طے کر رکھی ہیں ،ان سے ان کا گذارا بہت مشکل ہے، ہم انہیں توکل کا سبق پڑھا کر قناعت کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔خود پر حد اعتدال سے زیادہ خرچ کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے؛ لیکن ان خادمینِ اسلام کی تنخواہیں بڑوں کا حوالہ دے کر اُن کے طے کردہ اصولوں پر ہی دیں گے۔ ہماری اس ماضی پرستی کے نتیجے میں معاشرے کایہ معتبر طبقہ کن مشکلات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، اس کا ہم رتی برابر بھی اندازہ نہیں کرسکتے۔ جدید معیارِ زندگی کو مد نظر رکھ کر جب تک ہم اپنے ان معتبر خادمینِ اسلام پر کشادگی اور فارغ البالی کے دروازے وا نہیں کریں گے، قدرت بھی ہمیں آسودگی اور معاشی اطمینان سے نہیں نوازے گی۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں