71

آیا رام گیا رام، جے شری رام

عبدالعزیز
بی جے پی اپنی برتری بیان کرنے کیلئے نعروں پر نعرے لگاتی رہتی ہے۔ ایک نعرہ اس کا بہت پرانا ہے جو اس کے ویب سائٹ پر ابھی بھی نظر آتا ہے: “Party with difference” (دوسروں سے مختلف پارٹی)، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں جو سیاسی پارٹیاں ہیں اس سے بی جے پی بالکل مختلف ہے۔ اب دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ یہ واقعی سب سے مختلف اور عجوبہ پارٹی ہے۔ یہ نعرہ گرچہ واجپئی کے زمانے سے بی جے پی لگا رہی ہے لیکن اب یہ نعرہ بی جے پی کو دوسری پارٹیوں سے بالکل الگ تھلگ کر دے رہا ہے۔ ’کانگریس مکت بھارت‘ یا ’اپوزیشن مکت بھارت‘ کا نعرہ تو نریندر مودی اور امیت شاہ کی طرف سے لگایا گیا ہے اور اسے بی جے پی والوں نے پورے طور پر اپنالیا ہے اور اس پر وہ عامل بھی ہوگئے ہیں۔ اب دکھائی دے رہا ہے کہ ’آئیڈولوجی مکت بھارت‘ یعنی ایسا بھارت جہاں کوئی اصول، نظریہ، ضابطہ یا قانون و قاعدہ نہ ہو۔ اس بھارت کو بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔
ہندستان میں دَل بدلو لیڈروں کے خلاف 1985ء میں ایک قانون بنا تھا تاکہ سیاسی پارٹیوں میں جو لوگ ادھر سے ادھر ہوتے ہیں وہ آسانی سے نہ ہونے پائیں۔ بی جے پی اب دلو بدلو کے قانون کو پامال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہی ہے۔ گائے کی خریدو فروخت پر تو بی جے پی حکومتوں کی طرف سے پابندی ہے لیکن ہارس ٹریڈنگ (Horse trading) یعنی ایم پی اور ایم ایل اے کو روپئے پیسے کے ذریعے یا وزیر بنانے کا لالچ دے کر خریدنے میں بی جے پی ماہر ہوگئی ہے۔ جب سے امیت شاہ بی جے پی کے صدر ہوئے ہیں اس مہارت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ کئی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کے ایم ایل اے اتنی تعداد میں نہیں تھے کہ بی جے پی وہاں حکومت بنا سکتی ہو بی جے پی نے ممبرانِ اسمبلی کو بکاؤ مال کی طرح خریدا اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ جہاں حکومت بن بھی گئی ہے وہاں بھی یہ سلسلہ جاری ہے کہ دوسری پارٹی کو توڑنے اور اپنی پارٹی کے ممبران کی تعداد بڑھانے کیلئے۔ گوا جیسی چھوٹی سی ریاست میں جہاں بی جے پی الیکشن میں دوسرے نمبر پر تھی اور کانگریس پہلے نمبر پر، خریدو فروخت کے ذریعے وہاں بی جے پی حکومت بنانے کامیاب ہوئی۔ مخلوط حکومت کی پریشانی کی وجہ سے کانگریس کے دس ایم ایل اے کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور ان میں سے تین کو وزیر بھی بنا دیا۔ گوا کے سابق وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر کے لڑکے اتپل پاریکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اگر ان کے والد زندہ ہوتے تو آج جو کچھ گوا میں بی جے پی کے لیڈران کر رہے ہیں اسے ہر گز ہونے نہیں دیتے“۔
گزشتہ کئی ہفتے سے کرناٹک میں جو کچھ ہورہا ہے اور جس طرح بی جے پی کانگریس اور جے ڈی ایس کے 15 ایم ایل اے کو دونوں پارٹیوں سے توڑ کر ان کو روپئے پیسے یا وزیر بنانے کے لالچ دے کر اپنا حامی بنایا ہے انھیں بنگلور سے چارٹر پلین میں ممبئی لے جانا اور فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھنا، چوبیس گھنٹے ریاستی پولس کے پہرے میں رکھ کر ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھناایک ایسا ڈرامہ ہے جسے سیاسی سانحہ کہا جاسکتا ہے یا جمہوریت کا مذاق۔ دَبدلو ایم ایل اے کے ذریعے لاکھوں روپئے کی جائیداد خرید رہے ہیں یا بینکوں میں روپئے جمع کر رہے ہیں۔ یہ پیسے سیاست کے گندے کھیل کے ذریعے جمع کئے جارہے ہیں۔ ابھی جو کچھ کرناٹک میں ہورہا ہے بتایا جارہا ہے کہ ایک ایک ایم ایل اے کو جنھوں نے اسمبلی کی ممبری سے استعفیٰ دیا ہے ایک ایک ایم ایل کو 50,50 کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں۔ چارٹرڈ پلین میں جو خرچ ہے، فائیو اسٹار ہوٹل میں جو عیش وعشرت پر خرچ کیا جارہا ہے یہ اس سے الگ ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہندو بھائیوں کے لافانی رام آیا رام اور گیا رام میں تبدیل ہوگئے ہیں اوریہ سارے آیا رام گیا رام لکشمن ریکھا کو پارکرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کر رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب بی جے پی کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور بی جے پی پاور میں نہیں تھی یہ میوزیکل کرسی کا کھیل یا تماشہ شروع ہوا۔ یہ آیا رام اور گیا رام کی اصطلاح 1967ء میں شروع ہوئی تھی اور بہت حال ہی میں آیا لال اور گیا لال کا کھیل اسمبلی کے ممبروں کے ذریعے شروع ہوا۔ ایک ایم ایل اے نے ایک دن میں دو بار پارٹی بدلا۔ صبح کو ایک پارٹی میں تھا اور شام کو دوسری پارٹی میں۔ ایک ایم ایل اے نے پندرہ روز میں تین پارٹیوں کو تبدیل کیا۔ جس نے دن میں دو بار پارٹی تبدیل کی اور جس نے تین بار تبدیل کی، ان دونوں کا مطلب یہ تھا کہ وہ حکمراں پارٹی میں رہیں۔
ٹھیک اسی طرح 1996ء میں دل بدلو کا کھیل شروع ہوا تھا۔ اس وقت مشہور ہوا تھا کہ ’ہجوریا اور کھجوریا‘۔ جولوگ وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کے ساتھ تھے وہ ہجوریا میں ٹھہرائے گئے تھے اور جو واگھیلا کے ساتھ تھے انھیں کھجوراہو میں روکا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے واگھیلا کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا تھا کہ اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ ان کو بالکل برہنہ کردیا تھا۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں لیکن بی جے پی نے جو ننگاپن سکھایا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ڈرامہ کی اسکرپٹ ہریانہ میں بار بار لکھی گئی ہے۔ 1982ء میں دیوی لال اور بی جے پی کی مخلوط حکومت تھی۔ دیوی لال نے 48 ایم ایل اے کو نئی دہلی کے ایک ہوٹل میں بالکل بند کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک ایم ایل اے شوشن کسی طرح ڈرین پائپ کے ذریعے ہوٹل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اب جو کچھ بی جے پی نے سیکھا تھا ’آئے لال اور گئے لال‘ یا‘آیا رام گیا رام‘ اس کو ملک میں انڈیل رہی ہے۔ دَل بدلو سے دل بدلی۔ اب بی جے پی کا سوچھ بھارت ابھیان، سوچھ راجنیتی میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔
ایک دو باتیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا ضروری ہیں۔ سپریم کورٹ کا کل جو فیصلہ کرناٹک کے ان پندرہ دل بدلو ایم ایل اے کے حق میں آیا ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے؛ کیونکہ عدالت کو وزیر اعلیٰ کرناٹک اور ریاست کی اسپیکر کے وکیلوں کے ذریعے پورے طور پر بتایا گیا کہ یہ پندرہ ایم ایل اے اسمبلی سے کیوں مستعفی ہونا چاہتے ہیں؟ ان کا سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنی پارٹی چھوڑ کر مستقبل کی حکمراں جماعت میں شامل ہوں اور وزیر بن جائیں۔ عدالت کے ججوں نے ذاتی حقوق کے پیش نظر مستعفی ہونے کے خواہشمند ممبران کو یہ آزادی دی کہ ان کو اسمبلی کے فلور ٹسٹ میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ وہ شریک بھی ہوسکتے ہیں اور شریک نہیں بھی ہوسکتے۔ پتہ نہیں کس بنیاد پر ججوں نے دل بدلو قانون اور سیاسی پارٹیوں کو وھپ (Whip) جاری کرنے کے قانونی اختیار کو نظر انداز کردیا۔ اس سے دل بدلو کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور دل بدلو کے خلاف جو قانون بنایا گیا ہے وہ بے معنی ثابت ہوگا۔ اچھا ہوا کہ عدالت نے اسمبلی کے اسپیکر کو اس کے اختیارات سے محروم نہیں کیا۔ اس کو ججوں نے ’دستوری توازن‘ بتایا ہے جو میرے خیال سے عدم توازن معلوم ہوتا ہے۔ قانون داں اس عدالتی فیصلہ پر زیادہ ہی بہتر تبصرہ کرسکتے ہیں۔ ایک سابق سولیسٹر جنرل کی رائے یہی ہے کہ دل بدلو قانون کو ججوں نے بالکل نظر انداز کردیا ہے جو ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں